Thumbnail for Jamia UK Convocation 2025: Address (Urdu) by Alislam

Jamia UK Convocation 2025: Address (Urdu)

Alislam

34m 37s4,583 words~23 min read
Auto-Generated

[0:11]السلام علیکم ورحمۃ اللہ اشھد اللہ الہ الا اللہ واہ لا شریک له واشھد ان محمد عبدہ ورسول اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ایاک نعبد وایاک نستعین اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین

[1:33]الحمدللہ اج اپ جامعہ سے سات سالہ تعلیم مکمل کر کے میدان عمل میں انے کے لیے تیار ہیں یوکے، جرمنی، کینیڈا، انڈونیشیا اور گھانا کے جامعہ سے آپ لوگ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں۔ کہ ہم نے تربیت کے کام بھی کرنے ہیں اور تبلیغ کے کام بھی کرنے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں۔ کہ ہم زندگی وقف ہیں۔ اور 24 گھنٹے جماعت کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ سوچ نہیں تو پھر اپ جماعت کی ترقی کے لیے اس طرح مفید وجود نہیں بن سکتے جس کی جماعت آپ سے توقع رکھتی ہے۔ جس کی خلیفہ وقت آپ سے توقع رکھتا ہے۔ اور جس کا آپ نے عہد کیا ہوا ہے۔ وہ عہد جو آپ نے خدا تعالی سے کیا ہوا ہے۔ بس آج اپ ایک بہت اہم ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں۔ اور آنا چاہیے۔ اگر یہ سوچ یہ ارادہ اور اس کے لیے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ قربانی کا جذبہ نہیں۔ تو اپ کا میدان عمل میں آنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جماعت جماعت میں مربیان اور مبلغین کی ایک اور کھیپ کا اضافہ ہو گا۔ جو بے معنی ہے۔ جامعہ جات مختلف جامعہ جات کے پرنسپل صاحبان نے رپورٹس پیش کیں۔ اور بڑی خوشکن رپورٹس تھیں۔ جو انہوں نے کوشش کرنی تھی جامعہ میں وہ کی۔ آپ کو کی علمی اور روحانی اور عملی ترقی کے لیے۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ ترقی کرنے والی قومیں اپنی کمزوریوں پہ بھی نظر رکھتی ہیں۔ اس لیے آپ لوگ یہی نہ سمجھ لیں کہ یہاں پرنسپل صاحبان نے اپ کو رپورٹس میں تعریف کر دی اور بہت کام ہو گیا۔ بلکہ عملی طور پر جو جامعہ میں پڑھ رہے ہیں وہ بھی اور جو فارغ ہو رہے ہیں وہ بھی اور جو میدان عمل میں وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے وہ معیار حاصل کرنے ہیں جو حقیقت میں ہمیں اس تعریف کا حقدار بھی بنائیں۔ اور جو کوششیں ہم پر کی گئی ہیں۔ اس کے نیک نتائج پیدا کرنے والے بھی بنائیں۔ مختلف اوقات میں آپ لوگ گزشتہ کونوکیشنز میں میں نے دیکھا ہے کہ ڈاریاں نکال کر لکھ رہے ہوتے ہیں۔ آج بھی اپ ڈائری میں نوٹ لے رہے ہوں گے۔ لیکن اس لکھنے کا کیا فائدہ ہے اگر یہ تحریر ڈائریوں میں ہی بند ہو جانی ہے۔ اور ان پرشوش اورش سے تمام عمر عمل نہیں ہونا جس جوش و خروش کا آج اپ اس وقت لکھتے وقت اظہار کر رہے ہیں۔ اور یہ جوش و جذبہ آپ اس وقت آپ میں پیدا ہوا ہو گا۔ گزشتہ 15 20 سال سے جب سے مختلف ممالک میں جامعہ شروع ہوئے ہیں۔ اگر ایک جذبے اور لگن سے کام کرنے کے نظارے نظر اتے تو ایک واضح تبدیلی ہمیں ہر جگہ نظر آنی چاہیے تھی۔ لیکن بہت کم ایسے ہیں جن میں یہ جذبہ ہے۔ بس آج میں آپ کو یہ بھی کہتا ہوں۔ اور اس موقع پر میدان عمل کے میں جو مربیان ہیں ان سے بھی کہتا ہوں کہ مستقل اپنا جائزہ لیتے رہیں۔ کہ جس عظیم مقصد کے لیے آپ نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے کیا اس کے حصول کے لیے آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کی ہیں۔ اگر نہیں تو پھر یہ قابل فکر بات ہے۔ اگر کی ہیں تو الحمدللہ اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد تو ہر احمدی کا عہد ہے۔ ہر ایک احمدی یہ دہراتا ہے اور آپ تو اس عہد کے سب سے اول مخاطب ہیں۔ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افراد جماعت کے سامنے ایک نمونہ بننا ہے۔ آپ وہ لوگ ہیں جن کی جن کو تربیتی اور تبلیغی میدان میں ایک ارتعاش پیدا کرنا ہے۔ اپنوں کی تربیت کرنی ہے اور غیروں تک اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی کو پہنچانا ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ میں ایک جوش پیدا کریں۔ اس کے لیے ان معیارات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کے افراد سے چاہتے ہیں۔ مربی کے معیار تو اس سے بہت اونچے ہونے چاہئیں۔ تبھی آپ نمونہ بن سکتے ہیں۔ بس اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ کیا خدا تعالی سے محبت اس کی توحید قیام اور عبادات کی طرف توج کے لیے ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس بارے میں قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرتے رہیں۔ اور انتہائی باریکی سے اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ ہماری عبادات کے کیا معیار ہیں۔ ہماری فرض نمازوں کے کیا معیار ہیں۔ نوافل اور ذکر الہی کے کیا معیار ہیں۔ تبھی ہمارے کام میں برکت ہو گی اور دوسروں پر اس کا اثر بھی ہو گا۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ کبھی اپنی کسی کامیابی یا علمی وری کو یا کسی بھی ایسے کام کو جو آپ کو ممتاز کرنے والا ہو اپنی عقل اپنا علم اور کسی صلاحیت پر معمول نہ کریں۔ بلکہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی عدا عطا پر شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی۔ جس کی وجہ سے اپ اس قابل ہوئے کہ اپ جس مسئلے میں بھی ڈالے گئے تھے۔ اسے صحیح طور پر پیش کر سکے اور اس کا حل نکال سکے۔ اگر ایسا نہیں۔ تو یہ باتیں پھر تکبر پیدا کریں گی۔ اور تکبر جیسا کہ آپ جانتے ہیں تو اپ نے پڑھا ہوا ہے گہرائی میں جا کے بھی پڑھا ہو گا۔ کہ شرک کی طرح ہے اور چاہے یہ خیالات دل میں ہی پیدا ہوں اپ کے۔ شک ظاہر ظاہر نہ بھی ہو۔ تب بھی یہ شرک خفی جو ہے یہ آہستہ آہستہ سارے دل پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اور اس کے لیے ایک مربی کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بس باریکی سے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متکبر ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ اور اپ لوگ تو وہ ہیں جو لوگوں کو جنت کے راستے بتانے والے ہیں۔ کجا یہ کہ آپ میں خود ایسی بات پیدا ہو جائے جو اپ کو اس سے دور ہٹانے والی ہو۔ تقریروں میں اپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں اور ائندہ بھی کہیں گے۔ کہ تکبر اور شیطان کا گہرا تعلق ہے۔ لیکن اس سے پہلے خود اپنا جائزہ لینا ہو گا۔ کہ ہم کہاں تک اس گناہ سے پاک ہیں۔ بس ہمیشہ یاد رکھیں کہ تکبر سے بچنا ہے چاہے ہلکا سا بھی تکبر ہو دل میں کبھی تکبر پیدا نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالی کی نظر میں یہ سخت مکروہ چیز ہے۔ اسی طرح نمازوں کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ ہر مربی کا یہ کام ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نماز پر نماز بروقت ادا کرے۔ اور جس سینٹر میں اسے مقرر کیا گیا ہے یا جس مسجد میں امامت دی گئی ہے۔ وہاں پانچوں وقت نمازوں کے لیے مسجد کے دروازے کھلنے چاہئیں۔ اور اذان دے کر مربی کو وہاں حاضر ہونا چاہیے۔ اور جو مربیان دفتروں میں کام کرنے والے ہیں۔ خاص طور پر یہاں مرکزی دفاتر میں اور ہو سکتا ہے وہاں دوسرے ملکوں میں بھی جو دفتروں میں کام کرنے والے ہوں۔ اور دفتر ان کے مسجد سے پیچھے ہوں۔ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دفتری کام زیادہ اہم ہے۔ اس لیے ہم دفتر میں ہی نماز پڑھ لیں۔ اگر باجماعت نماز بھی ہو رہی ہے تو طل امام کے پیچھے دفتر میں پڑھ لیں گے۔ لیکن یہ غلط سوچ ہے۔ اس لیے یہاں دفتر میں بیٹھنے والوں کو بھی چاہیے۔ کہ بجائے اس کے کہ دفتر میں بیٹھے رہیں۔ مسجد میں جا کر نماز پڑھا کریں۔ یہ نہ دیکھیں۔ کہ فلاں فلاں دفتر میں بیٹھ کر خطبہ سن رہا ہے۔ تو ہم بھی دفتر میں بیٹھے رہیں۔ بلکہ جمعہ کے اوقات میں بھی بعض دفعہ شکایتیں ملتی ہیں یہاں مرکزی دفاتر میں۔ جن کی دفتروں میں ڈیوٹی ہوتی ہے وہ جمعہ کے وقت مسجد نہیں جاتے۔ جمعہ کے لیے بہرحال مسجد میں جانا ہے اور یہ بہت ضروری چیز ہے۔ اسی طرح جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔ کہ تہجد کی نماز بہت ضروری ہے۔ ایک مربی جس کا اپ نے کام کی کامیابی میں کن انحصار اللہ تعالی ہی پر ہے۔ اور اس کی اپنی کوئی کوشش نہیں۔ اسے تو نمازوں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسے نوافل کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بس ہر ایک کو نوافل اور نماز تہجد کا خاص اہتمام کرنا ہے۔ اور اس کے علاوہ موقع ملے۔ تو اسے نوافل جو ہیں ان کو خاص طور پر بہت زیادہ کوشش سے ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح میں نے درود بھیجنے اور دعائیں کرنے کی تحریک کی تھی۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اکثر اس کی باقاعدگی نہیں کرتے باقاعدگی سے اس پر عمل نہیں کرتے۔ جو اس وقت میدان عمل میں ہیں ان میں بھی باقاعدگی نہیں ہے۔ اور آپ جو جامعہ کے طلباء ہیں اپ میں بھی باقاعدگی نہیں ہے۔ اب یہاں بیٹھے اپ عہد کریں بیٹھے ہیں تو اپ عہد کریں۔ کہ آپ نے باقاعدگی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے پر خاص توجہ دینی ہے۔ اور اس میں مداومت تیار کرنی ہے۔ اسی طرح میں نے استخار کرنے کا کہا تھا۔ اس میں بھی باقاعدگی اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی کی ہمت بھی کرنی چاہیے۔ جب یہ چیزیں اپ میں پیدا ہوں گی۔ تبھی آپ انہیں آگے جماعت کے افراد میں پہنچا سکیں گے اور انہیں پیدا کر سکیں گے۔ ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ پھر قرآن کریم کا مطالعہ ہے۔ جس کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ توجہ جو دینی چاہیے تھی نہ اپ نے زمانہ طالب علمی میں دی مش اچھی رپورٹیں پیش کی گئی ہیں۔ اور نہ ہی بہت سے ایسے مربیان ہیں جو اس وقت میدان عمل میں ہیں وہ توجہ دیتے ہیں۔ لیکن اب اپ اب اپ یہ عہد کریں۔ کہ اپ نے روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہے۔ ایک مربی کے لیے ایک آدھ رکھو پڑھنا کوئی کمال نہیں۔ کم از کم ادھا پونا سپارہ تو ضرور پڑھنا چاہیے۔ اور اگر ایک سپارہ نہیں تو ایک سپارے کے قریب قریب پڑھنا چاہیے۔ اور پھر اس کے مطالب پر غور کرنا چاہیے۔ اس کی تفسیر پڑھنی چاہیے۔ تبھی اپ کو گہرائی میں جا کر ان احکامات کا پتہ لگے گا۔ جو اللہ تعالی نے ہمیں قرآن کریم میں دیے ہیں۔ اور جب اپ اس رہنما کتاب کو اپنے سامنے رکھیں گے۔ تبھی آپ حقیقی طور پر اسلام کی تعلیم سے آگاہ ہو سکیں گے۔ تبھی لوگوں کی صحیح رہنمائی کر سکیں گے۔ اور تبھی تبلیغ کا حق بھی ادا کر سکیں گے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا اور اپ نے ہی پڑھا ہو گا۔ لیکن پڑھ کے بھول جانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف کو معذور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ اب یقینا ایک مربی سے یہ امید تو نہیں کی جاتی کہ وہ اسے محجور کی طرح چھوڑ دے گا۔ لیکن یہ جو توجہ دینی چاہیے وہ اس طرف اس طرح نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے۔ بس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ بس اب فراغت کے بعد فیلڈ میں جانے کے بعد اور میدان عمل میں جانے کے بعد اپ نے قرآن کریم کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینی ہے۔ اس پر غور کرنا ہے۔ اور اس کی تفاسیر پڑھنی ہے۔ تاکہ اپ کی علم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو۔ اور یہی اضافہ اپ کو پھر میدان عمل میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ یہ بھی بہت ضروری ہے۔ ایک مجلس میں یہاں لوگ ملنے ائے تھے مجھے کینیڈا سے یا امریکہ سے ایک مربی صاحب تھے۔ ان کی ایک بات سن کے مجھے حیرت ہوئی۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ مربی ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا۔ کہ اپ نے کتنی کتابیں حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی پڑھی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ 60 کتابیں پڑھ لیں۔ میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے میں نے پوچھا کرتے کیا ہیں اپ تو پتہ لگا مربی ہیں۔ بہرحال بڑی اچھی بات ہے۔ مربی صاحب نے بھی اگر یہ 60 کتابیں پڑھ لیں۔ لیکن ایک مربی کی حیثیت سے تو اپ لوگوں کو تمام کتب پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پڑھنی چاہیے۔ بہرحال اس وقت یہاں بہت سارے مربیان ایسے ہیں جنہوں نے اگر پڑھی بھی ہیں۔ تو چند کتابیں ہی پڑھی ہوں گی اور وہ بھی پوری طرح یاد نہیں رہتیں۔ کیونکہ جب ان سے کوئی حوالہ پوچھا جاتا ہے۔ تو ان کے لیے حوالہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ بس اس طرح بہت توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم یہ کریں گے تبھی ہم مربی ہونے کا حق ادا کر سکیں گے۔ پھر جماعت میں محبت اور بھائی چارے کی تلقین کرنا۔ یہ بھی بہت ضروری ہے۔ اپ میدان عمل میں جا رہے ہیں ایسی چیزوں سے واسطہ پڑے گا اپ کو۔ ان تربیتی کاموں پر بھی اپ کو بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس محنت کرنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم میں یہ معیار ہے کہ ہم محبت اور بھائی چارے کو قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔ یا اپنی ذاتی انا ذاتی خواہشات اور ذاتی مقاصد کی خاطر ان باتوں کو بھول جائیں۔ پھر یہ بھی جائزہ لیں کہ ہمارے اندر تقوی اور طہارت کس حد تک ہے۔ ایک مربی اور مبلی کو تقوی کی باریکیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ایسا ہو گا تو تبھی اپ کو کامیابیاں ملیں گی۔ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تقوی اختیار کر کے ہی تم اللہ تعالی کی پناہ کے اس نے حسین میں ا سکتے ہو۔ بس اللہ تعالی کی پناہ کے اس محفوظ محفوظ قلعے میں انے کے لیے تقوی اختیار کرنا ہو گا۔ اور جب اپ اس محفوظ قلعے میں ا جائیں گے۔ تو پھر اپ کا ہر قول اور فعل اللہ تعالی کی رضا کے مطابق ہو گا اور اپ کا ہر عمل وہ بہتر نتائج پیدا کرے گا۔ جو اپ کو تربیت میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا اور تبلیغ کے میدان میں بھی اپ کو کامیابی عطا ہو گی۔ بس اس طرف خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب تقوی ہو گا تو اپ کی اخلاقی حالت بھی بہتر ہو گی۔ اور جب اخلاقی حالت بہتر ہو گی۔ تو اپ ان غلط قسم کے پروگراموں سے بچیں گے۔ جو اج کل انٹرنیٹ یا ٹی وی پر اتے ہیں اور جن کی طرف بعض دفعہ توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔ مربیان بھی دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے ناپسندیدہ پروگرام بعض دفعہ دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پھر شکایات اتی ہیں۔ ان کی بیوی بچوں کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے اگر معلومات کی حد تک ایک دفعہ کوئی پروگرام دیکھ لیا۔ تو اس سے یہ تو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس میں کتنی گندگی اور غلاظت ہے۔ لیکن اس میں بالکل ڈوب جانا اور اپنی بیویوں اور رشتہ داروں یا جماعت کے افراد کو شکایت کا موقع دینا۔ کہ مربی صاحب فلاں پروگرام دیکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو اپ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرے گی۔ اور اس سے برکت بھی اٹھ جائے گی اور اپ کی بدنامی کا باعث بھی بنے گی۔ پس اس لحاظ سے بھی بہت ضروری ہے کہ اپ ان چیزوں سے بچیں۔ بعض دفعہ شکوک پیدا ہو جاتے ہیں لوگوں کے دلوں میں۔ لیکن ایک مربی کو اس یقین پر ہمیشہ خود بھی قائم رہنا چاہیے اور جماعت کے افراد کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کہ خدا تعالی نے جو بشارتیں حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو دی ہیں اور جو پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں۔ وہ انشاء اللہ ضرور پوری ہونی ہیں۔ اور جماعت کا غلبہ ہونا ہے۔ پس اس کے لیے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا۔ اپنے دینی علم کو قرآن کریم کے ذریعے سے بڑھانا حدیث کے ذریعے سے بڑھانا۔ اور حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے ذریعے سے بڑھانا اور اس کے علاوہ خود بھی تحقیق کرنا بہت ضروری ہے۔ اور اس ایمان پر قائم ہونا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ نے غالب انا ہے انشاء اللہ۔ جب اپ کے اندر یہ یقین ہو گا۔ تو پھر اپ جو ٹارگٹ مقرر کریں گے وہ بہت بلند اور اونچے ہوں گے۔ کیونکہ اپ کے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے جو اپ کے سپرد کیا گیا۔ اپ کو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ کہ اس غلبے کے لیے تمہاری کوششیں بھی شامل ہونی چاہیے۔ بس اپنی علمی صلاحیتوں اور عملی کوششوں کے لحاظ سے اپنے اپ کو بہتر کرنے سے اپ کو وہ معیار حاصل ہو گا۔ جس سے اپ اسلام اور احمدیت کا غلبہ بھی دیکھنے والے ہوں گے۔ اور اس کی ترقی میں مددگار و معاون ثابت ہوں گے اور اس کا حصہ بنیں گے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ انسان تقوپر چلنے والا ہو اپ نے جامعہ میں قران بزرگوں کے واقعات بھی پڑھے ہیں قران اولیاء اللہ کے واقعات بھی پڑھے ہیں۔ اپ نے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی قبولیت دعا کے واقعات بھی پڑھیں پڑھے ہیں۔ حدیثوں میں بھی اپ نے واقعات پڑھے ہیں۔ اج کل جو اج کل جو خطبات میں دے رہا ہوں۔ ان میں بھی اپ نے سنے ہوں گے اور قرآن کریم میں بھی پڑھا ہو گا۔ سب کچھ اپ پڑھ کے ہی نکلے ہیں جامعہ سے۔ لیکن ان واقعات کے پڑھنے اور سننے کا فائدہ تبھی ہے۔ جب اپ خود بھی تقوی کے ان معیارات کو حاصل کریں۔ جہاں اپ کا اللہ تعالی سے ایک براہ راست تعلق پیدا ہو۔ اور پھر اپ خود بھی قبولیت دعا کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔ اس بارے میں ہر مربی کو کوشش کرنی چاہیے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں۔ کہ اگر اپ کے اخلاق اعلی ہیں۔ اپ کا علمی معیار اونچا ہے۔ پھر اپ کو کسی مخالف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اپ میں ایک ہمت اور دلیری پیدا ہو گئی اس چیز سے۔ ہمارے بہت سے مربیان ہیں۔ جن کا علمی معیار بھی اچھا ہے اور مخالفین سے بحث کر کے ان کے منہ بند کر دیتے ہیں۔ لیکن تبلیغ کے میدان میں بھی یاد رکھیں کہ ہمیشہ ان حالات کے باوجود نرمی اور اعلی اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور اس کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ اور پھر اس کے ساتھ دلائل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ یہی ہمیں قرآن کریم کا حکم ہے۔ یہی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ یہی ہمیں حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے تعلیم دی ہے۔ کہ ہمارے منہ سے کبھی ایسے الفاظ نہیں نکلنے چاہیے جو کسی بھی رنگ میں سختی کا اظہار کرنے والے ہوں۔ کیونکہ یہ کم ہمتی اور علم کی کمی کو دلالت کرتی ہیں باتیں۔ بس اعلی اخلاق کا معیار ہر ایک مربی کی سب سے اعلی صفت ہونی چاہیے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں اور حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرف بھی بار بار توجہ دلائی ہے کہ احمدیوں کو عملی نمونہ دکھانا چاہیے جیسا پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں۔ کیونکہ عملی نمونہ ہی ہے جس سے لوگوں میں توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور ایک مربی کے عملی نمونہ کا معیار بہت بلند ہونا چاہیے۔ گو یہ باتیں جو میں کر رہا ہوں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور اس نظر ا رہا ہے کہ بار بار دہرا رہا ہوں۔ لیکن ان کی بہت ضرورت ہے۔ اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ عملی نمونہ ایک انقلاب اور لوگوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آج کل جو میں خطبات دے رہا ہوں ان میں بھی میں نے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اختباس سنایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کی وجہ سے ہی لوگ آپ سے متاثر ہوئے تھے جو اپ کے قریب رہنے والے تھے۔ بلکہ یہی وہ عملی نمونہ تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کے دلوں پر ایک خاص اثر ہوا اپ کی سچائی ان پر ظاہر ہوئی۔ اور انہوں نے اس سچائی کو دیکھ کر اپ کو قبول کیا۔ بس ایک مربی میں سچائی کے بھی اعلی ترین معیار ہونے چاہیے۔ تاکہ کبھی یہ شکوہ نہ ہو کہ اس نے غلط طور پر گواہی دی یا غلط طور پر ہم سے بات کی۔ بعض دفعہ شکایتیں آ جاتی ہیں بعض دفعہ میدان عمل میں انے والوں کی شکایت ہوتی ہے۔ کہ مربی صاحب نے فلاں کی حمایت کر دی اگر تقوی پر چلتے ہوئے حمایت کی ہے۔ تو اللہ تعالی کو اس کا علم ہے اور اگر کسی غلط تعلق کی وجہ سے کسی ذاتی تعلق کی وجہ سے حمایت کی ہے۔ تو وہ غلط ہے اور اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اپ لوگوں کو بھی اپنی عملی زندگی میں اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھیں کہ اپ لوگ تقریروں میں تو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے اختباسات کا حوالہ دیتے ہیں۔ کہ اپنے اندر صحابہ کا ساتھ جوش پیدا کرو اور اسلام کے لیے وہ اہمیت اور غیرت پیدا کرو۔ اور اگر یہ نہیں کرو گے تو اس وقت تک تم اپنے اپ کو ایسا نہ سمجھو کہ ہم دنیا کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ یا دنیا کے لیے مفید وجود بن سکتے ہیں۔ یہ توقع تو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عام احمدی سے رکھی ہے۔ کہ تم بھی ایسے بنو۔ لیکن ایک مربی کو تو اس طرح خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کہ اسے ایک جوش پیدا کرنا پڑے گا۔

[27:54]اور وہ جوش اسی وقت ہو گا جب خدا تعالی سے ایک خاص تعلق پیدا ہو گا۔ اس لیے یہ بنیادی چیز ہر کہیں ا کر ختم ہوتی ہے۔ کہ اللہ تعالی سے خاص تعلق پیدا کریں۔ دنیوی چیزوں کو بھول جائیں۔ اپ کے دلوں میں اسلام کی خاطر غیرت ہو۔ جب تک یہ چیز پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک یہ نہ سمجھیں کہ اپ کو اپنی ہلکی پھلکی کوششوں سے کامیابیاں مل سکتی ہیں۔ کیونکہ پھر کامیابیاں نہیں مل سکتی ہیں۔ بس یہ چند باتیں ہیں جو اپ سے میں کرنا چاہتا ہوں ان کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ خدا تعالی کی عبادت قرآن کریم کے علم اور اس کی تلاوت میں اضافہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ خلفاء کے ساتھ تعلق اور ان کے خطبات سننے کی طرف توجہ اور ان کے پیغام کو اگے پہنچانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اپ خلیفہ وقت کے نمائندے بھی ہیں اور خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق ادا کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے۔ کہ اپ خطبات بھی سنیں اور اس پیغام کو اگے پہنچائیں۔ ان خطبات میں بعض دفعہ تاریخی اور بعض دفعہ سیرت کی باتیں بیان آج کل میں کر رہا ہوں۔ تو اپ نے ان میں سے ہی نکات نکات نکال کر اگے جماعتوں تک پہنچانے ہیں۔ اور اسی میں مزید تربیتی اسی سے مزید تربیتی پہلو بھی نکالنے ہیں۔ بعض کامیاب مربیان اور مبلغین ان میں سے نکات نکالتے ہیں اور پھر اگے جماعت تک پہنچاتے ہیں جس کا جماعت کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔ پھر جماعت میں محبت اور اخوت پیدا کرنے کے لیے خاص کوشش کریں۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر جماعت کا فرد ایک بھائی اور قریبی عزیز کی حیثیت سے ایک دوسرے کا حق ادا کرنے والا ہو۔ اور جماعت میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جو کسی کا حق غصب کرنے والا ہو۔ اگر مربیان یہ باتیں سامنے رکھیں اور وقتا فوقتا اس کی تلقین کرتے رہیں۔ اور لوگوں میں یہ احساس دلائیں۔ کہ مسلمان اپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اور ہم نے ایک ہو کر رہنا ہے۔ جو جماعت کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ تو پھر انشاء اللہ تعالی جماعت کے اندر تربیت کا معیار بہت اونچا ہو گا۔ اور بہت سے ایسے جھگڑے جو آج کل بڑھنے شروع ہو گئے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ میدان عمل میں جا کر اپ کو بہت سی چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔ کہ اپ کو ان مسائل سے گزرنا ہو گا اور ان کے حل کے لیے اپ نے کیا لائحہ عمل بنانا ہے۔ اس کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی۔ 7 سال کی تربیت میں اپ کو بنیادی طور پر یہ عادت ڈال دی گئی ہے کہ اپ قرآن پڑھیں۔ اور اس پر غور کریں۔ یہ عادت ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حدیث پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ کلام پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ اور اسی طرح خطبات بھی سنیں اور ان پر غور کریں۔ اس کے علاوہ اپنے دینی اور دنیاوی علم کو بھی بڑھائیں۔ یہ صلاحیت بھی اپ میں ہونی چاہیے۔ تاکہ کسی موقع پر اگر اپ کو دنیا داروں کے سامنے اسلام کی برتری ثابت کرنی ہو۔ تو وہاں اپ کو تاریخ اور موجودہ حالات کا بھی علم ہو۔ تاکہ اپ ثابت کر سکیں کہ اسلام کی تعلیم کی طرف توجہ دینا ہی ان مسائل کا اصل حل ہے۔ جن میں اج تم لوگ گرفتار ہو۔ اس لیے اس سے پھر اپ کے لیے نئے نئے تبلیغ کے راستے کھلیں گے۔ اسی طرح بعض مخالفین اور معاندین جو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے جوابات بھی اپ کو تیار رکھنے چاہیے۔ گویا اپ نے ہر میدان میں اگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔ تربیت کے میدان میں بھی اور تبلیغ کے میدان میں بھی اپ نے تربیت کے پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ اور تبلیغ کے میدان کے مختلف پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ مسلمانوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ دہلیوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے؟ عیسائیوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے؟ اور جو انتہائی مخالف ہیں ان کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے؟ یہودیوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے؟ دلائل سے ان کے منہ کس طرح بند کرنے ہیں؟ اور انہیں لاجواب کرنا ہے۔ اور دنیا میں اسلام کی برتری کو کیسے ثابت کرنا ہے؟ ان سب باتوں کو اپ نے اپنے سامنے رکھنا ہے۔ بس جب اپ یہ باتیں اپنے سامنے رکھیں گے۔ تبھی اپ ایک کامیاب مربی اور مبلغ بن کر بن سکتے ہیں۔ اور تبھی یہ کہا جا سکے گا کہ ہاں آج جامعہ سے فاروق التحصیل ہونے والی کلاس کے مربیان نے حقیقت میں ایک مربی اور مبلغ ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا پھر میں کہتا ہوں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی زندگی میں اللہ تعالی سے قریبی قریبی تعلق پیدا کرنے کو ایک خاص امتیاز بنائیں۔ اور اس کے لیے تہجد کی طرف بھی خاص توجہ کریں تاکہ اللہ تعالی اپ کی دعائیں بھی سنیں اور ان دعاؤں کے نتیجے میں اپ کو کامیابیاں بھی عطا فرماوے۔ جب اپ یہ چیزیں حاصل کر لیں گے تو انشاء اللہ تعالی ہم کہہ سکیں گے کہ اج جامعہ سے پاس ہونے والے یہ طلباء حقیقت میں وہ مربی اور مبلغ بن کر نکل رہے ہیں۔ جو جماعت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اور کام کرامت وجود ہیں۔ اللہ تعالی اپ سب کو اس کی توفیق عطا فرماوے۔ دعا کر لیں۔

[34:32]امین۔ السلام علیکم۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript