Thumbnail for 1 Lakh Ka Karz Janaza Ruk Gaya|Lekin Beti Ne Jo Kiya Sab Ki Ankhen Khul Gayi by Story Home

1 Lakh Ka Karz Janaza Ruk Gaya|Lekin Beti Ne Jo Kiya Sab Ki Ankhen Khul Gayi

Story Home

2m 24s500 words~3 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]قدیم عرب کے ایک گاؤں میں ایک بزرگ بابا جی کا انتقال ہو گیا۔ پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی جنازہ تیار ہوا، کفن پہنایا گیا اور لوگ قبرستان لے جانے کو تیار ہوئے۔ جب لوگ جنازہ اٹھا کر قبرستان کی طرف جا رہے تھے تو اچانک ایک آدمی اگے آیا اور جنازہ روکنے لگا۔ اس آدمی نے بلند آواز میں کہا مرنے والے نے میرے ایک لاکھ درہم دینے ہیں، پہلے قرض ادا کرو پھر اس کو دفن کرو۔ تمام لوگ حیران کھڑے تماشا دیکھنے لگے۔ وہ شخص جنازے کو روک کے کھڑا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کوئی اگے نہیں آیا۔ مرنے والے کے بیٹوں نے اپس میں مشورہ کیا اور پھر انکار کر دیا کہ ہمارے باپ نے ہمیں ایسا کچھ نہیں بتایا۔ ہم یہ قرض کیسے ادا کر سکتے ہیں؟ مرنے والے کے بھائیوں نے بھی کہا جب اس کے جائیدادوں کے مالک بیٹے نہیں دے رہے تو ہم کیوں دیں۔ ہم یہ قرض نہیں دیں گے، اب پورا مجمع خاموش اور پریشان کھڑا تھا۔ سب سوچ رہے تھے اب یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ وہ شخص جنازے کا وارث بنا ہوا تھا۔ کافی دیر گزر چکی تھی یہ خبر گھر کی عورتوں تک بھی پہنچ گئی، گھر میں پریشانیاں ہونے لگی۔ مرنے والے کی بیٹی نے جب خبر سنی کہ باپ کا جنازہ روکا ہوا ہے تو وہ دکھی ہوئی اور فورا کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیٹی نے فورا اپنا سارا زیور اترنا شروع کیا، سونے کی چوڑیاں، ہار بالیاں، انگوٹھیاں سب اتار دیں۔ اس کے پاس جو کچھ تھا نکالنے لگی۔ بیٹی نے زیور اور رقم کپڑے میں باندھی اور ایک بزرگ کو دے کر کہا اللہ کے لیے میرے ابو کا جنازہ نہ روکو۔ میں باقی قرض بھی ادا کروں گی۔ وہ بزرگ فورا بیٹی کے زیور لے کر بھاگتے ہوئے جنازے کی طرف دوڑا۔ وہ بزرگ وہاں پہنچا اور سانس پھولتے ہوئے اس آدمی کے پاس گیا۔ بیٹی کا پیغام سنایا اور زیور پیش کیے۔ وہ شخص کھڑا ہوا لمبا سانس لیا اور بلند اواز میں پورے مزمہ سے کہا لوگو اصلی حقیقت کچھ اور ہے۔ اس نے کہا یہ بزرگ میرے مقروض نہیں تھے۔ بلکہ میں ان کا مقروض تھا میں نے ڈرامہ کیا تاکہ حقیقت سامنے ائے۔ اس نے اگے کہا میں وارث تلاش کر رہا تھا اب مجھے معلوم ہو گیا کہ اصلی وارث کون ہے۔ اس نے بلند اواز میں کہا اب مجھے پتہ چل گیا کہ اصلی بارز صرف بیٹی ہے صرف بیٹی نے باپ کی عزت کی۔ اب سب لوگ بیٹوں اور بھائیوں کی طرف دیکھنے لگے ان کے چہرے شرم سے جھک گئے۔ قرض خواہ نے کہا یہ ایک لاکھ درہم بیٹی کو ملیں گے جس نے باپ کی عزت کیا یہ زیور بھی واپس ملیں گے۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ بیٹی اللہ کی نعمت ہے، بیٹی والے خوش نصیب ہیں۔ بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی ہر بیٹی کو عزت دے اور ہر والدین کو بیٹیوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript