[0:04]بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہم صلی علی سیدنا محمد وعلی ال سیدنا محمد وبارک وسلم۔ پیارے دوستو، اور عزیز بھائیوں، اللہ کا بے حد شکر و احسان اور کرم ہے کہ اللہ تعالی نے ہم سب کو ایک عظیم مجلس، عظیم محنت کے لیے مجمع فرمایا۔ بظاہر تو یہ چھوٹی سی مجلس ہے لیکن اللہ کی نگاہ میں اس کے بہت درجے ہیں۔ فرماتے ہیں ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کے اللہ تعالی سیئات کو حسنات سے مبردل فرما دیتے ہیں۔ یعنی گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتے ہیں۔ اور یہاں تک فرماتے ہیں کہ ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کی اللہ تعالی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ اب کتنی بڑی مجلسیں ہیں یہ ہم لوگ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ان تمام فضائل کے یقین کے ساتھ ہم سب کو بار بار ایسی مجلسوں میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قرآن پاک میں آتا ہے اللہ رب العالمین اپنے پاک کلام میں فرماتے ہیں۔ کہ جو لوگ دین کے لیے محنت کرتے ہیں، مجاہدہ کرتے ہیں، کوششیں کرتے ہیں، ان کے لیے ہم راستے کھول دیا کرتے ہیں۔ یہ دین کیا ہے؟ اللہ رب العالمین نے زندگی گزارنے کے لیے ایک لائف اسٹائل دیا ہے۔ پوری زندگی کی ایک ترتیب بتا دی ہے۔ لیکن افسوس بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک جگہ اللہ تعالی کیا فرما رہے ہیں؟ یا ایھا الذین آمنو ادخلوا فی السلم کافہ۔ اے ایمان والو پورے کے پورے، پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ آدھے تیتر آدھے بٹیر ایسے کام نہیں چلے گا۔ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ یعنی ہماری معاشیت، معاشرت، اخلاقیات اور معاملات، ہماری عبادات یہ سارے کے سارے جو نقشے ہیں وہ صحیح ہو جائیں۔ صرف عبادت سے کچھ نہیں ہونا۔ یہ آدمی مسجد میں بیٹھ کر اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو کر رہا ہے۔ یہ کافی نہیں ہے اللہ کی نگاہ میں، کیونکہ راہبانہ زندگی اللہ نے اس امت کے لیے پسند نہیں فرمائی۔ اللہ تعالی نے اس امت کے لیے مجاہدانہ زندگی پسند فرمائی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کو مجاہدے پہ ڈال کے گئے تھے اور ہم لوگ عیش پرستی میں پڑ گئے۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم امت کو سادگی پہ ڈال کے گئے تھے۔ ہم لوگ فیشن پرستی پہ پڑ گئے۔ افسوس کی بات ہے دوستو۔ ہم یہ جو قرآن پاک کی آیت ہے کہ اے ایمان والو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ اس پہ عمل کریں۔ اور یہ عمل کیسے ہوگا کہ پہلے تو پورا کا پورا دین سیکھنا پڑے گا۔ پورا دین کہ تجارت میں کیا دین ہے؟ شادی بیاہ کا کیا دین ہے؟ گھر بار کا کیا دین ہے؟ بیوی بچوں کے ساتھ ہم کیسے پیش آئیں؟ اپنے پڑوسیوں کے حقوق کو کیسے ادا کریں؟ اپنے معاملات کو کیسے بہتر رکھیں؟ اپنے آپ کو کتنا کیسا خوش اخلاق بنائیں۔ اپنے کاروبار میں کس اعتبار سے جو ہے لوگوں کے ساتھ ہم سلوک کریں؟ یہ ساری کی ساری چیزیں ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ اور صحابہ کرام پہلے دین سیکھتے تھے اس کے بعد عمل کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک دن بازار میں پہنچے۔ لوگ گلہ بیچ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہاتھ ڈالا اندر۔ ایسے کر کے نکالا نیچے غلہ تو تھا گیلا تھا اور اوپر سوکھا رکھ دیا تھا۔ کہا تم نے دکان کب سے کھولی؟ کہا ابھی جلدی شروعات کی۔ کہا کیا تجارت کا دین سیکھا؟ کہا نہیں اب نہیں سیکھا۔ کہا جاؤ پہلے تجارت کا دین سیکھ آؤ۔ تجارت کا دین سیکھو۔ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں پہ ایسا سچا پکا یقین تھا، اللہ کے وعدوں پہ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہ ایسا یقین تھا صحابہ کرام کو کہ آج تک کسی کو نہ تو ہوا ہے کسی پہ اور نہ ہوگا۔ اور نہ اس سے پہلے کبھی ہوا۔ کیسے؟ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میرے ایک ہاتھ میں اگر میری ایک ایک ہاتھ میں جنت اور ایک ہاتھ میں دوزخ رکھ دی جائے۔ اور میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں کہ جنت اور دوزخ تو میرے یقین میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا بتائی ہوئی جو خبر ہے اس پہ ایسا یقین ہے ایسا یقین ہے کہ دیکھنے کے بعد بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ ان کا بچہ فوت ہو گیا۔ ننھا منھا بچہ تھا۔ نمولود فوت ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر پہنچی اور وہ روتی ہوئی آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ اگر تم کہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ تمہارا بچہ جنت میں حوروں کی گود میں کھیل رہا ہے۔ تو صحابیہ کیا فرماتیں؟ یا نبی اللہ! یا رسول اللہ! مجھے اپنی آنکھوں پہ کے دیکھے ہوئے پہ تو اتنا یقین نہیں جتنا آپ کے کہے ہوئے کو یقین ہے آپ نے کہہ دیا اپنی آنکھوں پہ تو دھوکا ہو سکتا ہے لیکن آپ نے جو کہا اس میں ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ تو دوستو یہ یقین بنایا تھا۔ اور اسی لیے صحابہ کرام کے معاشیات اور معاشرات اور تمام کے تمام جو زندگی کے گزارنے کے طریقہ کار تھے وہ سب اسی اعتبار سے تھے، دین کے اعتبار سے تھے۔ دین دوستو بڑی مشکل سے بڑی قربانیوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے اور یہ قربانی کے ذریعے ہی بچا رہے گا۔ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا کاروبار اسی اعتبار سے چلتا رہے ہم یہ سوچیں کہ ہمارے ہمارا بزنس ویسے ہی چلتا رہے ہم یہ سوچیں کہ ہمارے ہم اپنے بیوی بچوں سے جدا بھی نہ ہوں ماں باپ سے جدا بھی نہ ہوں اور ہمارا دین بھی اچھا ہو جائے۔ کیسے اچھا ہو گا بھائی؟ دین تو اللہ تعالی نے مجاہدے پہ رکھا ہے۔ زندگی میں اگر مجاہدہ ہوگا تو ایمان بنے گا اور جب ایمان ہوگا تو باقی کے صیغے جو ہیں دین کے وہ بھی آسان ہوتے چلے جائیں گے۔ سب سے پہلی جڑ کیا ہے؟ ایمان ہے۔ ایمان ایسا ہونا چاہیے ایسا ہونا چاہیے کہ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا ایمان تھا۔ اب ظاہر سی بات ویسا بنا تو سکتے نہیں لیکن بنانے کی کوشش میں لگے رہنا ہے۔ اللہ تعالی خود حکمیہ دعوت دے رہے ہیں۔ آمنو کما من الناس ایسا ایمان لاؤ جیسے تم سے پہلے والے ایمان لائے۔ یہ یقین ہمارے دلوں کے اندر دوستو جب تک نہیں اترے گا ابھی تو ہماری سارا کا سارا معاملہ یقین باللسان پہ ہے زبانی یقین ہے۔ ابھی دل کا یقین کہاں سے آ گیا۔ ایمان کیا ہے کہ کسی کی بات کو کسی کے بھروسے پہ دل کے یقین کے ساتھ بے غیر کسی مشاہدے پہ مان لینا۔ یہ ہے ایمان۔ ابھی تو ہم نے صرف سنا ہے اور ہمارے دماغ تک بات پہنچی ہے۔ زبان تک ائی ہے۔ ابھی دل کے اندر نہیں اتری۔ یہ جو محنت ہے دعوت والی اس سے چاہا جا رہا ہے کہ یہ ایمان جو ہے یہ ہمارے دلوں میں آ جائے۔ اور جس دن ایمان دلوں میں آ گیا اس دن پھر پھر ہمیں دنیا جو ہے وہ نہایت چھوٹی اور نہایت گھٹیا چیز لگنے لگے گی۔ دین نے کیا کہا؟ ہمارے نبی نے کیا کہا؟ کہ شادی کر لو۔ شادی کو آسان کر دیا اسلام نے۔ شادی کو آسان کر دیا۔
[8:14]ہم نے شادی کو جب مشکل کر دیا تو کیا ہوا؟ پھر زنا عام ہو گیا، زنا آسان ہو گیا۔ تو اس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ اگر ہم دین پہ چلیں گے تو سارے کے سارے مسئلے آسان ہوتے چلے جائیں گے۔ الدین یسرون اللہ فرماتے ہیں دین تو بہت آسان ہے۔ اس پر عمل کر کے تو دیکھو۔ حضرت مولانا صاحب صاف صاف فرمایا کرتے تھے کہ ایک ایک شخص جو ہے وہ پیشاب کرنے کے لیے جا رہا ہے۔ تو کیا کہے گا؟ بھئی ہم استنجا کرنے جا رہے ہیں، چلو بھئی تم بھی چلو میرے ساتھ میں تم بھی چلو تم بھی چلو۔ کہے گا بھلا کوئی؟ ارے بھئی کوئی کہے گا کہ چلو ہم استنجا کرنے جا رہے ہیں پیشاب کرنے تم بھی چلو۔ اور نکاح کرنے جا رہے ہیں تو بھئی پوری بسیں بھر بھر کے جا رہی ہیں، گاڑیاں بھر بھر کے جا رہی ہیں۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟ بھئی پیش جیسے استنجا کرنا ایک ضرورت ہے ایسے ہی نکاح بھی کرنا ایک ضرورت ہی تو ہے۔ ہم نے دین کو جو ہے ایک کھلواڑ بنا لیا۔ جب جی چاہا تب تو اپنا لیا اور جب جی چاہا تو کنارے ڈال دیا اگر گھر میں خدانخواستہ کوئی موت ہو گئی تو پھر کیا ہے فورا مولانا صاحب کو بلایا گیا آیئے اور سارا کا سارا ان کے بتائے مطابق ہو رہا ہے۔ ہاں جیسے مولانا صاحب کہہ رہے ہیں سب نیلاؤ بھی ایسے ہی اور جو ہے کفناؤ بھی ایسے ہی۔ مولانا صاحب کہہ رہے ہیں بھئی مذاق بات ہے اور جب شادی کا موقع آیا، نکاح کا موقع آیا تو مولانا صاحب بلائے تو گئے، نکاح کے لیے بلائے تو گئے لیکن دور ایک کونے میں کرسی کے اوپر بٹھا لیے گئے اور دلہا میاں چاروں طرف جو ہے وہ خواتین سے گھرے ہوئے ہیں وہاں کیا چل رہا ہے؟ وہاں رواج عام ہو رہا ہے۔ اچھا الگ الگ قسم کے رواج، اللہ اکبر۔ جو کبھی نہ سنے نہ کبھی دیکھے۔ یہ ہے دین ہمارا۔ یہ ایسا دین ہمارے دل کے اندر گھسا ہوا ہے۔ اور نانی ناراض ہو جائیں گی اور دادی ناراض اور خالہ تو بہت ہی ناراض ہوں گی اگر یہ نہیں کیا تو۔ تو اس لیے ہمیں یہ جو قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرما دیا کہ پورے کے پورے ایمان والو تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو۔ یہ نہیں کہ آدھا تیتار آدھا بٹیر اس سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ تو دوستو زندگی میں اگر دین لانا ہے تو اس کے لیے دین کو سیکھنا پڑے گا، دین کو سمجھنا پڑے گا۔ اور یقین لانا ہے تو یقین کی محنت کرنا پڑے گی کہ ہمارا یقین کس چیز سے بنا ہوا ہے ہمارا یقین اسباب سے بنا ہوا ہے۔ کہ اگر دکان نہیں جائیں گے تو کھائیں کیا؟ جبکہ آج سے ۲۷ سال پہلے تقریبا مولانا صاحب کے تقریبا ۲۲, ۲۳ سال پہلے مولانا صاحب کی زبانی میں نے خود سنا تھا اور اس کے بعد بھی سنا کہ فرماتے تھے کہ اسباب جو ہیں یہ اوندھے پیالے کی طرح ہیں۔ اسباب اوندھے پیالے کی طرح ہیں۔ اعمال جو ہے وہ سیدھے پیالے کی طرح ہے۔ اوندھے پیالے میں کچھ ڈالو گے تو کیا ہوئے گا بھئی؟ گر جائے گا سیدھا پیلاؤ اور پھر اعمال کے بعد جو دعا ہوگی وہ چیز ہے جو آپ مانگ رہے ہیں۔ اب سیدھا پیلا ہوۓ گا تبھی تو اس کے اندر وہ چیز رکے گی اب دعا تو مانگ رہے ہیں اور اسباب کے اعتبار سے مانگ رہے ہیں تو اوندھا پیالہ ہے وہ تو اۓ گا پھسل جائے گا نیچے گر جائے گا مجھے کیا ملے گا؟ تو اس لیے اسباب اختیار کرنا ہے مگر اسباب کی حد تک اختیار کرنا ہے اسباب پہ یقین نہیں رکھنا ہے کرنے والی ذات کون ہے؟ اللہ کی ہے۔ جب تک اللہ کی بڑائی اللہ کی کبرائی اللہ کی عظمت اللہ کی ربوبیت ہمارے دلوں میں نہیں آئے گی دوستو تب تک ہم کیسے ایمان والے بن گئے؟ ہم تو صرف مسلمان بنے ہوئے ہیں نام کے مسلمان۔ تو یقین ہمارے دلوں کے اندر تب آئے گا جب ہم اپنی جان مال وقت لے کے اللہ کے راستے میں مجاہدہ کریں گے۔ اور اپنے احساسات کی قربانیاں دیں گے اپنی جذبات کی قربانیاں دیں گے اپنی جان کی قربانی دیں گے اپنے مال کی قربانی دیں گے۔ یہ ساری قربانی صحابہ کرام دے چکے ہیں۔ ہم سے اتنی نہیں مانگی جا رہی ہم سے تو بہت تھوڑی سی مانگی جا رہی۔ تھوڑی سی اور وعدے کیسے ہیں؟ صحابہ کرام کے ساتھ جو اللہ کی مدد ائی اس سے ۵۰ گنا زیادہ وعدے ہیں اس سے ۵۰ گنا زیادہ مدد آئے گی۔ لیکن افسوس کی ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اللہ کرے کہ ہماری سمجھ میں آ جائے۔ اور سمجھنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ کے راستے میں جان مال وقت لے کے چار ماہ کے لیے نکلا جائے۔ بات کو سمجھا جائے سیکھا جائے اور پھر اس پہ عمل کیا جائے۔ کہنے کا سب لوگ انشاء اللہ اصل چیز تو دوستو یہی ہے دنیا کیا ہے فانی چیز ہے آج نہیں تو کل ختم ہو جائے گی یا تو یہ چیزیں ہمیں چھوڑ کے چلی جائیں گی یا ہم ان چیزوں کو چھوڑ کے چلے جائیں گے۔ لیکن اصل کیا ہے وہ اعمال ہیں وہ نیک اعمال جو ہم آگے بھیجیں گے وہ آخرت والی زندگی میں ہمارے کام آئیں گے اور وہی اصل ہیں دنیا کی زندگی ایک پانی کے بلبلے کی طرح ہے کہ تیزی سے اٹھتا ضرور ہے لیکن اسی تیزی سے پھوٹ بھی جاتا ہے۔ تو اس کے لیے بتائیں کون کون بھائی ہمارے تیار ہیں اللہ کے راستے میں جانے کے لیے چار ماہ کے لیے کون کون بھائی ہمارے تیار ہیں؟ دوستوں میں ہوں یوسف علی کا دیکھ رہے ہیں دعوت جنت کا راستہ اپ سے گزارش ہے کہ ہماری ویڈیوز کو زیادہ سے زیادہ لائک کریں شیئر کریں اور کمنٹس بکس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔



