[0:00]یہ جو منافقین ہیں یہ کبھی بھی اپ سے اکٹھے ہو کر کبھی بھی امنے سامنے کی اور دو بدو کی لڑائی میں اور جنگ میں یہ کبھی بھی اپ کے ساتھ نہیں لڑ سکتے یعنی ان میں اتنی ہمت نہیں ہے اتنی جرات نہیں ہے اتنے یہ بہادر اور بریو نہیں ہیں بلکہ کیا کریں گے یہ جو ہے وہ دیواروں کے پیچھے سے یا بند کلوں میں وہیں پر یہ لڑیں گے کبھی بھی سامنے ا کر نہیں لڑیں گے اور حقیقت میں خود کیا ہے شدید ان کے اپس میں کے کے بھی جو اختلافات ہیں وہ بڑے سخت ہیں یہ جو بیعت ہے اج کل بطور خاص جو ہے وہ بہت ساری بیتیں لوگ اس طرح سے کرتے ہیں اور وہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور میل جول اور اس طرح کا معاملہ کرتے ہیں اللہ رب العزت ان کو سمجھ عطا فرمائے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں ہے بلکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہے وہ ایک احادیث موجود ہے شاید مسند احمد کی ہے جس میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے سر پر دو کیلیں ٹھونک دی جائیں لوہے کی یہ زیادہ بہتر ہے اس شخص کے لیے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے
[0:56]بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری 28ویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم 28ویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ اپ کے سامنے رکھیں گے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو تمام دیکھنے اور سننے والوں کو اللہ رب العزت رمضان المبارک میں اپنے تعلق کو قران مجید کے ساتھ بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان المبارک کی بابرکت ساتھ سے ہمیں صحیح معنوں میں استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے 28ویں پارے کی ابتداء میں سورۃ المجادلہ ہے جیسا کہ اپنے نام سے واضح ہے جس کا معنی ہوتا ہے جھگڑا کرنا اللہ رب العزت نے اس میں جو مضامین بیان فرمائے ہیں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں قد سمع اللہ قول فی زوجہ اللہ رب العزت نے اس خاتون کی بات کو سن لیا ہے جو اپ کے ساتھ جھگڑا کرتی ہے اپنے خاوند کے بارے میں اور اللہ تعالی کی طرف وہ اپنا شکوہ پیش کرتی ہے اللہ رب العزت نے ان یہ سب جھگڑا جو ہے وہ اس کو بذات خود سن لیا ہے اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی سننے والے اور دیکھنے والے ہیں اس کا مختصر طور پر ایت نمبر ایک سے لے کر ایت نمبر چار تک جو ہے وہ اللہ رب العزت نے خاص طور پر یہ ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کے حوالے سے اللہ رب العزت نے رہنمائی فرمائی ہے معاملہ دراصل کچھ یوں تھا یہاں پر اللہ رب العزت نے مسئلہ ظہار کا تذکرہ کیا ہے ظہار کیا ہوتا ہے ظہار یہ ہوتا ہے کہ اپنی بیوی کے بارے میں ایسے الفاظ کہہ دینا کہ انت علی ظہرا تو میرے اوپر ایسے حرام ہے جیسے میری ماں حرام ہے تو اس طرح کے الفاظ کہنے سے دور جاہلیت میں ہوتا تھا کہ ان پر جو ہے وہ بڑی شدید قسم کی طلاق خاتون کو واقع ہو جاتی تھی شدید طلاق کا اسان لفظوں میں اپ یوں کہہ لیں کہ بالکل طلاق باہ نہ واقع ہو جاتی تھی جس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی تو یہاں پر اتفاق سے یہ ہوا کہ اویس بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ یہ جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں نے اپنی بیوی خولہ بنت صالبہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کو یہی الفاظ کہہ دیے اب اسلام چونکہ ا چکا تھا تو خولہ رضی اللہ تعالی عنہ جو ہے وہ اپس میں چونکہ میاں بیوی کا تعلق اچھا تھا بچے بھی تھے جس کی وجہ سے بڑی ان کو پریشانی لاحق ہوئی اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور جا کر اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اوس نے اس طرح کے الفاظ بولے ہیں تو اپ میری اسلام کے بارے میں رہنمائی فرمائیے اسلام اس کے بارے میں کیا رولنگ دیتا ہے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چونکہ ابھی اس حوالے سے وحی نہیں ائی تھی اگرچہ اس سے پہلے سورہ احزاب کے اندر اللہ رب العزت نے مختصر سا اشارہ کر دیا تھا کہ ظہار کہنے سے ظہار کہنے سے کوئی بیوی جو ہے وہ اس کی ماں کی طرح نہیں ہو جاتی تو اب ان کا خولہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار یہی ایک مطالبہ تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے انہوں نے طلاق تو نہیں دی نہ مجھے انہوں نے طلاق کے الفاظ تو نہیں بولے نا اب یہ بار بار ان کا انا اللہ رب العزت نے اس کا ذکر کیا ہے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس خولہ کا جھگڑا بذات خود سن لیا ہے اور اس کے بارے میں اللہ رب العزت اب اپ کو رولنگ دیتے ہیں
[4:13]اللہ رب العزت نے اس کی رولنگ جو بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ ظہار سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہاں البتہ اگر کوئی شخص ایسا دانستہ طور پر دیدہ دانستہ ایسا کہہ دیتا ہے طلاق کی نیت سے تو طلاق تو اس سے واقع نہیں ہوگی ہاں طلاق دینا ہی چاہتا ہے تو وہ سیدھے جو طلاق کے الفاظ ہیں اسی طریقے سے طلاق دے گا اس طرح سے اگر کوئی کہہ دیتا ہے اور طلاق نہیں دینا چاہتا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام کو ازاد کرے گا یا پھر مسلسل دو روزے رکھے گا یا پھر جو ہے وہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے گا تو یہ اس کا کفارہ ہے بہرحال اس سے جو ہے وہ طلاق واقع نہیں ہوئی ہوتی اور خولہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ رب العزت کی طرف سے یہ خوشخبری سنائی گئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی خولہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اس معاملے سے بڑے جو ہے وہ مسکرائے اور خوش ہوئے اور صحابہ کے نزدیک خولہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بڑا بڑا بلند مقام و مرتبہ تھا ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو اس وقت خولہ رضی اللہ تعالی عنہ بڑی عمر کی ہو چکی تھی انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے دور میں ان کو رستے میں روک لیا اور اپ رضی اللہ تعالی عنہ بڑی توجہ سے ان کی بات کو سننے لگے تو کچھ دوسرے صحابہ وہاں سے گزرے کہنے لگے کہ خیریت تو ہے اپ اس بڑھیا کی بات اتنی توجہ سے سن رہے ہیں تو فرمانے لگے کہ اللہ رب العزت نے ان کی وجہ سے مسلمانوں پر بہت زیادہ اسانی فرمائی ہے اور اللہ رب العزت نے جو ہے وہ اظہار کا سلسلہ ختم کر کے اور طلاق جو ہے وہ اس کے وقوع کو ختم کر کے اللہ رب العزت نے اس میں اسانی پیدا فرمائی ہے
[5:33]تو اس وجہ سے ہم ایسی خاتون کی کیوں عزت نہ کریں جس کی عزت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرتے ہیں تو یہ احکام اللہ رب العزت نے یہاں بیان فرمائے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 8 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کفر یہ جو منافقین ہیں یہ کبھی بھی اپ سے اکٹھے ہو کر کبھی بھی امنے سامنے کی اور دو بدو کی لڑائی میں اور جنگ میں یہ کبھی بھی اپ کا ساتھ اپ کے ساتھ نہیں لڑ سکتے یعنی ان میں اتنی ہمت نہیں ہے اتنی جرات نہیں ہے اتنے یہ بہادر اور بریو نہیں ہیں
[6:12]بلکہ کیا کریں گے یہ جو ہے وہ دیواروں کے پیچھے سے یا بند کلوں میں وہیں پر یہ لڑیں گے کبھی بھی سامنے ا کر نہیں لڑیں گے اور حقیقت میں خود کیا ہے شدید ان کے اپس میں کے کے بھی جو اختلافات ہیں وہ بڑے سخت ہیں اپ کو لگتا ہے کہ یہ اپس میں متحد ہیں حقیقت میں اپس میں بھی متحد نہیں ہیں جیسا کہ اج کے یہود و نصاری ہیں سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں
[19:19]بلکہ کیا کریں گے یہ جو ہے وہ دیواروں کے پیچھے سے یا بند کلوں میں وہیں پر یہ لڑیں گے کبھی بھی سامنے ا کر نہیں لڑیں گے اور حقیقت میں خود کیا ہے شدید ان کے اپس میں کے کے بھی جو اختلافات ہیں وہ بڑے سخت ہیں اپ کو لگتا ہے کہ یہ اپس میں متحد ہیں حقیقت میں اپس میں بھی متحد نہیں ہیں جیسا کہ اج کے یہود و نصاری ہیں سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں مسلمانوں کے خلاف البتہ وہ سارے کے سارے ایک پیج پر جمع ہو جاتے ہیں اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ اصل میں عقلمند نہیں ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 18 اور 19 میں بطور خاص ارشاد فرمایا اے ایمان والوں اللہ تعالی سے ڈر جاؤ اور تم میں سے ہر شخص یہ دیکھے کہ وہ کل قیامت کے دن کے لیے کیا تیار کر کے بھیج رہا ہے تو اس وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تمہیں ہمیشہ اپنے فیوچر پر اس پوائنٹ اف ویو سے نظر رکھنی ہے خاص طور پر جو تمہارا حقیقی فیوچر ہے
[20:21]جو حقیقی زندگی ہے اخرت کی زندگی اس کے بارے میں کہ تم کل کے لیے کیا بھیج رہے ہو کیونکہ جو ایک ذرے کے برابر کوئی خیر کا عمل کر کے بھیجے گا وہ بھی پائے گا اور کوئی ذرے کے برابر اگر برا عمل کر کے اخرت کے لیے بھیجے گا تو کل قیامت والے دن اس کو بھی پائے گا تو اس وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا اور جو بندہ مسلسل تین جمعے چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے اس بندے کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے
[35:37]خواتین پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے ہاں البتہ اگر مناسب پردہ وغیرہ کا انتظام موجود ہو تو وہ جمعہ کی نماز میں حاضر ہو سکتی ہیں ان کو حاضر ہونا چاہیے اور یہ اللہ رب العزت نے بطور خاص یہاں پر جمعہ کے اداب کا ذکر کیا ہے فرمایا کہ جب جمعہ کے لیے اذان دے دی جائے تو فورا جو ہے وہ تم تجارت کو ترک کر دو جمعہ کے ٹائم میں تجارت کرنا جائز نہیں ہے اس کو چھوڑ کر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے لیے مسجدوں میں حاضر ہو جاؤ اور جب نماز مکمل ہو جائے تو اس کے بعد تم نکل جاؤ اور اللہ رب العزت کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم کامیابیاں حاصل کر سکو تو خیر یہ جمعہ کے اداب اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمائے ہیں اس کے بعد سورہ منافقون ہے جس کی ابتداء میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ جب منافقین اپ کے پاس اتے ہیں تو ا کر یہ گواہی دیتے ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی اس سینس میں کہ ان کی زبان کچھ اور کہتی ہے اندر سے کچھ اور ہوتے ہیں ا کر کیا کہتے ہیں کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ اپ اللہ کے رسول ہیں
[36:31]اللہ فرماتے ہیں تمہیں یہ خبر دینے کی ضرورت نہیں ہے اللہ رب العزت کی گواہی کافی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں البتہ اللہ تمہارے بارے میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ تم جو ہے وہ پلے درجے کے جھوٹے اور منافق لوگ ہو اللہ رب العزت نے ان کی یہاں پر جو ہے وہ صفات کا تذکرہ کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی قسموں کو ڈھال بناتے ہیں مسلمانوں کے سامنے قسمیں اٹھاتے ہیں اور در پردہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں پھر اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے دلوں پر اللہ رب العزت نے مورے لگا دی ہیں ان کی صورتحال یہ ہے کہ اگر کبھی اپ ان کے جسموں کو دیکھیں تو بڑے خوشکن جسم ہیں ان کے بڑے خوبصورت جو ہے وہ بڑے لمبے تڑنگے اور بڑے لگتا ہے کہ اسلام کے بارے میں بڑے جو ہے وہ اسلام کو فائدہ پہنچانے والے ہیں اور حقیقت میں اندر سے کھوکلی لکڑیوں کی طرح جیسے لکڑیاں ہوتی ہیں دیواروں پر لگی ہوئی اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ہیں جو ہر طرح کی جو ذرا سی بلند اواز ہوتی ہے اس کو اپنے لیے مصیبت سمجھ بیٹھتے ہیں اللہ فرماتے ہیں یہ اپ کے دشمن ہیں اپ ان سے بچ جائیں اللہ رب العزت ان کو قتل کر دے اللہ رب العزت ان کا خاتمہ کر دے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اؤ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بخشش طلب کریں اپنے سروں اپنے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں اور یہ اللہ رب العزت کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں تکبر کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں اپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں اللہ ان کو معاف نہیں کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت کبھی بھی فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر خرچ نہ کرو ان کے حکم پر خرچ نہ کرو اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں حالانکہ تمام کے تمام خزانے اسمان و زمین کے وہ سب اللہ رب العزت ہی کے لیے ہیں لیکن منافق اس بات کو نہیں سمجھتے پھر ان میں سے ایک خاص عبداللہ بن ابی جو تھا ایک مرتبہ غزوہ تبوک سے واپسی پر یہ شخص کہنے لگا کہ ہم میں سے جو معزز ہے وہ ذلیل کو علیہ العزت یہاں سے مدینہ سے نکال دے گا یعنی خود کو معزز کہا اور اپنے جو ہے وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس طرح کے توہین امیز الفاظ کہے اللہ نے فرمایا کہ عزتیں اللہ کے لیے اس کے رسول کے لیے ایمان والوں کے لیے اور منافقین کے لیے لیکن منافق اس بات کو نہیں جانتے اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اے ایمان والوں تمہارے مال و اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے وہ بطور خاص اس وقت فتنہ ہے
[38:43]جب یہ اللہ کے دین کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں جب اللہ کی فرمانبرداری میں رکاوٹ بن جائیں تو اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے اللہ فرماتے ہیں جو اللہ تعالی سے جتنی تم طاقت رکھتے ہو اتنے اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور سنتے رہو ہمیشہ اطاعت کرتے رہو سماعت کرو اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور جو شخص بخیلی سے بچا لیا گیا اللہ فرماتے ہیں یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے اللہ رب العزت کو قرض حسنہ دو اللہ رب العزت تمہیں بڑھا چڑھا کر دنیا میں بھی واپس کرے گا اخرت میں بھی اللہ تمہارا تمہاری بخشش فرما دے گا اللہ رب العزت تو بڑا ہی قدردان ہے اور اپنے بندوں پر بڑی نرمی کرنے والا ہے جو عالم الغیب ہے عالم الشہادہ ہے العزیز الحکیم ہے غالب الحکمت والا ہے اس کے بعد سورہ طلاق ہے سورہ طلاق میں اللہ رب العزت نے بطور خاص ابتدائی دو ایات میں متعلقہ عورتوں کی عدت کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ متعلقہ عورتیں جن کو تم طلاق دو ان کی عدت کو شمار کر کے رکھو ایک بات طلاق دینے کے بعد ان کو گھروں سے نہ نکالو
[42:21]یہاں سے ان الفاظ سے بطور خاص ہمیں یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ جو عام طور پر کچھ لوگ جو ہے وہ ایک وقت کی تین طلاق کو تین ہی کاؤنٹ کر لیتے ہیں یہ تین کاؤنٹ کرنا درست نہیں ہے ایک طلاق کو تین طلاقوں کو ایک ہی کاؤنٹ کیا جائے گا کیونکہ قران مجید کے ان الفاظ کی حکمت ورنہ ختم ہو جائے گی اگر اپ تین طلاقوں کو جو ہے وہ ایک ہی تینوں کاؤنٹ کرتے ہیں ایک وقت میں اگر دے دی جاتی ہیں تو پھر تو یہ رجوع والا تو سلسلہ ہی ختم ہو گیا لہذا یہاں پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ وہ متعلقہ رجعیہ جس کو وہ طلاق دے جاتی ہے جس کے بعد رجوع کی گنجائش موجود ہے پہلی طلاق ہے دوسری ہے تو اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو یعنی وہ شوہر کے گھر پہ رہیں گی نان و نفقہ شوہر کے ذمہ ہوگا ہاں اگر وہ ساری طلاقیں دے دیتا ہے تو پھر ایک الگ معاملہ ہے تو عدت کے دوران جو ہے وہ ان کو ان کے گھروں سے نہیں نکالا جا سکتا بطور خاص اللہ رب العزت نے اس چیز کے حوالے سے فرمایا اور فرمایا کہ جو اللہ تعالی کی حدود سے تجاوز کرتا ہے اس نے اپنے اپنے اوپر بہت بڑا ظلم کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 2 میں ایک اور بات بطور خاص ارشاد فرمائی جو اللہ سے ڈر جاتا ہے اللہ اس کے لیے ہر مصیبت پریشانی اور غم سے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا اور جو اللہ پہ بھروسہ کر لیتا ہے اللہ رب العزت اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر فور میں وہ خاتون جو کہ ائسہ ہوتی ہیں جس کے مینشن ختم ہو جاتے ہیں اللہ رب العزت نے اس کی عدت یہاں پر بیان فرمائی ہے کہ اس کی عدت جو ہے وہ صرف تین مہینے ہے ایت نمبر 8 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور اللہ نے ان سے بڑا ہی سخت محاسبہ کیا ان کا اور بڑا ہی سخت قسم کا عذاب اللہ رب العزت نے ان کو پہنچایا اور انہوں نے اپنے کیے ہوئے کا انجام جو ہے وہ چکھا اور وہ بڑا ہی خسارے والا انجام تھا اس کے اخر میں اللہ رب العزت نے ایت نمبر 12 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جیسے سات اسمان پیدا کیے اسی طرح اللہ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں صحیح حدیث میں بھی موجود ہے کہ اللہ رب العزت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو بندہ کسی بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے کل قیامت والے دن ساتوں زمینوں کا طوق بنا کر اس بندے کے گلے میں لٹکایا جائے گا صحیح بخاری کے اندر یہ روایت موجود ہے اس کے بعد سورہ تحریم ہے جس میں اللہ رب العزت نے بطور خاص پہلی ایات میں ایت نمبر ایک سے تین میں ایک خاص واقعہ ہے جس کی طرف اشارہ کیا ہے بنیادی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حرام و حلال کے حوالے سے اپ کے پاس بھی اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر اختیار نہیں ہے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ایسی چیزوں کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اپنی بیویوں کو خوش کرنے کے لیے اللہ رب العزت بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے معاملہ دراصل یہ ہوا تھا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد اپنی سب بیویوں کے گھر میں چکر لگاتے زینب بنت حشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر پہ اپ جاتے تو وہ شہد کا شربت پلاتے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بات ذرا ناگوار گزرتی تھی سوتیلوں کے حوالے سے تو انہوں نے ایک مرتبہ پلاننگ کی اپنے ساتھ باقی ازواج مطہرات کو بھی ملا لیا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم ائیں تو اپ سے کہا جائے اپ کے منہ سے مغافر کی بو ا رہی ہے مغافر ایک جڑی بوٹی تھی جس کی ذرا جو ہے بساند ایسی ہوتی تھی کہ وہ مناسب نہیں ہوتی تھی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ نے بھی ایسا کہا سیدہ حفصہ نے بھی ایسا کہا ان کی دیکھا دیکھی دیگر خواتین نے بھی دیگر ازواج مطہرات نے بھی کہا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ میں اج کے بعد شہد نہیں پیوں گا اصل مسئلہ یہ تھا کہ ان کو زینب رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر پہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ دیر رکنا پسند نہیں تھا تو اللہ رب العزت نے اس بات کے اوپر اس کی جو ہے وہ سرزنش فرمائی اس کا یہاں پر تذکرہ ہے ایت نمبر سکس میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں اے ایمان والوں اپنے اپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی اگ سے بچانا تمہاری ذمہ داری ہے وہ اگ جس کا ایندھن جس کا جو ہے وہ فیول کے طور پر وہاں پر پتھر اور لوگوں کو جلایا جائے گا اس کے اوپر بڑے ہی سخت فرشتے ہیں جو اللہ رب العزت نے مقرر کر رکھے ہیں تو بات یہاں پر جو سمجھ میں انے والی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو جہنم کی اگ سے بچانا ان کو دین پر لگانا اللہ کی فرمانبرداری کی طرف لگانا یہ والدین کی ذمہ داری ہے اور یہ گارڈین کی ذمہ داری ہے کل قیامت والے دن اگر اولاد جو ہے وہ جہنم کی طرف جاتی ہے اور اس میں والدین کا قصور ہوتا ہے تو والدین جنت میں جانا ان کا مشکل ہو جائے گا اور صحیح حدیث میں موجود ہے کہ والد سے اس کی اولاد سے متعلق پوچھا جائے گا بیوی سے جو ہے وہ شوہر کے مال اور اس کی اولاد سے متعلق پوچھا جائے گا اسی طرح غلام سے اس کے اقا کے مال سے متعلق پوچھا جائے گا تو یہ ساری کی ساری اپ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کو اللہ نے نگہبان بنایا ہے
[46:39]اور جس چیز کا اس کو نگہبان اور گارڈین بنایا گیا ہے اس کے بارے میں کل قیامت والے دن اس سے پوچھا جائے گا ایت نمبر 8 میں اللہ رب العزت نے توبہ کا حکم دیا ہے اے ایمان والوں اللہ تعالی کے لیے سچی توبہ کر لو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ رب العزت تمہارے گناہ معاف کر دے گا اللہ تمہیں جنتوں میں داخل فرما دے گا اور اللہ رب العزت تمہیں قیامت والے دن رسوائی سے بچا لے گا اور اللہ رب العزت تمہارے لیے ایسا نور پیدا فرمائے گا جس کی روشنی میں چلتے ہوئے تم جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے اور توبہ کیا ہوتی ہے سچے دل سے اللہ رب العزت کے سامنے گناہوں کا اعتراف کرنا ندامت کا اظہار کرنا اس کے اوپر انسو بہانا اور ائندہ گناہ نہ کرنے کا پکا وعدہ کرنا اور اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو ان کو واپس لٹانا کیونکہ اس کے بغیر توبہ قبول نہیں ہوتی اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان کے مہینے میں بطور خاص سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اس شخص کے لیے وعید ہے جو رمضان میں اپنے گناہ معاف نہیں کروا پاتا جبرائیل علیہ السلام نے دعا کی کہ اللہ رب العزت اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے اس کے بعد ایت نمبر 10 اور 10 سے 12 میں اللہ رب العزت نے مومن اور کافر کے لیے ایک ایک مثال کا بیان فرمایا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے کافروں کے لیے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی اللہ تعالی نے ان لوگوں کے لیے جو کافر ہیں ان کے لیے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے جو ہمارے بڑے ہی نیک بندوں کے جو ہے وہ اس میں زوجیت میں تھیں لیکن ان لوگوں نے خیانت کی اللہ کی نافرمانی کی تو ان کو وہ بندے کافی نہ ہو سکے یعنی انبیاء کی بیویاں ہونے کے باوجود وہ اللہ تعالی کے سامنے ان کو کفایت نہیں کر سکے اور ان کا ٹھکانہ اخر جہنم بن گیا اور ایمان والوں کے لیے اللہ رب العزت نے فرعون کی بیوی اسیہ علیہ الصلوۃ والسلام کی مثال بیان فرمائی ہے جو کہ اللہ کے بڑے ہی نافرمان بندہ تھا جس کی بیوی تھی لیکن اللہ رب العزت نے ان کو جو ہے وہ نیکی کی توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے اللہ سے دعا کی اے اللہ میرے لیے اپنے جنت میں گھر تیار کر رکھ رکھنا مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے نجات دلانا اے اللہ مجھے ظالم قوم سے نجات دلانا اور اسی طرح اللہ فرماتے ہیں کہ مریم علیہ السلام جو کہ عمران کی بیٹی تھی عمران کی بیٹی تھی علیہ الصلوۃ والسلام اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ہیں انہوں نے اپنے اپ کو حفاظت سے رکھا اپنی عزت کی حفاظت کی
[48:43]اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے معجزانہ طریقے سے ان کے اندر اپنی روح کو پھونک دیا روح کو پھونکنے سے مراد جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کا پھونکنا اور معجزانہ طریقے سے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کا ہو جانا اور اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھیں



