Thumbnail for Imam Jafar Sadiq (ع) VS 4000 Ulama e Dunya Yadgar Munazra...!! | Maulana Syed Ali Raza Rizvi by yome ashoor official

Imam Jafar Sadiq (ع) VS 4000 Ulama e Dunya Yadgar Munazra...!! | Maulana Syed Ali Raza Rizvi

yome ashoor official

25m 4s4,287 words~22 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:03]اور مدینے میں پہلی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جعفر صادق نے جہاں چار ہزار شاگرد تھے اس یونیورسٹی کے سب سے بڑی زمانے کی اپنی یونیورسٹی 4000 شاگرد اور یہ سب کے سب ریسرچ پیپر لکھنے والے تھے۔ یہ الف پہ پڑھنے والے مکتب کے شاگرد نہیں تھے پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں یہ ریسرچ لیول کے ایم فل پی ایچ ڈی لیول کے لوگ امام کے پاس پڑھ رہے ہیں ان سب کی صلاحیتیں ختم تھی جعفر صادق کی صلاحیت باقی تھی امام اکیلے پڑھانے والے 4000 علماء امام پڑھنے والے پتہ نہیں دنیا کے امام پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں دنیا کے 4000 پیشوا پڑھنے ائے ایک جعفر صادق پڑھانے والے ہوں وہ سب کہیں یہاں تک ملتا ہے حضرت زرارہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ روایات حضرت زرارہ ابن اعین سے ہیں رضی اللہ عنہ ایک دن وہ امام کے سامنے شکوہ کرنے لگے کہا مولا 35 سال ہو گئے مجھے پڑھتے ہوئے یہ کتاب الحج کب ختم ہو گی 35 سال سے میں اپ کے پاس پڑھنے ا رہا ہوں بچہ تھا اپنے والد کے ساتھ ایا کرتا تھا اپ مجھے حج پڑھا رہے ہیں یہ حج کب ختم ہوگا امام نے فرمایا او زرارہ وہ حج جو حضرت ادم کی خلقت سے 2000 سال پہلے شروع ہوا تم چاہتے ہو میں سارے حج کے احکام سارا فلسفہ ساری تاریخ 35 سال میں پڑھا دوں حاضرین گرامی یہ ایک شاگرد ایسے ہیں جس کے 4000 شاگرد ہوں پتہ نہیں مجمع ہے یا نہیں ہے جہاں ایک شاگرد ایسا ہو امام نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے جناب زرارہ کو دعا دی حضرت زرارہ نے کئی ہزار احادیث حفظ کر لیں حضرت لیس بختری حضرت ابو بصیر ان کے لیے ملتا ہے کہ 60000 احادیث حفظ تھیں پانچویں اور چھٹے امام کی کہا کہ اگر لیس بختری یعنی ابو بصیر نہ ہوتے کہ کیا کیا تھا پانچویں اور چھٹے امام نے صرف سینے پہ ہاتھ رکھ کے دعا ہی تو دی تھی نا پروردگار اس کے سینے کو اتنا وسیع کر دے جو ہم سکھائیں یہ سیکھتا جائے ارے جن کی دعا کا اثر ایسا ہو سوچو ان کے علم کا اثر کیا ہو گا امام کے علم کا اثر کیسا ہے حاضرین گرامی جہاں شاگرد ایسے ایسے ہوں حضرت محمد ابن مسلم محمد ابن مسلم کو 80000 احادیث حفظ تھیں کتنی قران کریم میں 6000 سے زیادہ ایات ہیں انہیں 80000 احادیث تھیں کوفے کے رہنے والے تھے جب واپس گئے تو پورے کوفے میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں چہ می گوئیاں سمجھتے ہیں یا نہیں باتیں شروع ہو گئیں کہا کون کوئی عالم ایا ہے ہر موضوع پہ اسے حدیث یاد ہے کسی موضوع پہ بات کر لو قران کی ہر ایت کی تفسیر جانتا ہے فقہ کا کوئی مسئلہ ہو تاریخ کا کوئی مسئلہ ہو ہر موضوع پہ اسے حدیث یاد ہے کتنی احادیث 80 80 تھا احادیث ہی ہیڈ میمرائز اب سارے کے سارے کوفہ والے باتیں کرنے لگے کوفے کی مسجد اپ جانتے ہیں نا اج کتنی بڑی مسجد ہے یہ پرانی جو اصل مسجد تھی اس سے کہتے ہیں کہ اگر وہ 80 یا 90 تھی تو یہ 100 ہے یعنی زیادہ بڑی نہیں ہے اوریجنل شیپ میں اج تک باقی ہے وہاں پڑھاتے تھے مسجد بھر جاتی تھی اور جب وہ پڑھا رہے تھے تو ایک دن ممبر پہ بھی نہیں ائے تھے تو بیٹھے ہوئے تھے زمین پہ کہ ممبر کا ان کا وقت فکس تھا اس ٹائم پہ ممبر پہ جاؤں گا سارے لوگ ان سے متعلق باتیں کرنے لگے کہا یہ کون ہے کہا پتہ نہیں کوئی بہت بڑا مفسر ہے دوسرے نے کہا نہیں محدث ہے ایک نے کہا نہیں مورخ ہے چوتھے نے کہا نہیں یہ علم کلام کا بھی ماہر ہے پانچویں نے کہا نہیں یہ ادیب بھی ہے ہر ادمی اپنی اپنی باتیں کر رہا تھا یہ بہت بڑا عالم ہے اسے قران سارا باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک ادمی نے کہا ارے نہیں تم سب چپ رہو یہ جعفر صادق کا شیعہ ہے بس یہ سننا تھا ایک مرتبہ ان کے انسو بہنے لگے وہ اٹھ کے ایا کہا شاید میں نے بے ادبی کر دی کہ اپ امام صادق کے شاگرد میں نے کہا شیعہ کہا کہیں مجھے کہنا چاہیے تھا دوست ہیں کہا نہیں میں یہ سوچ سوچ کے رو رہا ہوں کہ روز قیامت اگر چھٹے امام نے مجھ سے پوچھ لیا کہ لوگ تجھے میرا شیعہ کہتے تھے ایا تجھ میں اتنی قابلیت تھی کہ میرا شیعہ کہلائے پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں اتنا سیکھ کے بھی وہ اپنے اپ کو کمتر سمجھ رہے تھے جانتے ہیں کیوں کیونکہ انہوں نے امام کی عظمت کو دیکھ لیا پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں کئی لوگ سمجھتے نہیں ہیں کہ یہ کون ہے وہ سمجھ گئے تھے امام صادق کی عظمت کیا ہے اب وہ کہتے تھے میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ لوگ کہیں یہ ان کا فالوور ہے ان کا شاگرد ہے کیونکہ میں نے صادق ال محمد کو قریب سے دیکھا ہے اس نے کہا میں سب سے قابل عالم ہوں مدینے ایا کہا مجھے امام جعفر صادق سے مناظرہ کرنا ہے کس سے کہا ان کے شاگرد سے شاگردوں نے کہا بھئی ہم سے بات کر لیجیے اپ امام کو کیوں زحمت دے رہے ہیں کہا نہیں مجھے میں سب سے بڑا جب ڈیمسکس کا دمشق کا میں سب سے قابل مفتی ہوں تو میں امام سے بات کروں گا تم سے بات کیوں کروں گا انہوں نے کہا ہم سے بات کر لو نہیں کہا میں تم سے بات نہیں کرتا امام کو بلاؤ شاگردوں نے کہا مولا یہ کوئی شام سے عالم ایا ہے وہ کہتا ہے میں سب سے قابل عالم ہوں مجھے اپ سے مناظرہ کرنا ہے امام مسکرائے کہا بتاؤ کیا بات ہے

[5:01]کہا مجھے اپ سے قران پہ ڈیبیٹ کرنا ہے تفسیر پہ قران پہ امام نے کہا ٹھیک ہے رکو امام نے ایک مرتبہ بلایا اپنے شاگرد کہا ذرا حمزہ تیار کو بلاؤ کہا نہیں یہ کون ہے کہا یہ میرے شاگرد ہیں کہا نہیں مجھے اپ سے استادوں کے استاد سے مناظرہ کرنا ہے شاگردوں سے کیا امام نے کہا اگر تم نے حمزہ تیار کو ہرا دیا سمجھ لو مجھے ہرا دیا تو کہا ٹھیک ہے مسجد کونے میں بیٹھے بہت ڈیبیٹ ہوا حمزہ تیار نے مفتی صاحب کو ہرا دیا اب جب ہار گیا تو کہا نہیں مجھے امام سے دوبارہ ملنا ہے امام نے کہا کیا ہوا کہا یہ تو بہت تیز ہے اپ کا شاگرد لیکن مجھے اب تفسیر پہ نہیں مجھے حدیث پہ اپ سے بحث کرنی ہے امام نے کہا ذرا بلاؤ محمد ابن مسلم کو ان سے بحث کرواؤ امام کے حضرت ان شاگرد نے بھی ہرا دیا کہا نہیں مجھے فقہ پہ بحث کرنی ہے امام نے کہا بلاؤ زرارہ کو حضرت زرارہ کو بٹھا کے ان سے بحث کر نہیں مجھے اپ سے امام نے کہا نہیں میرا شاگرد ہے اس کے ساتھ پہلے بیٹھو کہا نہیں مجھے اب ادبیات پہ بحث کرنی ہے امام نے کسی اور شاگرد کو بلایا کہا نہیں مجھے اب اپ سے علم کلام پہ بحث کرنی ہے امام نے کہا ذرا بلاؤ ہشام کو ہشام ابن سالم کو کہا نہیں مجھے امامت پہ بحث کرنی ہے امام نے کہا بلاؤ ہشام ابن حکم کو امام کے سات اٹھ شاگردوں سے جب ہارا تو ایک مرتبہ کہنے لگا کیا کھلایا ہے اپ نے انہیں امام نے کہا میں نے اپنا علم سکھایا ہے پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں جن کے شاگرد ایسے ہو سوچیں امام کیسے ہوں گے مجھے نہیں معلوم مجمع ہے میرے ساتھ ہی یا نہیں ہے اس نے کہا کہ میں تو پتہ نہیں کیا سوچ کے ایا تھا میں اپ سے بحث کروں گا مناظرے کروں گا اپ کا تو ایک سے ایک شاگرد اتنا قابل ہے کہ وہ جب بات کرتا ہے تو پانی انسان کا مانگنے کو جی نہیں کرتا حاضرین گرامی یہ مقام اور رتبہ امام کے شاگردوں کا جس کے 4000 شاگرد ایسے ہوں اگر میں اگے بات کو بڑھاؤں تو چلتے رہیے گا میرے ساتھ حاضرین گرامی ایک مرتبہ ایک یونان سے ادمی ایا امام نے یہ نہیں کہا بھئی تم جب مسلمان ہی نہیں ہو تم رسول خدا کو نہیں مانتے تو مجھ سے سیکھنے کیوں ائے ہو امام نے کہا کوئی بات نہیں سو لونگ ایز یو وونٹ ٹو لرن فرام می جب تک تم مجھ سے سیکھنا چاہتے ہو مجھے اعتراض نہیں کہ تم کون سے دین کے ماننے والے ہو ایک مرتبہ اس نے کہا کہ میں اپ سے امام نے کہا کس موضوع پہ بات کرنا چاہتے ہو کہا میں طب پہ میڈیسن پہ امام نے کہا ٹھیک ہے بات کرو کہا میں جاننا چاہتا ہوں کہ میڈیسن کے متعلق اپ کیا فرماتے ہیں امام نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ تمام بیماریوں کی جڑ معدہ ہے اس نے کہا کہ اپ کیا ڈاکٹر ہیں توجہ امام نے کہا کیا مطلب کہنے لگے یہ تو ہمارے تمام کے تمام اپ نے میڈیسن کا خلاصہ کر دیا ہے اپ کو تو مجھے بتایا گیا تھا اپ مذہبی ادمی ہیں تو یہ اپ میڈیسن کی باتیں کیسے جانتے ہیں امام نے کہا تم جس علم سے متعلق سوال کرنا چاہتے ہو سوال کرو میں محمد عربی اور علی مرتضی کے علم کا وارث ہوں حاضرین گرامی اس نے ایک مرتبہ سوالات شروع کیے امام سے اس نے ایک مرتبہ کہا کہ نہیں امام نے کہا تم خدا کو مانتے ہو کہا نہیں دیکھیں جیسا لیول امام بیک گراؤنڈ کو دیکھتے ہیں ویسا جواب دے اس کا بیک گراؤنڈ کیا ہے میڈیسن سے ہے طب ہے تو اس زمانے میں زیادہ تر جیسے اج بھی ایکسپیریمنٹس ہوتے ہیں جانوروں کے اوپر ایکسپیریمنٹس ہوتے دوائیاں بناتے ہیں تو گنی پگز پہ ٹرائی کی جاتی ہیں پتہ نہیں مجمع ہے یا نہیں تو حاضرین گرامی اب وہ مختلف میڈیسن ٹرائی کی جاتی ہیں علاج بنائے جاتے ہیں تو اس نے امام سے ایک سوال کیا میں نے خدا کو نہیں مانتا امام نے کہا اچھا کیا کرتے ہو اس نے کہا بھئی میں مثال کے طور پہ زولوجسٹ ہوں ایکسپرٹ ہوں یہ طب جو ہے ہمارا جانوروں کا ہے میں مختلف جانوروں کو جانتا ہوں میں نے کہا اچھا کیا میں پرندوں کا ایکسپرٹ ہوں امام نے کہا اچھا تم نے دیکھا ہے مور اس کا انڈا جب کھولو تو اس میں سفیدی اور زردی نکلتی ہے کہا ہاں کہا مرغی کا انڈا کھولو اس میں بھی زردی اور سفیدی ہوتی ہے توجہ کہا ہاں کہا کبوتر کا انڈا چھیلو تو اس میں بھی زردی اور سفیدی ہوتی ہے کہا ہاں کہا چڑیا طرح طرح کے رنگ برنگے پرندے سب کے جب انڈوں کو توڑو تو سفیدی اور زردی نکلتی ہے توجہ مفضل ابن عمر جو ہیں راوی ہیں امام کہتے ہیں کہ تمام کے تمام پرندوں کے انڈوں سے زردی اور سفیدی نکلتی ہے لیکن اسی زردی اور سفیدی سے وہی رنگ برنگے پرندے بنتے ہیں زردی اور سفیدی ایک جیسی نظر اتی ہے لیکن جب پرندے پیدا ہوتے ہیں تو کوئی مور جیسا رنگ برنگا کوئی کبوتر جیسا کہا سب کی دمیں الگ پر الگ زبانیں الگ کہا بنانے والا خالق اتنا علیم و قدیر ہے کہ اسے اج تک کبھی دھوکہ نہیں ہوا کہ اس پرندے نے انڈا دیا تو اس کا بچہ پیدا ہو جائے کہا تم نے کبھی سوچا کہ خالق کتنا دقیق ہے اس نے کتنی باریک بینی سے سارے پرندوں کو یہ صلاحیتیں دی ہیں کہا یہ کون ہے کہ جس نے اسی زردی اسی سفیدی سے کیسے کیسے پرندے بنا دیے سب کی زبانیں الگ رنگ الگ کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سارا جو طب ا چل رہا ہے اپ ہی نے لکھ کے دیا ہے حاضرین گرامی اس نے جو سوال کیا امام نے اس کو توحید ثابت کی جب امام جس بھی ماہر سے بات کریں گے اسے اس کے لیول کے حساب سے توحید سمجھائیں گے ایک ادمی نے کہا کہ میں ملاح ہوں امام نے کہا کہ کبھی ایسا ہوا کہ تمہاری کشتی ٹوٹ گئی ہو یا بھور ایا ہو یا پانی کا بھاؤ بہت زیادہ ہو

[10:10]اور کشتی ڈوبنے لگی ہو کہا ہوتا ہی رہتا ہے سال میں ایک ادھ مرتبہ تو ہو ہی جاتا ہے جو کشتی زیادہ چلانے والے ہوتے ہیں وہ زیادہ ایکسپیرینس کرتے ہیں کہا پانی کا بھاؤ تو بڑھ ہی جاتا ہے سیلاب بھی اتا ہے بھور بھی اتے ہیں امام نے کہا کبھی ایسا محسوس ہوا جب تم پانی میں ڈوب رہے ہو کہ خیال ائے کوئی تمہیں بچا سکتا ہے کہا ہمیشہ ہی خیال اتا ہے کہا وہ جو تمہارے دل کی گہرائیوں میں خیال اتا ہے نا کہ کوئی بچا سکتا ہے وہی خدا ہے حاضرین گرامی امام نے اس ملا کو اس کے حساب سے دلیل دی طبیب کو اس کے حساب سے دلیل دی فقیہ کو اس کے حساب سے دلیل دی جو ہر انسان کو اس کی عقل و فہم و فراست کے حساب سے دلیل دے اسے صادق ال محمد کہو حاضرین گرامی یہ امام علیہ السلام کا امتیاز تھا یہ امام کا کمال تھا یہ امام کی ڈسٹنکشن تھی کہ ان کا کوئی بھی شاگرد جب ان کے سامنے اتا تھا تو کہتا تھا کہ مجھے دیکھ کے احساس ہوتا ہے جب یہ ایسے ہیں تو اللہ کیسا ہوگا پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں جس اللہ کا حجت ایسا ہے جس کا ولی ایسا ہے جس کا امام ایسا ہے وہ اللہ کیسا ہوگا حاضرین گرامی میرے ایک بہت میں کسی بہت بڑے عالم تقال ہو گئے دو سال پہلے بھی کرونا میں قوم مقدس میں تھے وہ کہتے تھے کہ میں کسی بہت بڑے نجف اشرف کے کسی عالم کے پاس میں نے خط لکھا کہ بھئی مجھے اس معاملے میں تھوڑی سی ہدایت کریں میں یہ سیکھنا چاہتا ہوں یا جو بھی علم عرفان میں جانا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا جس ادمی کا اپنی بیوی سے اخلاق صحیح نہ ہو پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں اور سارے مد بیٹھے ہیں داتوں میں لیکن اس مسئلے پہ کہ جس ادمی کا اپنی بیوی سے اخلاق صحیح نہ ہو وہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ تمام کے تمام عرفان کے مراتب کو طے کر لے کہا میں تعجب کرنے لگا انہیں کیسے معلوم میں قم میں رہتا ہوں وہ نجف میں کہا پھر مجھے اچانک خیال ایا جس مکتب کے شاگرد ایسے ہو سوچوں جعفر صادق کیسے ہوں گے یہاں تک حضرت مفضل ابن عمر کے لیے ملتا ہے کہ اپنے وہ بھی کوفے کے رہنے والے تھے واپس جا رہے تھے کوفے تو راستے میں ایک جگہ پہ قافلہ رکا جیسے ہی قافلہ رکا تو قافلے میں جو پرانے زمانے میں اونٹ ہوتے تھے گھوڑے ہوتے تھے سب رک گئے جانوروں کو باندھ دیا گیا بھئی ان کو پانی پلا دیا جائے چارہ کھلا دیا جائے لوگوں نے وضو کرنا تجدید وضو کر لیں کھانا کھانا ہے نماز پڑھنی ہے رک گئے سب لوگ تو وہاں پہ کسی نے ایک وادی میں بکری باندھ رکھی تھی بکری کی ایک میمنی تھی اس کی باقاعدہ ایک یعنی کہہ لیں بچہ یعنی کڈ تو اس کے ساتھ بکری کا تو وہ جناب مفضل ابن عمر ان کی باتیں سننے لگے میں میں کر رہی ہے بکری اور وہ سن رہے ہیں اور ہنسنے لگے لوگوں نے کہا کیا بات ہے ہنس کیوں رہے ہو کہا وہ بکری اپنی بچی سے کہہ رہی تھی بیٹی نیچے مت جانا وادی ہے وہاں پچھلے سال میرے ایک بچہ ہوا تھا بھیڑیا کھا گیا

[13:10]پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں اب وہ سب تعجب کرنے لگے گا یہ وہ ادمی جو مالک ہے وہ اب ایا ہے تمہیں کیسے معلوم کہا میں نے بکری کی باتوں سے اندازہ لگایا کہا تمہیں جانوروں کی زبانیں کہاں سے ائیں کہا جعفر صادق نے سکھائی ہے عزیز گرامی جس مکتب میں جانوروں پرندوں تک کی زبانیں جانتے ہوں اور اگر کوئی اپ سے سوال کرے کہ کوئی دلیل ہے قران کریم کی ایت ہے ہمیں پرندوں کی زبانیں سکھائی گئی ہیں اور ہر چیز میں سے عطا کیا گیا ہے جب انبیاء کو اللہ عطا کرے گا تو چہاردہ معصومین کو کیوں عطا نہیں کرے گا بہت بڑے بڑے علماء امام کی خدمت میں اتے مختلف اطباء مختلف ماہرین اور امام سے اگے سوال کرتے اور امام بھی کئی مرتبہ لوگوں سے سوال کرتے سوالات بہت زیادہ ہیں امام سے جو کیے گئے اور امام نے مختلف انداز سے سوالوں کے جواب دیے یہ جو ہمارے پاس اج زیارات ہیں زیارت وارثہ زیارت عاشورہ یہ چھٹے امام علیہ السلام سے ہے دعائے القمہ یہ اتنی دعائیں یہ اتنی زیارات یہ صادق ال محمد علیہ السلام سے ہے سب زیارات کو باقاعدہ بتانا کون سی زیارت کہاں ہے حاضرین گرامی یہ وہی بتا سکتا ہے جو صرف زمین کے اوپر نہیں زمین کے اندر بھی دیکھ رہا ہے پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں ہے دیکھیں وہی بتا سکتا ہے نا کہ یہاں مقام ہے یہاں قبر مطہر ہے حاضرین گرامی یہ سارے مقامات صادق ال محمد نے خود عراق جب تشریف لائے تو کربلا میں نجف میں کوفہ میں ساری کی ساری قبروں کے نشانات تفصیل سے بتائے زیارات بتائیں اداب بتائے یہاں تک کہ صفوان امام کے شاگرد ہیں اور امام کے یعنی کوفے میں میزبان ہیں امام کے ہوسٹ ہیں تو وہ کہتے ہیں صفوان کہتے ہیں کہ میں نے خود امام سے کہا کہ مولا اپ ہر قبر پہ جاتے ہیں تعظیم کرتے ہیں یہ کس کی قبر ہے کہ 40 قدم تک اپ نے پشت نہیں کی یو ڈڈ ناٹ ٹرن یور بیک ٹورڈز دس گریو مولا ہو از ہیر یو ٹوک یو نو بیک سٹیپس فار 40 یارڈز مولا کون ہے یہاں کسی قبر پہ اپ نے اتنی تعظیم نہیں کی عراق میں جتنی اپ نے اس قبر کی تعظیم کی ہے کہ اپ پشت نہیں کر رہے الٹے پاؤں جا رہے ہیں امام نے فرمایا یہاں میرے جد امجد علی ابن ابی طالب کی قبر ہے حاضرین گرامی یہ امام علیہ السلام نے تعارف کروایا ایک ایک انبیاء کے ائمہ علیہ السلام کے شہداء کے متعلق یہ تفصیل سے جو ہمارے ہاں اتنے مصائب شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ اگر امام علیہ السلام کوئی روایت کر رہے ہیں تو ان کا وہاں ہونا ضروری نہیں ہے پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں یہ اوروں کے لیے ضروری ہے یہ غیر معصوم کے لیے ضروری ہے اگر وہ وہاں نہیں تھا تو اس نے روایت کیسے کی امام کے لیے شرط نہیں ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے امام وہاں نہ بھی ہوں تو ہیں پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں حاضرین گرامی امام علیہ السلام وہاں بغیر جائے روایت کرتے ہیں جب پوچھا کہ اپ کیوں نہیں بیان کرتے کہ اپ نے کس سے روایت لی ہے اپ میں اور رسول خدا میں اتنا فاصلہ ہے اپ 95 ہجری میں اپ کی ولادت ہے رسول خدا 11 ہجری میں انتقال کر گئے 84 ایئرز لیٹر اپ کہہ رہے ہیں قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم رسول خدا نے فرمایا جب 84 ایئرز بعد 84 سال بعد اپ کی ولادت ہوئی تو اپ نے رسول خدا کو دیکھا ہی نہیں تو اپ کیسے کہہ رہے ہیں رسول خدا نے فرمایا اپ کیوں نہیں بتاتے کس سے سنا اس نے کس سے سنا اس نے رسول خدا سے لیا امام نے کہا اج سن لو میں جو کچھ بیان کرتا ہوں اپنے بابا سے بیان کرتا ہوں میرے بابا جو بیان کرتے ہیں میرے دادا سے بیان کرتے ہیں میرے دادا اپنے والد سے جناب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام رسول جناب امیر المومنین سے اور وہ جناب رسول خدا سے کہا یہ ہماری سند ہے اج بتا دی ائندہ نہیں بتاؤں گا کہا وہ اور ہیں جو لوگوں سے پوچھتے پھریں گے پیغمبر نے کیا کہا تھا ہمیں بتا دو کہا بھی تھا یا نہیں کہا تھا حاضرین گرامی قران کہتا ہے رسول خدا کلام ہی نہیں کرتے جب تک کہ وحی نہ ا جائے جو کچھ اللہ کہے وہ رسول خدا کہے جو کچھ رسول خدا کہے وہ علی مرتضی کہے جو علی مرتضی کہے وہ حسن مجتبی حسین شہید کربلا کہے جو حسین ابن علی کہیں وہ سید سجاد کہیں وہی جعفر صادق کہیں حاضرین گرامی ہمارے 12 کے 12 رسول خدا سے اور اللہ سے بیان کرتے ہیں یہ اوروں کا معاملہ ہے جب تک دوسروں سے سن نہ لیں بیان نہیں کر سکتے حاضرین گرامی یہاں تک کہ لوگ ا کے سوال کرتے ہیں امام سے کہ مولا یہ روایت بیان کی جاتی ہے کیا یہ ہے یا نہیں ہے ایا اپ کے جد رسول خدا نے فرمایا تھا یا نہیں اپ فرماتے ہیں ہاں یہ کہا تھا یا نہیں ایسا نہیں کہا تھا یا یوں نہیں کہا تھا بلکہ یوں کہا تھا حاضرین گرامی امام ہی تصدیق کر سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے کیا کسی نے پوچھا ذرا رسول خدا کو ڈسکرائب کیجیے ڈسکرپشن دیجیے رسول خدا کی تو اپ نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام کی انکھیں بڑی بڑی تھیں بھویں ایسی تھیں ماتھا پیشانی ایسی تھی ناک سیدھا تھا وہاں تفصیل سے بیان ایسے اپ بیان کر رہے ہیں جیسے اپ نے دیکھ کے بیان کیا ہو امام نے کہا جو بیان کر رہا ہوں اس میں 19 20 بھی نہیں ہے پتہ نہیں لوگ ہیں یا نہیں اس میں ون پرسنٹ بھی خطا کا امکان نہیں جو بیان کر رہا ہوں پیغمبر ایسے ہی تھے بالکل گنجائش نہیں ہے یعنی یہاں تک بتایا سینہ کیسا بازو کیسے تھے قد کیسا ایک ایک چیز کہا کہ اپ اتنی مدتوں بعد تیسری چوتھی نسل کے بعد پیدا ہوئے ہیں امام نے کہا اگر ہم نہیں بیان کر سکتے تو پھر اور کون بیان کرے گا اگر ہم ہی رسول خدا کو نہیں جانتے صادق رسول خدا سے پوچھا تھا نا جناب جابر کے یا رسول خدا اپ کے کتنے وسیع ہوں گے ہاؤ مینی سکسز ل ہیو اپ نے فرمایا 12 تو کہا کہ ان کے نام کیا ہوں گے تو پھر ایک ایک کے نام لے کے بتایا کہا میرے چھٹے کا نام ہو گا جعفر صادق کہا یا رسول اللہ یہ جعفر صادق کیوں ہوں گے تاکہ بعد میں اگر کچھ چھوٹا بھی ائے تو یہ صادق میرے جو ہیں وہ سب صادق ہیں یہ ہمارا جو مقام و رتبہ ہے وہ کچھ اور ہے مجھے امام صادق علیہ السلام کی شہادت پڑھنی ہے پانچ منٹ میں تمام کر رہا ہوں ائیں ذرا چلیے گا میرے ساتھ تو اب یہاں پہ چھٹے امام علیہ السلام بڑے ہی سخت مصائب ہیں جب بیویاں رونے لگی نا صرف ذوالجنا کو دیکھ کے اس کے بعد پھر اپ جانتے ہیں شام غریبہ ا گئی منصور دواں کی ملعون نے چھٹے امام کے گھر کو اگ لگوا دی جب اگ لگوائی نا تو رات کا وقت تھا اپ جانتے ہیں گھر میں اگ لگی ہو اور بیٹیاں بھی ہوں اور غیرت مند امام ہوں تو بڑا مشکل ہو جاتا ہے ایک مرتبہ جیسے ہی خیمے میں گھر میں اگ لگی امام صادق اپنے گھر سے باہر ا گئے ایک خادم نے دیکھا کہ امام گھر کے صحن کی دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھے ہیں اور روئے چلے جا رہے ہیں گریہ کر رہے ہیں امام گریہ فرما رہے ہیں نہ اگ بجھانے میں مدد کر رہے ہیں نہ گھر سے باہر جاتے ہیں خادم پانی ڈال رہے ہیں کہ اگ بجھا دے ایک مرتبہ خادم نے پوچھا کہا مولا نہ اپ اگ بجھا رہے ہیں نہ گھر سے باہر جا رہے ہیں اتنی دیر سے روئے چلے جا رہے ہیں مولا کیا بات ہے کہا مجھے شام غریبہ یاد ا گئی چھٹے امام نے فرمایا مجھے شام غریبہ یاد ا گئی کہا مولا شام غریبہ کیوں یاد ائی امام نے کہا دیکھتے نہیں ہو میری بیٹیاں کبھی مشرق سے مغرب دوڑتی ہیں کبھی مغرب سے مشرق دوڑتی ہیں دیکھ رہی ہیں باپ صحیح سالم ہے انچ نہیں ائی میری بیٹیاں بار بار مجھے دیکھتی ہیں ہمارے بابا کو کوئی زخم نہیں لگا لیکن پھر بھی کہتی ہائے اگ ہائے اگ میں سوچ یہ رہا ہوں میرے دادا حسین مارے گئے میرے دادا سید سجاد خیمے میں بیمار پڑے تھے جب خیموں میں اگ لگی ہائے میری پپویو میری پپیوں پہ کیا بیتی ہوگی یہ سوچ کے رو رہا ہوں اجرکمل اللہ اجرکمل اللہ بھئی رونے میں بخل نہ کیجئے گا امام صادق علیہ السلام کو شام غریبہ بہت یاد اتی تھی اور پھر فرماتے تھے ہائے میرے چچا عباس وہ فرات کے کنارے پڑے تھے جب ایک چھوٹی سی بیوی کو طماچے لگے تو بیوی نے اواز دی چچا عباس جلدی ائیے اجرکمل اللہ اجرکمل اللہ بس بھئی امام حسین علیہ السلام کو ماں سے بڑی محبت تھی لیکن انہیں بھی کربلا نصیب ہوئی بھئی کربلا والوں کو تو ایک دوسرے کا جوار مل گیا لیکن یہاں کون کون اب چوتھے امام نے بھی وصیت کی تھی مجھے جنت البقیع میں میرے چچا حسن مجتبی کے پہلو میں دفنانا بھئی پانچویں امام نے ایک مرتبہ جب لوگوں کو بلایا نا کہتے ہیں چوتھے امام کا جنازہ بہت بڑا تھا لیکن میرا دل کہتا ہے چوتھے امام بار بار کہتے ہوں گے بیٹا کیوں اتنے لوگوں کو بلایا

[23:54]تو پانچویں امام کہتے ہوں گے بابا ہر بیٹے کی حسرت ہوتی ہے باپ کے جنازے میں زیادہ لوگ ائے تو میرا دل کہتا ہے چوتھے امام نے کہا ہوگا بیٹا میری بھی یہی حسرت تھی لیکن ہائے حسین لاشہ بے گور و کفن پڑا رہا میرے جنازے کو اتنے کاندھا دینے والے اور فاطمہ کے لال کا لاشہ دھوپ میں پڑا رہا کبھی لاشیں دھوپ میں بھی رکھے جاتے ہیں کبھی لاشیں دھوپ میں نہیں رکھے جاتے لیکن میں دو لاشوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ایک حسین ابن علی کا لاشہ بے گور و کفن دھوپ میں پڑا رہا اور ایک لاشہ پل بغداد پہ امام موسی کاظم علیہ السلام کا لاشہ پل بغداد پہ پل بغداد پہ دھوپ میں پڑا رہا

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript