[0:04]شروع اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے۔ ایپلیکیشنز آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے کورس میں لیکچر سیریز کے ساتھ میں ہوں ڈاکٹر عرفان خان فرام کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد۔ ہم مختلف لیکچرز میں اور سٹارٹ میں بھی پڑھتے آئے ہیں کہ آئی سی ٹی کا ہماری زندگی میں ہر جگہ پر، ہر فیلڈ میں کچھ نہ کچھ رول ہے۔ کمپیوٹرز، ڈیجیٹل ورلڈ یہ ہماری زندگی میں اب شامل ہو چکا ہوا ہے۔ تو آج ہم دیکھتے ہیں کہ آئی سی ٹی، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اس کا ہمارے زندگی میں فنانس کے اعتبار سے اور شاپنگ کے اعتبار سے کیا رول ہے۔ The today's lecture is about what is the impact of ICT on personal finance and shoppings. Today we will explore the transformative role of Information and Communication Technology in revolutionizing personal finance management and online shopping experiences. ٹیکنالوجی نے کیا کیا چینجز کر دی ہیں۔ کس طرح ہمارے فنانس جو ہیں وہ اب ٹیکنیکلی ایزی ہو گئے ہیں اور اس سے پہلے یہ ڈیجیٹل ایرا آنے سے پہلے ہمارا فنانس کس شکل میں تھا۔ آج کل ڈیجیٹل ایرا آ جانے کے بعد ہمیں کیا فیسیلٹیز اویلیبل ہیں، وہ سب ہم آج کے لیکچر میں ڈسکس کریں گے۔ تو لیٹس سٹارٹ اور ٹوڈیز ٹاپک۔ We can say that evolution of technologies has dramatically changed the way we manage our finances, by moving from physical bank visits to digital solutions. If you have some information as it was the old era لوگوں کو بینکنگ کے لیے فزیکلی کسی لوکیشن پر جانا ہوتا تھا۔ اور بینکنگ کی چونکہ لمیٹڈ ٹائم آوورز ہوتے ہیں کہ اتنے بجے سے لے کر اتنے بجے تک یہ بینک جو ہے وہ اپنی سروسز پرووائڈ کر رہا ہے۔ ایون نو اگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو یوز نہیں کر رہے تو انہیں یہی کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی چیک بک میں سے ایک چیک لیں، پھر وہ بینک میں جائیں، پھر وہ بینک کی لائن میں وہاں پر موجود رہیں۔ اپنی باری کا انتظار کریں اور اس کے بعد جب باری آئے گی تو پھر وہ اپنا کیش ود ڈرا کر سکیں گے یا کوئی اور ٹرانزیکشن کرنی ہے جیسے بینک میں بل وغیرہ جمع کروانے کا طریقہ ہے۔ تو کچھ لوگ ابھی بھی فزیکلی بینک میں جاتے ہیں، وہاں پر قطار میں لگے ہوتے ہیں اور اس کے بعد وہ اپنی پیمنٹس وغیرہ کرتے ہیں یا کوئی بھی بینک کی سروس جو ہے اس کو انجوائے کرتے ہیں۔ تو یہ ایک کافی مشکل کام ہو گیا تھا۔ جبکہ کنورجنس اف ٹو کی ٹیکنالوجیز ون کی ٹیکنالوجی دا موبائل فونز اینڈ دا ادر از انٹرنیٹ ان دونوں ٹیکنالوجیز کے مل جانے سے you can have fundamentally rewired the relationship with finance and commerce. This combination put the power of a bank branch and a global marketplace directly into our hands. اب آپ کو کہیں پر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بینک کی لمبی لمبی جو قطار ہے لائنیں ہیں اس میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، اپنی باری کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ ایزیلی اپنے پاکٹ میں سے اپنا موبائل فون نکالیں اور جو ٹرانزیکشنز وغیرہ اپ کرنا چاہتے ہیں آپ اس کو انجوائے کر سکتے ہیں۔ These evolution of banking تو کچھ مائل سٹونز ہیں کہ یہ کب کب چینجز ہوئی ہیں کون کون سے دور میں کس طرح کی چینج ہمارے سامنے آئی تھی۔ تو اس پر ایک نظر دھڑاتے ہیں۔ Let's see. 1967 میں فرسٹ ٹائم اے ٹی ایم مشین جسے ہم کہتے ہیں آٹومیٹڈ ٹیلر مشین اے ٹی ایم مشین was introduced allowing customers to withdraw cash without visiting a bank branch. تو وہ کسی بھی جگہ پر یہ اگرچہ بینک کے باہر ہی موجود ہوتی ہیں بینک برانچ کو اس طرح تو اپ وزٹ کرتے ہیں لیکن آج کل اے ٹی ایم مشین جو ہے وہ جہاں جہاں اپ کو پیسے کی ضرورت ہے۔ کسی مارکیٹ میں پیسے کی ضرورت ہے تو بینکنگ نے وہاں پر اپنی فیسلیٹی دے دی ہے۔ اسی طرح جو ٹرانسپورٹ کی جگہ ریلوے اسٹیشن وغیرہ ہو جائیں ایئر پورٹس ہو جائیں تو اس طرح کی جگہ پر بھی بینکس نے اپنی اے ٹی ایم مشینز جو ہیں وہ انسٹال کی ہوئی ہیں۔ تاکہ اپ فزیکلی کوئی بینک نہ ڈھونڈے اور اپ ان سے انجوائے کر سکیں۔ تو فرسٹ اے ٹی ایم مشین جو ہے وہ 1967 میں لانچ کی گئی تھی۔ We can say that in 1990s the emerging of online banking websites revolutionized the banking experience enabling customers to access their accounts from home. ان لائن یہ اپ کے انٹرنیٹ پر تمام بینکس نے جیسے یہ اے ٹی ایم مشین بھی اگئی یہ بھی چونکہ انٹرنیٹ کے تھرو ہی اپریٹ ہونی تھی۔ اسی طرح پھر بینکس نے اپنی ان لائن سروسز پرووائڈ کر دی۔ کہ اپ گھر بیٹھے انٹرنیٹ ان کریں اپنے کمپیوٹر پر انٹرنیٹ ان کریں ایک ویب سائٹ بینک کی اوپن کریں وہاں لاگ ان ہو۔ لاگ ان اشور کرتا تھا کہ اپ رائٹ پرسن ہیں جو ٹرانزیکشن کر رہے ہیں اور اپ اپنی ٹرانزیکشن جو ہے وہ گھر بیٹھے ہوئے کر سکتے تھے یہ دور 1990 میں یوزیج میں اگیا ہوا تھا۔ 2000 میں مزید جو چینجز ہوئی ہیں دا انٹروڈکشن اف موبائل بینکنگ ایپس پرووائڈڈ بینکنگ سروسز ان دا گو فردر انہینسنگ کسٹمر کنویننس اینڈ ایکسیسیبلٹی۔ اپ کہیں بھی موجود ہیں اور اپ کے موبائل جو ہے وہ انٹرنیٹ کے ساتھ اگر کنیکٹڈ ہے تو اپ اپنے موبائل کے تھرو بھی اپ کو ضروری نہیں ہے کہ اپ کے پاس ایک لیپ ٹاپ وغیرہ بھی ہو۔ اپ تمام سروسز سے انجوائے کر سکتے تھے۔ 2010 میں ڈیجیٹل پیمنٹ سولیوشنز اگئی ہیں لائک پے پال کی سولوشن ہو گئی ہے موبائل ویلٹ وغیرہ ہمارے پاس اگئے ہیں۔ ان کی مدد سے بھی ہم کچھ سروسز کو انجوائے کرتے ہیں۔ پھر 2020 میں جو کہ اس وقت کا ٹائم پیریڈ چل رہا ہے 2020 کا تو اس دور میں انٹیگریشن اف ارٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ بلاک چین ٹیکنالوجی ان بینکنگ پروسیسز ری شیپنگ فائنانشل سروسز انہینسنگ سیکورٹی اینڈ سٹریمنگ دا اپریشنز۔ تو یہ ایک نئی ٹیکنالوجی بھی 2020 میں ہمارے سامنے اگئی ہے کہ کیش جو بینک کا ہوتا ہے پاکستان روپیز میں ڈالرز میں یوروز میں اپ کا جو کیش تھا اس کے علاوہ بلاک چین ٹیکنالوجی بھی ہمارے سامنے اگئی ہے کہ اس کی شکل میں بھی اپ کے پاس کیش ہے۔
[7:07]تو یہ بہت ساری نئی چیزیں انٹروڈیوس ہو رہی ہیں جو کہ ڈیجیٹل انہینسمنٹس جیسے جیسے نئی ٹیکنالوجی سامنے ارہی ہے تو یہ ایولوشن ہمارے سامنے بینکنگ کی ایولوشن بھی ارہی ہے ہمارے سامنے چیزیں ہماری لائف میں چینج ہو رہی ہیں۔
[7:21]آن لائن بینکنگ اینڈ فائنانشل مینجمنٹ ٹولز کا اگر ہم ذکر کریں تو ہمارے پاس بہت سارے اس میں ٹولز اویلیبل ہوں گے جن کو ہم یوز کر سکتے ہیں اور ان ٹولز کو یوز کرتے ہوئے فائنانشل کنٹرول جو ہے وہ ہمارے پاس سیون ڈیز ان ا ویک اینڈ 24 آوورز پر ڈے اب جب چاہیں ٹائم کی قید سے اپ نکل ائے ہیں کہ بینک کی تمام فیسیلٹیز کو بل پیمنٹ کرنی ہو کیش ٹرانسفر کرنا ہو یا اپنے فائنانس ریکارڈ کو اپ نے مینٹین کرنا ہو یا اپ نے شاپنگز کرنی ہو۔ تو اپ ٹائم کی قید سے باہر اگئے ہوئے ہیں اپ دن کے 24 گھنٹے میں سے جب چاہے یہ سروسز انجوائے کر سکتے ہیں اور اپ ہفتے میں سات دن اس میں سیچر ڈے سنڈے کوئی ہولی ڈے نہیں ہوگا۔ کوئی چھٹی کا دن نہیں ائے گا اپ ان سروسز کو انجوائے کر سکتے ہیں۔ تو ان لائن بینکنگ اینڈ فائنانشل مینجمنٹ ٹولز کا ذکر اگر ہم کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس جاز کیش جو کہ ہم کہیں گے موبائل ویلٹ سروس ہے ہمارے پاس۔
[8:31]JazzCash is a mobile wallet service that enables users to transfer money, pay bills, and shop online with ease. It supports various financial transactions offering a user-friendly experience.
[8:47]تو جاز کیش کے علاوہ اور بھی بہت ساری کمپنیز اسی طرح مارکیٹ میں ہیں ایزی پیسہ یہ ایک سروس ہے کمپرہینسو فائنانشل سروس اویلیبل کی گئی ہے ڈیجیٹل فائنانشل سروس دیٹ الاوز یوزرز ٹو میک پیمنٹس سینڈ اینڈ ریسیو منی اینڈ ایکسس لونز تھرو دی موبائل ڈیوائسز انہینسنگ فائنانشل انکلوزن۔
[9:11]Similary the Zong PayMax کی سروسز دس سروسز انٹیگریٹس موبائل ٹیلی کام سروس ود پیمنٹ سولیوشنز انیبلنگ یوزرز ٹو میک سیملس پیمنٹس اینڈ ٹرانزیکشنز ڈائریکٹلی فرام دی موبائل ڈیوائسز وداؤٹ ہیزل۔ یہ مختلف ڈیجیٹل سروسز اپ کو اب اپ کے اپنے موبائل فونز میں اویلیبل ہو چکی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ جب ہم اے ٹی ایم کو یوز کر رہے ہیں تو وہاں پر ہمارے پاس ایک اے ٹی ایم اگر اپ یوز کرنے کے لیے جائیں تو اے ٹی ایم مشین پر بھی اور جہاں کہیں اے ٹی ایم مشین انسٹال ہوتی ہے بینکس میں اس کے دروازے پر بھی اپ کو ایک لوگول بنا ہوا نظر اتا ہے وہاں پر لکھا ہوتا ہے ون لنک۔ ہم کہتے ہیں جی جہاں پر ون لنک کی سروس موجود ہے تو اپ اس اے ٹی ایم کو مشین کو یوز کرتے ہوئے کسی بھی بینک میں اپ کا اکاؤنٹ ہے اپ اپنے اس بینک اکاؤنٹ کو ایکسس کر سکتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ون لنک واٹ از ون لنک ون لنک از انٹر بینک پیمنٹ سسٹم۔ تو یہ انٹر بینک اور انٹرا بینک دونوں طرح کی فیسیلٹی اپ کو پرووائڈ کرتا ہے ون لنک از انٹر بینک پیمنٹ سسٹم دیٹ فیسیلٹی ٹرانزیکشن بٹوین ڈفرنٹ بینکس انشورنگ سکیور اینڈ ایفیشٹ ٹرانزیکشن اف فنڈز کراس ویریس بینکنگ پلیٹ فارمز۔ اپ ایک بینک سے دوسرے بینک میں نہ صرف اپنی جو کیش ہے وہ ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔ بلکہ اگر اپ نے ود ڈرا بھی کروانا ہو تو اپ کا اکاؤنٹ بینک اف پنجاب کا ہو اور اپ نیشنل بینک کی یا میزان بینک کی کوئی بھی اے ٹی ایم مشین کو یوز کر سکتے ہیں جہاں پر ون لیک لکھا ہوا ہے۔ تو وہ اپ کو پابند نہیں کرتا کہ اپ اپنے ہی بینک کی اے ٹی ایم مشین پر جائیں یا اپنے بینک کی فزیکل جہاں پر اپ کا اکاؤنٹ تھا جس بینک میں اس فزیکل لوکیشن پر جائیں تو یہ ایک سروس بہت بڑی اپ کو اویلیبل ہو جاتی ہے ون لنک کی سروس۔ اسی طرح ون لنک کے ساتھ ایم نیٹ کی سروس بھی ہے جہاں پر ون لنک نہ ہو وہاں پر اگر ایم نیٹ کا لوگو بنا ہوا ہے بعض کا یہ دونوں اویلیبل ہوتے ہیں۔ وہاں سے بھی اپ انٹر بینک ٹرانزیکشنز کر سکتے ہیں الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر نیٹ ورک کی فیسلٹی اپ کو اویلیبل ہوتی ہے۔ تو ایم نیٹ از ا نیٹ ورک ڈیزائن فار الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر انہینسنگ دا ایفیشسی اینڈ سپیڈ اف پیمنٹ۔ پروسیسنگ کنٹریبیوٹنگ ٹو ا مور سٹریم لائن فائنانشل ایکو سسٹم۔ تو اکنامیکل سسٹم میں ون لنک ون لنک کی سروس اور اس کے ساتھ ساتھ اپ کی ایم نیٹ الیکٹرانک فنڈ ٹرانزیکشن کی سروس جو ہے یہ بہت زیادہ ایز اپ کو پرووائڈ کرتی ہیں۔ We can say that what is the advantage of one link and Mnet services ان کو اگر اپ انڈرسٹینڈ کریں تو انٹر بینک پیمنٹ سسٹم کی ایفیشسی اپ کو اویلیبل ہو جاتی ہے۔ ایم نیٹ جو ہے یہ الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر اپ کو کرنے میں ہیلپ فل ہوتا ہے۔ ریل ٹائم ٹرانزیکشن کیپیبلٹیز اپ کو پرووائڈ کی جاتی ہیں۔ امپرووڈ پیمنٹ سیکورٹی میمنٹس یہاں پر ہوتے ہیں میجز ہوتے ہیں یہاں پر اپ کے پاسورڈ وغیرہ اور ہر چیز یہ سیکور ہوتی ہے ان کے تھرو اور ملٹیپل بینک نیٹورکس جو ہیں وہ ان سروسز کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں یہ اپ کو ایڈوانٹیجز ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو ایک اور چینج ہے ای کامرس پلیٹ فارمز اپ کو نئے اویلیبل ہوئے ہیں جنہوں نے نیو مارکیٹ پلیس اپ کے پاس اوپن کر دی ہے۔ تو جو پرانا ایک ٹرینڈ تھا کہ اگر اپ نے شاپنگ کرنی ہے تو مارکیٹ کب اوپن ہوتی ہے مارکیٹ کی ٹائمنگ کیا ہے فزیکلی جائیں مختلف شاپس کو وہاں پر وزٹ کریں اپنے پسند کی چیز سلیکٹ کریں ریٹ وغیرہ دیکھیں اور پھر اپ خریدیں تو وہ اپ کا ٹائم کنزیومنگ اور مارکیٹ میں ایک ہیزل ہے اپ کو فزیکلی وہاں پر موجود ہونا ہے۔ اس کی بجائے اب ٹیکنالوجی نے یہ بھی اپ کو اسانی دے دی ہے کہ اپ گھر بیٹھے ان ساری چیزوں کو انجوائے کر سکتے ہیں۔ تو گلوبل مارکیٹس اپ کو اپ کے ڈور سٹیپ پر اویلیبل ہو چکی ہوئی ہیں۔ We can say that ICT has revolutionized retail and breaking down geographical barriers and giving consumer access to a virtual unlimited selection of goods and services from local to international products. تو اپ جہاں چاہے ان سروسز کو انجوائے کر سکتے ہیں۔
[14:01]تو اگر ڈیٹیل سے ہم اس کو لکھیں تو وی کین سے دیٹ دا رائز اف ان لائن شاپنگ ہیز ٹرانسفرڈ ٹریڈیشنل ریٹیل انیبلنگ کنزیومرز ٹو پرچیز پروڈکٹس فرام دا کمفرٹ اف دی ہوم لیڈنگ ا سگنیفیکنٹ شفٹ اف بائنگ بیہیویئر۔ تو اپ کو مارکیٹ میں دھکے کھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کے علاوہ ایکسس ٹو گلوبل مارکیٹ جو سیلرز ہیں ان کو بھی یہ فائدہ ہو جاتا ہے جو پرچیزر ہیں جو خریدار ہے اس کو بھی ہو گیا کہ وہ گلوبل مارکیٹ کو ایکسس کر رہا ہے لیکن اسی طرح بیچنے والے کو بھی سیلر کو بھی بزنس مین کو بھی ایک ایڈوانٹیج ہو گیا کہ وہ بھی گلوبل مارکیٹ کو انجوائے کر رہا ہے۔ تو ای کامرس پلیٹ فارمز کنیکٹ دا بائرز اینڈ سیلرز فرام ال اوور دا ورلڈ بریکنگ ڈاؤن دا جیوگرافیکل بیریئرز اینڈ الوئنگ دا کسٹمرز ٹو ایکسس ا وائڈ رینج اف پروڈکٹس رسپیکٹو اف لوکیشن۔ السو دا کنویننس اینڈ ورائٹی ان لائن پلیٹ فارم پرووائڈ یوزرز ود دا ایبیلٹی ٹو کمپیئر پرائس ریڈ ریویوز اپ نارملی جب ان لائن بزنس پر ہیں ریویوز جو ہے پرسنز کے ان کو ضرور اپ چیک کر لیا کریں۔
[15:23]اینڈ فائنڈ دا ورائٹی اف پروڈکٹ یہ اپ کو فیسیلٹی ہے۔ اس طرح اپ کا شاپنگ ایکسپیرینس جو ہے وہ بھی انہینس ہوتا ہے۔ پاپولر ای کامرس پلیٹ فارمز جو ہیں پاکستان میں جو یوز ہو رہے ہیں وہ دراز ایمازون الی ایکسپریس اور شاپفائی ہے اس کے یہ تو ای کامرس کے حوالے سے ہیں اور ای کامرس کی ہی ٹیکنالوجی ہے۔
[15:51]ایک سروس ہمیں اویلیبل ہوتی ہے فوڈ پانڈا کی بھی جہاں پر ہم زیادہ تر کھانے پینے کی چیزیں جو ہیں وہ فوڈ پانڈا کے تھرو گھر بیٹھے مختلف ریسٹورنٹس مختلف ہوٹلز یا مختلف جو گھروں سے یہ بزنس کر رہے ہیں یہ پروڈکٹس اپنی کوئی بنا کر کھانے پینے کی کوئی کوئی چیزیں بنا کر سیل کرنا چاہتے ہیں ہم ان کو انجوائے کرتے ہیں۔ تو دیز پلیٹ فارمز الیسٹریٹ دا ڈائیورس اپشنز اویلیبل فار ان لائن شاپنگ اینڈ سروسز۔ 1.2 ملین منتھلی ایکٹیو یوزرز ان دراز اویلیبل ہیں جو کہ ساؤتھ ایشیا سے بلانگ کرتے ہیں تو 1.2 ملین پرسنز یہ اس کو یوز کر رہے ہیں دراز کو اسی طرح 300 ملین پروڈکٹس افرڈ ان ایمازون جو کہ یہ ہائی لائٹ کرتے ہیں کہ ایکسٹینسیو رینج اویلیبل ہے اتنی زیادہ رینج اپ کو ایمازون پر اویلیبل ہو گئی ہے تو جس طرح کی پروڈکٹ بھی اپ لینا چاہتے ہیں اپ اس کو انجوائے کر سکتے ہیں۔
[16:50]اس کے علاوہ علی ایکسپریس پر اگر اپ جاتے ہیں تو وہاں پر موسٹلی چیزوں پر یہ باقیوں میں بھی فیسیلٹی ہوتی ہے کہ سیلز وغیرہ سامنے اتی ہیں لیکن علی ایکسپریس پر اپ ٹو 40 پرسنٹ اکثر سیل اپ کو اویلیبل ہو جاتی ہیں ڈسکاؤنٹس اویلیبل ہوتے ہیں اپ ان کو انجوائے کر سکتے ہیں تو اگر اپ بجٹ کونشیس ہیں اپ کوئی چیز لینا چاہتے ہیں اور اپ ایک لمیٹڈ بجٹ میں انجوائے کرنا چاہتے ہیں سیلز کو ڈسکاؤنٹس کو انجوائے کرنا چاہتے ہیں تو علی ایکسپریس ضرور اپ چیک کریں۔ اسی طرح 1.7 ملین مرچنٹس ار یوزنگ دا شاپ فائی ٹو کریٹ دیر ان لائن سٹورز۔ جو بزنس مین 1.7 ملین بزنس مین جو ہیں وہ شاپ فائی کے تھرو اپنی چیزیں جو ہیں وہ پروڈکٹس جو ہیں وہ ان لائن افرز میں دے رہے ہیں۔ السو ایک سٹیٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 10 ملین منتھلی ارڈرز ار پروسیسڈ بائے فوڈ پانڈا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوڈ پانڈا میں ایک یہ ہائی ڈیمانڈ ہے فوڈ ڈلیوری کی جو کہ فوڈ پانڈا ہمارے فلفل کر رہا ہے 10 ملین منتھلی ارڈرز کو فلفل کیا جا رہا ہے فوڈ پانڈا کے تھرو۔ تو یہ پاپولر ای کامرس پلیٹ فارمز ہیں جو جن کی کچھ ایگزیمپل اپ کے سامنے رکھی گئی ہیں۔ ڈیجیٹل ایرا نے کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مرجنگ نے اپ کے فائنانس میں ای کامرس میں یہ فیسیلٹیز اپ کو پرووائڈ کی ہیں۔
[18:23]بینیفٹس اف ائی سی ٹی کے فائنانس میں شاپنگ میں یہ ہو جاتے ہیں کہ کنویننس ان فائنانشل مینجمنٹ اپ کو اویلیبل ہو جاتی ہے۔ انہینسڈ اکاؤنٹ سکیورٹی فیچرز اپ کو اویلیبل ہوتے ہیں ٹائم ایفیشسی ٹرانزیکشنز کی ہوتی ہے کہ فورا وہ ٹرانزیکشنز اپ کو ون کلک پر نظر اتی ہیں۔ تو یہ اپ کی ٹائم ایفیشسی ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔ وائڈر ایکسیسیبلٹی اپ کو سروسز کی اویلیبل ہو جاتی ہے جیسا کہ کہا گیا کہ اپ کا بینک اکاؤنٹ کسی بھی بینک کا ہو اپ اے ٹی ایم کو کسی دوسرے بینک کی برانچ میں بھی یوز کر سکتے ہیں تو یہ ایکسیسیبلٹی اپ کو زیادہ مل رہی ہے۔ اسی طرح مختلف شاپس پر اپ ان لائن کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے تھرو اپنی پیمنٹس کر دیتے ہیں اپ کو کیش جو ہے وہ اپنی پاکٹ میں رکھ کر پھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو جو کہ اپ کا کریڈٹ کارڈ اور اپ کا ڈیبٹ کارڈ ہے یہ چونکہ پاسورڈ سکیورڈ ہوتے ہیں۔ تو اپ کو یہ فیسیلٹی ہو جاتی ہے کہ اپ کو کیش کے گم ہونے کا لاس ہونے کا جو ایک سک ہوتا ہے وہ بھی اپ کا منیمم ہو گیا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان ساری باتوں کے علاوہ جو ائی سی ٹی کی انوالومنٹ فائنانس اور شاپنگ میں ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ جو اپ کو اویلیبل ہو جاتا ہے۔ دیٹ از دا گلوبل شاپنگ اپرچونٹیز ار اویلیبل بائے دس ٹیکنالوجی۔
[19:51]We can say that جیسے جیسے ائی سی ٹی میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں نئی ایڈوانسمنٹ سامنے اتی جائیں گی اس کے لحاظ سے ہمارے فائنانس اور شاپنگ میں بھی نئی چیزیں سامنے اتی جائیں گی۔ تو وہ بزنس مین جو کہ ان لائن بزنس میں ابھی اپنے اپ کو سوئچ نہیں کر رہے وہ اس مارکیٹ کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ اور اسی طرح وہ پرسنز جو ان سروسز کو انجوائے نہیں کر رہے۔ وہ بھی اپنے ٹائم کو اور ایفرٹس کو اپ کہہ لیں کہ ایسے تھکا دینے والی محنت میں ضائع کر رہے ہوں گے اپ دونوں اگر اپ خریدار ہیں یا اپ سیلرز ہیں۔ اپ کسٹمر ہیں یا اپ شاپ کیپر ہیں دونوں اس فیسیلٹی سے انجوائے کر سکتے ہیں۔ تو یہ فیوچر ہمارا جو ہے وہ ائی سی ٹی کی ایڈوانسمنٹس پر بھی ڈیپنڈ کرتا ہے کہ انے والے دور میں اس میں اور کیا کیا نئی چیزیں ہمیں اویلیبل ہوں گی کن کن چیزوں کو ہم انجوائے کر سکیں گے۔ رزلٹس یہ ہیں کہ ریولوشن ان ایکسس اینڈ ایفیشسی یور فائنانسز ار مینجڈ ان یور شیڈول ناٹ دا بینکس شیڈول بٹ یور اون شیڈول دا سیکنڈ ون از سیکورٹی ٹائم سیونگ ایکسیسیبلٹی ہے اپ اپنے فون کے تھرو اپنی ریگارڈلیس اف دا لوکیشن یوزنگ اینی فون اینڈ اینی انٹرنیٹ کنیکشن اپ چیزوں کو ایکسس کر سکتے ہیں اور گلوبل شاپنگ کو اپ انجوائے کر سکتے ہیں۔ فرام پیسو کنزیومر ٹو ایکٹیو مینجرز اف اور فائنانشل لائیوز اپ کو نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر شفٹ ہونا چاہیے۔ تھینک یو۔



