Thumbnail for How to Find Allah? Pakistan’s Most Read Author Tariq Baloch Sehrai | Huzaifa Ashraf Asmi by Zaifiyat - Huzaifa Ashraf Asmi

How to Find Allah? Pakistan’s Most Read Author Tariq Baloch Sehrai | Huzaifa Ashraf Asmi

Zaifiyat - Huzaifa Ashraf Asmi

33m 3s5,978 words~30 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]تعریف تو ساری اللہ کے لیے ہے الحمدللہ رب العالمین یہ تو فائنل ہو چکا ہے کہ ساری تعریفیں اسی کے لیے ہے بے شک تو وہ جو کچھ عطا کرتا ہے اس کا پھر بندے کا حق ہے کہ اس کا شکر ادا کرے۔ پتا چلتا ہے کہ چیزیں اتفاقیہ کوئی بھی نہیں ہوتی۔ ہر شے پلینڈ ہے۔ ادب سے قریب رہنے والا ہوتا ہے وہ کسی ایک خاص اور مخصوص چیز کے قریب اگر چلے جائے تو اس کے حصار سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میرے ذہن میں ہمیشہ سے ایک چیز آتی رہی اور وہ یہ کہ عطا کا فارمولا اگر کبھی مل جائے میں نے جب آپ کی ویڈیوز دیکھیں تو مجھے لگا کہ مجھے آپ سے جب ملاقات کرنی چاہیے جب ریکارڈنگ ہوگی تو میں آپ سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا۔ کہ عطا کے معاملے میں آپ نے ایسا کیا فارمولا اپنایا؟ اگر ایک پتا دو بج کے 30 منٹ اور 27 سیکنڈ پہ بھی گرنا ہے تو وہ اسی وقت گرے گا یہ اتنی پلینڈ ہے۔ بندے کو پتا ہوتا ہے کہ جب سب کچھ اللہ کا ہے۔ تو پھر آپ کسی اس میں کلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ تصوف کا جو ہے نا جی وہ اس میں کلیم نہیں ہوتا۔ واہ واہ واہ۔ اس کی تعریف جو آپ دیکھیں نا وہ ہے ترک دعویٰ اور وحدانیت۔ واہ واہ۔ کلیم نہیں ہے۔ اگر جہاں کلیم ہے تو پھر روحانیت نہیں ہے۔ تصوف کیا کام تھا تو میں کہتا ہوں کہ ادیب بیسکلی آپ کے اخلاقی وجود کی تعمیر کرتا ہے۔ ہر چیز ہے میں سمجھتا ہوں۔ صحیح۔ ایک تو یہ ہے کہ جب آپ اللہ سے مانگ رہے ہیں تو پہلے ان کے ہاتھ نیچے کرائیں جو آپ کے خلاف جنہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ صحیح۔ پہلے ان کو سیٹسفائی کریں جو اس پہ آپ ظلم کر بیٹھے ہیں جانے انجانے میں پہلے ان کے ہاتھ جو آپ کے خلاف اٹھے ہوئے ہیں ان کو۔ جو زندگی اگر میں رب نہیں ہے نا۔ تو پھر یہ سمجھ لیں کہ فضول ہے۔ اچھا۔ کیونکہ زندگی زندگی بنتی ہی زندگی دینے والے کے ساتھ آپ کا تعلق ہے۔ یہ جو بندہ آپ سے لوگ اٹریکٹ ہوں گے۔ آپ اچھا لکھتے ہیں آپ کے فالور ہوں گے آپ کے پاس آئیں گے۔ اب آپ نے کیا کرنا ہے؟ اس بھائی کی طرح آپ نے ان کو بتائے بغیر اللہ اور اس کے رسول کی غلامی کے ٹوکرے میں ڈال دینا ہے۔ کیا بات ہے۔ اب ماں تو نہیں ہے۔ تو جب میں زندگی کے کھرے سے گرتا ہوں تو میرا رب مجھے سنبھالتا ہے۔ کہتا ہے کچھ نہیں ہوا وہ دیکھو چونٹی کا آٹا گر گیا۔ اللہ اکبر۔ تو کیونکہ آپ کو اگر خالص پسند ہے تو اس کو بھی تو خالص پسند ہے۔ پیسا میں ہسی لگی انوں ایکا بیٹا بہت اچھی میں نے کہا پھر بھی کہ بہت اچھی ان کے سارے ملازمین اور سارے لوگ تھے تو انہوں نے میں نے پھر کہا تو کہتے طارق دعا کرو اللہ مجھے بھی ایسا لکھنے کی توفیق ہو۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ تو میں نے کہا نہیں ماں جی یہ تو سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم رب شرلی صدری ویسرلی امری وحلول اللغت من لسانی یفقہ قولی۔ میں حذیفہ اشرف عاصمی اور آج کی انتہائی اہم ترین پوڈکاسٹ میں آپ کو خوش آمدید۔ ناظرین کرام ہم شخصیات کے پاس بیٹھ کر سیکھتے ہیں ان سے علم لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے بعد اس پر امپلیمنٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں آج کی ایسی شخصیت ہمارے ساتھ موجود ہیں جن کا دنیا ادب میں بہت بڑا نام ہے بہت بڑا مقام ہے۔ اور ان کی کتب جو ہیں وہ بیسٹ سیلنگ رہی ہیں اب تک اور آگے بھی جو لکھ رہے ہیں وہ بھی ہم سوشل میڈیا کے تھرو بھی دیکھتے ہیں تو ان سے محظوظ ہوتے ہیں سیکھتے ہیں آپ معاشرے میں بڑی دور رس نظر ہے معاشرے کو بڑے گہری نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے معاشرے کو بہتر کرنے کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہیے اس پر بات کرتے ہیں تصوف پر جو ہے وہ بات کرتے ہیں روحانیت پر بات کرتے ہیں انسانیت پر لسانیت پر اور احساس پر جب بات کرتے ہیں تو دل باغ باغ ہوتا ہے۔ ان سے سیکھتے ہوئے آج کی پوڈکاسٹ بھی آغاز بھی کریں گے اور اس کا اختتام بھی کریں گے انشاءاللہ طارق بلوچ صحرائی صاحب ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ گونگے کا خواب سوال کی موت لمس کی چوب قطبے سے تراشی ہوئی زندگی اور اس طرح کی متعدد جو ہے وہ کتب ان کی پڑھیں اور لوگوں نے اش اش کہا اس کے بعد ان کے ارٹیکلز پڑھے ویڈیوز سنیں تو اس میں سے روحانیت کی جھلک نظر ائی۔ اس میں سے صوفی عظم کی جو ہے نا وہ جھلک نظر ائی۔ زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے جو طریقہ کار اپنانا چاہیے وہ نظر آیا تو آج کی اس نشست میں میری خوش قسمتی کہ طارق بلوچ صحرائی صاحب ہمارے ساتھ موجود ہیں سر ایک شعر آپ کی نظر کرتے ہوئے آپ کی طرف آؤں گا۔ کہ فطرت کے ہمارے پاس جو ہے وہ اتنی اچھی شخصیت ہے کہ مجھے اقبال کا ایک شعر نظر آیا اور فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی سر السلام علیکم۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ سر بہت شکریہ آپ نے ٹائم نکالا اور ہماری پوڈکاسٹ کا حصہ بنے۔ سر مجھے یہ بتائیے گا اتنا لکھا اتنا لکھا کہ لوگوں نے پڑھا اور محظوظ ہوئے سیکھا اور مختلف پہلوؤں سے آپ کی شخصیت کو ٹٹولا گیا۔ جب ویڈیوز دیکھتے ہیں آپ کی رائیٹنگز کو دیکھتے ہیں معاشرے کی ایک جھلک دکھاتے ہیں گونگے کا خواب لمس کی چوب قطبے سے تراشی ہوئی زندگی اور اس کے بعد سوال کی موت اس کے ایک الگ الگ پیرائے پہ اگر چلے جائیں تو بات ذرا لمبی ہو جائے گی۔ لیکن میں چاہوں گا کہ اپنی شخصیت پر تھوڑا سا روشنی ڈالتے ہوئے اپنی جو علمی ادبی سفر ہے مختصر سا بتانے کی کوشش کیجیے گا گو کہ مشکل ہے آپ کی شخصیت بہت بڑی ہے وسیع ہے۔ لیکن میں چاہوں گا کہ پورٹ فولیو کے طور پر آغاز میں تھوڑا سا ایڈ کریں پھر میں اپنی جو سوالات ہیں وہ آپ کے سامنے رکھوں گا۔ سر۔ ہاں جی بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بہت بہت شکریہ سر۔ تو آپ نے اتنی تعریف کی۔ تعریف تو ساری اللہ کے لیے ہے الحمدللہ رب العالمین۔ تو یہ تو فائنل ہو چکا ہے کہ ساری تعریفیں اسی کے لیے ہے بے شک۔ تو وہ جو کچھ عطا کرتا ہے اس کا پھر بندے کا حق ہے کہ اس کا شکر ادا کرے۔ الحمدللہ۔ اور لامحدود کا دیا جو ہے وہ محدود آدمی شکر ادا نہیں کر سکتا۔ تو پھر اللہ نے ایک نعمت عطا کی استغفار کی۔ کہ آپ استغفار کریں کہ ہم اتنا شکر نہیں ادا کر سکے جتنا چاہیے تھا۔ بے شک۔ تو بس یہ کہ اللہ کے خاص کرم ہے اللہ نے میری جب آپ زندگی کو دیکھتے ہیں نا۔ تو جو چیزیں اتفاقیہ نظر آتی ہیں وہ اتفاقیہ نہیں ہوتی۔

[6:33]تو یہ جب اللہ آپ کو ایک شعور عطا کرتا ہے، آگاہی عطا کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ چیزیں اتفاقیہ کوئی بھی نہیں ہوتی۔ ہر شے ایک پلینڈ ہے۔ اگر ایک پتا دو بج کے 30 منٹ اور 27 سیکنڈ پہ بھی گرنا ہے تو وہ اسی وقت گرے گا یہ اتنی پلینڈ ہے۔

[6:51]تو یہ جب اللہ نے مجھ سے کچھ کام لینا تھا کچھ تو اللہ نے میری جو مجھے ایک گاؤں میں پہلے میں پیدا ہوا گاؤں میں اور جہاں نیچر تھی۔ کوئی گرو ہمیشہ نیچر کرتی ہے اور وہی گرو کرے گا جو نیچر کے ساتھ رہے گا۔ تو میں رینالہ خورد کے ایک چھوٹے سے بستی تھی بستی رحیم بخش۔ سات گلیوں کی تو وہاں پیدا ہوا۔ جہاں لوگ آگ بھی ایک دوسرے سے مانگ کر لیتے تھے۔ اور بجلی نہیں آئی تھی ابھی اور جو اگر لوگ رات شام ہوتی تھی دیا جلا لیا کرتے تھے۔ تو وہاں سے پھر میں مچلز کے باغات میں رہا۔ صحیح۔ اور نیچر کے ساتھ پھر میرا ایک ایسا تعلق بنا اور پھر میں جب لاہور ہم ائے تو یہاں پہ بھی میں نیچر کے ساتھ رہتا ہوں۔ پھر لکیلی یہ ہوا کہ جو اللہ نے اگر وہ بانو آپا کے ساتھ میرا بہت 18 سال گزرے ماشاءاللہ اشفاق صاحب کے ساتھ پھر ڈاکٹر سلیم اختر صاحب تھے ان کے ساتھ ڈاکٹر طارق عزیز۔ اور پھر جو سب سے بڑا مجھے اللہ کا کرم ہوا تو مجھے ایک ایسے استاد اللہ نے عطا کیے۔ جو کہ بلیسڈ ہیں بابار عرفان الحق صاحب ماشاءاللہ تو وہ میرے استاد ہیں۔ تو اس طرح یہ سفر چلتا رہا لیکن ظاہر ہے جو اللہ یہ جو سارا رزق ہے خواب و خیال کا الفاظ کا یہ اللہ عطا کرتے ہیں۔ ماشاءاللہ۔ اور بندے کا ساتھ صرف کام یہ ہے کہ وہ جو اس نے امانت دی ہے وہ لوگوں تک پہنچا دے۔ اور پھر آپ اس کے لیے شکر ادا کرتے رہیں اور جو نہیں شکر اتنا ادا ہو سکتا ہے تو استغفار کرتے رہیں تو میں شکر ادا کرتا رہتا ہوں اور استغفار کرتا رہتا ہوں۔ ماشاءاللہ۔ تو بس اسی طرح اللہ یہ جو کیونکہ وہی عطا کرتا ہے۔ اللہ نے یہ مجھ پہ ایک اور کرم کیا کہ مجھے یہ آگاہی دے دی کہ جو کچھ بھی تمہاری عزت ہے یا جو تمہیں یہ مقام ملا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بے شک۔ تو اللہ ہی رزق دیتا ہے خواب و خیال کا۔ تو یہ کہ پھر بندے کو پتا ہوتا ہے کہ جب سب کچھ اللہ کا ہے تو پھر آپ کسی اس میں کلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ تصوف کا جو ہے نا جی وہ اس میں کلیم نہیں ہوتا۔

[9:25]واہ واہ۔ تو یہ اللہ تعالی کا کرم ہے بس اسی کی عطا ہے۔ ماشاءاللہ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔ سر تھوڑا سا ایک اور چیز اس میں ایڈ کریں گے کیونکہ یہ بڑا روایتی سا سوال ہو گا موسٹ لوگ آپ سے پوچھتے ہوں گے کہ لکھائی کی طرف کیسے آگے ہے۔ لیکن میں خود اس پوڈکاسٹ میں ہی ایڈ کروانا چاہ رہا ہوں کہ مجھے یہ بتائیے گا کہ اتنے معاملات میں مصروفیات زندگی میں اس سے نکل کر آپ نے چونکہ کہا کہ آپ نیچر سے بڑا قریب رہے ہیں نیچر کو بڑا آپ کو پسند آپ پسند کرتے ہیں کہ اس کے قریب رہا جائے اور وہ آپ کو گرو کرتی ہے جیسا کہ آپ کو جملے ہیں۔ مجھے یہ بتائیے گا پھر اس سب کے باوجود کس طرح معاشرے کو دیکھتے ہوئے بہت سے پہلوؤں کو اجاگر کیا اپنی رائیٹنگز میں کب خیال آیا کہ مجھے لکھنا چاہیے اور اس کے بعد ایک مقام ایسا آیا الحمدللہ کہ بیسٹ سیلنگ بکس ہیں وہ اب تک کی جو ہے وہ پوری دنیا میں آپ کی بکس جو ہیں وہ جاتی ہیں اور پاکستان کے بیسٹ سیلر بک جو ہے نا وہ اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے رائٹر آپ ہیں۔ تو یہ خیال کیسے آیا یہ لکھنے کی جانب کیسے آئے اور اس کو کنٹینیو کس طرح کیے ہوئے ہیں۔ اصل میں نا جی ہر آدمی اپنا اظہار کرتا ہے۔ کچھ شاعری کی شکل میں کرتا ہے کچھ نثر کی شکل میں کرتا ہے۔ کوئی صحیح۔ کچھ گا کے کرتا ہے کچھ رقص کر کے کرتا ہے۔ تو اظہار ہے۔ تو یہ بھی میرا ایک اظہار ہے۔ اور یہ کیتھارسز ہے۔ ادب بیسکلی کیتھارسز ہے۔ کرتا ہے۔ تو آپ اگر جو آپ کے ساتھ ناانصافی ظاہر ہے معاشرے میں انصاف تو نہیں ہے۔ تو ناانصافیاں ہیں تو آپ نے کہا کوئی نہ کوئی کیتھارسز تو ہونا چاہیے۔ تو پھر میں لکھ کے کیتھارسز کرتا ہوں۔ واہ واہ واہ۔ اور پھر جو اللہ عطا کرتے ہیں وہ میں لکھ دیتا ہوں۔ اور میں خود حیران ہوتا ہوں جب وہ مجھے لکھواتا ہے۔ ماشاءاللہ۔ تو یہ اللہ نے کیا لکھوا دیا۔ سبحان اللہ۔ تو شکر ہے اس کا بس چل رہا ہے لیکن بس مجھے یہ ہوتا ہے کہ میں اگر اللہ نے مجھے کچھ دیا ہے تو میں اس کی مخلوق میں بانٹوں اس کو جو مجھے گائیڈ لائن ملی ہے وہ میں مخلوق میں بھیجوں مخلوق کو بتاؤں۔ واہ واہ۔ تو اور یہ کہ جو ادیب بیسکلی آپ پوچھیں گے کہ ادیب کیا کام کیا تو میں کہتا ہوں کہ ادیب بیسکلی آپ کے اخلاقی وجود کی تعمیر کرتا ہے۔ ہاہا اور جس قوم میں ادیب کی عزت نہیں ہوتی۔ اگر آپ نے دیکھنا کہ قوموں کا معیار کیا ہے؟ تو آپ دیکھیں کہ وہ عورت کی کتنی عزت کرتی ہے اور ادیب کی کتنی عزت کرتی ہے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ قوم کس لیول پہ ہے۔ کیا بات ہے کیا بات ہے کیوں کہ جس قوم میں ادیب نہیں ہوتے نا وہاں ہلاک و خان پیدا ہوتے ہیں چنگیز خان پیدا ہوتے ہیں۔ اور وہاں امن نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ امن جو ہے وہ رائے کے احترام کا نام ہے۔ ہاہا اور جہاں امن نہیں ہو گا وہاں جنگیں ہوں گی اور جنگیں یتیم پیدا کرتی ہیں اور بھوک کی ڈائن ان کو کھا جاتی ہے۔ واہ واہ واہ۔ تو میں کہتا ہوں کہ دفن ہونے کے لیے زمین اتنی ضروری نہیں جتنا کسی قوم کے لیے ادیب کا اور ادب کا ہونا ضروری ہے۔ واہ۔ آپ نے بارہا ذکر کیا عطا کا۔ مجھے یہ بتائیے گا کہ چونکہ ہم آپ کی کچھ ویڈیوز بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ آپ کی تحریریں بھی پڑھتے رہتے ہیں۔ اس میں ایک بڑا ہی اثر ہوتا ہے جو آپ کو اپنے سحر میں لے لیتا ہے اور میرے خیال سے جو ادب کو پڑھنے والا ہوتا ہے ادب سے قریب رہنے والا ہوتا ہے وہ کسی ایک خاص اور مخصوص چیز کے قریب اگر چلے جائے تو اس کے حصار سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میرے ذہن میں ہمیشہ سے ایک چیز اتی رہی اور وہ یہ کہ عطا کا فارمولا اگر کبھی مل جائے میں نے جب آپ کی ویڈیوز دیکھیں تو مجھے لگا کہ مجھے آپ سے جب ملاقات کرنی چاہیے جب ریکارڈنگ ہوگی تو میں آپ سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا کہ عطا کے معاملے میں آپ نے ایسا کیا فارمولا اپنایا جو کہ بہت سے لوگ بھی چاہتے ہیں ہمیں بھی معلوم ہو۔ جی جی۔ اصل میں نا جی عطا کا یہ تو پہلی بات یہ چار چیزیں میں سمجھتا ہوں۔ سر۔ ایک تو یہ ہے کہ جب آپ اللہ سے مانگ رہے ہیں تو پہلے ان کے ہاتھ نیچے کرائیں جو آپ کے خلاف جنہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ صحیح۔ پہلے ان کو سیٹسفائی کریں جو اس پہ آپ ظلم کر بیٹھے ہیں جانے انجانے میں پہلے ان کے ہاتھ جو آپ کے خلاف اٹھے ہوئے ہیں ان کو نیچے کرائیں۔ دوسرا یہ کہ یقین اللہ نے نا عطا کا فارمولا یقین پہ رکھ دیا ہے۔ ہمم کہ آپ کو جس سے آپ مانگ رہے ہیں اس پہ یقین کتنا ہے۔ اگر آپ اللہ سے مانگ رہے ہیں تو اللہ پہ یقین کتنا ہے اگر آپ کو 50 پرسنٹ یقین ہے تو آپ کو 50 پرسنٹ ملے گا۔ اچھا۔ اگر آپ کو 90 پرسنٹ ہے تو 90 پرسنٹ ملے گا اگر 100 پرسنٹ ہے تو 100 پرسنٹ ملے گا۔ یہ اس کا فارمولا ہے۔ ایون آپ اگر کسی اللہ کے علاوہ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں۔ ہے تو غلط ایاک نعبدو و ایاک نستعین۔ کیونکہ جو ہے حاجت روا تو اللہ کی ذات ہے۔ تو اگر آپ بتوں سے بھی مانگ رہے ہیں کسی سے بھی وہاں پہ بھی یہی فارمولا ہے کہ آپ کو بت پہ کتنا یقین ہے کہ یہ مجھے دے گا۔ ہمم۔ فارمولا یہی ہے۔ بالکل۔ لیکن ہے وہ غلط۔ کیونکہ جو ہے نا وہ ظاہر ہے حاجت روا تو اللہ کی ذات ہے۔ اور تو کوئی نہیں۔ تو دوسری بات یہ ہے کہ ظرف اللہ بندے کو ضرورت کے مطابق نہیں دیتا ظرف کے مطابق دیتا ہے۔ ہمم۔ اور ظرف ہمیشہ معاف کر دینے سے پیدا ہوتا ہے۔ اللہ اکبر۔ تو اللہ جو ہے نا وہ ظرف کے مطابق آپ اپنا ظرف بڑھا لیں عطا زیادہ ہو جائے گی۔ کیا بات ہے۔ کیونکہ برتن غرور کیا ہے؟ غرور یہ ہے کہ آپ کا ظرف چھوٹا ہے۔ دے دیا زیادہ گیا ہے۔ ہمم۔ تو وہ اب پھر اب غرور ہے۔ جو نیچے گر گیا ہے جو ظرف آپ کے برتن سے زیادہ گر گیا وہ غرور ہے۔ صحیح ہے۔ تو آپ کو اپنا ظرف بڑا کریں اور ظرف یہ ہوتا ہے کہ آپ معاف کرتے جائیں جتنا لوگوں کو معاف کریں گے آپ کا ظرف بڑھتا جائے گا۔ اور جتنا ظرف بڑھتا جائے گا برتن جتنا کھلا اللہ اتنا عطا کرتے جائیں گے۔ اور جو آخری فارمولا ہے وہ ہے کہ آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت فرماتے ہیں۔ کتنی محبت کرتے ہیں یعنی اللہ کو اپنے حبیب سے بہت پیار ہے۔ بے شک۔ اور جو اس کے حبیب سے پیار کرتا ہے۔ ہا ہا ہا۔ اللہ اس سے پیار کرتا ہے۔ آئے ہا ہا اللہ اکبر۔ تو یہ یہ عطا کا فارمولا ہے۔ کیا بات ہے کتنا بڑا فارمولا ہے انشاءاللہ ہم بھی اس پر عمل کریں گے اور دیکھنے والے بھی مجھے یہ بتائیے گا اتنی خوبصورت باتیں کرتے ہیں خوبصورت لکھتے ہیں۔ کیا زندگی کی سمجھ لگ گئی ہے؟ اور زندگی کیا ہے؟ اصل میں زندگی کی سمجھ نہ آئی تو بہتر ہے۔ اچھا۔ کیونکہ دیکھیں جو چیزیں نامکمل ہوتی ہیں وہ خوبصورت ہوتی ہیں۔ سنجیدگی میں خوبصورتی نہیں ہے جو شوخی میں خوبصورتی ہے۔ واہ۔ تو جن لوگوں کو زندگی کی سمجھ نہیں آئی ان کے لیے زندگی بڑی خوبصورت ہے۔ دیکھیں بچپن میں ہم چاند کو دیکھتے تھے بھیا ہمیں بتایا جاتا تھا کہ یہ چاند ہے اور اس پہ ایک بڑھیا چرکا کاٹ رہی ہے اور ہمیں بڑا فیسینیٹ کرتا تھا۔ جب اس کی حقیقت کھلی تو پتہ چلا کہ وہاں تو ایک گہری کھائیوں والی بنجر زمین ہے۔ اور وہاں نہ بڑھیا ہے نہ کوئی وہاں تو پانی بھی نہیں ہے زندگی بھی نہیں ہے۔ تو پھر وہ جو اٹریکشن تھی نا وہ ختم ہو گئی۔ تو زندگی بھی سمجھ لیں ایسے ہی ایک بندہ وہ کہتا ہے میں نے وہ ایک کیا ہوتا ہے وہ فروٹ ٹائپ ہے مجھے یاد ہے چیکو چیکو تو چیکو وہ میں نے کھانا ہے تو وہ ساری عمر کہتا ہے میں نے چیکو کھانا ہے چیکو تو اس کو بڑی خواہش ہوتی ہے تو جب اس کو چیکو ملتا ہے تو کھا کے کہتا ہے یار یہ تو بڑا بدمزاقہ سا ایسے ہی ہے۔ میں ایسی ساری عمر ہے۔ زندگی بھی چیکو ہے۔ اللہ اللہ۔ جس کی جس کو سمجھ آ جاتی ہے نا اس کو اس کے لیے زندگی کوئی نہیں۔ یہ بہتر ہے کہ نہ سمجھ آئے۔ صحیح ہے۔ کیونکہ زندگی کی سمجھ درویش کو اتی ہے فقیر کو اتی ہے۔ کیونکہ فقیر ہی جانتا ہے درویش ہی جانتا ہے۔ کہ مٹی کو مٹی ہونے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ اہا اہا اہا۔ اللہ اللہ کیے جانے سے اللہ نہ ملے اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں۔ مجھے یہ بتائیے گا کہ زندگی کے ساتھ روحانیت کا کتنا تعلق ہے؟ آپ کی رائیٹنگز میں بے تاحاشا یہ پڑھا۔ کہیں کسی صحرا کا ذکر ہوا کہیں تپتے ہوئے صحرا کا ذکر ہوا۔ کہیں دور بیٹھے روتی ہوئی ماں کا ذکر ہوا۔ تو یہ بتائیے گا کہ اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے۔ دیکھیں جو زندگی اگر میں رب نہیں ہے نا۔ تو پھر یہ سمجھ لیں کہ فضول ہے۔ اچھا۔ کیونکہ زندگی زندگی بنتی ہی زندگی دینے والے کے ساتھ آپ کا تعلق ہے۔ آئے ہا ہا۔ کیونکہ اگر آپ آپ تو فانی ہیں۔ تو آپ لا فانی کے ساتھ جڑیں گے تو آپ بھی امر ہوں گے۔ بالکل صحیح۔ تو باقی یہ کہ ہم ہمیں ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ جو ہمیں ملا جو رب ملا اتنا خوبصورت اتنا کائنڈ اور اتنا ظرف والا ہے۔ جو دے کے خوش ہوتا ہے۔ اور جو اس سے نہ مانگے اسے ناراض ہوتا ہے۔ جس نے رحمت اللعالمین کو پیدا کیا وہ رحمان خود کتنا رحم والا ہو گا۔ جس نے ماں کو پیدا کیا ہے۔ آئے ہائے ہائے۔ تو جو 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ تو بدقسمتی نہیں ہے کہ دیکھیں اللہ تو کہتا ہے میں چھپا ہوا خزانہ تھا پھر میں نے چاہا۔ اور پھر اس نے کائنات کو پیدا کیا۔ تو کوئی بدقسمتی ہو گا جو اس کائنات کے جو اس خزانے کو نہیں لے گا اللہ اللہ ہی اللہ تو ایک چھپا ہوا خزانہ ہے اللہ خود کہتا ہے۔ تو جو خزانے کی طرف نہیں جائے گا وہ کتنا مفلس ہو گا۔ اللہ۔ تو بیسکلی اور روحانیت بھی یہی ہے کہ آپ جس طرح ایک جسم ہے ایک روحانیت ہے مثلا اس کی روح سمجھ لیں۔ صحیح ہے۔ تو روح کے بغیر جسم کی کیا وقات ہو گی۔ اللہ اللہ اللہ۔ تو یہ میں نا ایک افسانہ لکھا تھا۔ جی جی۔ تو وہ یہ تھا کہ ایک بندہ اس کو نا گاؤں میں پرانے زمانے کی بات ہے گاؤں میں کسی نے اس کو کوئی شے بھیجی وہ لاٹھی نما۔ تو وہ اس کو نا ایز اے لاٹھی لے کر سمجھ کے وہ نہ چلتا رہا اس کا والد۔ تو اس کے وہ والد فوت ہوا تو اس کے ہاتھ میں لاٹھی آ گئی۔ وہ اس کو لے کر جیسے گاؤں میں نا اس وقت ایک لاٹھی ضرور رکھتے تھے وہ جانوروں کے لیے اور اس طرح کے جانا ہوتا تھا کھیتوں میں اور سانپوں کے لیے اور اس طرح۔ تو وہ وہ بندہ جب وہ لاٹھی اس کے ہاتھ میں تھی ہمیشہ۔ تو وہ جب شہر آیا اس کو اس کو کینسر ہوا گاؤں والوں نے وہاں بھیج دیا اس کا ایک کوئی ریلیٹو تھا اس کے پاس آیا۔ تو وہ لاٹھی اس کے ہاتھ میں ہوتی تو وہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا اس کو کہا کہ اس کو نا آپ لے جائیں گاؤں لے جائیں واپس۔ ٹھیک ہے۔ تو وہ اس کو گاؤں میں جو گاؤں میں بٹھا دیتے ہیں کہ جانے کے لیے وہ گاؤں نہیں پہنچ پاتا راستے میں اس کی ڈیتھ ہو جاتی ہے۔ اللہ۔ لیکن وہ جو اس کے ہاتھ میں وہ لاٹھی نما چیز ہوتی ہے نا۔ تو وہ بھاگ رہا ہوتا ہے بارش ہوتی ہے تو بھاگ رہا ہوتا ہے کبھی ادھر ادھر تو ایک بندہ اسے روکتا ہے کہتا ہے یار۔ کہ تم یہ ادھر ادھر بھاگ رہا ہے وہ بارش سے بچنے کے لیے۔ تو یہ تمہارے ہاتھ میں چھتری ہے۔ تم اس کو کیوں نہیں لے لیتے۔ تو اس نے کہا یہ چھتری کیا ہوتی ہے اس نے کہا یہ بارش سے اور اس سے بھیگنے کے لیے ہوتی ہے۔ تو تم اسے لاٹھی سمجھ کے۔ ہم نا کیا کرتے ہیں کہ ہم بھی جسم کی لاٹھی لے کر پھرتے رہتے ہیں۔ اللہ اکبر۔ وہ حالانکہ وہ جو جو چھتری اللہ نے روح کی ہمیں دی ہے۔ آئے ہائے ہائے۔ جو ہمیں جو وسوسوں سے بچاتی ہے۔ جو اپنی رحمت کے آثار میں اللہ کی رحمت کے آثار میں وہ لے لیتی ہے دھوپ یعنی اور دھوپ سے بچاتی ہے۔ اور اسی طرح ہم نے اپنی روح کی چھتری کھولی نہیں ہے۔ ہمم۔ جو ہمیں اللہ اللہ جو جو ہمارے اوپر لوگوں کے مسائل ہیں وسوسے ہیں یا ایک جلن ہے دھوپ ہے جو زندگی کی سختیاں ہیں۔ تو ہم نے وہ چھتری کھولی نہیں جب ہم چھتری کھول لیتے ہیں یہ روح کی چھتری ہے۔ تو پھر ہم رحمت میں چلے جاتے ہیں سائے میں چلے جاتے ہیں۔ واہ۔ تو بیسکلی ہم جو ہے نا وہ تھوڑے سے ڈی ٹریک ہوئے۔ ٹھیک ہے۔ کیونکہ ہمارے اخلاقی وجود کی تعمیر نہیں ہوئی۔ بالکل۔ تو اگر ہمارے اخلاقی وجود کی تعمیر ہو تو ہم دنیا کے لیے دیکھیں سارے مذاہب ان کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا انسان پروڈیوس کیا جائے جو لوگوں کے لیے کمفرٹیبل ہو۔ ہمم۔ اور جس سے لوگ مل کے کمفرٹیبل فیل کریں۔ صحیح ہے۔ تو ہمیں بھی وہ ایسا انسان بننا ہے اور وہ ادیب بناتا ہے۔ ہمم۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ادیب کی عزت کی جائے۔ صحیح ہے۔ ادیب کا جو ہے نا وہ اس کا ایک مقام ہے ایک تو لکیلی بدقسمتی سے کہ ہمارے ہاں ادیب کا وہ وہ مقام نہیں ابھی ہے اور آپ ایوارڈز کو دیکھتے ہیں کن کن لوگوں کو ایوارڈز ملتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی ہے۔ اور ادیب جو ہیں ان کا حصہ جو ہے آٹے میں نمک کے برابر ہوتا ہے۔ اور وہ بھی کوئی اتنا میرٹ والا حساب نہیں ہے یہاں پہ۔ تو میرے خیال میں کہ ادیب ادب کو پروموٹ کرنا چاہیے۔ صحیح ہے۔ اگر آپ نے قوم بنانی ہے آپ چاہتے ہیں کہ اس قوم میں وائلنس نہ ہو۔ اور ایک ایسی جو سوفسٹیکیٹڈ قوم بنے جو مینر والی ہو۔ جو وضع دار ہو۔ تو وضع داری جو ہے نا یہ تو زندگی کا حسن ہے۔ تو اگر وضع دار جو ہے نا وہ ادیب ہی بناتا ہے آپ کو۔ صحیح ہے۔ تو میرے خیال میں یہ ہے کہ لوگوں کو جو ہے نا وہ اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے اصلی خزانہ تو وہی ہے۔ اب مجھے بتائیے نا کہ ادیب کے حوالے سے آپ نے بات کی اور ادیب جو ہے نا وہ معاشرے کا وہ ایک خاص اور خالصتہ فرد ہوتا ہے جو کہ بڑی زبردست طریقے سے چیزوں کو مولڈ کرتے ہوئے ہماری تک وہ چیزیں پہنچاتا ہے اور صحیح راستے پر اس کے کس طرح سے چلنا ہے اور کس طرح سے الگ الگ رنگینیوں کو لاتا ہے بلیک اینڈ وائٹ فریم کے اندر۔ مجھے یہ بتائیے گا کہ آج کا ادب بھی آپ دیکھ رہے ہیں اور پہلے کا ادب بھی جو ہے نا وہ آپ نے کتابوں میں بھی پڑھا خود بھی دیکھا تو کیا اب جو ادب لکھا جا رہا ہے شاعری کی صورت میں نثر کی صورت میں مختلف جو ہے اسناف ہیں اس کی صورت میں آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس میں کتنا فرق ہے اور کیا وہ اب اچھا لکھا جا رہا ہے یا درمیانہ ایوریج ہے۔ اصل میں نا جی میں نے ایک جگہ پہ لکھا ہے کہ کنویں کو معتبر ہمیشہ پیاس ہی بناتی ہے۔ ہائے ہائے ہائے ہائے۔ تو اب پیاسے لے رہے ہیں پیاسے نہیں رہے ادب آج بھی اچھا لکھا جا رہا ہے۔ لیکن جس کیفیت میں اس کو پڑھنا چاہیے وہ کیفیت اب کسی کے پاس نہیں ہے۔ کیا بات ہے۔ وہ وہ یہ موبائل کے اور سوشل میڈیا اور یہ اس کے چکروں میں پڑ گیا ہے۔ صحیح ہے۔ ایک ادب کو پڑھنے کے لیے کیفیت ہوتی ہے۔ صحیح ہے۔ اس کو پن ڈراپ سائلنس سائلنس میں پڑھنا چاہیے۔ اس کو رات کے پچھلے پہر پڑھنا چاہیے۔ اور وہ ادب اب بھی خوبصورت لکھ رہا ہے۔ لیکن جو ذوق جو ایک کیفیت ہونی چاہیے پڑھنے والے میں وہ اس کے پاس نہیں رہی۔ بالکل صحیح۔ اور وہ کہتا ہے جی ادب اچھا نہیں لکھا جا رہا ہے یہ نہیں ہو رہا حالانکہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ہم ادب اب بھی بہت اچھا لکھا جا رہا ہے۔ صحیح ہے۔ لیکن وہ قاری وہ نہیں رہا جو بانو آپا کے دور میں تھا جو اشفاق صاحب کے دور میں تھا جو ممتاز مفتی کے دور میں تھا۔ جو قدرت اللہ شہاب کے دور میں تھا ابن انشا کے دور میں جو قاری تھا۔ جو جس کیفیت میں وہ پڑھتا تھا جس کیفیت میں وہ رہتا تھا۔ اور جو ویلیوز کو جانتا تھا تو اب اب دیکھیں نا دیمک کو کیا معلوم کہ یہ جو لکڑی ہے یہ کبھی سرسبز درخت بھی تھا۔ اہا جس پہ پرندوں کے گھونسلے تھے۔ واہ۔ تو مسئلہ ادب کا نہیں ادب تو اب بھی اچھا لکھا جا رہا ہے شاعری اب بھی ہے عباس تابش صاحب کو دیکھیں۔ ان کی کیا خوبصورت شاعری ہے۔ بالکل صحیح ہے۔ تو لیکن اب پڑھنے والے نہیں رہے وہ اس وہ کیفیت نہیں رہی جس میں اس کو پڑھنا چاہیے۔ تو اب قاری جو نہیں رہا اب دیکھیں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس قاری نہیں ہے ہمارا پڑھنے والا ہی کوئی نہیں۔ اور جو ادب پڑھا جا رہا ہے وہ کسی گاؤں میں دور دراز علاقوں میں پڑھا جا رہا ہے۔ یہاں کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔ وہاں فرصت ہے۔ کیونکہ میں نے اب لکھا ہے نا کہ جو فاصلے دلوں کے ہوں یا زمین کے وقت کو کھا جاتے ہیں۔ واہ۔ تو یہ دونوں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ سبحان اللہ واہ۔ شہروں میں اتنے فاصلے بڑھ گئے ہیں کہ اب وہ وقت کو کھا گئے ہیں۔ اور جب وقت کھایا جائے گا تو پڑھنے کے لیے وقت کہاں سے ائے گا؟ کہاں سے ائے گا؟ بالکل صحیح۔ مجھے یہ بتائیے گا جب ہم وقت کی جو ہے وہ رفتار کو دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو دیکھتے ہیں اور آج کے ادب کو بھی دیکھتے ہیں میں نے بڑی خوبصورت بات کی مجھے لگتا ہے کہ میں کہیں یہ پڑھ رہا تھا اور مجھے یہ چیز سمجھ لگ گئی اس وقت کہ ادب کے ساتھ کیوں اس طرح ہو رہا ہے پڑھنے والے مشکل سننا چھوڑ چکے ہیں اسی وجہ سے شاید لکھنے والوں نے مشکل لکھنا چھوڑ دیا۔ اتنا اتنی بھاگ دوڑ میں ہمیں کہیں نہ کہیں سکون کی تلاش ابھی بھی رہتی ہے ظاہر سی بات ہے ہماری باڈی کی نیڈ ہے ہماری روح کی نیڈ ہے۔ ہمیں باقی کوئی کام کرنا ہے تو اس کے لیے امن چاہیے ہمارے معاشرے میں امن کہیں ہمیں نظر نہیں آ رہا ہے اس کی کئی صورتحال ہیں ہم اس پہ بات نہیں کرتے لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ امن کی ڈیفینیشن کیجیے گا۔ اور امن کیا ہے اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ اصل میں امن جو ہے وہ رائے کے احترام کا نام ہے۔ ہا ہا۔ اور ہمیں اور جو رائے کا احترام کرتا ہے اس کو اس کو اللہ نے ایک چیز خوبصورت عطا کی ہوتی ہے فہم۔ صحیح ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگلا میرے مخالف نہیں ہے مجھ سے مختلف ہے۔ ہمم۔ تو اللہ نے تو ایک گلدستہ پیدا کیا ہے نا کوئی کس کلر کا پھول ہے کچھ کس کلر کا کچھ اونچا ہے کچھ نیچا ہے لیکن اب وہ گلدستہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ بالکل ایسے ہی ہے۔ تو ہم رائے کا احترام جو ہے نا وہ امن ہے۔ اور میں نے پہلے بھی کہا کہ امن جو ہے اگر امن نہیں ہو گا تو جنگیں ہوں گی اور جنگیں جو ہیں وہ یتیم پیدا کرتی ہیں اور یتیم جو ہیں ان کو بھوک کی ڈائن یتیموں کو کھا جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ سر ادیب پہ بات ہوئی ادب پہ بات ہوئی میرے ذہن میں سوال ا رہا ہے کہ چونکہ ہم میں بھی چھوٹا سا لکھاری ہوں ہمیں بھی پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارے کیا فرائض ہونے چاہیے اچھے ادب کو پروان چڑھانے کے لیے ادب میں اچھا نام بنانے کے لیے تاکہ کوئی ادب پڑھے تو رغبت حاصل کرے اس جانب بھی ائے۔ تو ایک جو ادیب کا فرض ہونا چاہیے بیسکلی وہ کیا ہونا چاہیے۔ دیکھیں وہ آپ کے اخلاقی وجود کی تعمیر کرتا ہے۔ صحیح ہے۔ یہ ادیب کا کام ہے کہ وہ آپ کے اخلاقی وجود کی تعمیر کرے۔ ٹھیک ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تو ادب بیسکلی حسن کا انکشاف کرتا ہے۔ اور ادیب اس جو اس انکشاف کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ کیا بات ہے۔ نیکی کیا ہے؟ خوبصورتی ہے۔ بدی کیا ہے؟ بدصورتی ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ چیز آپ نے لینی ہے یہ خوبصورت ہے۔ اور خوبصورت کو پسند جو سب سے خوبصورت ہے۔ بے شک۔ وہ اللہ ہے۔ صحیح ہے۔ تو اس کو اس کا دوسرا یہ کام ہے دیکھیں دنیا میں کوئی بھی ٹیلنٹ ہے۔ جی ہاں۔ آپ کو لکھنے کا ٹیلنٹ ملا ہے۔

[28:50]یہ بیسکلی ایک پھائی ہے۔ آپ نے کبھی ہم گاؤں میں ہوتے تھے تو ہم نا ایک پھائی لگائی ہوتی تھی وہ ٹوکری کے ساتھ ایک رسا باندھ کے اور ایک سٹک ہوتی تھی اور اس پہ نا کچھ دانے جو ہے نا بکھیرے ہوتے تھے۔ پرندے آتے تھے تو ہم وہ جب وہ ٹوکری کے نیچے جاتے تھے نا تو ہم کھینچتے تھے اور وہ پرندہ اس کے نیچے آ جاتا تھا ہم پکڑ لیتے تھے۔ صحیح ہے۔ یہ جو ٹیلنٹ ہے نا بیسکلی یہ پھائی ہے۔ ہمم۔ اللہ نے آپ کو دی ہے۔ اب کیا اب آپ نے کیا کرنا ہے کہ یہ جو بندہ آپ سے لوگ اٹریکٹ ہوں گے۔ صحیح ہے۔ آپ اچھا لکھتے ہیں آپ کے پاس آپ کے فالور ہوں گے آپ کے پاس آئیں گے۔ اب آپ نے کیا کرنا ہے کہ اس پھائی کی طرح آپ نے ان کو بتائے بغیر اللہ اور اس کے رسول کی غلامی کے ٹوکرے میں ڈال دینا ہے۔

[30:00]کیا بات ہے۔ اللہ خزانہ ہے سب سے بڑا خزانہ ہے۔ تو ان کو خزانے میں آپ نے بھیجنا ہے نا کہ یہ خزانہ لے لیں۔ تو یہ ادیب کا بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اللہ سے ملاتا ہے وہ پل کا کام دیتا ہے۔ صحیح ہے۔ وہ مخلوق اور خالق کے درمیان پل ہے۔ واہ۔ وہ کہتا ہے کہ دیکھو اصل زندگی یہ نہیں ہے جو آپ گزار رہے ہیں۔ اصل اس کے ساتھ جو تعلق ہے وہ زندگی ہے۔ تو وہ آپ کو اللہ کے ساتھ جوڑتا ہے جو جس کا جو اس کائنات کا سب سے زیادہ ویل وشر ہے یعنی جو آپ کا سب سے زیادہ ویل وشر ہے ہمارا رب العزت ہے۔ تو رب کی رب کی ریڈ لائن کیا ہے؟ کبر۔ ہا ہا۔ تکبر رب کی ریڈ لائن ہے۔ خدا کے لیے اس سے بچ جائیں۔ آپ 100 دفعہ بھولیں گے 100 دفعہ اللہ آپ کو واپس لے ائے گا لیکن ریڈ لائن کے قریب بھی نہیں جانا۔ ہمم۔ کبر جو ہے یہ رب کی ریڈ لائن ہے۔ وہ اس کے سوچے بھی نہ۔ کیونکہ یہ یہ اس کی ریڈ لائن ہے۔ اس کو جس نے کراس کر لیا پھر اس کی واپسی نہیں ہے۔ اللہ اللہ۔ تو خدا جس کو عاجز کرنا چاہتا ہے اسے عاجزی چھین لیتا ہے۔ واصف کہتے ہیں کیا خوبصورت بات ہے۔ کہ رب جس کو عاجز کرنا چاہتا ہے اسے عاجزی چھین لیتا ہے۔ اللہ اکبر۔ اور عاجزی ایسی چیز ہے جو رب کے پاس نہیں اور رب کو سب سے زیادہ اٹریکٹ کرتی ہے کہ جو عاجز بندہ ہوتا ہے۔

[31:30]کیا بات ہے۔ تو رب کی ریڈ لائن پہ نہیں جانا۔ وہ تکبر ہے۔ اور کبر جو ہے یہ علم کا فل سٹاپ ہے۔ جہاں آپ کے اوپر کبر آیا تکبر ہوا علم رک جاتا ہے وہ فل سٹاپ ہے کہ آپ ایک لفظ نہیں پڑھ سکتے۔ لفظ نہیں سمجھ سکتے۔ اور یہ رب کی چادر ہے۔ جو اس کی چادر کو ہاتھ ڈالے گا ہو ہو ہو تو یہ اس کی ریڈ لائن کبر ہے۔ رب کی ریڈ لائن۔ تو رب کو پایا کیسے جا سکتا ہے۔ دیکھیں میں نے تو رب کو اس حوالے سے جاناں ماں کے حوالے سے۔ ہا ہا۔ کہ جتنی خوبصورت ہستی اللہ نے پیدا کی ہے ماں۔ اور وہ خود کتنا خوبصورت ہو گا۔ میں نے نا بڑی میری ماں کی نا بڑی ہاتیں رب سے ملتی تھی۔ آئے ہائے ہائے۔ وہ مجھے بغیر کسی وجہ کے معاف کر دیا کرتی تھی۔ آئے ہائے ہائے۔ یہ رب کی عادت ہے۔ اچھا میری ماں کی ایک عادت تھی وہ نا گھر میں نا پوٹلیاں بنا کر رکھتی تھی۔ مثلا ہمارے گھر میں چینی ہے نمک ہے ماچس ہے مطلب ایک تو چل رہا ہے کچن میں۔ ایک اس نے نا پوٹنیاں بنائی ہوتی تھی۔ بعض دفعہ یہ ہوتا تھا کہ یہاں سے ختم ہو گئی رات کا وقت ہے مہمان آ گئے ہیں۔ تو ہم کہتے تھے کہ وہ مہمان آ گئے ہیں تو چینی نہیں ہے۔ کہتی تھی کوئی بات نہیں وہ جا کے اپنے سامان سے ڈھونڈتی تھی کسی تو وہ پوٹلی نظر آ جاتی تھی کہتی بیٹا یہ چینی پڑی ہوئی ہے۔ صبح لے ائیں گے اب تو کریں۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript