Thumbnail for Para 25 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 25 | Inspiring Quranic Summary by Youth Flix

Para 25 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 25 | Inspiring Quranic Summary

Youth Flix

46m 42s9,503 words~48 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[9:27]جو ایمان نہیں رکھتے جبکہ جن کے دلوں میں ایمان کی ایک ذرے کے برابر رمق موجود ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]اگر اللہ رب العزت تمام لوگوں کے رزق کو ایک ہی طرح سے وسیع کر دیتا یعنی سب لوگوں کو امیر بنا دیتا سارے متمول ہوتے سارے صاحب ثروت ہو جاتے تو اللہ فرماتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا تو وہ زمین کے اندر فساد مچاتے اور اگر کسی کو اللہ رب العزت اولاد سے محروم کر دیتا ہے تو یہ اس کا قصور نہیں ہے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے بہت زیادہ افراد و تفریق پائی جاتی ہے اللہ فرماتے ہیں اللہ کی مرضی ہے جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے کچھ نہیں دیتا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں وہ ہیں جو دنیا میں گزر چکی ہیں ایک ان کی بدر میں جو اللہ رب العزت نے ان لوگوں کے اوپر بدر کی شکست مسلط کی ہے ایک وہ ہے بدر میں ان لوگوں کا گرفتار کیا جانا وہ ہے اسی طرح سے روم کا جو دوبارہ غالب انا ہے جس کا اللہ رب العزت نے سورہ روم میں تذکرہ کیا ہے اسی طرح سے چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا ہے پھٹ جانا ہے اور اسی طرح وہ دھواں جس کا یہاں پر تذکرہ کیا گیا ہے تو فرماتے ہیں کہ یہ قیامت کی پانچ نشانیاں یہ دنیا میں گزر چکی ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم بااحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری پچیسویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم پچیسویں پارے کے مختصر مضامین کا جائزہ لیں گے ابتداء میں سب سے پہلے ایک رکوع اس میں سورہ شوری کا ہے، سورہ حامیم سجدہ کا ہے، سورہ فصلت کا اس کے بعد مکمل سورہ شوری ہے، مکمل سورہ زخرف، مکمل سورہ دخان اور اخر میں سورۃ الجاسیہ ہے۔ ابتداء میں جو سورہ حامیم سجدہ کا اخری حصہ اس میں موجود ہے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں۔ یہ ایت نمبر فورٹی سیون ہے۔

[1:54]قیامت کا علم اللہ رب العزت نے کسی کو نہیں دیا وہ اللہ تعالی ہی کی طرف لوٹ جاتا ہے کون سا پھل جو ہے اس میں خوشے ہوں گے کون سے درخت پہ نہیں ہوں گے یہ اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی طرح سے جو بھی کوئی جننے والی جو ہے وہ کوئی کوئی فی میل ہے کوئی جو مادہ ہے اس کے پیٹ میں کیا ہے اگر وہ اس کو جو ہے وہ جن پائے گی یا نہیں جن پائے گی اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا اور قیامت والا دن اللہ رب العزت پکاریں گے لاؤ ان شرکاء کو جن کو تم میرے سوا پکارتے تھے اس وقت اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کو جب ہم بلائیں گے تو کوئی بھی ان میں سے وہاں پہ حاضر نہیں ہوگا اور وہ سب کچھ جو اللہ رب العزت کے سوا یہ سمجھتے اور جس کو پکارتے تھے وہ سارے کا سارا قیامت والے دن چھپ جائے گا۔ ایت نمبر فورٹی نائن میں اور ففٹی میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جب انسان کو کوئی خیر پہنچ جاتی ہے تو اس وقت تو جو ہے وہ مطلب اس وقت تو انسان کا رویہ یہ ہو جاتا ہے کہ انسان جو ہے وہ تکبر کرنے لگتا ہے، فخر کرنے لگتا ہے اور قیامت ہی کا انکار کر دیتا ہے۔ اور جب اس کو کوئی برائی پہنچتی ہے جب اس کو کوئی اللہ تعالی کی طرف سے ازمائش ا جاتی ہے تو اس وقت یہ مایوس ہو جاتا ہے۔ اس وقت یہ نا امید ہو جاتا ہے تو مقصد یہ کہ ہر دو صورت میں انسان جو ہے وہ اللہ رب العزت کی ناشکری کی طرف جاتا ہے۔ جبکہ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا معاملہ بڑا ہی خوبصورت ہے اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے اوپر صبر کرتا ہے۔ اور اگر اس کو کوئی خوشی ملتی ہے تو اس کے اوپر جو ہے وہ اللہ رب العزت کا شکر کرتا ہے تو دونوں صورتوں میں اس کے لیے اللہ رب العزت نے اجر تیار کر رکھا ہے۔ جبکہ یہاں پر جو انسان کی فطرت اللہ رب العزت نے بتائی ہے وہ دونوں صورتوں میں ناشکری کی طرف انسان کو لے جانے والی ہے جس سے ہمیں اپنے اپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ایت نمبر ففٹی تھری میں ارشاد فرماتے ہیں

[3:51]زمین کے ہم ان کو مختلف طرح کی نشانیاں دکھاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ افق میں ہیں جیسے زمین کے کنارے ہیں جیسے جو ہے وہ اسمان کے کنارے ہیں ان کے اندر اللہ رب العزت کی نشانیاں ہیں چاند اور سورج کی صورت میں ستاروں کی صورت میں اسی طرح سے جنگلات کی صورت میں پہاڑوں کی صورت میں سمندروں کی صورت میں اور کچھ نشانیاں وہ ہیں جو ان کے اپنے نفسوں کے اندر موجود ہیں۔ بطور خاص مشرکین مکہ کی طرف اشارہ ہے وہ نشانیاں یہ ہیں کہ اللہ رب العزت نے ان کو جنگ بدر میں جو ہے وہ شکست دی ہے۔ شکست ان کو دلائی ہے حتی کہ ان کے اوپر حق واضح ہو چکا ہے تو یہ اللہ رب العزت نے یہاں پر بیان فرمایا ہے۔ اس کے بعد سورہ شوری ہے جس میں اللہ رب العزت نے ابتداء میں ارشاد فرمایا حامیم عین سین قاف اس کا معنی اللہ ہی جانتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپ کی طرف یہ کتاب وحی کی ہے اور اپ سے پہلے بھی وہی اللہ رب العزت غالب اور حکمت والا ہے۔ ایت نمبر سیون میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں قران مجید یہ جو ہم نے نازل کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے مقصد یہ ہے اپ کی طرف ہم نے قران اس لیے نازل کیا تاکہ اپ اس کے ذریعے ام القرا کے لوگوں کو ڈرائیں مکہ کے لوگوں کو ڈرائیں اور اس کے ارد گرد جو اس کے ارد گرد بستیاں ہیں ان کے لوگوں کو ڈرائیں۔

[5:08]اور اسی طرح سے اپ ان کو قیامت والے دن سے ڈرائیں جس دن اللہ رب العزت کے پاس سب کو جمع کیا جائے گا جس کے انے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس دن ایک گروہ جنت میں جائے گا جبکہ دوسرا گروہ جہنمی ہوگا اور جبکہ ہمارے جو قران مجید سے متعلق ہمارا جو خاص طور پر اس وقت مسلمانوں کا قران مجید کے ساتھ جو تعلق ہے اصل جو مقصد ہے وہ تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا یہ کتاب اس لیے ائی ہے تاکہ لوگ اللہ تعالی سے ڈریں اس کو سمجھیں اللہ کے پیغام کو سمجھیں۔ جبکہ ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم کہیں قسمیں کھاتے ہیں کہیں قران مجید کے ذریعے ہم جو ہے وہ قران خوانی کرتے ہیں۔ کہیں قران مجید کے ذریعے ہم دیگر جو ہے وہ چوریاں برامد کرنا اور اسی طرح سے فال نکالنا اور یہ سارے معاملات جو ہیں وہ ہم قران مجید کے ساتھ کرتے ہیں۔ جو کہ کبھی بھی قران مجید کا مقصد نزول نہیں تھا۔ ایت نمبر الیون میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں وہ جو اسمان و زمین کو ابتداء سے پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہارے نفسوں میں تمہارے لیے جو ہے وہ تمہارے جوڑے بنائے۔ تم میں سے تمہارے جوڑے بنائے اسی طرح سے جانوروں میں سے جوڑے بنائے وہ ان کو پھیلاتا چلا جاتا ہے جیسے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے ان کو تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اس اللہ تعالی سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کیا اور ان میں سے بے شمار جوڑے بنا کر ان کو زمین کے اندر پھیلا دیا۔ اسی طرح سے اللہ فرماتے ہیں اب اس اللہ رب العزت جس نے تمہیں پیدا کیا تمہارے جوڑے بنائے جانوروں کے جوڑے بنائے تمہیں زمین کے اندر پھیلا دیا اس اللہ تعالی کی مثال نہیں بیان کی جا سکتی۔ اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اس کے ساتھ کسی کو تشبیہ نہیں دی جا سکتی وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ جبکہ ہمارے رویے اس معاملے میں یہ ہیں کہ بے شمار چیزیں ہم نے اللہ رب العزت کے ساتھ خاص کر دی ہیں اللہ رب العزت کے ساتھ ہم نے ملا دی ہیں اللہ رب العزت کے ساتھ ہم بہت سارے لوگوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ کی صفات ہم نے دوسروں میں پیدا کر دی ہیں اور اللہ رب العزت کو اس کی صفات کو اس کے جو ہے وہ معاملات کو ہم نے ایسا مشکوک بنا دیا ہے حتی کہ اللہ پناہ مانگے اس میں سے گورکھ دھندہ جیسے الفاظ بہت سارے قوال حضرات جو ہیں وہ اس طرح کے الفاظ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ تو ایک گورکھ دھندہ ہے۔ جس کو سمجھا نہیں جا سکتا جو ایسی چیز ہے جو انسان کی عقل میں نہیں ا سکتی۔ تو اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ان تمام چیزوں سے بری ہے۔ اللہ رب العزت ان تمام چیزوں سے پاکیزہ ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا ایت نمبر تھرٹین میں یہی وہ دین ہے جو اللہ جو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں۔ جس کی اللہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو وصیت کی گئی اور یہی وہ دین ہے جو ہم نے اپ کی طرف وحی کیا اور اسی کی وصیت ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو موسی علیہ السلام کو عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کی۔

[7:49]کہ اسی دین کو قائم رکھیں اور اس میں کسی قسم کی تفرقہ بازی سے بچتے رہیں۔ جس چیز کی طرف اپ مشرکین کو دعوت دیتے ہیں ان کو یہ چیز بہت ہی بری لگتی ہے ان کے لیے ہضم کرنا بڑا مشکل ہے ان کو یہ بڑی گراں گزرتی ہے۔ اللہ رب العزت جس کو چاہتے ہیں اس کو اس کا انتخاب کر لیتے ہیں اس کو اللہ تعالی چن لیتے ہیں اور اس کو اللہ رب العزت ہدایت دیتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف جھکنے والا ہوتا ہے۔ اور نیکسٹ ایت میں اللہ فرماتے ہیں اور یہ نہیں کہ یہ تمام امتوں کی طرف اللہ رب العزت نے یہی دین نازل کیا تھا لیکن جب ان کے پاس دین اگیا تو ان لوگوں نے دین کے انے کے بعد اس میں اختلافات پیدا کرنا شروع کر دیے۔

[8:31]جیسا کہ اج کل ہمارے لوگ کرتے ہیں اور اگر اللہ رب العزت کی بات گزر نہ چکی ہوتی کون سی بات کہ اللہ رب العزت نے اس فیصلے کو موخر کر رکھا ہے۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا فیصلہ ابھی سے کر دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کو اہل کتاب کو ان کا وارث بنایا گیا وہ بھی اسی طرح سے شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایت نمبر سیونٹین اور ایٹین میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اللہ رب العزت وہ حق ذات ہے جس نے کتاب کو اور میزان کو حق کے ساتھ نازل کیا۔ کتاب سے مراد قران مجید ہے اور میزان سے مراد قیامت والے دن جو میزان قائم ہوگا جس میں انسانوں کے اعمال تولے جائیں گے۔ اور کون سی چیز تمہیں بتائے کہ قیامت بہت قریب انے والی ہے اس کو جلدی طلب کرنے کی وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں۔

[9:27]جو ایمان نہیں رکھتے جبکہ جن کے دلوں میں ایمان کی ایک ذرے کے برابر رمق موجود ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں۔

[9:40]خاص طور پر اللہ رب العزت کے سامنے پیش ہونے سے اپنے حساب کتاب سے اپنی زندگی کے معاملات سے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ قیامت کا قائم ہونا اللہ رب العزت کی طرف سے حق ہے خبردار جو لوگ قیامت کے دن کے بارے میں شک و شبہ کا شکار ہیں۔ وہ بہت ہی دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایت نمبر ٹونٹی میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جو بندہ دنیا کا ارادہ رکھتا ہے اس کو ہم دنیا عطا فرما دیتے ہیں۔ اور جو بندہ اخرت کا ارادہ رکھتا ہے اس کو ہم اخرت میں بھی بڑھا دیتے ہیں یعنی دنیا بھی اس کی بہتر کر دیتے ہیں اور اس کے لیے اخرت میں بھی ہم نے حصہ رکھا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں وہ شخص جو صرف دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس کو دنیا تو مل جاتی ہے لیکن اخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اس کے بعد ایت نمبر ٹونٹی فائیو میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ اور اللہ رب العزت وہی اللہ رب العزت ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول فرماتا ہے۔ اور وہ برائیوں کو کوتاہیوں کو انسان کی غلطیوں کو معاف کر دیتا ہے درگزر کر دیتا ہے۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ تم کیا کر رہے ہو اور وہ اہل ایمان کو جو نیک اعمال کرتے ہیں ان کے اللہ رب العزت دعائیں قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے فضل میں بڑھا دیتا ہے۔

[11:00]اور کافر تو ان کے لیے اللہ رب العزت نے بڑا ہی سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ایت نمبر ٹونٹی سیون میں اللہ رب العزت نے اس زمین کے اندر اس کائنات کے اندر جو ایک بیلنس قائم رکھا ہے اس کی اللہ رب العزت نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اگر اللہ رب العزت تمام لوگوں کے رزق کو ایک ہی طرح سے وسیع کر دیتا یعنی سب لوگوں کو امیر بنا دیتا سارے متمول ہوتے سارے صاحب ثروت ہو جاتے۔ تو اللہ فرماتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا تو وہ زمین کے اندر فساد مچاتے جیسا کہ زیادہ تر جو فساد مچایا جاتا ہے وہ اہل مال کی طرف سے اہل دنیا کی طرف سے جن کو دنیا کے وسائل زیادہ جن کو حاصل ہوتے ہیں وہی زیادہ فساد مچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بیلنس قائم رکھنے کے لیے ہم نے کیا کیا ہے کسی کو زیادہ امیر بنا دیا کسی کو کم جو ہے وہ مال عطا فرمایا لیکن اللہ رب العزت جتنا مناسب سمجھتے ہیں اتنا ہی عطا فرماتے ہیں یقینا اللہ رب العزت اپنے بندوں سے بہت ہی باخبر ہیں اور اپنے بندوں کو دیکھنے والے ہیں۔ ایت نمبر تھرٹی میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں تمہیں دنیا کے اندر کوئی بھی تکلیف پہنچتی ہے کوئی ازمائش پہنچتی ہے کوئی پریشانی اتی ہے تو اللہ فرماتے ہیں یہ ساری کی ساری پریشانیاں یہ ازمائشیں یہ مختلف قسم کے غم یہ سب کے سب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے تم غلطیاں کرتے ہو تو اس کی وجہ سے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا زمین میں خشکیوں میں تریوں میں سمندروں میں ہر جگہ جہاں افات اتی ہیں جہاں پر سیلاب پیدا ہوتے ہیں جہاں پر جو ہے نا وہ سونامی اتے ہیں۔ یہ سارے کے سارے اللہ فرماتے ہیں کہ افات انسانوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور اللہ رب العزت تو وہ ہے کہ بہت ساری چیزوں پر تمہاری پکڑ ہی نہیں فرماتا بلکہ وہ تو ہمیشہ تمہیں معاف کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر تھرٹی سکس میں جو کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں۔

[13:25]جیسے اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا قتل کرنا کسی کو ناحق قتل کر دینا شراب پینا اسی طرح سے جو ہے وہ گینگبلینگ کرنا اور جو ہے وہ بدکاریاں کرنا اور اس کے علاوہ بے شمار جو ہے وہ گناہ ہیں جن کی لسٹیں محدثین نے بیان کی ہیں۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے اپ کو کبیرہ گناہوں سے بچاتے ہیں کبیرہ گناہ وہ ہوتے ہیں کہ جو کبیرہ گناہ اگر انسان سے سرزد ہو جائے تو وہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا۔ اس کے بعد و اذا مغضب اسی طرح سے اور وہ اپنے اپ کو بے حیائی سے روکتے ہیں۔ اور کبھی ان کو غصہ ا جائے تو وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرنے والے ہوتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔

[14:28]بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔

[14:58]بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور جو اللہ نے فرمایا کہ وہ جب ان کو کبھی غصہ ا جاتا ہے تو اس کے وہ درگزر کرتے ہیں معاف کرتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ بلکہ اگر کبھی اللہ رب العزت کی حدود کو پامال کیا جاتا اللہ کی حدود کے بارے میں اگر کوئی شخص جو ہے وہ اس کی بے حرمتی کرتا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم دیتے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript