[0:00]ایف بی ار نے راتوں رات ایک بہت ہی خطرناک جو ہے وہ ایس ار او جاری کر دی ہے جس کے مطابق 14 بزنسز ایسے ہیں جو کہ بڑے برے طریقے سے ایفیکٹ ہونے لگے ہیں۔ ان کی ٹیکس کلیکشن، ان کی مانیٹرنگ، ان کی ڈیجیٹلائزیشن یہ سب چیزیں جو ہیں وہ بہت زیادہ ایڈوانس لیول پہ جانے لگی ہیں اور اس سے ڈیفینیٹلی جو ہے وہ مہنگائی کے معاملات بھی جو ہے وہ آئیں گے کیونکہ جب ایک چیز میرٹ پہ ہو گی تو اس میں جو انڈر انوائسنگ جو گپلے یا جو کچھ بھی بیچ میں ہوتا آیا ہے وہ اب نہیں ہو سکے گا۔ سات دن کا اس میں ٹائم دیا گیا ہے وہ کس تناظر میں دیا گیا ہے اور وہ کس طریقے سے جو ہے وہ ایفیکٹ کرے گا چیزوں کو یہ بھی میں اج اپ کو ویڈیو میں بتاؤں گا۔ اپنی ویڈیو شروع کرنے سے پہلے میں اپ سے ریکویسٹ کروں گا میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں دوسرا میری اپ سے ریکویسٹ ہے کہ اگر میری ویڈیو سے اپ کے لیے میں کوئی اضافہ ہوتا ہے کوئی اپ کو انفارمیشن پہنچتی ہے لائک کر دیا کریں کمنٹ کر دیا کریں شیئر کر دیا کریں۔ اور تیسرا یہ کہ اگر کسی کو ایس ار او کی کاپی چاہیے تو نیچے ڈسکرپشن میں جو ہے وہ میرا لنک ا رہا ہے واٹس ایپ چینل کا اس کو فالو کر کے وہ پورے ایس ار او کی کاپی جو ہے وہ حاصل کر سکتا ہے۔ اب ائیں گے اپنے اصل ٹاپک کی طرف تو ایف بی ار نے جو بیسکلی ایس ار او جاری کیا ہے وہ 288 اس کا نمبر اور اس کے مطابق جو ہے وہ ایف بی ار نے کہا ہے جی کہ 14 بزنسز ایسے ہیں جس کا میں ابھی اپ کو بتاؤں گا اگے ون بائی ون وہ کون کون سے اور کس کس کنڈیشن میں جو ہے وہ ائیں گے۔ جس میں نمبر ون پہ جو بزنس ا رہا ہے وہ ریسٹورنٹ ہے لیکن اس میں جو نان اے سی بزنسز ہیں وہ ایکسلوڈڈ ہے۔ اس کے بعد ہاسٹلز، میرج ہالز، کیفےز اور اس میں بھی جو ہے وہ نان ای سی جی ایسلوڈڈ ہیں باقی سب انکلوڈڈ ہیں۔ اس کے بعد انٹر سٹی جو بسیں ٹریول کرتی ہے اس کا جو ٹرانسپورٹرز کا جو لوگ بزنس کر رہے ہیں۔ جو ٹرانسپورٹیشن سروسز دے رہے ہیں اس میں بھی نان ایس سی ایگزیمپٹ ہے باقی سب پہ جو ہے وہ امپلیمنٹ کرے گا۔ لیکن اس میں ایک ایگزیمپشن یہ ہے کہ اگر اس کا فلیٹ جو ہے وہ پانچ وہیکل سے کم ہے تو وہ بھی ایگزیمپٹ ہے۔ اس کے ساتھ تمام قسم کے کوریئرز اور کارگو سروسز اس میں شامل ہیں۔ بیوٹی پارلرز اور پرسنل کیئر کے جو سپاز اور جمز اور اس طرح کی جو جگہیں ہیں بیوٹی پارلر سلون کی ڈیفینیشن میں جو اتے ہیں وہ انکلوڈڈ ہے۔ لیکن اس میں بھی جو نان اے سی ہیں وہ بیچ میں سے جو ہے وہ ایکسکلوڈڈ ہیں باقی سب بیچ میں جو ہے وہ شامل ہیں۔ پھر اس میں تمام میڈیکل سروس پرووائڈرز جس میں کلینکس بھی ا جائیں گی ڈینٹسٹری کی جو ہے وہ کلینکس بھی ا جائیں گی یا لوگ پرائیویٹ کلینک جو کر رہے ہیں وہ بھی بیچ میں ا جائیں گے لیکن ایسے وہ لوگ جن کی فیس جو ہے وہ 500 سے کم ہے وہ ایگزیمپٹ ہیں باقی سارے اس میں شامل ہوں گے۔ چاٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور کاسٹ کاؤنٹرز جو ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ تمام ریٹیلرز بھی اس میں شامل ہیں لیکن اس میں ایکسیپشنز یہ ہیں کہ وہ مائنر کیٹگری میں فال نہ کرتے ہوں لیکن میجر کیٹگری میں اگر وہ ا رہے ہیں تو پھر ان کو جو ہے وہ شامل کیا جائے گا اس میں انٹیگریشن میں۔ جیسا کہ ان کی جو ہے وہ انٹر پرووننس یا انٹر سٹی برانچز ہیں۔ مالز میں یا پلازاز میں ان کی برانچز ہیں۔ ان کا سالانہ بل جو ہے 12 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ ان کا ایریا جو ہے وہ جدھر وہ بزنس کریں ایک ہزار سکوئر فٹ سے ایکول ہے یا اس سے زیادہ ہے۔ تمام ہول سیل کم ریٹیلرز وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ پھر اس کے ساتھ فارن کرنسی کے جو ڈیلرز ہیں جو ایکسچینج ڈیلرز ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں پھر اس کے ساتھ پرائیویٹ سکولز اور کالجز اس میں فیس جو ہے وہ ایک ہزار روپے سے کم ہے وہ ایکسکلوڈڈ ہیں باقی تمام سکولز جو ہے وہ اس میں شامل ہیں۔ تو یہ سارے بزنسز جب انٹیگریٹ ہو جائیں گے تو ڈیفینیٹلی جب ان کی ہر چیز رپورٹ ہونے لگ جائے گی تو پھر وہ کوشش یہی کریں گے کہ جو فائنل ٹیکس پیئر ہے یعنی کہ جو عوام ہے کنزیومر ہیں ان کے اوپر جو ہے وہ برڈن شفٹ کیا جائے اور پھر الٹیمیٹلی وہ اپنی ساری چینجنگ جو ہے وہ اپنے فیس سٹرکچر اپنے جو جو بھی اماؤنٹ وہ کلیکشن سسٹم ہوتا ہے ان کا چارجنگ کی مد میں وہ اس کو پھر اس طریقے سے جو ہے وہ ڈیل کریں گے۔ ان کی جو ہے وہ ڈیجیٹلائزیشن جو ہے وہ کی جائے گی۔ وہ ڈیجیٹلائزیشن اس طریقے سے کی جائے گی کہ ان کے پاس ایک پراپر ہارڈ ویئر سسٹم ہونا چاہیے ان کی مونیٹرنگ ہو گی کیمرے لگیں گے ڈیجیٹلائزیشن اس طریقے سے بھی ساتھ میں ہو گی۔ اس میں کوئی بھی مینول سیٹ جو ہے وہ نہیں دی جا سکے گی کیو ار کوڈ ہو گا ہر سیٹ کے اوپر اور وہ جتنے بھی ٹرانزیکشنز ہوں گی اس کی ڈائریکٹ رپورٹنگ جو ہے وہ ایف بی ار کو ہو گی۔ اب یہ چیزیں اس طریقے سے چلیں گی اس کے بارے میں میں نے ایک پہلے ایک ویڈیو میں بتایا تھا اس کا لنک اپ ڈسکرپشن میں دیکھ سکتے ہیں اس میں بھی میں نے اس بارے میں بتایا تھا کہ یہ ساری چیزیں ایف بی ار نے پلان اؤٹ کر لی ہیں اور اس کو کسی بھی ٹائم پہ امپلیمنٹیشن کے لیے جو ہے وہ جو ہے وہ ریڈی کیا جا سکتا ہے۔ اب جب ایف بی ار نے اس بارے میں ایس ار او جاری کیا ہے اس میں سیکشن 237 انکم ٹیکس ارڈیننس کا جس کے مطابق جو ہے یہ سٹیک ہولڈرز کو جو ہے وہ انٹی میشن دے دی گئی ہے کہ ود ان سیون ڈیز جو ہے اگر کسی کو ذاتی صحت میں کوئی پرابلم ہے یا کوئی ابجیکشن ہے وہ لے سکتا ہے اس کے بعد جو ہے وہ کسی بھی حوالے سے کوئی ابجیکشن بھی جو ہے وہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اس میں جو چیزیں جو انہوں نے امپلیمنٹ کرنے کے لیے ریگولیٹ کرنی اس میں یہ ہے کہ نمبر ون پہ اپ کو رجسٹریشن ود ایف بی ار جو ہے وہ کروانی پڑے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک انوائسنگ کے لیے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں انسٹال کرنے پڑیں گے۔ تیسرے نمبر پہ ایف بی ار کے کمپیوٹرائز سسٹم کے ساتھ رجسٹر ہونا پڑے گا جس کو ہم پوائنٹ اف سیل بھی کہتے ہیں۔ اور ایک بزنس کی جتنے بھی برانچز ہیں جو کچھ بھی ان کا سسٹم ہے وہ ساری چیزیں رپورٹ کرنی پڑیں گی۔ جتنی بھی سپلائی ہوں گی وہ بھی ساری ان لائن طریقے سے ہی ہوں گی۔ جو انوائس ایشو کی جائے گی اس میں سیلر کا نام بائر کا نام کیو ار کوڈ اس کی ڈیٹ اس کی اماؤنٹ اس کی کوانٹٹی جو کچھ بھی ہوگا وہ ساری تفصیلات جو ہے وہ اس میں لکھی جائیں گی۔ جو کیو ار پیمنٹس ہیں وہ جو ہے وہ انکرج کی جائیں گی ڈیجیٹلائزیشن جو ہے وہ پیمنٹس میں ہر قسم سے فیسلیٹیٹ کی جائے گی یعنی پوائنٹ اف سیل کے ساتھ ساتھ اپ کو پی او ایس مشین بھی رکھنی پڑے گی۔ جس سے اپ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے جو ہے وہ لوگوں سے پیمنٹ ایکسیپٹ کر سکیں اور اس میں جائز کیش ایزی پیسہ وہ پیمنٹس بھی جو ہے وہ بیچ میں شامل ہوں گی۔ اور ایف بی ار کو یہ پاور دے دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ٹائم پہ کسی بھی بزنس میں اگر ان کو ضروری لگتا ہے تو باقاعدہ طور پہ اس کی سیل کو منیٹر کرنے کے لیے کیمرہ بھی انسٹال کرنے کا ارڈر دے سکتے ہیں اور اس کے بارے میں بزنس کسی بھی والے سے جو ہے ابجیکشن نہیں لے سکتا کیونکہ یہ چیز اب قانون کا حصہ بن چکی ہے۔ اور اس کی جو بھی ریکارڈنگ ہو گی وہ کمشنر کو جو پرووائڈ کی جائے گی اور ایک ماہ ایک مہینے تک کا جو ڈیٹا ہے وہ اس میں کور کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس ساری چیزوں کا جو خرچہ ہو گا وہ بھی ٹیکس پیئر نے برداشت کرنا ہے۔ جہاں جہاں پہ یہ چیزیں انسٹال کی جائیں گی وہاں پہ جو ہے وہ ایف بی ار کا لوگو باقاعدہ طور پہ ویزیبل ہو گا اس ورک پلیس پہ تاکہ لوگوں کو اویئر کیا جا سکے کہ یہ جو شاپ ہے یا یہ جو بزنس ہے وہ باقاعدہ طور پہ ایف بی ار کے ریکارڈ میں ایز ا رجسٹرڈ بزنس جو ہے وہ شو ہو رہا ہے اور اس کے جو بھی معاملات ہوں گے وہ کوئی اگر شخص کمپلین بھی کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ بھی کمپلیٹ کرنے کی پوزیشن میں ا جائے گا۔ جتنے بھی ڈاکومنٹس ہوں گے ان کا ریکارڈ جو ہے وہ چھ سال تک کرنا جو ہے وہ محفوظ رکھنا پڑے گا اور اس کے علاوہ جو رپورٹنگ ہے وہ ایف پی ار کو چھ سال تک کے لیے جو ہے وہ کرنی پڑے گی۔ اور جو بھی انٹرپرائز ہو گی اس کو اڈٹ کے لیے جو ہے وہ ہر وقت تیار رہنا پڑے گا جب بھی کمشنر کو لگے گا وہ اڈٹ کا ارڈر بھی جو ہے وہ کر سکتا ہے اور اگر اس میں جو وائلیشن ہو گی اور اس میں جو ہے وہ جو ٹیکس پیئر ہے وہ اس کو کمپلائی نہیں کرے گا تو 182 کے تحت ڈفرنٹ اوفنسز ہیں ڈفرنٹ جو ہے وہ پینلٹیز ہیں وہ سب کی سب اس کو جو ہے وہ جو ہے وہ امپلیمنٹ کی جائیں گی جس میں پینلٹیز جو ہے وہ ان دی فارم اف سرچارج بھی ہے اوریجنل فائن بھی ہے اور اس میں اگر کوئی چیز اس میں کوئی سکمنگ اتی ہے تو اس کا جو ہے وہ پینلٹی بھی جو ہے وہ فائن کی فارم میں جو ہے وہ انکلوڈڈ ہو گی۔ تو اس سے جو ہے وہ ڈیفینیٹلی مہنگائی کا جو ہے وہ ایک بہت بڑا طوفان جو ہے وہ سامنے ائے گا جو کہ تمام ٹیکس پیئرز کو جو ہے وہ فیس کرنا پڑے گا۔ ہوپ اپ کو یہ ویڈیو پسند ائی ہوگی میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ لیگل ٹاپکس ریلیٹڈ اس طرح ایڈوائس میں اپ سے شیئر کرتا رہوں تھینک یو فار واچنگ۔

FBR PAKISTAN: New ORDER will effect 14 Business in Pakistan
Adv Shakeel Ur Rehman
6m 52s1,819 words~10 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


