[0:07]خواتین و حضرات پلیٹ فارم ہے لاؤڈ سپیکر ود ڈاکٹر عمر عادل اور اپ سے مخاطب ہے ڈاکٹر عمر عادل۔ اپ سب اب میری فیملی کا حصہ ہیں اپ سے ملاقات ہوتی ہے اپ سے باتیں ہوتی ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ مجھے نہ صرف جینے کا سہارا ملا ہے بلکہ اس طرح جینے کا سہارا ملا ہے جس طرح میں جینا چاہتا ہوں یعنی کہ سچ بول کے حق کے ساتھ کھڑے ہو کے اور کسی قسم کی کوئی ترغیب، کوئی لالچ کوئی لفافہ قبول کیے بغیر۔ اگر اپ کو شک ہے تو اپ جہاں سے چاہیں وہاں سے میرے متعلق پتہ کر لیں اج کل دور ہی صحافی کا نہیں ہے۔ لفافی کا ہے اور یہ اپ سب جانتے ہیں اور ماشاءاللہ یہ لفافے جو تنخواہ کی صورت میں پاکستان ٹیلی ویژن رپورٹرز کو اور انتہائی نیچے درجے کے صحافیوں کو دے رہا ہے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ خواتین و حضرات یہ لفافی ہر جگہ موجود ہیں۔ ہر جگہ بولتے ہیں اور خاص طور پہ جب یہ اپنے لفافے کو وصول کرنے کے بعد اپنا منہ کھول کے کوئی چیز میڈیا پہ لے کر اتے ہیں تو ان کو جس قسم کے کریٹیسزم کا سامنا ہے۔ جتنی گالیاں ان کو پڑتی ہیں جتنی لعنتیں ان کو پڑتی ہیں ان کے متعلق جو جو کہا جاتا ہے وہ واقعی سننے والا ہے اور یہ بتاتا ہے ہمیں کہ یہ ایک زندہ قوم کے مردہ ضمیر صحافی یا لفافی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ایسا واقعہ ہے جو کہ ہر ایک کی منہ ابھی حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پنجاب حکومت میں ہوا ہے۔ جو ہر ایک کی زبان پہ ہے میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا صرف دو لفظ ہیں جو میں بڑی احتیاط اور بڑے ادب سے کہنا چاہتا ہوں۔ دیکھیے جہاز لیا چلایا یہاں گیا سیر کی بیانہ پہنچا کھڑا رہا واپس ایا۔ اپ حکومت ہیں۔ اپ کو حق ہے کہ اپ جو مرضی کریں۔ مگر جب اپ سے سوال کیا جائے اور جوابدہی طلب کی جائے تو پھر اپ کو اپنا نیریٹو سچ پہ، فیکٹس پہ، حقائق پہ اور ثبوتوں کے اوپر بیس کرنا چاہیے۔ جو نیریٹو جھوٹ پہ، گمراہی پہ، فریب پہ اور دھوکے پہ مبنی ہوگا وہ بڑی جلدی بھاپ بن کر ہوا میں اڑ جائے گا اور رہ جائے گی صرف خجالت، شرمندگی اور یہ بات کہ اپ جھوٹ بولتے ہیں اور اپ سچ نہیں بولتے اپنے عوام سے۔ دیکھیے اب اس کا جو کاؤنٹر ہے وہ ایک اچھے کاؤنٹر نیریٹو کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا کاؤنٹر بی بی جی قطعا دھمکیوں سے نہیں ہوتا۔ تڑیوں سے نہیں ہوتا خوف دلانے سے نہیں ہوتا کہ اگر کوئی اب اس کے بارے میں بولے گا تو ہم اس کو اٹھا لیں گے تن دیں گے یہ کر دیں گے عدالتوں میں گھسیٹیں گے۔ دیکھیے بادشاہ ایک بات یاد رکھیے گا۔ عدالتوں میں کون گھسیٹا جائے گا اس کا فیصلہ اللہ تعالی کرے گا۔ اور جو اس کی عدالت ہے اس میں کون مجرم ٹھہرے گا صرف ملزم نہیں یہ بھی وہی جانتا ہے۔ میں اپ کو دست بستہ ایک عرض کروں چینج دا انٹائر میڈیا مینجمنٹ اف یور گورنمنٹ۔ یور میڈیا مینجمنٹ از ایٹ فالٹ۔ اس لیے کہ وہ میڈیا پہ میج نہیں کچھ کر سکتے اپ کے نیریٹو کو قطعا کسی اور بھی۔ اور دوسری بات میں نے اپ کو کہنی ہے جن تقریبا 200 لفافیوں کو اپ لفافے دے رہے ہیں اور بالکل دے رہے ہیں کائنڈلی ریویو کیجئے کہ کیا ان میں سے ہر کوئی لفافہ لینے کا حق ادا کرتا ہے؟ کیا اس کی کوئی سٹینڈنگ ہے امونگس دا اڈینس امونگس دا میسج امونگس دا پیپل اف پاکستان یہ وہ وقت نہیں رہا کہ جب ایک کنونشنل میڈیا تھا ایک نیشنل چینل تھا جس کے اوپر بیٹھ کر اپ جو نیریٹو ہمیں فیڈ کرتے تھے ہم چپ لیتے تھے اور اسے سچ سمجھتے تھے خیر سچ تو ہم تب بھی نہیں سمجھتے تھے مگر ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔ اب دیئر از پلورا اف ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کتنے ہی چینلز ہیں اس پہ ہر کوئی بیٹھ کے اپنا اپنا ویو پوائنٹ دے رہا ہے اور جس شخص کو جس شخص کا ویو پوائنٹ سچا لگتا ہے۔ ایماندارانہ لگتا ہے اس پہ یقین کرتا ہے۔ ایسے وقت میں یو نیڈ ا مچ مچ بیٹر میڈیا مینجمنٹ ٹیم جو کہ اپ کے ہاں ہے ہی نہیں اور دیکھیے وزرا کچھ بھی کہنے سے پہلے ایک جگہ بیٹھ کے پہلے ہدایت لیں کہ ہم نے کون سا ویو پوائنٹ، کون سا انالسز، کون سا جواب پیش کرنا ہے۔ تاکہ انہیں تھوک کے چاٹنا نہ پڑے اور دوسری ایک بات یہ ہے دلیہ نہ کیجیے۔ اپ کی ریسپانس پرامپٹ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ جب ریسپانس پرامپٹ نہیں ہوتی تب دل میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں جن کی وجہ سے افواہوں کا بازار گرم ہوتا ہے جن کی وجہ سے بقول اپ کے فیک نیوز چلتی ہے۔ چلے گی اگر اپ ایکچول ٹرو اکاؤنٹ نہیں دیں گے تو پھر اپ فیک نیوز کا گلہ کیوں کرتے ہیں میں اپ کو چھوٹی سی ایک مثال دوں کہ ایک محلے میں ساجدہ رہتی ہے۔ ساجدہ تقریبا ساڑھے چھ بجے گھر سے نکلی اور ایک بج گیا رات کا ساجدہ واپس نہیں ائی کسی نے اس کو واپس اتے نہیں دیکھا اور پھر دن گزرتے گئے اور چھ دن گزر گئے ساجدہ واپس نہیں ائی۔ پھر ایک دن دوپٹہ اوڑھ کے واپس اگئی۔ ان چھ دنوں میں ساجدہ کے کردار کے متعلق اس کے گھر چھوڑنے کے متعلق اس کے کہاں جانے کے متعلق اس کے ساتھ جانے کے متعلق چھ دن کس کے ساتھ رہنے کے متعلق اور کن حالات میں واپس انے کے متعلق پورا محلہ اپنا اپنا ایک اکاؤنٹ سنا سکتا ہے۔ اس کا اپنا اپنا ایک نیریٹو ہوگا اپنا اپنا ایک ویو پوائنٹ ہوگا۔ اس لیے کہ ساجدہ نے چھ دن تک بتایا ہی نہیں کہ وہ کہاں ہے کس کے ساتھ ہے کیوں گھر سے نکلی اور کن حالات میں واپس ائی۔ اگر ساجدہ ساڑھے چھ بجے گھر سے جاتے ہوئے محلے والوں کو یہ بتاتی کہ میری بہن کی طبیعت بہت خراب ہے۔ اس کا پسرور کے اندر اپریشن ہے میں اس کے بچوں کو دیکھنے کے لیے چھ دن پسرور جا رہی ہوں اور چھٹے یا ساتویں دن واپس ا جاؤں گی۔ تو کیا کوئی اس کے بارے میں بات کرتا؟ ساجدہ نے پہلے دن اگر بتایا ہوتا کہ میں کہاں جا رہی ہوں اپ نے بھی اگر پہلے دن یہ بتایا ہوتا تو سٹوریز بریک کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ملک کے باہر سے اور یہ سب گند نہ پڑتا۔ لسن ٹو می کائنڈلی بار بار بار بار اور پھر ایک دم غصہ چڑھا لینا اور اتنے غصے میں اتنے سخت الفاظ میں جمہوری حکومت ہونے کے ساتھ اپ کا یہ کہنا کہ تڑیاں دینی اور دھمکیاں دینی اور اپ کی دھمکیاں خالی نہیں ہیں یہ گیدڑ بھپکیاں نہیں ہیں۔ میں وکٹم ہوں اپ کی دھمکیوں کے نتیجے کا میں زندگی بھر نہیں بھلا سکتا کہ این سی سی ائی اے وغیرہ ہمیں کیوں اٹھاتے تھے کس سے کہنے پہ اٹھاتے تھے کس کی ڈائریکشن پہ اٹھاتے تھے۔ خواتین و حضرات این سی سی ائی اے تو نہیں رہا یا اس کے کچھ لوگ نہیں رہے مگر ماشاءاللہ ایک پوری کھیپ ہے جو ان کو ریپلیس کرے گی اور ان سے بھی زیادہ اپ کو کارنامے دکھائے گی اور بھول جائے گی کہ اللہ تعالی کیا انجام کرتا ہے ظالموں کا۔ خیر میرا پروردگار قائم ہے اور وہ ہمیشہ بتاتا رہے گا کہ ظلم کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے تو کائنڈلی بہتر یہ ہے کہ امپروو یور نیریٹو غلط تصویریں دیکھ کے جس میں موسم کے مطابق کپڑے نہیں پہنے ہوئے اپ نے مزید جگ ہنسائی مول لی ہے۔ ایک اخری بات کہوں وائی ڈونٹ یو فالو دیٹ لیڈیز شائلہ رانا نیریٹو اور ان کا سٹائل کیوں نہیں اپناتے ا کے کہتے ہماری مرضی ہے طیارہ ویانہ گیا۔ یہ طیارہ ویانہ دی جگہ سین فرانسسکو چلا جانا تے تسیں کی کر لیندے کیا عمدہ دس از دس از دا شائلہ رانا ڈاکٹرائن وچ ائی لو پھر سے ریپیٹ کروں شکر کرو طیارہ ویانہ گیا ہے۔ یہ سین فرانسسکو چلا جانا او اخری کونے تے ویسٹ کوسٹ اف امریکہ تے تسیں کی کر لیندے واہ دس از دا بیسٹ ڈاکٹرائن اپ بھی غور کیجئے میں غلط تو نہیں کہہ رہا خواتین حضرات اپ کہیں کہ ڈاکٹر عمر اپ تم کیا فضول باتیں کر رہے ہو کس چیز میں پھنسنا چاہتے ہو؟ اپ نہ پھنسے میں صرف ایک اچھا مشورہ دے رہا ہوں۔ میں میڈیا مینیجرز کو چینج کرنے کی بات کر رہا ہوں میں لفافیوں کی جگہ بہتر لوگوں کو لانے کی بات کر رہا ہوں اور جس قسم کا پھر وہ تبصرہ کرتے ہیں یقین کیجئے اپ میں سے تمام لوگ جا کے اپنے اپنے فیس بک پہ یوٹیوب پہ دیکھیے کہ رسپانس کیا ہے۔ اس کے بعد خود فیصلہ کیجیے کہ جن کی باتوں پہ ایسی لعنتیں ہیں ایسی لعنتیں ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی وزن ہے وہ سروس کر رہے ہیں یا ڈس سروس کر رہے ہیں باقی اللہ کو جو منظور ہے ہمارے ملک کے ساتھ ہوگا ہمارے صوبے کے ساتھ ہوگا اور میرا محافظ میرا اللہ ہے۔ میرے ساتھ کوئی بھی شخص جو کچھ کرنا چاہے گا میری جان اس کے بن جائے قدرت میں ہے۔ اس پہ جو ظلم ہونا ہے وہ بھی اس کے حکم سے ہونا ہے۔ جس دن مجھے اخری سانس انی ہے وہ اس کی مرضی سے انی ہے۔ اگر میری جان حق کہتے ہوئے انی ہے تو بسم اللہ مجھے یہی قبول ہے جن کو میں مانتا ہوں وہ بھی اسی طرح شہادت کا جام پی گئے تھے۔ ائیے تھوڑا سا ذکر کریں ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل اور ان کے پٹھوں کی جنگ کے بارے میں کچھ کہیں خواتین و حضرات جنگ میں بہت سا کولیٹرل ڈیمج ہوتا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ جنگ میں فوجیں تو لڑنے مرنے کے لیے جاتی ہیں مگر شہری جنگ کا حصہ نہیں ہوتے۔ میں ابھی تک ایران کی تمام کاروائی دیکھ رہا ہوں امریکہ کی بکھلاہٹ دیکھ رہا ہوں اور اسرائیل کی جارحانہ وحشیانہ دہشت گردی دیکھ رہا ہوں۔ اور دیکھ تو اور بھی بہت کچھ رہا ہوں مگر اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں ہے۔ ایک چیز جو مجھے بے انتہا پریشان کیے ہوئے بلکہ دہلائے ہوئے ہے۔ وہ 165 تابوت ہیں جس میں ایران کے ایک اسکول کی سات سال سے لے کر 12 سال کی بچیاں شامل تھیں۔ جب ان کے لاشے اس میزائل حملے کے بعد ان کے اسکول کی کلاس رومز اور اس کے صحن سے اٹھائے جا رہے تھے اور یہ یاد رکھیے گا کہ یہ میزائل داغا تھا اسرائیل نے۔ ان کے لاشوں میں سے ایک بچی کی بھی لاش مکمل نہیں تھی۔ ایک بچی کی بھی لاش مکمل نہیں تھی۔ ایسا ظالم میزائل یا میزائل داگے گئے تھے کہ پوری اسکول کی عمارت کی چھت گر گئی دیواریں گر گئیں اور اس کے نیچے دب گئیں۔ 165 بچیاں جنہوں نے جامع شہادت اسی وقت قبول کیا۔ اس کے علاوہ 90 بچیاں اور ہیں جو بری طرح زخمی ہوئیں، مظلوم ہوئیں اور یقینا اللہ ان کی حفاظت کرے مگر ان میں سے بھی بہت ساری بچیاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی جان ہار دیں گی۔ خواتین و حضرات ان جنازوں کو دیکھ کر کوئی انسان ہوگا کوئی انسان ہوگا جو دہل نہ جائے۔ پھٹی ہوئی کٹی ہوئی نامکمل لاشیں مسلمان بچیوں کو دیکھ کر مسلمانوں کا دل نہیں پسیجا تو باکیوں کا کیا پسیجے گا۔ اس سلسلے میں میں انتظار کر رہا ہوں کئی دنوں سے ان بچیوں کے تابوت ان کی لاشوں کے ٹکڑے سمیٹ کے بھر دیے گئے۔ ان کی کاپیوں سے ان کے بیگوں سے جو کٹی ہوئی ان کی کاپیاں جو جلے ہوئے بیگ پڑے تھے اس میں سے نام لے لے کر ان کی لاشوں پہ لگا دیا گیا۔ کیوں کئیوں کے سر ہی نہیں تھے کئیوں کے جسم اتنے مسخ ہو چکے تھے کہ پہچاننا ناممکن تھا۔ اور وہ ایک پورے بڑے ٹریلر پہ رکھ کے ان کو دفنانے کے لیے لے جایا گیا۔ ان کی ایک ایریل شارٹ ہے جو یہاں میرے لگائیں گے ایڈیٹر صاحب اور اپ بھی جو صاحب اولاد ہیں اور جن کی اپنی بیٹیاں ہیں۔
[12:18]ایک دفعہ سوچیے کہ کیا وہ مسلمان بچیاں اپ کی بچیاں نہیں ہیں؟ ائیے اب میں ذکر کروں کہ میں نے یہ ذکر کیوں کیا ہے۔ ایک چیمپئن ہے پوری دنیا میں ایک چیمپئن ہے ایک عورت جو کہ مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پوری دنیا کی ہیروئن ہے۔ اور اپ کی بھی ہیروئن ہے مجھے اس سے شدید شدید نفرت ہے کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس کا اصل کیا ہے وہ ایک کٹھ پتلی ہے اور اس کٹھ پتلی کی تنبیں جن کے ہاتھوں میں ہیں وہ صرف مسلمانوں کے نہیں اسلام کے نہیں بلکہ خدا کے بھی خلاف ہیں۔ ائیے تھوڑا سا اپ کو میں بتاتا ہوں کہ میں کس کا ذکر کر رہا ہوں یہ مسلم لڑکیوں کی ایجوکیشن کی بہت بڑی ایمبیسیڈر چیمپئن لیڈر اور ایڈوکیٹ کوئی اور نہیں ہیں سوات کی گل مکئی ہیں۔ جن کو اپ ملالہ یوسف زئی کے نام سے یاد کرتے ہیں اور جن کی محبت میں ہاپکتے پڑتے اپ کو سانس نہیں اتی اور جن کو پاکستان انے پہ جو اعزاز ممکن ہے وہ اپ دیتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ تھوکتی ہیں اپ کے منہ پہ اور اس ملک یا اس علاقے میں ا کے دو دن نہیں گزارنا چاہتی ہیں۔ ارے ان کی جو گلیمرس زندگی اب انگلینڈ میں ہے جو امریکہ میں ہے جو دنیا جہاں میں ہے جتنا ان کو اربوں روپے کا ابھی تک فنڈ مل چکا ہے جتنے اعزازات مل چکے ہیں اعزاز کی بات اپ کو کروں تو خدا کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ برا نہ مانیے گا کہ جو نوبل پیس پرائز ملالہ کو ملا تھا۔ یقین کیجیے اسی روایت کو فالو کرتے ہوئے نوبل پیس پرائز ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ملنا چاہیے۔ کہیے ہاں کیوں نہیں اس میں کیا برائی ہے بہر طور مبارک ہو پاکستانیوں کہ تمہارے ہاں ایک لڑکی کو کوئی نوبل انعام تو ملا اور وہ ہے نوبل پیس پرائز۔ اور یہ بھی میں اپ کو بتا دوں کہ پاکستانیوں کو صرف دو نوبل ایوارڈز ملے ہیں میں اس کا ذکر بھی کروں گا کیوں کہ وہ دونوں لنکڈ ہیں۔ خواتین و حضرات ائیے تھوڑا سا میں اپ کو ملالہ کے بارے میں بتاؤں ملالہ کا باپ اس کا نام ہے ضیاءالدین یوسف زئی یہ ایک خوشحال اسکول کے نام سے اسکول وغیرہ چلاتا تھا۔ ملالہ پڑھتی تو اسکول میں تھی لیکن اپ لوگوں کو جس بات کا بہت کم پتہ ہے کہ ملالہ بی بی سی کے لیے بلاگز کرتی تھی۔ ملالہ ایک خاص قسم کی ڈرائنگز بناتی تھی جو کسی کے کہنے پہ بنائی جاتی تھی۔ ملالہ کے بلاگز کے اندر جو باتیں ہوتی تھیں وہ فیڈ کی جاتی تھیں اور فیڈ کون کرتا تھا؟ سوات میں ایک سی ائی اے ایجنٹ تھا میں اپ کو اس کی تصویر بھی دکھا دوں گا باپ اور بیٹی کے ساتھ اس سی ائی اے ایجنٹ کے بہت کلوز روابط تھے تو جو نیریٹو تھا وہ سب سی ائی اے کا تھا یا بی بی سی کا تھا ان کو فیڈ کیا جاتا تھا۔
[15:06]ظاہر ہے کہ طالبان اس چیز سے خوش نہیں تھے۔ میرا نہیں خیال کہ طالبان لڑکیوں کی ایجوکیشن کے خلاف ہیں میرے خیال ہے وہ مخلوط ایجوکیشن کو ایجوکیشن کے خلاف ہیں بہرحال میں ان کو اتنا نہیں جانتا لیکن اس کے بارے میں نہیں کہنا چاہتا۔ ظاہر ہے کہ جب حملہ ہوا تو ان کو پتہ تھا کہ یہ لڑکی گل مکئی ہے یہ ایسی باتیں کرتی ہے ہمارے خلاف باتیں کرتی ہے۔ ہمارے خیالات اور ہمارے مذہب کے خلاف باتیں کرتی ہے اس کو گولی مارے گی جو اس کو لگ گئی۔ صرف اس کو نہیں لگی ملالہ ایک واحد مضروب یا زخمی لڑکی نہیں تھی اس حملے میں۔ ملالہ سے بھی زیادہ زخمی ایک اور لڑکی تھی جس کا نام ہے شازیہ۔ کبھی نام سنا ہے اپ نے شازیہ کا کبھی سنا ہے اپ نے نام شازیہ کا؟ شازیہ کولیٹرل ڈیمج تھی اس ہیروئن کی تو اس لیے جو سائیڈ ہیروئن ہوتی ہے اس کو کبھی ہیرو نہیں ملتا نہ اس کی چرخیاں چلتی ہیں اینڈ کے اوپر اس کو اسی طرح زخمی اسکول میں چھوڑ دیا گیا۔
[16:07]شی واز مچ مور انجرڈ دین ملالہ ہرسلف ملالہ ڈڈ سفر ا ہیڈ انجری بٹ سمتھنگ دیٹ شی کمپلیٹلی ریکورڈ فرام اج بھی شازیہ معذور لڑکی کسی ایسی ایجنسی کا انتظار کر رہی ہے کہ جس کے کہنے پہ وہ ایک پپٹ کی طرح ناچتی مگر افسوس شازیہ نے گولی کھائی کچھ اور نہیں کھایا لقما حرام نہیں کھایا۔ لہذا اس کو وہیں زخمی چھوڑ دیا گیا وہ اج بھی سوات میں موجود ہے اور حسرت سے دیکھتی ہے کہ جس کے ساتھ میں نے گولی کھائی اس کو نوبل انعام مل گیا اور مجھے کیا ملا؟ ایک گھٹیا سا چھوٹا سا نکل کا بنا ہوا میڈل بھی نہ ملا میں نے بھی تو لڑکیوں کے اسکول میں اپنے جسم کو زخمی کیا مگر نہیں شاید اس کا جسم اور اس کے جسم میں زمین اسمان کا فرق تھا جو جسم تھا جو کھوپڑی تھی ملالہ کی وہ سونے کی بنی ہوئی تھی اور اس بیچاری کی شاید نکل کی یا گلٹ کی بنی ہوئی تھی یا اس سے بھی سستا اگر کوئی دھات ہے تو اس سے بنی ہوئی تھی۔ بہرحال ملالہ وہ واحد ایسی بچی ہے جو پاکستان میں دہشت گردوں کے یا طالبان کے ہاتھوں زخمی ہوئی اور جس کو ایئر ایمبولینس پہ اڑا کے برمنگھم لے جایا گیا۔ برمنگھم لے جا کے اس کا لاکھوں نہیں بلکہ میرے خیال میں کروڑوں سے بھی زیادہ پاؤنڈز یا روپے لگا کے علاج کیا گیا جہاں تک مجھے پتہ ہے ایکچولی ورکڈ ان برمنگھم ایز ویل جس ہسپتال میں یہ ہوا وہ کیو ای ٹو ہے اور وہاں پہ پلاسٹک سرجریز اور ریپیئرز اور یہ اور وہ تقریبا ان کے 19 اپریشن نہ جانے کس نے فنڈ کیے۔ فنڈ تو کسی نے کیے ہوں گے یہ پیسہ ان کی فیملی بھی وہاں چلی گئی اور فیملی ایک تو بندے نہیں ہیں ان کے والد ہیں ضیا ان کی والدہ ہیں دور پکئی اور اس کے دو چھوٹے بھائی ہیں چاروں اپ کو پتہ ہے انگلینڈ میں رہنا کیا معنی رکھتا ہے اور کون سے فنڈ کر سکتا ہے۔ بہر طور مہینوں یہ علاج ہوتا رہا پھر ایک وقت ایا کہ جب انہوں نے یہ سوچا کہ اس کی نرو گرافٹنگ ہونی چاہیے نرو ریپیئر ہونی چاہیے اور لیٹس سی کہ اگر ہم اس کی ڈیمج نروز کو ٹھیک کر سکیں۔ خواتین و حضرات میں ایک ٹراما سرجن ہوں میرے خیال میں سب سے نازک کام کٹی ہوئی یا ڈیمجڈ نروز کو جوڑنا ہے نرو گرافٹ کرنا ہے یا نرو ریپیئر کرنی ہے۔ تاکہ وہ پھر سے اپنا فنکشن ادا کر سکیں اس کے لیے دنیا کے سب سے مہنگے سرجنز کو بلایا گیا انہوں نے ا کے اسی فنڈ میں سے جو اس کو مل رہا تھا اپنی فیس دے کے یہ اپریشن کیا۔ شروع میں ملالہ کو اگر اپ دیکھیں تو اس کا کچھ برین کا حصہ تو ڈیمج تھا مگر فیشل نرو اینڈ نرو اف دا فیس ڈیمجڈ تھوڑا سا منہ ٹیڑھا ابھی تک ہے مگر صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اتنی وی ائی پی ٹریٹمنٹ کسی پاکستانی بچے عورت یا مرد کو نہیں ملی جو کہ ملالہ کو ملی بیکاز شی واز دا چوزن ون۔ اس پورے قصے کے دوران ملالہ کو ایک سمبل کے طور پہ ایک ایسے سمبل کے طور پہ جو مسلمان لڑکیوں کی ایجوکیشن کو بہت اہم سمجھتی ہے اور اس کی ڈائری کو ایک نیریٹو کے طور پہ پیش کیا جانے لگا۔ ملالہ نے ایک دم اور اس کی فیملی نے سوچا کہ ہم نے یہیں پہ رہنا ہے ویسٹ میں ہم نے پاکستان جیسے ملک میں نہیں جانا۔ خواتین و حضرات ملالہ کو ملنے کے لیے ہسپتال میں اپ کے صدر زرداری صاحب اپنی بیٹی فرسٹ لیڈی اف پاکستان اصفہ بھٹو کو لے کے پہنچے۔ اس ملاقات کی ایک وجہ تھی۔
[19:33]وہ یہ چاہتے تھے کہ اگر انہوں نے پولیٹیکل اسائلم لے لیا برٹن میں تو پاکستان کی بہت تھوڑی تھوڑی ہوگی۔ تو انہوں نے یہ سمجھایا کہ پلیز پولیٹیکل اسائلم نہ لیجیے گا پاکستان واپس ا جائیے گا ان کی کوشش بری نہیں تھی مگر جن لوگوں کی سپورٹ انہیں حاصل تھی ان کا کام ان کا ڈرامہ پورا ہونا تھا اگر ملالہ دوبارہ ا کے اس سوات کے کسی اسکول میں داخل ہو جاتی اور چپ کر جاتی قطعا نہیں۔ پھر ان کو افر کیا گیا پاکستان کی حکومت کی طرف سے کہ اچھا اپ یہیں رہیں مگر ایسے کرتے ہیں کہ برمنگھم میں جو قونسلیٹ ہے پاکستان کی وہاں اپ کو ایک بھاری تنخواہ جو کہ ماہانہ 10 ہزار پاؤنڈ تھی۔ ایک بھاری تنخواہ پہ اپ کو رکھ لیا جاتا ہے تاکہ اپ ارام سے یہاں رہیں پاکستانی رہیں اور اپ پاکستان کے ایک سفارت کار کے طور پہ رہیں۔ مگر ایک اپ کو بات بتاؤں 10 ہزار پاؤنڈ واز پینٹس فار دا یوسف زئی فیملی پینٹس اس لیے کہ ان کے سپانسرز ان کے فائننسز اس سے کہیں زیادہ ان کو دے رہے تھے۔ اور ایک اپ کو میں بات بتا دوں کہ ون اف دا بگسٹ سپانسرز اف ملالہ اینڈ ہر فیملی واز نن ادر دین قادیان سینٹر ان لندن اینڈ اوبیسلی قادیان سینٹر ان ٹیلویو۔ اپ کہیں گے قادیان سینٹر کیا ہے یہ وہی سینٹر ہیں جو قادیانی جو کہ ایک اقلیت نہیں ہے پاکستان میں صرف بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ ان کے قائم کیے ہوئے سینٹر ہیں جن کے پاس کروڑوں ڈالر ہوتے ہیں اور جو اپنے مقصد کو اگے بڑھانے اور اسلام کو ذلیل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اپ کو چاہیے ثبوت کہ ڈاکٹر صاحب ائیے میں اپ کو بتاؤں ملالہ نے ٹھیک ہونے کے بعد ایک کتاب لکھی ائی ایم ملالہ کتاب قطعا ملالہ نے نہیں لکھی ہوئی۔ خواتین و حضرات اپ کو اج میں یہ بتا دوں کہ یہ کتاب کسی گوسٹ رائٹر نے بھی نہیں لکھی ہوئی یہ ایک بہت مشہور جرنلسٹ اور ایک بہت مشہور اتھر ہیں جو کہ اپنے اینٹی اسلامک نیریٹو کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ ان کا نام ہے کرسٹینا لیمب یہ اکسفورڈ کی پڑی ہوئی ہیں انگلینڈ میں رہتی ہیں اور اکثر ینگ والے علاقوں میں جاتی ہیں اور پھر ا کے کتابیں لکھتی ہیں۔ ان کو تقریبا ابھی تک 25 مختلف ایوارڈز مل چکے ہیں اور یہ ساری ویسٹرن حکومتیں ان کو بہت زیادہ پریز کر چکی ہیں اور بہت زیادہ سپورٹ کرتی ہیں۔ جب وقت ایا ملالہ کی کہانی لکھنے کے لیے تو انہوں نے کہا کہ ملالہ کیا خاک لکھے گی کہانی تو ہم نے بتانی ہے کہانی تو ہم نے سنانی ہے تو لکھیں گے بھی ہم تو کرسٹین لیمب کو ان کے پاس پہنچایا گیا انہوں نے چند بنیادی ڈیٹیلز پتہ کی اور کتاب لکھی اپنے مطلب کی۔ اپنی مرضی کی اور اس کو پوری انڈورسمنٹ ملی ملالہ سے کیونکہ وہ سب کچھ کہنے کے لیے ہی تو ملالہ کی زندگی کے اندر نوٹوں کی پاؤنڈوں کی ڈالر کی بارشیں ہونی تھیں اور بارش کی میں اپ کو بھی ثبوت دے دوں۔ اس کتاب کے مختلف صفحے ہیں جہاں اپ دیکھ لیجیے کہ قادیانیوں کے لیے بہت زیادہ سپورٹ ہے۔ مختلف صفحے ہیں جہاں اسلام کو بڑے طریقے سے رد کیا گیا ہے۔ مختلف صفحے ہیں جہاں پاکستانی افواج کو ذلیل کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی ہے بہت سے ایسے صفحے ہیں یہاں پہ سلمان رشدی جیسے ملعون کا ذکر ہے کہ جو گستاخ رسول نہیں مردود کو موت بھی ایسی ائی میں بتاؤں گا اپ کو اس کو موت کیسی ائی اس کی منو شکل مجھے یاد ہے اس زمانے میں میں انگلینڈ میں تھا جہاں سیٹینک ورسز ائی۔ اس کی یہ مشہور کتاب ہے جس میں اس نے میرے سرکار کے شان میں کچھ گستاخی کی۔ میں زندگی میں کبھی کسی جلوس میں نہیں گیا میں اس وقت چھوٹا تھا مگر میں تقریبا سات میل چل کے لندن کی سڑکوں میں اس جلوس میں نعرے مارتے ہوئے گیا جو اس مرتد اس ذلیل اس ملعون اس کیا میں کہوں اس کے خلاف نکالا گیا اینڈ ائی ایم سو پراؤڈ اف اٹ۔ میں کبھی کبھی سمجھتا ہوں جب سرکار سے ملاقات ہوگی تو میں کہوں گا سرکار میں چھوٹا سا تھا بہت ٹھنڈ تھی لیکن میں سات میل پیدل چلا تاکہ میں دنیا کو بتا سکوں کہ میں اپ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا گردن دبوچ سکتا ہوں۔ اور کیا کیا کر سکتا ہوں خیر اینی وے خواتین و حضرات یہ عورت اس کے حق میں بولتی تھی اس لیے اپنی کتاب میں بھی کہا کہ یہ تو فریڈم اف سپیچ ہے۔ گستاخ رسول کے لیے گستاخیاں کرنا اور میرے نبی پہ کوئی بھی گھٹیا الزام دھرنا فریڈم اف سپیچ ہے۔ اج نا ملالہ تینوں ملاواں اج حکومت پنجاب نال تینوں پتہ لگے فریڈم اف سپیچ کتنا ہے یہاں پہ تینوں لگ پتہ جائے مگر ابھی تم کہاں ہوگی بھائی کہاں پہ وہ ہالی ووڈ کا گلیمر اور بڑی بڑی پارٹیز اور ایکٹر سے ملنا ہر جگہ ٹی وی انٹرویوز میں بیٹھنا خواتین و حضرات دو تین لوگوں کا میں ذکر کرنا اس بلکہ تین لوگوں کا ذکر اور کرنا چاہتا ہوں۔
[24:30]جن کی بہت قربت ملالہ کے ساتھ ہے ایک خاتون ہے جو کہ بنگلادیشی ہیں ان کا نام ہے تسلیمہ نسرین کیا نام ہے تسلیمہ نسرین دنیا میں ان سے زیادہ فیمینزم کے نام پہ اینٹی اسلامک عورت کوئی ہے ہی نہیں ایک لفظ ہے اسلاموفوبیا اسلاموفوبیا اپ اسلامک ہیٹریڈ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلاموفوبیا کا مطلب ہے کہ اپ اسلام سے ڈرتے ہیں کیونکہ فوبیا ایک ڈر ہوتا ہے ڈرتے نہیں ہیں اپ اسلام کو ڈیمج کرنا چاہتے ہیں۔ اپ یقین کیجیے کہ جتنا ڈیمج تسلیمہ نسرین نے کیا ہے اسلام کو مسلمان پیدا ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں رہتی تھیں پھر ان کو بنگلہ دیش سے نکال دیا گیا پھر ان کو ویسٹ بنگال جو کہ انڈیا میں ہے وہاں سے نکال دیا گیا یہ انڈیا ا کے رہیں پھر ان کو سویڈن جانا پڑا تین دفعہ انہوں نے شادی کی تین شوہر پہ تینوں سے ان کو طلاق لے لی انہوں نے وغیرہ وغیرہ۔ ان کے بارے میں صرف اپ کو دو تین باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ ایک بات میں بہت مزے سے بتاتا ہوں کہ ایک دفعہ اس خاتون نے برقے کے خلاف اور عبائے کے خلاف اور پردے کے خلاف ایک مہم چلائی اور اس میں ہٹ کیا مشہور موسیقار اے ار رحمان کی بیٹی خدیجہ رحمان کو یہ واقعہ اپ کو بالکل نہیں پتہ ہوگا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں ڈاکٹر عمر عادل کا دیکھا کیجئے وی لاگ اس لیے کہ بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو شاید میں ہی اپ کو بتاؤں حالانکہ میں کیا چیز ہوں۔ خواتین و حضرات اے ار رحمان صاحب نے اسلام قبول کیا ہوا ہے دل و جان سے قبول کیا ہوا ہے۔ مجھے ان کی موسیقی سے زیادہ اور جو بہت ہی اعلی ہے ان کی ذات پسند ہے اللہ تعالی ان کو مزید استقامت دے زندگی دے صحت دے اور اچھے کام کرنے کی توفیق دے انشاءاللہ۔ ان کی بیٹی نے بھی اپنے باپ کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اسلام کو دل و جان سے قبول کیا بالی ووڈ کی انتہائی گلیمرس زندگی میں خدیجہ رحمان وہ لڑکی ہے جو پردہ کرتی ہے اور ابایہ لیتی ہے اور اتنی اچھی لگتی ہے یقین کیجیے اس کے بارے میں بلا پرووکیشن تسلیمہ نسرین کہنے لگی مجھے اے ار رحمان کا میوزک تو بہت پسند ہے۔ مگر جب میں خدیجہ کو دیکھتی ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرا سانس بند ہو رہا ہے وہ کالے رنگ کے کبائے کے اندر محصور ہے وہ کیجڈ ہے۔ وہ ایک پنجرے کے اندر بند ہے جسے ہم عبایہ کہتے ہیں قربان جاؤں۔ خدیجہ نے بہت پیارا جواب دیا انہوں نے کہا تسلیمہ خدا کے لیے اپنے بے سر اور بے ستر بدن کے ساتھ کھڑکی کھول دو یا باہر سڑک پہ چلی جاؤ اور لمبے لمبے سانس لو تاکہ تمہاری سفوکیشن ختم ہو اور تمہارا نظام تنفس چلتا رہے۔ ائی ایم ویری پراؤڈ اف واٹ ائی وی ہیو ایٹلی نو پرابلم ود اٹ اور نہ ہی میں کبھی اس میں اپنا اپ کو مقید محسوس کرتی ہوں اور بائی دا وے تسلیمہ میں نے تمہیں اپنی کون سی تصویر دیکھی تھی فار یور پیروزل اینڈ انسپیکشن جس کے بعد تمہارا سانس بند ہو گیا۔ در اصل ایسے لوگوں کا سانس بند ہو جاتا ہے اسلامی اقدار کو فالو کرتی ہوئی عورتوں کو دیکھ کے کیونکہ یہ جس فیمینزم میں بیلیو کرتی ہیں وہ ایک ایسا فیمینزم ہے جو ہمارے ملک میں بھی چند خواتین کے اندر ہے۔ خدا کی قسم میں اپ کو بات بتا دوں عورت دوپٹے کے بغیر ہو عبائے کے بغیر ہو یا ایک حیا کے بغیر ہو تو اس سے زیادہ گھٹیا جانور اور کوئی نہیں لگتا۔ ہمارے ہاں جب خواتین دوپٹہ یہاں بھی رکھتی ہیں سر پہ بھی لیتی ہیں عبایہ پہنتی ہیں تو احترام سے کسی بھی مسلمان ادمی کی انکھیں نہیں اٹھتیں میں اس کا بھی ابھی اپ کے سامنے ذکر کروں گا۔ خواتین و حضرات تسلیمہ نسرین بہت دوست ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کی اس کے بعد مجھے کچھ اور نہیں کہنا۔ اور انہوں نے ملالہ یوسف زئی کو ایک دفعہ یہ کہا تھا کہ ملالہ تم نے کیا کیا تم نے مسلمان شخص سے شادی کر لی ارے نہیں بھئی تم تو اکسفورڈ گئی تھی اتنا بڑا تمہارا فنڈ تھا اربوں روپے تمہیں مل رہے تھے تم تمہارے باپ کو مل رہے تھے تو کیوں تم نے وہاں پہ ایک اچھا انگریز نہیں پھانسا اور اس کے ساتھ شادی کی کمال مشورہ ہے نا۔ کہ اپ انتہائی کالونیل ہو گئے انتہائی ریسسٹ ہو گئے انتہائی اینٹی اسلام ہو گئے بہرحال ان کی دوستی اپنی جگہ قائم ہے اب ائیے ایک اخری فیملی کا ذکر کرتا ہوں جو ملالہ کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کی مرضی ہے مجھے بھی رائے زنی کا حق حاصل ہے۔ خواتین و حضرات ملالہ کو ملنے والے پاکستانی سیاست دانوں میں ایک نام ہے جو کہ ہے بلاول بھٹو زرداری۔ کئی دفعہ گئے اپنی بہن اصفہ کو ان کو بھی لے کے گئے۔ ایک دفعہ جا کے اپنی والدہ بے نظیر کی چادر ان کو پہنا دی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے موقع ہیں بحیثیت وزیر خارجہ بھی ان کو ملتے رہے۔ بڑی اچھی بات ہے شاید بلاول کو لگتا ہے کہ اس عورت کی شکل میں اسلام میں عورتوں کو ایک مقام ملے گا۔ ہمیں کسی ملالہ کی ضرورت نہیں ہے ہمارے عقائد ہمارے ایمان کا یہ حصہ ہے بلاول اپ کی تصویریں ار ایکچولی گوئنگ ٹو کم بیک اینڈ یو نو واٹ فارم ون دے کم بیک اینڈ ہٹ بیک اپ بہتر جانتے ہیں مجھ سے لیکن اس گھٹیا قوم کے سامنے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
[29:32]نہ ان کو یہ باتیں پتہ ہیں ائی ایم ریلی ریلی اینریجڈ بائے ون تھنگ میں غصے میں ہوں مسلمان ایرانی لڑکیوں کے تابوتوں پہ اگر ملالہ یوسف زئی دی چیمپئن اف فی میل ایجوکیشن اسلام کے منہ سے ایک لفظ ایک جملہ ایک مذمت نکلی ہو۔ تو میری گردن حاضر ہے مجھے پکڑ لیں یہ ہیں اپ کے سو کالڈ نوبل پیس لوریٹ اس پہ یقین کیجئے میرے منہ میں کتنی گالیاں ہیں لیکن میں نہیں دوں گا کیونکہ فورا ایک مقدمہ بن جائے گا ڈاکٹر عمر عادل پہ ڈیفمیشن اگینسٹ پاکستانی ومن ہیٹ سپیچ اگینسٹ پاکستانی وومن او بس کرو خدا کا واسطہ ہے دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ یہ مقدمے جھوٹے ہیں اپنے غصے کو بھی کنٹرول کریں میری طرح غصے کی بنیاد اپنے مذہب کو رکھیں۔ میری طرح غصے کی بنیاد اپنے رسول کو رکھیں۔ اس کی گستاخی کو رکھیں میری طرح غصے کی بنیاد اپنے رب کو رکھیں اس کے حکم کو رکھیں خواتین و حضرات میں اخر میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں اپ سب کو بھی جمہوریت کا اصل حسن ہے کیا۔ جمہوریت کا حسن ہے جوابدہی جمہوریت کا حسن ہے شفافیت جمہوریت کا حسن اپ جس کو سمجھتے ہیں نا اگر وہ غازا جمہوریت کے منہ پہ ملا ہو تو وہ جمہوریت بدترین امریت سے بہت بری ہوتی ہے۔
[31:10]کیا ہوتی ہے؟ بدترین ڈکٹیٹرشپ سے بہت بری ہوتی ہے۔ ڈکٹیٹر اور بادشاہ میں بہت فرق ہے بادشاہ جان کی امان دے دیتے ہیں ڈکٹیٹر خوفزدہ ہوتے ہیں وہ جان کی امان نہیں دیتے۔ خواتین و حضرات اسی مشورے کے ساتھ کہ جمہوریت کا اصل حسن کیا ہے میں اج کے وی لاگ سے اجازت لیتا ہوں۔ اگر اپ کو ملالہ یوسف زئی اپ کی ہیروئن کا ایک جملہ سنائی دے کہ اس نے کہا ہے کہ اسرائیلی بچوں کو کیوں مارا گیا ہر اسکول کو وہاں کیوں تباہ کیا گیا اور ایران میں ان بچیوں کے اسکول پہ کس نے یہ حملہ کیا ہے تو مجھے بھی بتلا کیجیے گا۔ اخر میں ایک بات بتا دوں ملالہ کی جو پہلی کتاب تھی اس کا نام تھا ائی ایم ملالہ یوسف زئی اس وقت وہ بڑی ہٹ ہوئی کیونکہ وہ ظاہر ہے کہ لکھی مزاج کے مطابق تھی۔ اس وقت اس کو سیون ملین پہلے ہفتے میں مل گئے تھے کتاب سے فنڈ وہ وہیں رہے یہاں کے کوئی اسکول نہیں کھلا اب تک کوئی دنیا کی ایسی این جی او نہیں ہے جو کہ اینٹی اسلامک نہ ہو اور وہ ملالہ یوسف زئی کو مونیٹریلی سپورٹ نہ کر رہی ہو۔ ملالہ کی دیگر کئی کتابیں ملالہ کو سمجھ ائی کتاب لکھوں گی وہی نیریٹو فالو کروں گی تو نوٹ ہی نوٹ چھن چھن چھن سکے ہی سکے اس کے بعد اس نے لکھا مائی نیم از ملالہ اس کے بعد اس نے کتاب لکھی فائنڈنگ مائی وے اس کے بعد اس نے کتاب لکھی ملالہ میجک پینسل اس کے بعد اس نے ایک اور کتاب لکھی اور پھر جب کتابوں میں سے اتنا ملنا شروع ہو گیا۔ اور لکھی کیا لکھوائی گئی یا اس کے بہاف پہ لکھی گئی کتابیں میں یہ بالکل صحیح اپ کو بتا رہا ہوں پکٹوریل بھی بنا کے پکٹوریل بھی کسی اور نے بنائے تصویریں کسی اور نے بنائی یہ بتاتی گئیں۔ ان کے باپ کو بھی سمجھ اگئی کہ بھئی بڑے نوٹ نے میں بھی کتاب لکھا میں بھی ڈائریکشنز کے اوپر ناچوں اور اپنا پتلی ہونے کا مکمل ثبوت دوں تو بھئی بڑی مبارک ہو اپ سب کو شاید اپ کو اندازہ نہیں ہے۔ کہ ضیاءالدین یوسف زئی سے بھی ایک کتاب لکھوائی گئی ہے اس کے لیے لکھی گئی اس کا نام ہے لیٹ ہر فلائی اسے اڑنے دو واقعی بات بالکل صحیح کہی ہے یوسف زئی صاحب اپ نے اپ کی بیٹی واقعی پاکستان سے اڑنچھو ہو کے ہمیشہ کے لیے ویسٹ میں جا بسی ہے۔
[33:25]ایک اخری بات اپ کو اور بتا دوں فلمیں بھی بناتی ہیں اب بہت ملالہ جی ہاں ان کی فلمیں جو ڈاکومنٹری تھی شاید وہ ایسے جلدی سے اسکر کے نامینیٹ ہوئی کہ میں بتا نہیں سکتا اور جب یہ اسکر تقریب میں پہنچی تو انہوں نے ایک چمکتا دمکتا سلور ویسٹرن لباس پہنا ہوا تھا۔ جس پہ ہماری رمضان ٹرانسمیشن کی ہیروئن سی کی طرح دوپٹہ بھی تھا پیچھے ٹکا ہوا اور اگے سارے بال تو بھیا یہ ہماری ہوسٹسز جو یہاں پہ اسلام فروشی کر رہی ہیں ٹی وی چینلز پہ اس سے بہت پہلے ملالہ نے اسکرز میں یہ ہیٹ سٹائل انٹروڈیوس کر دیا تھا ایک وہ وقت تھا ملالہ کا پورا یہاں تک حجاب ہوتا تھا۔ اہستہ اہستہ دوپٹہ پیچھے سرکتا گیا بال اگے اتے گئے کامیابی بڑھتی گئی مقبولیت بڑھتی گئی اس ایک لباس کی قیمت اپ خود بھی چیک کر لیجیے گا میں اپ کو یہ بتاؤں پاکستان میں تقریبا تقریبا 75 لاکھ روپے بنتی ہے۔ شاباش ملالہ ہائے کاش کہ کوئی مجھے بھی ہلکی سی گولی مارتے مگر پھر ملالہ یوسف زئی بنا دیں۔ اللہ کرے کوئی ایسی گولی جو کہ اپ اس سے بہتر جانتے ہیں اگر مجھے گولی لگے تو کسی اسلام دشمن کی لگے اور میں روز قیامت یہ کہوں کہ میرا نام اپنے مذہب پہ اپنے رب پہ اور اپنے رسول پہ فدا ہونے والوں پہ لکھا گیا ہے۔



