Thumbnail for Travel To Switzerland | Documentary & History | Interesting Facts  | سوئٹزرلینڈ کی سیر by Shayan Info Tv

Travel To Switzerland | Documentary & History | Interesting Facts | سوئٹزرلینڈ کی سیر

Shayan Info Tv

25m 23s5,532 words~28 min read
Auto-Generated

[0:00]اس ملک میں کرپشن تقریبا صفر ہے لیکن دنیا بھر کے کرپٹ سیاست دانوں کے بینک اکاؤنٹس اسی ملک میں ہیں۔ اس ملک کا نام سنتے ہی سب کے ذہن میں ہرے بھرے میدان اور جنت جیسی خوبصورتی کا تصور آ جاتا ہے۔ پوری دنیا ایٹم بم سے تباہ ہو سکتی ہے لیکن اس ملک کے ایک شہری کو بھی کچھ نہیں ہو گا۔ وجہ جان کر اپ حیران رہ جائیں گے۔ امیر لوگ جن چیزوں کو لگزری سمجھ کر پہنتے ہیں وہ اسی ملک میں بنتی ہیں۔ ایماندار لوگ، صاف ستھرا ماحول، کسی بھی جگہ پر مجال ہے کہ اپ کو ایک ریپر بھی نظر ا جائے جی ہاں دوستو اج بات ہوگی سویٹزرلینڈ کی۔ سوئس لوگ کیسے زندگی جیتے ہیں؟ کتنے امیر ہیں؟ کیا کام کرتے ہیں؟ اس ملک کے خوبصورت مقامات کون سے ہیں؟ سوئس لوگ شادیاں کیسے کرتے ہیں؟ اور کون کون سی ایسی چیزیں ہیں جو اس ملک کو دنیا بھر سے مختلف بناتی ہیں؟ تو بغیر وقت ضائع کیے ویڈیو شروع کرتے ہیں۔

[1:02]سوئٹزرلینڈ کا مکمل نام کونفیڈریشنو ہیلوٹیکا ہے۔ قدیم زمانے میں سویٹزرلینڈ کے علاقوں کو ہیلویشیا کہا جاتا تھا۔ جو ایک قدیم قبائل کا نام تھا جو اج کے سویٹزرلینڈ میں اباد تھے اور اس کے شہریوں کو عام طور پر سوئس کہا جاتا ہے۔ یہ وسط یورپ کے جنوبی حصے میں پہاڑوں سے گھرا ہوا ایک منفرد ملک ہے جس کے مشرق میں اسٹریا اور لکھٹن سٹائن، مغرب میں فرانس، شمال میں جرمنی اور جنوب میں اٹلی موجود ہے۔ شمال سے جنوب تک سرحدیں تقریبا 220 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک 350 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں اور اس کا 60 فیصد حصہ خوبصورت الپس کے پہاڑوں اور وادیوں سے ڈھکا ہوا ہے جہاں لوگوں کی ابادکاری بہت محدود ہے۔ جبکہ ملک کے دوسرے حصے بھی اونچی نیچی پہاڑیوں کے سلسلے سے مزین ہیں۔ 41,285 مربع کلومیٹر رقبے کے ساتھ یہ ملک دنیا میں 134 نمبر پر اتا ہے اور تقریبا 85 لاکھ ابادی کے ساتھ دنیا میں 99 نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ اور یہ چھوٹا سا ملک اپنی تاریخ میں کبھی کسی کی حکومت میں نہیں ایا اور نہ ہی کسی اور ملک پر قبضہ کیا۔ 1500 سالوں سے سویٹزرلینڈ نے کسی جنگ میں کسی فریق کی حمایت نہیں کی یعنی یہ ملک غیر جانبداری کی ایک زندہ مثال ہے۔ ابادی کے لحاظ سے سویٹزرلینڈ کافی متنوع ہے۔ یہاں 37.3 فیصد رومن کیتھلک، 24.9 فیصد پروٹیسٹنٹ، 5.8 فیصد دیگر مسیحی فرقے، 5.1 فیصد اسلام، 2.9 فیصد دیگر مذاہب اور تقریبا 30.9 فیصد لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔ تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کے لیے پورے ملک میں تقریبا 160 سینٹر یا مساجد موجود ہیں جہاں نماز ادا کی جاتی ہے۔ زبانوں کے معاملے میں سویٹزرلینڈ میں 63 فیصد لوگ المانی بولتے ہیں جو جرمن زبان کی ہی ایک قسم ہے۔ 21 فیصد فرانسیسی بولتے ہیں، 6.5 فیصد اطالوی اور 0.5 فیصد رومانش زبان استعمال کرتے ہیں۔ کرنسی سوئس فرانک ہے اور ایک فرانک تقریبا 351 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ وقت کے لحاظ سے یہ پاکستان سے چار گھنٹے پیچھے ہے۔ کالنگ کوڈ پلس 44 ہے اور انٹرنیٹ ڈومین ڈاٹ سی ایچ ہے۔ مجموعی ملکی پیداوار کے لحاظ سے سویٹزرلینڈ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور فی کیس امدنی تقریبا 61,306 ڈالر کے برابر ہے۔ یعنی ایک عام شہری بھی بین الاقوامی معیار کے حساب سے بہت اچھی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں قومی نشان جیسے کہ قومی پھول، پرندہ یا جانور مقرر نہیں کیے گئے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہاں کچھ لوگ بلیوں اور کتوں کا گوشت کھانے کے شوقین ہیں اور سویٹزرلینڈ نے خواتین کو ووٹ کا حق 1971 میں دیا جبکہ اوسط عمر 83.4 سال کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یعنی صحت اور معیار زندگی کے لحاظ سے بھی یہ ملک لاجواب ہے۔ یہاں دنیا کی سب سے لمبی سرنگ بھی موجود ہے جو تقریبا 57 کلومیٹر لمبی ہے اور الپس کی پہاڑیوں کے نیچے سے اٹلی تک جاتی ہے۔ زراعت یہاں تقریبا نا موجود ہے لیکن سنت اور ہائی ٹیک شعبے میں سویٹزرلینڈ دنیا کے اعلی ممالک میں شامل ہے۔ خاص طور پر گھڑی سازی کا شعبہ جہاں رولیکس، پاتک اور دیگر مشہور برانڈز اسی ملک میں بنتی ہیں۔ اور اسی طرح سیاحت بھی ایک بڑی انڈسٹری ہے۔ دنیا بھر سے کروڑوں لوگ سویٹزرلینڈ کے دلکش پہاڑ، جھیلیں اور وادیاں دیکھنے اتے ہیں اور 2025 میں ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ سیاح یہاں ائے۔ جس سے نہ صرف ملکی خزانے میں اضافہ ہوا بلکہ تقریبا دو لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار بھی ملا۔ سویٹزرلینڈ کا دارالحکومت برن ہے۔ اج کے دور میں برن کی ابادی تقریبا 13 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ برن کے میٹروپولیٹن یا اس پاس کے شہر شامل کرنے پر یہ تعداد تقریبا 15 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ برن کا رقبہ تقریبا 51.6 مربع کلومیٹر ہے اور یہ شہر نہ صرف سیاسی اہمیت رکھتا ہے بلکہ ثقافتی، تاریخی اور قدرتی خوبصورتی کے لحاظ سے بھی بہت منفرد ہے۔ یہاں کے پرانے شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہوا ہے اور اس کے گلی کوچے، تاریخی عمارتیں، بلند گھڑیاں اور قدیم قلعے دیکھنے والوں کو فورا اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ شہر کے درمیان سے بہنے والا ارا دریا، برن کو ایک پرسکون اور دلکش منظر دیتا ہے اور دریا کے کنارے پیدل چلنے والے راستے، پارک اور سبز باغات لوگوں کے لیے روزانہ کی تفریح اور ورزش کا بہترین ذریعہ ہیں۔ پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کی تعداد اگرچہ سویٹزرلینڈ کی مجموعی ابادی کے مقابلے میں کم ہے مگر برن اور دیگر بڑے شہروں میں پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کافی متحرک ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر ائی ٹی، انجینئرنگ، تعلیم، بینکنگ اور سروسز کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ سویٹزرلینڈ میں کل تقریبا 266 شہر ہیں جن میں سب سے اہم اور مشہور شہروں کے نام یہ ہیں۔ زہرخ، جنیوا، بیل، لوسین، برن، وادوز، لوزان، سینٹ گالن، تھون، فروبرگ، انٹرلاکن، زرمٹ، اوبرویل، نیوچیل۔ ایک بار ایک سوئس ڈرائیور نے ایک پاکستانی کو اپنی زندگی کا ایسا واقعہ سنایا جو سن کر اپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہاں کے لوگ کیسے سوچتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میں گاڑی لینے کے لیے بینک گئی اور وہاں جا کر قرض مانگا تو بینک نے فورا گارنٹی مانگ لی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ میرے پاس اپنی والدہ کے علاوہ کوئی ایسا بندہ نہیں تھا جو میری گارنٹی دے سکے۔ جب میں نے یہ بات اپنی والدہ کو بتائی تو انہوں نے بڑا دلچسپ سوال کیا۔ کہ بینک تمہیں کتنے فیصد سود پر قرض دے رہا ہے؟ میں نے کہا تین فیصد تو وہ مسکرا کر بولے کہ تم بینک کو چھوڑو تم مجھے چار فیصد سالانہ دے دینا میں خود تمہیں قرض دے دیتی ہوں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو اصل میں سوئس ذہنیت کو پوری طرح ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک تمہیں بغیر گارنٹی کے قرض نہیں دے گا لیکن میں تمہیں بغیر کسی گارنٹی کے دے رہی ہوں۔ اور یہ اضافی ایک فیصد دراصل اس اعتماد کی قیمت ہے جو میں تم پر کر رہی ہوں۔ اب سوچو ماں اور بیٹی کے درمیان بھی یہاں معاملہ جذبات سے زیادہ ایک سسٹم اور حساب کتاب پر چلتا ہے۔ وہ خاتون کہتی ہے کہ میں نے فورا یہ افر قبول کر لی اور یوں میں نے چار فیصد پر گاڑی خرید لی۔ اب بظاہر یہ ایک چھوٹا سا واقعہ لگتا ہے لیکن اصل میں یہ پورے سویٹزرلینڈ کی سوچ کا نچوڑ ہے۔ یہاں کے لوگ ہر چیز کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چاہے وہ گھر کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔ باپ بیٹے کے ساتھ ڈیل کرتا ہے، ماں بیٹی کے ساتھ اور سسر داماد کے ساتھ بھی کاروباری انداز میں بات کرتا ہے۔ اور اس بات پر انہیں کوئی عجیب نہیں لگتا بلکہ وہ اسے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ یہی بزنس مائنڈ سیٹ اور ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی عادت اس ملک کی کامیابی کی بنیادوں میں شامل ہے اور یہی چیز انہیں باقی دنیا سے الگ کھڑا کرتی ہے۔ اب ذرا سویٹزرلینڈ کے ایک ایسے گاؤں کی طرف چلتے ہیں جو اتنا خوبصورت ہے کہ پہلی نظر میں ہی لگتا ہے جیسے کسی فلم کا سین ہو یا پھر کسی خواب کی دنیا۔ یہاں کے نظارے، برف سے ڈھکے پہاڑ، سبز وادیاں اور لکڑی کے خوبصورت گھر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جسے دیکھ کر بندہ بس دیکھتا ہی رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے لوگ صرف اس گاؤں کو دیکھنے کے لیے اتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک ایسا فیصلہ کیا گیا جو سن کر اپ واقعی چونک جاؤ گے۔ سویز حکومت نے اس گاؤں کی تصاویر لینے پر پابندی لگا دی۔ جی ہاں وجہ یہ دی گئی کہ جو لوگ یہاں نہیں ا سکتے وہ جب ان تصاویر کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر حسد اور اداسی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ گاؤں برگن کہلاتا ہے اور مشہور الپس کے پہاڑی سلسلے میں ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں قدرت نے خوبصورتی کھل کر لٹائی ہے۔ سویٹزرلینڈ نے 2017 میں کیڑوں اور دیگر انوکھے کھانے کے ذرائع کو بیچنا قانونی طور پر جائز قرار دیا اور اقوام متحدہ کے مطابق 2017 میں سویٹزرلینڈ دنیا کے سب سے جدید ممالک میں شمار ہوا۔ ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ اگر کبھی ایٹمی جنگ ہو جائے تو یہ واحد جگہ ہوگی جہاں زندگی کے اثار محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں نہ صرف کسی سے دشمنی نہیں ہے بلکہ زیر زمین بینکرز اتنے بڑے ہیں کہ پوری ابادی اسانی سے سما جائے اور پھر بھی جگہ بچ جائے۔ اور سب سے دلچسپ بات ویٹیکن سٹی کے بعد دنیا میں دوسرا ملک جس کا جھنڈا مربع شکل کا ہے وہ سویٹزرلینڈ ہے۔ سویٹزرلینڈ ایسا ملک ہے جو یورپ میں ہونے کے باوجود یورپی یونین کا حصہ نہیں یعنی اپنی خود مختاری اور غیر جانبداری کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات قائم رکھتا ہے۔ اگرچہ 1999 میں اس نے یورپی یونین کے ساتھ کچھ معاہدے کیے تھے تاکہ تجارتی تعلقات میں اسانیاں پیدا ہوں اور حال ہی میں مزید دو معاہدے کیے گئے ہیں جو ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔ سویٹزرلینڈ میں رہنے والے عام لوگوں کو جس لیول کی سہولتیں اور سکون دیا جاتا ہے نا وہ سن کر ہی بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ ذرا سوچو دنیا کے مصروف ترین شہروں میں شامل زیوخ اور جنیوا جیسے انٹرنیشنل ایئر پورٹس جہاں دن میں رش ہی رش ہوتا ہے وہاں رات کو نہ کوئی جہاز لینڈ کرتا ہے نہ ٹیک اف۔ صرف اس لیے کہ شہری سکون سے سو سکے۔ اور بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ رات کے وقت ملک میں بھاری اور شور کرنے والی ٹریفک کو بھی روک دیا جاتا ہے تاکہ شور کی ایک ہلکی سی اواز بھی لوگوں کے ارام میں خلل نہ ڈالے۔ یہاں تک کہ اگر تم کسی فلیٹ میں رہتے ہو تو رات کو فلش چلانے تک پر پابندی ہو سکتی ہے۔ سیڑھیوں پر زور زور سے چڑھنا بھی مسئلہ بن سکتا ہے اور اگر تمہارا کتا رات کو بھونکنا شروع کر دے تو وہ بھی تمہارے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔ مطلب یہاں سکون صرف لفظ نہیں بلکہ ایک مکمل سسٹم ہے جو ہر قیمت پر برقرار رکھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی اس سسٹم کو توڑنے کی کوشش کرے جیسے اسپیڈنگ کرنا تو جرمانہ ایسا لگتا ہے کہ بندہ اگلی بار گاڑی چلانے سے پہلے دس بار سوچے جو پاکستانی روپوں میں ڈیڑھ سے دو لاکھ تک جا پہنچتا ہے یعنی قانون صرف کتابوں میں نہیں بلکہ زمین پر پوری طاقت کے ساتھ نظر اتا ہے۔ اب اگر صفائی کی بات کی جائے تو یہاں یہ کوئی عام عادت نہیں بلکہ ایک طرح کا ایمان ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر شخص نے دل سے مان لیا ہو کہ صفائی ہی اصل خوبصورتی ہے۔ تم پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں تک چلے جاؤ وہاں بھی تمہیں ڈسٹبین اور کچرا جمع کرنے کے مکمل سسٹم ملیں گے۔ اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ صرف اوپر سے عام ڈسٹبین لگتے ہیں لیکن اندر سے ایک زبردست انجینئرنگ کا کمال چھپا ہوتا ہے۔ یہ دراصل لمبی ٹنلز ہوتی ہیں جو تین فٹ کتر کے پائپوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں اور سیدھا پہاڑ کے نیچے تک جاتی ہیں۔ تم اوپر سے کچرا ڈالو اور چند سیکنڈ میں وہ نیچے سڑک تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر صبح کے وقت میونسپل کمیٹی کی گاڑی اتی ہے اور پورا کچرا ایک سسٹم کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے۔ یعنی نہ بدبو، نہ گندگی، نہ کوئی جھنجھٹ۔ ہر چیز اتنی سمارٹ طریقے سے میج ہوتی ہے کہ بندہ واقعی امپریس ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہاں ڈسپلن صرف سڑکوں یا شہروں تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں بھی گھسا ہوا ہے۔ گھاس کاٹنا تک ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی کے لان میں گھاس بڑی ہو جائے اور وہ وقت پر نہ کاٹے تو سیدھا جرمانہ۔ یعنی خوبصورتی اور ترتیب کو ہر حال میں برقرار رکھا جاتا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ تمہیں پورے ملک میں کوئی فقیر نظر نہیں ائے گا۔ کہیں کوئی ہاتھ پھیلائے کھڑا نہیں ہوگا کیونکہ یہاں کا سسٹم لوگوں کو اس لیول تک سپورٹ کرتا ہے کہ انہیں مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ لوگ اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلاتے ہیں۔ پیسے کی قدر کرنا یہاں کے لوگوں کی عادت میں شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچتے ہیں اور ہر خرچ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ اور اگر زبانوں کی بات کرو تو چار پانچ زبانیں سیکھنا یہاں عام سی بات ہے۔ جیسے ہم ایک زبان میں ہی اٹکے رہتے ہیں یہ لوگ اسانی سے مختلف زبانوں میں بات کر لیتے ہیں۔ پیدل چلنا یہاں کمزوری نہیں بلکہ فخر سمجھا جاتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ لوگ اپنے ملک کو اس حد تک اہمیت دیتے ہیں کہ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے ان کے لیے ملک کا مقام ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہاں ماڈرن ہونے کا مطلب صرف بڑی گاڑیاں یا خوبصورت گھر نہیں بلکہ ایک ایسا سسٹم ہے جہاں ہر انسان کسی نہ کسی شکل میں پروڈکٹیو ہے۔ یہاں کاروبار صرف ایک اپشن نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ ہے چاہے وہ ماں ہو باپ ہو بیٹا ہو یا بیٹی۔ ہر کوئی کسی نہ کسی طریقے سے کمائی اور کام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگے بڑھنے سے پہلے اپ یہ ویڈیو کہاں سے دیکھ رہے ہیں اپنے بھائی کو کمنٹ باکس میں لازمی بتائیں۔ اور ہاں اگر ابھی تک چینل کو سبسکرائب اور ویڈیو کو لائک نہیں کیا تو ابھی سے کر لیں۔ اب ذرا ایک اور دلچسپ سسٹم دیکھو جو یہاں کے بوڑھے لوگوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عام طور پر دنیا میں ہوتا کیا ہے کہ بندہ ریٹائر ہوتا ہے اور بس گھر بیٹھ جاتا ہے۔ حکومت پینشن دیتی ہے اور وہ اہستہ اہستہ سسٹم سے کٹ جاتا ہے۔ لیکن یہاں کھیل بالکل الٹا ہے۔ سویٹزرلینڈ میں ریاست ہر بوڑھے مرد اور عورت کو پینشن تو دیتی ہے لیکن یہ پینشن ایسے ہی فری میں نہیں تھما دی جاتی۔ بلکہ حکومت انہیں دوبارہ سسٹم کا حصہ بنا دیتی ہے۔ یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کے پاس ایک رول ہوتا ہے۔ ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ کسی کو اس کے علاقے میں ہلکی پھلکی جاب دے دی جاتی ہے۔ جیسے کسی مائی کو محلے پر نظر رکھنے کا کام مل جائے گا۔ وہ سارا دن اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر انے جانے والوں کو ابزرو کرے گی۔ کوئی مشکوک چیز ہو تو رپورٹ کرے گی۔ اسی طرح کسی بابے کو ریلوے اسٹیشن پر بٹھا دیا جائے گا جہاں وہ مسافروں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھے گا۔ کچھ لوگوں کو صبح کے وقت صرف ایک گھنٹے کے لیے کتوں کا ڈیٹا جمع کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ کچھ کو سوشل سروسز میں لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی بچوں کو کھانا کھلاتا ہے، کوئی انہیں کھیل کود کرواتا ہے اور کچھ لوگ دوسروں کو زبانیں سکھانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اب یہاں اصل کمال یہ ہے کہ یہ سب کام سننے میں چھوٹے لگتے ہیں لیکن سسٹم کے لیے بہت بڑے ہیں۔ اس سے ایک طرف یہ بزرگ لوگ فارغ نہیں بیٹھتے ان کی زندگی میں مقصد رہتا ہے۔ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ایکٹیو رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف ریاست پر بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہر بندہ کسی نہ کسی طرح اپنا حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں کے بابے اور مائیاں صرف سرکاری کاموں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی مرضی سے بھی چھوٹے موٹے کاروبار کرتے رہتے ہیں۔ تم مارکیٹ میں نکل جاؤ تو اکثر دکانوں اور ریسٹورنوں پر بڑی عمر کی خواتین کام کرتی نظر ائیں گی۔ اور وہ کسی مجبوری میں نہیں بلکہ ایک نارمل روٹین کے طور پر کام کر رہی ہوتی ہیں۔ انہیں کام کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت نے ایک اور زبردست ائیڈیا نکالا ہوا ہے۔ جو لوگ فلیٹس میں رہتے ہیں انہیں چھوٹے چھوٹے فارم ہاؤس الاٹ کیے جاتے ہیں جو ان کے گھر کے قریب ہی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اتنا اچھا کام کر لیتے ہیں کہ اپنی چھوٹی سی پیداوار بیچنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وہ خود کو مصروف رکھتے ہیں بلکہ فطرت کے قریب بھی رہتے ہیں۔ ایسا ملک جس کے پاس نہ کوئی بڑی انڈسٹریل سائٹس ہیں، نہ زمین سے تیل نکلتا ہے، نہ سونا اور نہ ہی یورینیم۔ یعنی وہ تمام چیزیں جنہیں عام طور پر کسی ملک کی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں اس کے باوجود یہ ملک دنیا کے امیر ترین، صاف ستھرے اور پرامن ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں ہر طرف صرف پہاڑ، گھنے جنگل اور خوبصورت جھیلیں ہیں۔ یعنی قدرتی حسن تو بے انتہا ہے لیکن وسائل کے لحاظ سے کچھ خاص نہیں۔ ایک ہی ملک ہے مگر زبانیں اور ثقافتیں ادھی درجن کے قریب ہے۔ پھر بھی ایسا نظم و ضبط کہ کہیں کوئی بڑا مسئلہ نظر نہیں اتا۔ یہاں تک کہ تمہیں حیرت ہوگی کہ اس ملک میں روایتی معنی میں بڑی فوج بھی نہیں اور پولیس کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود امن ایسا کہ بندہ یقین نہیں کر پاتا کہ یہ سب کیسے ممکن ہے۔ اصل میں یہاں سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ لوگوں کو خود ہی قانون کا پابند بنا دیتا ہے۔ اب اگر اس ملک کے اصل کمال دیکھو تو وہ تین چیزوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اس کی پوری تقدیر بدل دی۔ سب سے پہلے انہوں نے سیاحت کو صرف ایک شوق نہیں بلکہ مکمل انڈسٹری بنا دیا۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں صرف قدرتی حسن دیکھنے نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ لینے اتے ہیں۔ دوسری چیز جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا وہ ہے ان کا ٹرانسپورٹ سسٹم۔ خاص طور پر ٹرینیں۔ یہاں ٹرین کا نام کوئی لفظ نہیں ہوتا بلکہ اس کا وقت ہی اس کی پہچان ہوتا ہے۔ اگر کسی ٹرین نے 8 بج کر 4 منٹ پر پہنچنا ہے اور 11 منٹ پر روانہ ہونا ہے تو پھر وہ ایک سیکنڈ بھی اگے پیچھے نہیں ہوگی۔ اور یہ کوئی ایک دن یا ایک شہر کی بات نہیں بلکہ پورے ملک میں یہی لیول کی پابندی ہے۔ یعنی وقت کی قدر یہاں صرف سکھائی نہیں جاتی بلکہ عملی طور پر ہر جگہ نظر اتی ہے۔ تیسرا بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مشکل ترین پہاڑی علاقوں کو بھی عام انسان کے لیے اسان بنا دیا۔ حکومت نے تقریبا ہر پہاڑ کو کیبل کار سسٹم سے جوڑ دیا ہے۔ تم کسی بھی شہر میں چلے جاؤ تمہیں کیبل کار ملے گی جو تمہیں سیدھا تین چار ہزار میٹر کی بلندی پر کسی گلیشیر تک لے جائے گی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہاں جا کر بھی تمہیں صرف برف نہیں ملتی بلکہ ریسٹوراں، ہوٹل اور ایسے ویو پوائنٹس ملتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر لگتا ہے جیسے پوری دنیا تمہارے قدموں کے نیچے ہے۔ یہاں تک کہ حکومت نے ہر گاؤں تک سڑکیں پہنچا دی ہیں چاہے وہ کتنا ہی دور دراز کیوں نہ ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب تم اس ملک میں سفر کرتے ہو تو ہر جگہ تمہیں ایک ہی لیول کی سہولتیں نظر اتی ہیں۔ اصل حیرت تو تب ہوتی ہے جب تم دیکھتے ہو کہ ایک عام ادمی کے گھر میں وہ سب کچھ موجود ہے جو ہمارے ملک میں صرف چند بڑے امیر لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ یعنی ارام، صفائی، سیکیورٹی اور سہولتیں سب کے لیے برابر ہیں۔ اور یہی چیز اس معاشرے کو خاص بناتی ہے۔ اللہ نے انہیں صرف اچھی کوالٹی اف لائف ہی نہیں دی بلکہ ایک عجیب سا سکون اور اطمینان بھی دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کے خوش اور مطمئن ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور حالات ایسے ہیں کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی لوگ رات کو دروازے کھلے چھوڑ کر سو جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہاں کوئی ان کا نقصان نہیں کرے گا۔ تم پورے سویٹزرلینڈ میں گھوم لو تمہیں کوئی بندہ سڑک پر گندگی پھیلاتا نظر نہیں ائے گا۔ نہ کسی پہاڑ پر، نہ جھیل کے کنارے، نہ کسی پارک میں۔ ٹشو پیپر، سگریٹ کا ٹوٹا یا کوئی ریپر زمین پر پڑا ملنا یہاں تقریبا ناممکن ہے اور یہ سب کسی ایک قانون کی وجہ سے نہیں بلکہ پوری قوم کی عادت بن چکا ہے۔ یہاں تمہیں کوئی گندی نالی، بدبودار نالہ یا گند سے بھرا جوہڑ نہیں ملے گا۔ حتی کہ اگر تم کسی کسان کے باڑے میں بھی چلے جاؤ تو وہاں کی صفائی دیکھ کر بھی بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ کسانوں کے لیے بھی اصول اتنے ہی سخت ہیں۔ جانور چرانے سے پہلے انہیں ربڑ کے لمبے بوٹ پہننے ہوتے ہیں۔ رفلیکٹر والی جیکٹ پہننی ہوتی ہے تاکہ ہر چیز محفوظ اور منظم رہے۔ یہاں کوئی بندہ اونچی اواز میں بولتا یا چیخ کر بات کرتا نظر نہیں ائے گا کیونکہ دوسروں کے سکون کا خیال رکھنا یہاں کی تربیت کا حصہ ہے۔ کھیتوں کی حد بندی صرف ایک سادہ سی رسی سے ہوتی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی اسے کراس کرنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ قانون سے زیادہ یہاں ضمیر کام کرتا ہے۔ یہاں کی حکومت نے بڑی سمجھداری کے ساتھ بینکنگ، انشورنس اور ادویات کے شعبوں کو اس لیول پر لے جا کر کھڑا کیا کہ پوری دنیا ان پر انحصار کرنے لگی۔ خاص طور پر بینکنگ سسٹم اتنا مضبوط اور خفیہ رکھا گیا کہ دنیا بھر کے طاقتور لوگ، کرپٹ حکمران اور امیر ترین افراد اپنے پیسے یہاں لا کر محفوظ سمجھنے لگے۔ اور انہی پیسوں نے اس ملک کے انفراسٹرکچر اور ترقی میں بڑا کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی یہ لوگ میڈیکل ریسرچ میں بھی بہت اگے ہیں۔ چاہے ایلوپیتھک دوائیں ہوں، ہومیوپیتھک یا یونانی۔ اگر تم کسی بھی مہنگی دوا کی ہسٹری نکالو تو کہیں نہ کہیں سویٹزرلینڈ کا نام ضرور مل جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کا فارما سیکٹر دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ اسی طرح اس چھوٹے سے ملک میں ہوٹل اور ریسٹورنوں کی تعداد دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورا ملک ایک ٹورسٹ ایکسپیرینس کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہو۔ ہر جگہ رہائش، کھانا اور ویوز اس لیول کے ملتے ہیں کہ بندہ بار بار انے کا سوچتا ہے۔ دنیا کے مشہور مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن نے بھی اپنی زندگی کے اخری 25 سال یہیں گزارے کیونکہ یہاں کا سکون اور ماحول ایسا ہے کہ بندہ ایک بار ا جائے تو واپس جانے کا دل نہیں کرتا۔ یہاں کی دیہی زندگی بھی اپنی جگہ کمال ہے۔ سوئس کسان اپنی گایوں کے گلے میں بڑی بڑی گھنٹیاں باندھ دیتے ہیں۔ جب یہ گھنٹیاں بجتی ہیں تو ان کی اواز دور دور تک پھیلتی ہے اور ایک عجیب سا خوبصورت ماحول بنا دیتی ہے۔ تم جہاں بھی چلے جاؤ تمہیں یہ گائے اور ان کی گھنٹیوں کی اواز لازمی سنائی دے گی۔ اور اگر ٹیکنالوجی کی بات کرو تو یہاں بھی یہ لوگ پیچھے نہیں۔ دنیا کی پہلی واٹر پروف گھڑی رولیکس ائسٹر اسی ملک میں متعارف کروائی گئی تھی۔ اور یہی نہیں بلکہ انہوں نے سولر انرجی سے چلنے والا ہوائی جہاز بھی بنایا جسے سولر امپلز دو کہا جاتا ہے۔ یہ جہاز بغیر کسی ایندھن کے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر چکا ہے اور اس نے دنیا کو دکھایا کہ مستقبل کس طرف جا رہا ہے۔ اسے ابوذبی سے اڑایا گیا اور کئی ممالک کا چکر لگا کر دوبارہ وہیں اتارا گیا جو اپنے اپ میں ایک حیران کن کارنامہ ہے۔ سویٹزرلینڈ میں تقریبا ہر گھر اور میونسپل سسٹم میں ایسے تہ خانے موجود ہیں جہاں لوگ ہنگامی حالات میں چھ ماہ تک رہ سکتے ہیں۔ یعنی ہر چیز پہلے سے پلان ہوتی ہے۔ ہر سوئس بچہ بنیادی فوجی تربیت لیتا ہے اور ہر بالغ شخص ہتھیار چلانا جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی خطرہ پیدا ہو جائے تو پوری قوم ایک فوج کی طرح کھڑی ہو سکتی ہے۔ اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں ایسی جگہ ہیں جہاں پل، ریلوے لائنیں اور سڑکیں ایک بٹن دبا کر تباہ کی جا سکتی ہیں۔ تاکہ دشمن کے تمام راستے بند کر دیے جائیں۔ تم کسی بھی عام گھر میں چلے جاؤ تو وہاں تمہیں ایک چھوٹا سا باقاعدہ دفتر ضرور ملے گا۔ ایسا نہیں کہ بس ایک میز رکھ دی ہو۔ بلکہ مکمل سیٹ اپ ہوتا ہے جس میں فائلیں، فیکس مشین اور کمپیوٹر تک موجود ہوتا ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں گھر کا پورا ریکارڈ، بلز، ڈاکومنٹس اور ہر ضروری چیز انتہائی ترتیب سے رکھی جاتی ہے۔ یعنی گھر بھی ایسے مینج ہوتا ہے جیسے کوئی چھوٹا سا ادارہ ہو۔ اور یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں مل کر ایک بڑے سسٹم کو جنم دیتی ہیں۔ اب اگر تم قدرتی حسن کے ساتھ انجینئرنگ کا کمال دیکھنا چاہتے ہو تو یہاں کے ڈیمز کو دیکھ لو۔ برف سے ڈھکے پہاڑوں کے بیچ ایسے زبردست ڈیم بنائے گئے ہیں کہ جب برف پگھلتی ہے تو پانی سیدھا ان ڈیمز میں ا کر جمع ہوتا ہے۔ اور پھر وہی پانی قریبی شہروں تک سپلائی کر دیا جاتا ہے۔ اور کمال یہ ہے کہ اس اونچائی پر بھی تمہیں صرف پانی نہیں بلکہ مکمل ایکسپیرینس ملتا ہے۔ یعنی وہاں ریسٹورن بھی ہیں، ہوٹل بھی ہیں۔ تم چاہو تو وہاں رہ بھی سکتے ہو، کھا پی بھی سکتے ہو اور اگر دل کرے تو اسی جھیل میں واٹر اسپورٹس بھی انجوائے کر سکتے ہو۔ البینن کا سسٹم جہاں ابادی کم ہونے لگی تو حکومت نے ایک ایسا ائیڈیا نکالا جو عام ملک سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہاں اگر کوئی بندہ جا کر مستقل رہائش اختیار کرے تو اسے سیدھا 25 ہزار سوئس فرانک دیے جاتے ہیں یعنی پاکستانی روپوں میں تقریبا 87 لاکھ۔ اب ذرا سوچو صرف وہاں جا کر رہنے پر اتنی بڑی رقم اور اگر کوئی فیملی کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے بچے بھی ہیں تو ہر بچے کے لیے مزید 10 ہزار سوئس فرانک الگ سے۔ یعنی جتنی بڑی فیملی اتنا بڑا فائدہ۔ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ گاؤں دوبارہ زندہ رہیں خالی نہ ہوں۔ اور وہاں زندگی واپس ائے۔ اور یہی وہ پلاننگ ہے جو اس ملک کو باقی دنیا سے الگ بناتی ہے۔ بورڈنگ، اسکیئنگ، ائس ہاکی، فٹ بال، رگبی، باسکٹ بال اور موٹر اسپورٹس جیسی کھیلوں کو بڑے شوق اور جوش کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملک کی قومی کھیل سوئس ریسلنگ ہے جو صدیوں سے یہاں کی ثقافت اور روایات کا حصہ رہی ہے۔ ابتداء میں یہاں چھوٹی چھوٹی قبائل کی طرز کے گروہ موجود تھے جن پر سردار مقرر ہوتا تھا جو مسائل کا حل نکالتا اور یوری، شوئز اور انٹر ویلڈن جیسے بڑے قبائل نے مل کر ایک ازاد اور خود مختار سلطنت بنانے کا فیصلہ کیا۔ خاص طور پر ہپس برگ خاندان کے بڑھتے اثر و رسوخ اور قابض ہونے کے بعد۔ یکم اگست 1291 میں یہ تینوں قبائل مل کر سویٹزرلینڈ کا قیام عمل میں لائے اور اہستہ اہستہ مزید علاقے شامل ہوتے گئے۔ 1648 میں یورپ کے دیگر ممالک نے تحریری طور پر سویٹزرلینڈ کو ازاد تسلیم کیا۔ اس معاہدے کو ویسٹفیلیا کا امن کہا گیا لیکن 1798 میں فرانس نے نپولین کے دور میں اس ملک پر حملہ کیا، قوانین میں تبدیلیاں کیں مگر 1815 میں سویٹزرلینڈ نے دوبارہ ازاد ہونے کا اعلان کیا اور یہ جنگ کسی غلامی کے زمرے میں نہیں ائی کیونکہ سویٹزرلینڈ غیر جانبدار تھا۔ اس کے بعد مختصر خانہ جنگی کے بعد 1848 میں ائین بنایا گیا اور ترامیم 1999 میں کی گئیں۔ سویٹزرلینڈ نے ورلڈ وار 1 اور 2 میں کسی فریق کی حمایت نہیں کی اور اقوام متحدہ کے قیام کے 57 سال بعد یعنی 2002 میں ہی رکنیت حاصل سویٹزرلینڈ کے یہ مقامات واقعی کسی جنت سے کم نہیں اور ہر ایک کا حسن دل کو مسحور کر دیتا ہے۔ سب سے پہلے شیفلر رج پر چڑھتے ہوئے ہوا کی تازگی اور پہاڑوں کے بلند مناظر نے دل کو ایک عجیب سکون دیا۔ نیچے سبز وادیاں اور دور تک پھیلی برف پوش چوٹیاں ایک خواب جیسا منظر پیش کر رہی تھیں اور ہر قدم پر فطرت کے رنگ، خوشبو اور ہوا کا جھونکا ایک یادگار لمحہ بن گیا۔ اس کے بعد فرون الپس ٹاک کا منظر دل کو حیرت میں مبتلا کر گیا۔ ہر طرف الپس کے دلکش سلسلے کی تصویر، برف کی چمک اور سبز وادیوں کا امتزاج ایسا لگا جیسے دنیا کی ہر خوبصورتی یہاں سمیٹ دی گئی ہو۔ یہاں کے لمحے ایسے ہیں کہ انسان صرف دیکھتا رہ جائے اور ہر سانس میں تازگی محسوس کرے۔ زیادہ دور نہ جاتے ہوئے واٹر فال ارینا کی طرف بڑھتے ہوئے پانی کی گرج اور چھلکتی ہوئی دھاروں نے دل میں ایک جادو سا بٹھا دیا۔ فطرت کا یہ شور اور سکون ایک ساتھ اپ کے دل میں رہ جاتی ہے اور ہر لمحہ یادگار بن جاتا ہے۔ بتونی کے راستے پر سبز گھاس، پہاڑی راستے اور پرندوں کی چہچہاہٹ ہر قدم کو لطف بخشتی ہے۔ اور فطرت کے ہر رنگ کو قریب سے محسوس کرنا واقعی ایک منفرد تجربہ ہے جیسے ہر لمحہ ایک نئی تصویر بن رہی ہو۔ اور پھر اوشنن زی کے کنارے بیٹھ کر جھیل کے شفاف نیلے پانی کو دیکھنا ایک روحانی سکون کی مانند تھا۔ پہاڑوں کے درمیان یہ منظر ایسا لگا جیسے قدرت نے اپنے سب رنگ یہاں جمع کر دیے ہوں۔ کشتی میں چند لمحے گزارنا، پانی کی ٹھنڈی چھاپ اور ہوا کے جھونکے کا احساس ایک یادگار تجربہ بن گیا۔ اخر میں تھون میں چلتے ہوئے شہر کی دلکشی نے دل کو محسوز کیا۔ برف پوش پہاڑ، صاف ندی اور تاریخی پل کے مناظر واقعی منفرد ہیں۔ اور شہر کے کیفے، بازار اور جھیل کے کنارے کے راستے اپ کو ایک مکمل سفر کا احساس دیتے ہیں جہاں ہر قدم فطرت اور تاریخ کے درمیان ایک حسین توازن پیدا کرتا ہے۔ لڑکیاں عموما فطرت کی طرح صاف اور قدرتی خوبصورتی کی حامل ہوتی ہیں۔ ان کا انداز ارام دہ، سٹائلش اور سادہ ہوتا ہے۔ زیادہ میک اپ یا بھاری زیورات استعمال نہیں کرتی ہیں۔ شادی کے مواقع پر سویز لینڈ میں عام طور پر لوگ رسمی اور پرن تقریب منعقد کرتے ہیں جہاں خاندان اور دوست شریک ہوتے ہیں۔ دلکش لباس، خوبصورت رنگ اور قدرتی مناظر شادی کی رونق بڑھاتے ہیں۔ یہاں شادی کی تقریبات میں روایتی رسومات کے بجائے جدید انداز اور پرسکون محفل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بڑے شہروں میں نائٹ لائف موجود ہے۔ زیوخ، جنیوا اور بیل جیسے شہروں میں کلب، ڈانس فلورز اور بارز ہوتے ہیں جہاں لوگ رات کے وقت تفریح کرتے ہیں۔ یہاں نوجوان اور بالغ لوگ ارام دہ فیشنیبل کپڑے پہنتے ہیں اور کچھ جگہوں پر پارٹیز میں مغربی سٹائل کے لباس یعنی اکثر ہلکے یا مختصر کپڑے بھی نظر ا سکتے ہیں۔ اج کی اس ویڈیو میں ہم نے دنیا کے خوبصورت ترین ملک سویٹزرلینڈ کے بارے میں حیران کن اور دلچسپ معلومات حاصل کی۔ ہم نے جانا اس ملک کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا منفرد مزاج کیسا ہے؟ کاروبار کو کس طرح اہمیت دی جاتی ہے؟ صفائی، نظم و ضبط اور قانون کی پابندی کس لیول کی ہے؟ ہم نے اس مشہور گاؤں برگن کے بارے میں بھی سنا جہاں خوبصورتی کی وجہ سے تصویر لینے پر پابندی لگا دی گئی۔ ہم نے سویٹزرلینڈ کے سسٹم، ٹرانسپورٹ، کیبل کارز، گلیشیر ایکسپریس، سیاحت، معیشت، بینکنگ سسٹم اور دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی چیزوں کو کور کیا۔ اس کے علاوہ ہم نے یہاں کے قوانین، روزمرہ زندگی، پینشن سسٹم، کسانوں کی زندگی، زبانیں، ابادی، مذہب اور کئی یونیک فیکٹس جیسے سولر جہاز، رولیکس گھڑیاں اور سوئس کلچر کے بارے میں بھی بات کی۔ اگر اپ کو ہماری یہ ویڈیو پسند ائی ہو اور اپ ایسی مزید معلوماتی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ ویڈیو کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس حیران کن ملک کے بارے میں جان سکیں۔ ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں ایک نئی اور دلچسپ انفارمیشن کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript