Thumbnail for Para 12 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 12 | Inspiring Quranic Summary by Youth Flix

Para 12 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 12 | Inspiring Quranic Summary

Youth Flix

24m 40s5,033 words~26 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:00]اپنے بیٹے کو پکارا اس کو کہا کہ ہمارے ساتھ سوار ہو جا، سوار ہونے کا معنی تھا کہ ایمان لے آؤ۔ لیکن وہ تیار نہیں ہوا، کہنے لگا میں کسی چٹان کے اوپر، کسی بڑے پہاڑ کے اوپر میں پناہ لے لوں گا۔
[13:42]تو اس کے اوپر اللہ رب العزت نے اس اس کشتی کو روکا اور اس کے بعد نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اللہ میرا بیٹا جو ہے وہ تو میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو بڑا بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]اپنے بیٹے کو پکارا اس کو کہا کہ ہمارے ساتھ سوار ہو جا، سوار ہونے کا معنی تھا کہ ایمان لے آؤ۔ لیکن وہ تیار نہیں ہوا، کہنے لگا میں کسی چٹان کے اوپر، کسی بڑے پہاڑ کے اوپر میں پناہ لے لوں گا۔

[0:10]آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا عاصم الیوم من امر اللہ۔ آج اللہ کے حکم سے اللہ تعالیٰ نے جس پر رحم کیا، اس کے سوا کوئی نہیں بچ سکتا۔ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام فلسطین میں آباد تھے۔ یہاں پر ان کا مسکن تھا، آبائی مسکن تھا۔ اور لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام جو ہے وہ بحر میت کے نزدیک جنوب مشرق میں سدوم اور عمورہ یہ بستیاں تھیں جو لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تھیں۔ پھر اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں: قیامت کا دن جو ہے وہ ایسا ہو گا، جس دن کسی کو اللہ کے سامنے پر مارنے کی جرات نہیں ہو گی، زبان کھولنے کی جرات نہیں ہو گی، بات کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔ ہاں الا باذن مگر جس کو اللہ رب العزت اجازت دے دیں،

[0:55]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم بااحسان الی یوم الدین رب زدنی علما رب یسر ولا تعسر وتم بالخیر رمضان المبارک کی مناسبت سے خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے آج ہماری انشاء اللہ تعالیٰ بارہویں نشست ہے جس میں بارہویں پارے سے متعلق اس کے مضامین کا ہم جائزہ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور آپ سب کو بہترین رمضان گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے تعلق کو قرآن مجید کے ساتھ بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ بارہویں پارے کے شروع میں جیسا کہ گیارہویں پارے کے آخر میں تھوڑا سا ذکر کیا تھا سورہ ہود ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے پوچھا کہ اللہ کے رسول آپ کے بال جو ہیں وہ سفید ہونا شروع ہو گئے۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے شبتنی ہود و اخواتھا مجھے ہود اور اس جیسی دوسری سورتیں جیسے سورہ نباء ہے اور سورہ تکویر ہے اور سورہ واقعہ ہے فرمایا کہ مجھے ان سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔ تو اس سے اس سورت کے مضامین اور اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابتداء میں اللہ رب العزت نے بارہویں پارے کے شروع میں فرمایا کہ وما من دابہ فی الارض الا علی اللہ رزقہ و یعلم مستقرہ و مستودعہ کل فی کتاب مبین زمین کے اندر جتنے بھی چوپائے ہیں، جتنے بھی ذی روح ہیں، جتنے بھی جاندار ہیں، ان سب کا رزق اللہ رب العزت نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت کافروں کو بھی رزق عطا فرماتا ہے، مشرکین کو بھی، منافقین کو بھی، اپنے نافرمانوں کو بھی، مسلمانوں کو بھی اور اس کے علاوہ تمام جانداروں کو۔ اور اگر انسان کے بس میں یہ چیز ہو جائے، اللہ تعالیٰ رزق کا ذمہ انسان کو دے دے، تو جیسے بہت سی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ انسان شاید اپنے سوا اپنے رشتہ داروں یا اپنے من پسند لوگوں کے سوا کسی کو ایک دانہ بھی رزق کا نہ دے۔ تو یہ اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مرتبہ ایک انسان جو ہے وہ بظاہر دنیاوی اعتبار سے وہ کسی بھی کیلیبر کا نہیں ہوتا، نہ تعلیم کے اعتبار سے، نہ وراثت کے اعتبار سے، نہ دیگر اعتبارات سے، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے وافر رزق اس کے پاس موجود ہوتا ہے۔ ہاں یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ رزق اس کی آزمائش ہوتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور نعمت و رحمت ہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس اللہ رب العزت نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے پہلے اس کا عرش یعنی آسمانوں و زمین سے پہلے اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔ اور اس نے کس لیے پیدا کیا ہے، یہ مقصد حیات ہے جو اللہ نے ذکر کیا ہے، جیسے سورہ ملک میں بھی لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ اس لیے اللہ رب العزت نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے تاکہ

[3:36]اس بات کا اللہ رب العزت اندازہ لگائے، اس بات کو معلوم کرے کہ تم کتنے اچھے اعمال کر کے اللہ رب العزت کے ہاں بھیجتے ہو۔ کتنے زیادہ نہیں، اللہ تعالیٰ کو اچھے اعمال مقصود ہیں۔ تو اس لیے ہمیں ہمیشہ جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اخلاص کے ساتھ اعمال کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں: اگلے رکوع میں، رکوع نمبر دو ہے اس سورہ کا بھی اور پارے کا بھی۔ اس میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ جب ہم انسان کو،

[4:06]یہ آیت نمبر نو سے لے کر تقریباً آیت نمبر گیارہ تک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی انسان کو کوئی اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اور اس کے بعد اس نعمت کو واپس لے لیتے ہیں تو انسان کی فطرت یہ ہے کہ انسان مایوس ہو جاتا ہے اور کفر کرنے لگتا ہے، ناشکرا بن جاتا ہے۔ اور اسی کو جب ہم اپنی نعمتوں نعمتیں اپنی واپس کر دیتے ہیں، یعنی اس پر اپنی نعمتیں نازل فرماتے ہیں اور اس کو فراوانی دے دیتے ہیں، تو پھر کیا کرتا ہے؟ لا کہہ دیتا ہے کہ مجھ سے برائیاں دور ہو گئیں، لیکن اس کے نتیجے میں کیا کرتا ہے؟ وہ فخر کرنے لگتا ہے، تکبر کرنے لگتا ہے، یعنی دونوں طرف افراط و تفریط کا شکار ہے۔ اگر رزق میں کمی ہو جائے تو ناشکری کرتا ہے اور فراوانی ہو جائے تو پھر تکبر اور غرور کرنے لگتا ہے، دونوں صورتوں میں ناشکری کرتا ہے، یہ کسی مومن کا شیوہ نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: انا عجب الامر المومن مومن کا معاملہ تو بڑا ہی خوبصورت ہے، اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے اوپر صبر کرتا ہے تو اللہ نے اس کے لیے اجر رکھا ہے اور اگر اس کو کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی اور فراوانی ملتی ہے تو اس کے اوپر شکر کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اجر ہے۔ لہٰذا مومن کا شیوہ یہ ہے اور یہی انسان کو اپنانا چاہیے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں: آیت نمبر 13 میں کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو اگر یہ لوگ کہتے ہیں خاص طور پر مشرکین مکہ اگر یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید جو ہے وہ گڑھا ہوا ہے تو اللہ نے فرمایا ان سے کہیے فتو بعش صور مثل مفترات و تدع من استطاعت من دون اللہ ان کنتم صادقین آپ ان سے کہیے کہ تم بھی اس طرح کی دس سورتیں بنا کر لے آؤ اور جن کو تم اپنے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان کو بھی ساتھ ملا لو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو پھر ایسا کر کے دکھا دو۔ لیکن اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں کر سکیں گے جب ایسا نہیں کر سکے تو پھر آپ جان لیجیے آپ سمجھ لیجیے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو پھر ان سے پوچھیے کہ کیا تم پھر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہو جب تم عاجز آ چکے ہو تو اس کے باوجود یہ تیار نہیں ہوتے۔ اللہ فرماتے ہیں آیت نمبر 15 میں جو شخص دنیا کا ارادہ رکھتا ہے اور دنیا کی خوبصورتی کو چاہتا ہے، ہم ان کو پورے کا پورا جو وہ چاہتا ہے ہم اس کو دے دیتے ہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے کسی انسان کی محنت کو ضائع کرتے ہوں۔ کسی شخص کی محنت جو ہے وہ چاہے برائی کی طرف ہو یا اچھائی کی طرف ہو اس کو اس کی محنت کا اجر ضرور مل جاتا ہے۔ لیکن اللہ رب العزت کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا یہ بات کا معاملہ ہے لیکن اللہ فرماتے ہیں کہ جو صرف دنیا کو ہی چاہتے ہیں انہیں دنیا تو مل جاتی ہے لیکن آخرت میں ان کے سوا جہنم کے ان کے لیے جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے جہنم کی آگ ہے۔ اور جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں اعمال کیے ہوں گے وہ سارے کے سارے ضائع ہو جائیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیے تھے بلکہ صرف دنیا کو حاصل کرنے کے لیے کیے تھے۔ تو اس وجہ سے دنیا کا ارادہ صرف ایسی دنیا جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہو اس کا ارادہ کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ وہ دنیا جو انسان کی ضروریات ہیں اور جائز امور ہیں اس کا ارادہ کرنا اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ وہ ظالم شخص وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے، یہ لوگ قیامت والے دن اللہ رب العزت کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور اللہ رب العزت کے سامنے جو ہے نا وہ ان کی اس افتراب بردازی پر اللہ تعالیٰ کے سامنے فرشتے اور دیگر انبیاء گواہیاں پیش کریں گے، اللہ فرماتے ہیں: الا لعنت اللہ علی الظالمین ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی ظالموں پر لعنت ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں مختلف قسم کی جو ہے وہ کمی اور کجی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ رب العزت کو تو عاجز نہیں کر سکتے اور ان کے لیے کوئی ولی دوست اور مددگار بھی نہیں ہو گا۔ ان کو دوہرا عذاب دیا جائے گا، یعنی اللہ کے رستے سے روکنے والے اور اللہ رب العزت کی جو ہے وہ اللہ تعالیٰ پر افتراب بردازی کرنے والے، جھوٹ بولنے والے، اللہ فرماتے ہیں ان کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے نیک لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں جو نیک لوگ ہوں گے وہ جنتوں میں ہوں گے اور پھر ان دونوں گروہوں کی اللہ نے مثال بیان فرمائی ہے۔ مثل الفریقین کلل اعمی و عصم و بصیر و سمیع جو دونوں گروہوں کی مثال اللہ فرماتے ہیں ایک ایسے جیسا کہ اندھا اور بہرا ہے اور دوسرا دوسرا اس کے مقابلے میں جو کہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے یہ مومن اور اس کی کافر کی مثال ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: ہل یستبیانی مثلا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ یقیناً برابر نہیں ہو سکتے یہ استفہام انکاری ہے جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ تو پھر تم نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ان کے سلسلہ کو ان کے واقع کو ایک اور پیرائے میں یہاں پر بڑی تفصیل کے ساتھ دو رکوعوں میں ذکر فرمایا ہے۔ ابتداء میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ میں تمہارے سامنے اللہ کی طرف سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں اور ان کو توحید کی دعوت دی لیکن سرداروں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے اعتراض جو ہے وہ پیش کیا وہ یہ تھا کہ ما نراک الا بشر مثلنا ایک تو یہ ہے کہ آپ ہماری طرح کے آدمی ہی نظر آتے ہیں۔ یعنی کسی اور مخلوق سے نہیں ہیں۔ یہ وہی پرانا اعتراض ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور آج کے بھی اللہ تعالیٰ لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرتے ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک بشر جو ہے وہ اس کو نبی بنا کر بھیج دیا جائے تو یہ پہلے لوگوں کی پہلی امتوں کا بھی یہی طریقہ کار تھا۔ اور ما نرک اتبع الا الذین اراضلون ابادی رہا ہے۔ پھر کہنے لگے دوسرا اعتراض یہ ہے کہ آپ کے پیچھے چلنے والے زیادہ تر غریب فقیر اور مسکین قسم کے لوگ ہیں۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ آپ ہماری ہی جیسے نظر آتے ہیں آپ کو ایکسٹرا کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل یا کوئی اضافی جو ہے وہ چیزیں نہیں دے کر بھیجا گیا یعنی کوئی ایسا جو ہے وہ مطلب جو ہے وہ اس طرح کی چیزوں کا تقاضا کر رہے ہیں گویا کہ کہ ان کے ساتھ جو ہے نا وہ کوئی آسمان سے فرشتے نازل ہو رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ خود نازل ہو رہے ہوتے ہیں یا ان کے ساتھ جو ہے وہ اس طرح کی کوئی جو ہے مافوق العقل کوئی اس طرح کی چیزیں جو ہے وہ نازل ہو رہی ہوتی تو پھر تو ہمیں لگتا یا ان کے ساتھ کوئی جو ہے وہ سونے کے پہاڑ ہوتے یا ان کے ساتھ کوئی بہت بڑا لشکر نازل ہوتا یعنی کوئی بھی اس طرح کی چیز تو کہنے لگے چونکہ آپ تو ہمارے ہی جیسے ہیں اور اس وجہ سے جو ہے وہ ہم آپ پر ایمان نہیں لانے والے بلکہ آپ کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حالانکہ میں نے تمہارے اندر زندگی گزاری ہے اور پھر ارشاد فرمایا کہ دیکھو میں تم سے کسی قسم کے مال کا تقاضا نہیں کرتا۔ اور رہا مسئلہ یہ ہے کہ جو تم سمجھتے ہو کہ میرے ساتھ جو چلنے والے ہیں فقیر مسکین اور اس ٹائپ کے لوگ ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ میں ان کو چھوڑ دوں گا تو فرمایا کہ دیکھو ان کو میں کسی بھی صورت نہیں چھوڑوں گا۔ بلکہ میں تم لوگوں کو نادان اور جاہل سمجھتا ہوں اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ دیکھو اگر میں نے ان کو چھوڑ دیا تو اللہ کے سوا میری کون مدد کرے گا یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سردار قرایش جو تھے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دے رہے تھے تو اس دوران عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور چونکہ وہ غریب صحابی بھی تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات تھوڑی سی اس وجہ سے ناگوار گزری کہ سردار قرایش جو ہیں ظاہر ہے ان کا ایک سٹیٹس ہے تو وہ ذرا اس چیز کو ایسا محسوس نہ کر لیں حالانکہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا مقصد کوئی جو ہے وہ ایسا غلط نہیں تھا لیکن صرف یہ تھا کہ وہ چونکہ ان لوگوں کا اپنے سٹیٹس کا خیال کرتے ہیں تو اس وجہ سے اس طرح کی چیز تو اللہ رب العزت نے اس بات کے اوپر نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو سرزنش فرمائی فرمایا کہ عبس و تولی ان جا امہ آپ نے اس بات پر تیوری چڑھائی کہ آپ کے پاس ایک نابینہ آ گئے۔ تو بہرحال مقصد کہنے کا یہ ہے کہ اسلام کے ساتھ ہمیشہ پہلے فقیر اور مسکین ٹائپ کے لوگ ہی ملتے ہیں۔ پھر نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا دیکھو نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں نہ میں کوئی غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں اپنے آپ کو فرشتہ کہتا ہوں اور نہ ہی وہ لوگ جن کو تم جو ہے نا وہ یہ سمجھتے ہو کہ وہ بڑے فقیر مسکین اور گھٹیا قسم کے لوگ ہیں ہم نہ میں ان کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ ان کو کسی قسم کی کوئی خیر اور بھلائی عطا نہیں فرمائے گا۔ تو بہرحال اس کے بعد جو ہے وہ ان لوگوں نے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوڑ دیا آپ کی قوم نے ایمان لانے کی طرف نہیں آئے تو نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں تمہیں کسی بھی طرح کی نصیحت کر دوں اور میں تمہیں خیر خواہی تمہارے ساتھ کرنا چاہوں اگر اللہ نے تمہیں گمراہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر میری کوئی بھی نصیحت تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے جب نوح علیہ الصلوۃ والسلام دعوت دے دے کر تھک گئے اور جو ہے وہ دنیاوی اور بشری تقاضوں کے پیش نظر جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی انتہا ہو گئی تو اللہ رب العزت نے اب آپ کو کشتی بنانے کا حکم دیا اللہ رب العزت نے اپنی آنکھوں کے سامنے یعنی اپنے سامنے فرمایا کہ ہماری نگرانی میں وہ کشتی بنائیے نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی تو وہ لوگ سارے مذاق کر رہے تھے۔ مذاق اس وجہ سے کر رہے تھے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ یہاں پر تو پانی کی بوند بوند کو لوگ ترس رہے ہیں اور آپ کشتی بنا رہے ہیں تو ایک کشتی چلے گی کہاں پر۔ بہرحال ان کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے طوفان نوح کو روکا۔ یا اسمان سے کہا کہ تو بھی تھم جا اور زمین سے کہا کہ اپنے پانی کو واپس نگل لے اور اللہ رب العزت نے اس کشتی کو جودی پہاڑ جو کہ موسل کے قریب ہے۔

[13:09]وہی تقریباً نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کا علاقہ تھا وہیں پر اللہ رب العزت نے اس پہاڑ کے اوپر کشتی کو روکا یہاں سے اب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ طوفان نوح میں کتنا شدید قسم کا طوفان تھا اور کتنا زیادہ اس میں پانی تھا یعنی پہاڑوں کی چوٹیاں تک اس میں ڈوب گئی تھیں۔

[13:42]تو اس کے اوپر اللہ رب العزت نے اس اس کشتی کو روکا اور اس کے بعد نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اللہ میرا بیٹا جو ہے وہ تو میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو بڑا بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔

[14:59]اللہ نے فرمایا نوح علیہ السلام چونکہ وہ ایمان نہیں لایا اس وجہ سے اس کا تیرے ساتھ کوئی تعلق نہیں انا عمل غیر صالح۔ اس کے اعمال ٹھیک نہیں تھے وہ ایمان نہیں لایا تو لہٰذا آج کے بعد ان سے ایسا سوال نہ کرنا جس کے بارے میں تمہیں علم نہ ہو۔ اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں نادانوں میں سے نہ ہو جانا تو نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے فورا اللہ رب العزت کے سامنے توبہ کی بات جو یہاں سے ہمیں سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انک لا تہدی من احبت ولکن اللہ یهدی من یشاء اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت دے سکتا ہے جس کو اللہ نہ چاہے اس کو ہدایت نہیں ملتی چاہے وہ کسی نبی کا بیٹا کیوں نہ ہو چاہے وہ کسی نبی کا باپ کیوں نہ ہو یا اس کے علاوہ کوئی بھی ہو۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں تھیں جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں اور اگلے رکوع میں اللہ رب العزت نے اگین قوم عاد کا تذکرہ کیا ہے ان کی طرف جو نبی بھیجے گئے تھے ہود علیہ الصلوۃ والسلام ان کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے جب دعوت دی تو وہ لوگ جو ہے وہ انہوں نے انکار کیا اور ان کو کہنے لگے تو ہم تو سمجھتے ہیں کہ تجھ پر کسی آسیب کا سایہ ہے تجھ پر کسی جو ہے وہ کسی جادو کا اثر ہے العیاذ باللہ من ذالک۔ بہرحال آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دیکھو ایک تو بات یہ ہے کہ میں تم سے کسی بھی طرح کے اجر کا اور مال کا تقاضا نہیں کرتا میرا اجر اس اللہ رب العزت کی ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں تم سے کسی چیز کا تقاضا کرتا ہوں پھر جو تمہیں میری باتیں بری لگیں۔ لیکن جب میں کوئی تقاضا نہیں کرتا کسی مال کا کسی اجر کا کسی اس کے علاوہ بینیفٹ کا تو پھر تمہیں صرف میری دعوت کو قبول کرنے میں کیا حرج اور کیا مضائقہ ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو اللہ کے سامنے استغفار کرو استغفار کی برکات اللہ نے بیان فرمائی ہیں اور پھر اس کی طرف رجوع کرو توبہ کرو۔ یرسل السماء علیکم مدرارا برکتیں یہ ہیں کہ تم پر آسمان کو برستا ہوا بارش والا بنا کر بھیجے گا یعنی آسمان سے رحمت کی بارشیں نازل ہوں گی۔ یزیدکم قوت الا قوتکم اور تمہاری قوت میں اللہ رب العزت اضافہ فرما دے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من لازم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل دیکن مخرجا جو استغفار کو لازم پکڑ لیتا ہے اللہ ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ اس کے لیے بنا دیتا ہے۔ اور من کل ہم فراج ہر مشکل سے ہر غم سے نکلنے کا اللہ رب العزت اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے کشادگی پیدا کر دیتا ہے اور یرزق من حیث لا حسب اور اللہ ایسی جگہوں سے اس کو رزق عطا فرماتے ہیں جو کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔

[17:21]اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس قوم پر عذاب کا تذکرہ کیا جب انہوں نے انکار کر دیا تو اللہ رب العزت نے ان کے اوپر عذاب بھیجا جو کہ تیز آندھی کا عذاب تھا آٹھ دن تک ان لوگوں کے اوپر وہ جاری رہا۔ پھر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہ عاد اور یعنی قوم عاد کے لوگ تھے جنہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمام رسولوں کی نافرمانی کی حالانکہ انہوں نے ہود علیہ الصلوۃ والسلام ایک نبی کو جو ہے وہ جھٹلایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے سب رسولوں کی نافرمانی کی۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے کسی ایک نبی کو جھٹلایا اس نے گویا کہ تمام انبیاء کو جھٹلا دیا تو آج کے بھی وہ لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتے ہیں اور خود جو ہے وہ کسی نبی کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ عیسائی ہوں یہودی ہو وہ یہ سمجھ لیں کہ اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس طرح کے جذبات رکھتے ہیں تو وہ اپنے نبی کی تعلیمات کو بھی نہیں مانتے۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کا انکاری ہے تو وہ اپنے مذہب کا بھی انکاری ہے کیونکہ اس کے مذہب میں یہ باتیں موجود ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے ائیں تو وہ ان کے اوپر ایمان لے ائیں۔ تو یہ اللہ رب العزت نے یہاں پر جو ہے وہ قوم عاد کا تذکرہ کیا۔ اس کے بعد قوم صالح کا تذکرہ ہے قوم ثمود کا تذکرہ ہے جن کی طرف اللہ رب العزت نے صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ یہ جو قوم تھی یہ حجاز اور شام کے درمیان وادی القری کے مقام پر جو ہے وہ ان کا ان کا مسکن تھا۔ اور تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو معذب قوموں سے ڈرایا بھی اور فرمایا کہ یہاں سے تیزی سے گزر جاؤ ایک روایت میں موجود ہے کہ بعض صحابہ نے وہاں سے جو ہے وہ کچھ پانی لے کر آٹا گوندھا اور کھانے پکائے تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ آٹا فرمایا کہ اونٹوں کو ڈال دیا جائے اور ہنڈیا جو ہے وہ فرمایا کہ ان کو انڈیل دیا جائے ان کو ضائع کر دیا جائے کھائی نہ جائیں۔ بہرحال صالح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو دعوت دی۔ ان لوگوں نے دعوت کو نہ صرف مانا نہیں بلکہ بے جا قسم کے مطالبات کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر اس چٹان سے جو ہے وہ اونٹنی نکل آتی ہے تو پھر ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ رب العزت نے اونٹنی نے نکال دی اور فرمایا کہ اب یہ اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے اب اس کو چھوڑ دو اس کو جہاں سے کھاتی ہے اس کو کھانے دو جہاں سے پیتی ہے اس کو پینے دو۔ پانی کا جو ہے وہ مقرر کر دیا گیا ٹائم ایک دن اونٹنی پیتی تھی ایک دن جو ہے وہ قوم وہاں سے پانی کا فائدہ حاصل کرتی تھی لیکن ان میں سے ایک بڑا ہی جو ہے وہ ناخلف قسم کا شخص ایسا پیدا ہوا جو کہ بڑا ہی بدبخت تھا قداد بن صالح وہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو ملایا اور اللہ تعالیٰ کی جو نشانی تھی اونٹنی اس کو نقصان پہنچایا اس کی ٹانگیں جو ہے وہ ان کو کاٹ ڈالا۔ تو اللہ رب العزت نے فرمایا فقط قال تمتعو فی دارکم ثلاثہ ایام اے نوح علیہ السلام آپ ان سے کہیے کہ تم تین دن تک اب انتظار کرو ان تین دنوں کے اندر اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ کہ جو کہ جھوٹا نہیں ہے وہ وعدہ تم کو آن پہنچے گا۔ پھر اللہ رب العزت کا عذاب آیا اللہ نے صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو جو ہے وہ بچا لیا اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت کے ساتھ اور رسوائی کے دن سے۔ اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ باقی قوم کو ا اخذ الذین ظلمو سیحتہ فااصح فی دیارین آیت نمبر 67 ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کو بہت ہی تیز قسم کی ایک چیخ کا عذاب آیا اور اس کے ساتھ جو ہے وہ ایک زلزلہ آیا جس نے ان لوگوں کو پٹخ پٹخ کر جو ہے وہ وہاں سے پھینک دیا اور یوں گرے ہوئے تھے جیسے درختوں کے تنے گرے ہوتے ہیں۔ اور اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں یوں ہو گئے گویا کہ ان کا یہاں پر نام و نشان بھی موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے فرشتے آئے انہوں نے آ کر سلام کہا ابراہیم علیہ السلام نے بھی سلام کہا اور ابراہیم علیہ السلام کو معلوم نہیں تھا کہ یہ اللہ رب العزت کے فرشتے ہیں چونکہ وہ لڑکوں کی شکل میں آئے تھے اور اس کے بعد ان کا ٹارگٹ لات لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی طرف جانا تھا ان کو عذاب دینا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو خوشخبری دینی تھی جو ہے وہ اسحاق علیہ الصلوۃ والسلام کی اور اسحاق علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی۔ تو وہ فرشتے جب ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے تو ابراہیم علیہ السلام مہمانی کے لیے ان کے سامنے جو ہے وہ بھنا وہ بچھڑا لے کر آ گئے لیکن جب دیکھا کہ وہ تو کھا ہی نہیں رہے جب ایسا ہوتا تھا تو عربوں کے ہاں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر کوئی مہمان کھانا نہیں کھا رہا تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ لوگ جو ہے وہ کسی غلط نیت اور غلط ارادے سے آئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان سے ڈر محسوس کیا تو پھر ان فرشتوں نے بتایا: لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط۔ آپ ہم سے ڈریے نہیں ہم اصل میں قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فلسطین میں آباد تھے۔ یہاں پر ان کا مسکن تھا آبائی مسکن تھا۔ اور لوط علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ بحر میت کے نزدیک جنوب مشرق میں سدوم اور عمورہ یہ بستیاں تھیں جو لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی تھیں۔ تو لوط علیہ السلام جو ہے وہ بعض روایات کے مطابق ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا زاد ہیں اور بعض روایات کے مطابق ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بھتیجے ہیں۔ بہرحال آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا دونوں کا زمانہ ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کا زمانہ ایک ہی ہے قرآن مجید کی ان آیات سے بھی اس بات کی جو ہے وہ نشاندہی ہوتی ہے۔ تو ابراہیم علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے بیٹوں کی خوشخبریاں دیں اور اس کے بعد جو ہے وہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی وہاں موجود تھی ان کو جو ہے وہ برکتوں کی دعائیں دیں رحمت اللہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی دعائیں دیں اور ساتھ میں یہ الفاظ بولے برکات علیک رحمۃ اللہ وبرکات علیک اہل البیت ان سے کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے معاملے سے تعجب ہوتا ہے چونکہ دونوں کی عمر بہت زیادہ ہو چکی تھی اور اب اولاد کی امیدیں ختم ہو چکی تھیں۔ تو فرمایا کہ اے اہل بیت آپ کو اللہ تعالیٰ کے معاملات پر تعجب ہوتا ہے اسی بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل بیت میں سب سے پہلے بیوی شامل ہوتی ہے۔ جیسا کہ آج کل کچھ نام نہاد لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان میں سے جو ہے وہ بیٹیوں کو شامل کرتے ہیں اسی طرح سے جو ہے وہ دامادوں کو شامل ان کو جو ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامادوں کو شامل کرتے ہیں آپ کے جو ہے نا وہ نواسی کو نواسوں کو شامل کرتے ہیں لیکن بیویوں کو نکال دیتے ہیں تو یہ انتہائی ناانصافی کی بات ہے وہ حقیقت میں اہل بیت کی آڑ میں وہ اسلام کو دیگر قسم کے نقصانات پہنچانا چاہتے ہیں تو بہرحال اللہ رب العزت نے پھر لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ان فرشتوں کو بھیجا اور ان فرشتوں نے جو ہے وہ چونکہ وہ لڑکوں کی شکل میں تھے لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے اندر جو ہے وہ لونڈا بازی کی جو ہے وہ بیماری تھی اور اس کی وجہ سے وہ ان لڑکوں کو بھی اپنا شکار سمجھ کر اپنا ٹارگٹ سمجھ کر ان کے پیچھے بھی بھاگنے لگے لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ ابھی اندازہ نہیں تھا یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں تو اس وجہ سے لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو بڑی ندامت کا جو ہے وہ سامنا ہوا اور انہوں نے کہا کہ دیکھو تم میرے مہمانوں میں کم از کم مجھے رسوا نہ کرو اور میری بیٹیاں موجود ہیں بیٹیوں سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں یعنی تم حلال اور جائز طریقے سے ان کے ساتھ شادیاں کیوں نہیں کرتے ہو جبکہ تم جو ہے وہ ایک ناجائز طریقے کو تم لوگوں نے اپنایا ہوا تو ان فرشتوں نے پھر لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے کو بتایا ان رسول ربک لینی یصلون الیک فااسلمی اہلک بقی من لیل

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript