Thumbnail for Iftar Dinner at Salman Butt's Residence | Ownor of Faisal Movers Ahmed Shahzad | Pakwatan by Pakwatan

Iftar Dinner at Salman Butt's Residence | Ownor of Faisal Movers Ahmed Shahzad | Pakwatan

Pakwatan

16m 10s2,978 words~15 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:01]پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ممتاز سیاسی سماجی و کاروباری شخصیت سلمان بٹ نے پاکستان سے تشریف لائے۔ فیصل موورز کے روح رواں احمد شہزاد کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر شاندار افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ وقت کی قلت کے باعث چند قریبی دوست احباب ہی مدعو کیے۔ روزہ افطار ہوا۔ اذان اور نماز باجماعت کے بعد گھر کا بنا ہوا لذیذ کھانا پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے خوب تعریف کی۔ ہلکی پھلکی گپ شپ اور کاروباری باتیں ہوئیں۔ شہزاد بھائی نے دلچسپی سے گفتگو سنی اور مشوروں کو مفید قرار دیا۔ ہماری گائب ہے بک کرو ڈاٹ کام وہ فیصل کی اپنی ہی ایب ہے وہ لیکن اپ کے اس میں وہ نہیں وہ اس میں نہیں ہے وہ کروانا اپ گریڈ ہونے والی ہے یہ لگے ہوئے ہیں وہ انشاءاللہ اپ گریڈ ہو جائے اچھا اس پہ نا ایک اور اپشن ڈالیں وہ بس ٹریک والا امریکہ میں اپ دیکھیں نا یہاں پہ کرتے ہیں لوگ وہ ٹریک ہو رہی ہوتی ہے بس ہاں اپ نمبر ڈالیں بس کتنے بجے کیا کتنے بجے وہ جائے گی انعام صاحب جی اپ یہ اپ اس پہ وہ ہمارے اپنے سسٹم میں ہو رہی ہوتی ہے وہ اپ نے کسٹمر کو نہیں کرنا جی ایس ایم ایس سے کہیں بندے کا نمبر دے دیں تو اپ اس کو میسج کر دیں کہ جی بس اتنے بجے ائے گی یہ ہے یہ ہے یہ ہے پلان میں وہ ادھا جو مثلا وہ بندہ دیکھ رہا ہوتا ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جیسے اب جیٹ کوئی لوگ لینے جاتے ہیں نا وہاں پارکنگ کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے تو جہاز ٹریک کر رہے ہوتے ہیں ریڈار میں جیسے ہی پتہ لگتا ہے 15 منٹ سے پتہ ہے میری رینج ہے یہاں سے 15 منٹ کی ایئرپورٹ ادھر تو ہے نا باقی تو جس نے ا رہا ہے وہ پیکن لے ایا ہے وہ موبائل سے ان کے ساتھ اتنا لنک ہے کہ وہ لیکن دیکھیں نا کسٹمر سروس سے میسج بھیجیں گے نا کہ ٹرمینل پہنچنے پہ اسلام اباد 15 منٹ ہے وہ ایک ریپوٹیشن بن جاتی ہے کہ یار یہ بتاتے ہیں اور اس میں اپ ایک اور چیز بھی کر سکتے ہیں جیسے یہاں پہ اپ شاید اپ دیکھیں نہیں فون کرتا مس ہو جاتی ہے تو ہم اس کو اس کی بکنگ کینسل نہیں کرتے اس کو اگلے اپ گریڈ کر دیتے ہیں دوسری میں کر دیتے ہیں اچھا یہ جو وہ اگر ٹائم پہ نہیں پہنچ سکا تو ہم اس کو اگلی گاڑی میں ایڈجسٹ کر دیتے ہیں وہ ایک ایڈ کرتا ہے نا جو سپورٹ کی جگہ ایک واٹس ایپ کا لنک دے دیں کسی بھی دو تین لوگوں کا تو اگر جیسے یوزر جو ہے کہیں بھی بیٹھا ہوا ہے اس کو کوئی ہیلپ چاہیے مثال کے طور پر وہ کہتا ہے مجھے رات کو دو بجے ٹکٹ بک کرنی ہے اس کو ہم نہیں تو وہ کرے اس کو نمبر پہ میسج ہو رہی ہے تو وہ اسی ٹائم اس کو کڈنٹ بلکہ صاحب نے جو باتیں کی ہیں اس کے بعد کوئی بات رہتی نہیں ہے کرنے کی شہزاد بھائی نے جیسے فرمایا کافی سارا نالج ہے ان کے پاس تو شہزاد بھائی کے جو چھوٹے بھائی ہیں فرق صاحب وہ میرے تقریبا سات اٹھ سال پرانے دوست ہیں ان کے کزن جو ہیں خواجہ راہ صاحب عرف چاند ان سے ہمارا تقریبا 40 ایئرز کا ایک تعلق ہے ٹھیک ہے تو ایک فیملی ہماری بیک گراؤنڈ ہے ان کے ساتھ تو ادھر جب یہ ائے ہیں ماشاءاللہ تو ان اس کے ساتھ مجھے مزید معلومات مجھے ملی اور میں چاہتا ہوں کہ جیسے کہ اج یہ ادھر موجود ہیں امریکہ کے اندر بھی یہ بزنس کرنا چاہ رہے ہیں حتی کہ بیس ان کا پاکستان کے اندر ہے لیکن الحمدللہ ایک اچھا میسج لوگوں کو جانا چاہیے کہ پاکستان کے ادھر جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ اج بھی الحمدللہ اپنے ملک کی ترقی کے لیے ترقی کے لیے اگے بڑھ رہی ہیں اور جدھر جدھر وہ ان کا ایسا ڈالنا پڑا ہے وہ ڈال رہے ہیں اور جو لوگ ادھر امریکہ کے اندر موجود ہیں ان کو بھی یہ ان سے بھی یہ ایک درخواست ہے کہ اپنے ملک کے لیے جدھر بھی اپ کچھ بھی کر سکتے ہیں اپنے ملک کا نام روشن کریں۔ اس کا بڑا فائدہ ہوگا۔ تو اس کے اوپر سب کی سوچ بھی ایک ہے رائے بھی ایک ہے۔ بیچ میں تھوڑے سے ایشو ائے تھے۔ ان کے جو کنٹریکٹر تھے انہوں نے کام روک دیا تھا پیمنٹس کی کچھ وجوہات تھیں تو سینٹ کے جو ہمارے ڈپٹی چیئرمین تھے انہوں نے سلیم مری والا انہوں نے کوشش کی تھی کہ فیسیلیٹیٹ کرنے کی کہ ان لوگوں کو کس طریقے سے سلمان بٹ نے مہمان کا تعارف کرایا تو دوستوں پر اشکار ہوا کہ ان کے درمیان مہمان اور میزبان کا تکلف ہی موجود نہیں۔ شہزاد بھائی نے کہا انہیں امریکہ میں ایسی مہمان نوازی کی توقع نہ تھی۔ گویا عرصہ سے دونوں خاندانوں کا اپس میں گہرا تعلق ہے۔ پاک وطن نے اس موقع پر احمد شہزاد سے ان کے وسیع کاروبار بارے تفصیلی گفتگو کی۔ حاضرین فیصل موورز کی کامیابی کے راز سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ السلام علیکم ناظرین پاک وطن ٹی وی کی جانب سے زاہد شہباز حاضر خدمت ہے۔ اج ہمارے ساتھ فیصل موورز پاکستان کے روح رواں جناب احمد شہزاد صاحب موجود ہیں ہم یہاں سلمان بٹ جو ہمارے دوست ہیں ینکر میں ان کے ہاں اج افطاری بھی ہوئی ہے سب لوگ یہاں پہ شریک ہیں۔ تو ہم احمد شہزاد صاحب کو ویلکم بھی کہتے ہیں وہ یہاں پہ امریکہ اور کینیڈا کے دورے پہ نجی دورے پہ ائے ہوئے ہیں بلکہ تو ان سے تھوڑی بہت ان کی جو کامیابیاں ہیں اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تاکہ یہ اپ لوگوں کو بھی جو بزنس میں انا چاہتے ہیں کچھ رہنمائی ملے انسپریشن ملے اور اپ بھی ایک کامیاب بزنس مین بن سکے۔ السلام علیکم جی احمد شہزاد صاحب وعلیکم السلام کیسے ہیں جناب جی اللہ کا شکر اپ سنائیں ٹھیک ٹھاک کیسا رہا دورہ اپ کا دورہ جی ماشاءاللہ بہت اچھا جا رہا ہے کل تو کل واپسی ہے جی تو ہم لوگ تو نکلے ہوئے تھے فیملی کے ساتھ ٹور پہ یو کے اور پھر امریکہ کینیڈا کل تو کل واپسی ہے بٹ صاحب کے گھر ٹھہرے ہوئے ہیں ہم لوگ ماشاءاللہ بہت مہربان ہیں میزبان ہیں یہ تو میں ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا کہ امریکہ میں اتنے اچھی مہمان نوازی ہوگی باہر بھائیوں کی طرح انہوں نے اپنے فیملی کی طرح ہماری لک افٹر کی ہے جی اپ نے بالکل درست کہا ہے ماشاءاللہ ان کا یہاں پہ بھی ہمارے ساتھ بھی اور ایون ہی محسوس نہیں ہوا کہ اؤٹ اف کنٹری ہیں یا اپنے گھر سے باہر ہیں یہ تو ماشاءاللہ اللہ تعالی انہیں جو اس چیز کی اور دے اللہ تعالی ان کو رزق اور دے اضافہ کرے اور جی صحت دے تو باقی جناب ہم لوگ پاکستان میں تو شکر الحمدللہ ایک اچھا نام فیصل موو نے بنایا ہے لوجسٹک میں پبلک ٹرانسپورٹ میں اور فیصل گروپ کے نئے اگے جو نئے ویژن ہیں وہ ٹی ائی ار پہ کام ہو رہا ہے جو سینٹرل ایشیا سٹیٹ ہے اس میں ہم لوگ کام کر رہے ہیں تاجکستان ازبکستان وغیرہ تو ادھر یو ای میں عرب کنٹری میں بھی ہے پلان انشاءاللہ نیکسٹ ایئر یہاں بھی ہے پلان بزنس کا ٹورزم میں ائیں گے ٹورزم میں ہم نے 2017 16 17 میں کام سٹارٹ کیا تھا ناردرن ایریا میں ناران گلگت ہنزہ وغیرہ وہ ہم نے کور کیا ماشاءاللہ بڑا اچھا نام بنایا اگے لوگوں کو پرابلم اتی تھی کہ پنجاب سے لوگ پہلے اسلام اباد جاتے تھے اسلام اباد سے پھر انہوں نے اگے ابٹ اباد جانا ہے یا کسی نے گلگت جانا ہے تو وہ لوکل بسوں پہ خوار ہوتے تھے تو اب یہ ہے کہ لوگوں کو سہولت ملے کراچی سے سندھ سے پنجاب سے وہ گھر سے بیٹھتے ہیں اگے ان کو ٹرانزٹ بس ملتی ہے اپنے گھوم پھر کے واپس اپنے مقام پہ پہنچ جاتے ہیں ون ٹکٹ میں تو بہرحال لوگوں کو کافی اسانی ہوئی ہیں کافی نئی گاڑیاں لگزی گاڑیاں مری میں ہم نے نئی گاڑیاں دی ہیں 2023 ابھی پچھلے دنوں میں سروس چروائی چلائی تھی جس میں شاہد خان کاعباسی اور حنیف عباسی وغیرہ ان سب نے افتتاح کیا تھا تو وہ ایک سٹی کے ساتھ مل کے بسیں پرووائڈ کی اور وہ ایک لوکل شٹل سروس چلی ہے لوگوں کو نئی بسیں ملی ہیں سفر کرنے کے لیے تو بہرحال انشاءاللہ اگے بھی فیصل اور پاکستان کے لیے کافی کام کرے گی اور انٹرنیشنل چائنہ اب کھل گیا ہے پچھلے دو تین سال بند رہا ہے تو ہم انشاءاللہ ٹورزم پہ ہم چائنہ لے کے جائیں گے لوگوں کو ازبکستان تاجکستان ادھر سب کو لے کے جائیں گے اچھا یہ جو ٹرانسپورٹ بزنس ہے میں تو ایک تھوڑا سا اپ سے یہ بھی سوال کرنا تھا کہ اپ جو ہے سیلف میڈ ہیں یا اپ کے جو بزرگ ہیں وہ اس فیلڈ میں تھے کیونکہ یہ تو ایک بڑی کمپلیکیٹڈ سی اور یہ سمجھیں کہ جو منجے بچھے ہوئے ہیں بدمعاش بیٹھے ہوئے ہیں میرا ٹائم ہے تیرا ٹائم ہے تو یہ یہ مرحلے اپ ان سے گزرے ہیں کہ نہیں جی بالکل گزرے ہیں میں بیس ایک خواجہ فیملی سے تعلق ہے ہمارا تو ہم لوگ بیسک سرگودہ سے تعلق ہے تو ہم لوگ ایک کھاد کا فرٹیلائزر کا کام کرتے تھے ٹریڈنگ کا کام تھا ہمارا تو 1996 میں میں اس میں لوجسٹک میں ایا ہوں کام گورنمنٹ کے کنٹریکٹس ملے فورجی فرٹیلائزر ہے اینگرو ہے پاک عرب ہے فاطمہ یہ پانچ چھ جو کمپنیز نے ان کے ساتھ لوجسٹک کا کام سٹارٹ ہوا ہے تو 2003 میں میں نے ایسے ہی شوق کیا بسوں کا کام شروع کیا تھا تو لڑائی جھگڑے بڑے مشکل سے ہوئے ہمارے سرگودہ جھنگ روڈ تھا اس پہ لڑائی جھگڑے روز بسیں ایک دوسرے کی توڑنی پھر جلانا انہوں نے تو اینڈ اب ایک ڈے یہ تھک ہار گئے کہ یہ یار یہ بڑا گندا کام ہے تو اس کو کلوز کریں لیکن پھر ہم لوگوں نے ہمت نہیں ہاری تو ہم لوگوں نے روٹ چینج کیا اور ملتان لاہور نان سٹاپ سروس سے سٹارٹ کیا وہ اللہ تعالی نے ہمیں کامیابی دی اج شکر الحمدللہ ہم ساڑھے چھ سو سات سو بس پاکستان میں چلا رہے ہیں چار کمپنی مختلف یہ ماڈرن وے ہے بڑا اس کا ٹرانسپورٹ کا اور گڈز فارورڈنگ کا جی جی تو اس میں بھی ٹرک والے معاملے میں بھی پتہ ہے اپ کو کہ وہی ہے فیلڈ اور ہمیں اس میں بھی وہ جو چیزیں نظر اتی ہیں کہ الٹریٹ پیپل اور سارا وے جو ہے سامان چوری ہوتا تھا پتہ نہیں کیا کیا اس میں بھی سواریوں کے جو معاملات تھے تو قطعی طور پہ یہ جو ہے یہ پہلے والے سسٹم سے اپ کا مختلف ہے اس میں غالبا کوئی ہوسٹس وغیرہ بھی ہیں کھانا ملتا ہے جی بس بس میں بس میں ہماری جو بس سروس ہے اس میں ہوسٹس ہے سکورٹی گارڈز ہیں پھر ٹریولنگ کے دوران ہم فوڈ دیتے ہیں سینڈوچ وغیرہ کوک ڈرنک وغیرہ وہ ساری فری ہوتی ہے تو جتنے لانگ روٹ ہوتا ہے اپ کراچی روڈ پہ جا رہے ہیں تو ان کو راستے میں کھانا فری دیتے ہیں تو اس کا فاؤنڈر کون ہے بیسیکلی اس کام کا اپ ہی ہیں جی میں یہ سارا میں نے ہی ڈیزائن کیا ہے کیسے سیکھا کس سے سیکھا کہیں پہ کوئی ایجوکیشن اس کی ہے یا کیا ہے نہیں سیکھا تو کہیں سے نہیں ہے خود ہی سٹارٹ کیا ہے اور بیسیک ٹریولنگ کرتا رہا ہوں دنیا میں گھومتا رہا ہوں سٹڈی کرتے رہے ہیں پریکٹیکل پریکٹیکل دیکھے کیا کیا لوگ اس ٹائم دنیا میں پاکستان واحد نمبر ہے جو اتنی لگزی بسیں اور لگزی سیٹیں پرووائڈ کر رہا ہے اتنی اچھی سیٹیں کوئی کنٹری نہیں دیتی ہماری جو پاکستان کی ٹرانسپورٹ کمپنی ہے فیصل موز اس کے علاوہ اور بھی کمپنی ہیں لیکن فیصل مور نمبر ون ہے جس کے اندر بزنس کلاس سیٹس ہیں اور مساج سیٹس ہیں۔

[11:13]اور میڈیا اندر انٹرٹینمنٹ بڑے اچھی ہے تو لوگوں کو چار پانچ گھنٹے کا سفر محسوس نہیں ہوتا افورڈ کر لیتے ہیں لوگ یہ چیز جی افورڈ کر لیتے ہیں لیکن ملک کے حالات جو چل رہے ہیں اس کی وجہ سے تھوڑا سا پرابلم ہے۔ اللہ تعالی خیر کرے انشاءاللہ بہتر ہو جائیں گے کیونکہ یہ جتنی سروس دیں گے اتنا ہی چارج بھی ہوگا جی جی تو اس حساب سے پھر لوگوں میں کیپیسٹی کوئی وہ تو جتنی بھی اپ سمجھیں کہ جتنی مہنگائی ہوگی تو وہ کسٹمر پہ پڑنی ہے چارج تو کسٹمر نے دینا ہے اپ کا کلائنٹ کون ہے جو کار میں سفر کرنا چاہتا ہے وہ ہے یا عام جو پیسنجر ہے وہ ہے نہیں ہم نے دیکھیں جی چار کیٹگریز دی ہیں ہر انسان کو جو ہے وہ اکوڈیٹ کیا ہوا ہے جو لیڈ کلاس ہے اس کے لیے بزنس کلاس ہے جو افورڈ کر سکتی ہے وہ بزنس کلاس میں سفر کرتا ہے پھر اس کے نیچے ا جاتی ہے ایگزیکٹو پلس کار اس میں نائن سیٹس جو ہیں وہ بزنس کلاس ہیں باقی 28 ایگزیکٹو ہیں وہ نارمل لوگوں کے لیے ہے اس سے نیچے ایگزیکٹو ہے وہ بھی نارمل لوگوں کے لیے ہے جو چیپیسٹ ہماری ہے وہ نارمل کلاس ہے وہ اس کے فریٹ کا ہوتا ہے ان کو بھی بہرحال سروس تو ریزیبل ملتی ہے اس میں جو پہلے جو فیملیز تھیں نظیر فیملی کوہستان روکڑی فیملی نیو خان اور بھی بہت سے تھے کوئی پتہ نہیں چنیوٹ سرگودہ سے بھی کچھ ایسے گروپ تھے تو ان میں سے اپ کے کمپیٹیشن پہ کوئی ہے نہیں اب ایسا ایسا ختم ہو گئے ہیں کیونکہ ایک ٹائم تھا اپ گریڈ کرنا تو وہ اپ گریڈ جنہوں نے نہیں کیا ہے وہ رہ گئے ہیں جنہوں نے اپ گریڈ کی ہے وہ اب کامیابی کوہستان ہے کوہستان اور فیصل کے ساتھ مرج ہو گئی کچھ روٹس پہ 50 پرسنٹ کوہستان کی ہیں 50 پرسنٹ ہم نے دے دی تو وہ روٹ بجائے کمپٹیشن کے ہم لوگوں نے جوائن کر لیا ہے جوائن کر لیا ہے تو ایک گاڑی ان کی یہ ہے ایک ہماری ہے اسی طرح مثلا صادق اباد ہے کراچی ہے وہاں بھی ہم لوگوں نے مرج کر لیے ہیں اور اور تین چار کمپنیز ہیں جو فیصل مرج ہو گئی ہیں تو بہرحال کتنی تقریبا بسیں ہماری ہیں 650 700 بس جو سارے پاکستان میں جی فیصل گروپ کے اندر چل رہی ہیں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا گڈز ٹرانسپورٹ بھی ہمارا سوال سو ڈیڑھ سو ٹرک ہے ڈیڑھ سو کے قریب ہے اس میں ائل ٹینکر بھی ہیں اور کنٹینر بھی ہیں باقی ہم باقی ہم مارکیٹ سے 400 500 پرائیویٹ کرتے ہیں یا مین کانٹریکٹ ہے کسی کا مین کانٹریکٹ ہے اچھا مین ہمارا این ایل سی ہے اس کے بعد فوجی فرٹیلائزر ہے فاطمہ ہے اینگرو ہے پنجاب فوڈ ہے سندھ فوڈ ہے یہ سب کے ساتھ مل کے کام کرتے ہیں معاملات ہیں یہ کیسے اپ ہینڈل کرتے ہیں بس ایک سسٹم بنا ہوا ہے جی سٹاف ہے وہ ہینڈل کرتا ہے روڈ پہ اتے ہیں یہ مشکلات ٹرکس میں لوجسٹک میں بھی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی ہیں بہرحال ایک سسٹم بن گیا ہے وہ ہینڈل کر لیتے ہیں چوری چکاری تو ہے وہ تو چلتی رہتی ہے ہے نا اس میں ہے نا جی معاملات ہیں معاملات ہیں تو کیا پیغام دینا چاہیں گے پاکستان میں جو دیگر لوگ ٹرانسپورٹ میں ہیں وہ کیا کریں کہ تاکہ پاکستان کے لوگوں کو سہولت مل سکے فردر بس جی حالات ملک عوام کے ساتھ اپ گریڈ کریں اپنے اپ کو جیسے ہم لوگوں نے اپ گریڈ کیا ہے دوسروں کو بھی کرنا چاہیے اور ہمیشہ اپ گریڈ کرنے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔ دنیا کے ساتھ چلنا چاہیے۔ دنیا کے ساتھ جس طرح دنیا چل رہی ہے اب اپنے اپ کو اس طرح چلائیں اور اس سے بہتر سے بہتر کریں۔ بہت بہت شکریہ جناب احمد شہزاد صاحب اپ نے ہمیں اپنے کاروبار کے بارے میں بتایا تو انشاءاللہ پھر اپ سے گفتگو ہوگی فردر اگر اپ جب تشریف لائے تو سلمان بھائی کا بھی شکریہ انہوں نے ہمیں یہاں پہ بلایا اپ سے ملنے کا موقع دیا جی ناظرین تو اپ نے دیکھا کہ احمد شہزاد صاحب جو فیصل موور ایک بہت بڑی کمپنی ہے ٹرانسپورٹ کی اس کے کامیاب اونر ہیں تو ہم اپ سے بھی یہی گزارش کریں گے کہ اپ بھی اسی طرح محنت اور دیانتداری کے ساتھ کام کریں اور جو چیزیں چینج ہو رہی ہیں اپ اس تبدیلی کے ساتھ اگے بڑھیں نہ کہ وہی پرانے سسٹم دیکھیں پرانے سسٹم ختم ہو گئے سارے اور انہوں نے اس سے اگے جا کے ایک کام شروع کیا اور کتنا کامیاب ہے۔

[15:17]قوم کو بھی سہولت مل رہی ہے پاکستان کا بھی جو ٹورسٹ باہر سے جاتا ہے وہ بھی مطمئن ہے تو مجھے اب اجازت دیجئے انشاءاللہ کسی نئے مہمان کے ساتھ اپ سے ملاقات ہوگی قاری صاحب نے دعا کرائی اور یوں یہ یادگار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی امین یا اللہ پوری دنیا کے اندر تمام مسلمانوں کی مدد فرما ہم سب کی جائز حاجات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما ہم سب کو دنیا اور اخرت کے عذاب سے محفوظ فرما ہم سب کو تمام پریشانیوں سے تکلیفوں سے بچا یا اللہ ہم سب کو اچانک تکلیف سے بچا کے رکھنا اچانک مصیبت سے بچائے رکھنا یا اللہ ہم سب کی جائز حاجات کو قبول فرما ربانا تقبل من انک السمیع العلیم وتب علینا انک التواب الرحیم یا اللہ ہم میں سے جو جو حضرات جس جس بیماری کے اندر تکلیف کے اندر مبتلا ہے وہ سب کو شفاء عطا فرما رمضان کی برکت سے سب کو شفاء عطا فرما وصلی اللہ تعالی علی رسول خیر خلقہ محمد وعلی الہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ وال بیت اجمعین امین برحمتک یا ارحم الراحمین

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript