Thumbnail for Power of tawakkul  by Islamic_reminder

Power of tawakkul

Islamic_reminder

5m 33s1,350 words~7 min read
Auto-Generated

[0:00]السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے اپ سب لوگ خیر خیریت سے اور خوش ہو گئے ایک شخص تھا پرانے دور میں اس کا نام تھا حاتم بال اسام وہ اللہ کا ایک بہت نیک انسان تھا اور اس نے ایک دفعہ ارادہ کیا کہ میں کیوں نہ اس سال جو ہے نا وہ حج پر جاؤں اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس سال میں حج میں شامل ہوں اس پر اس کی بیوی نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس اتنے ریسورسز نہیں ہیں اتنی ہمارے پاس جو ہے وہ مال نہیں ہے کہ تم حج پر جاؤ اور ہم لوگ پیچھے سے اپنا گزر بسر کریں کیونکہ ان دنوں میں اپ کو پتہ ہے کہ پرانے وقتوں کے اندر حج جو ہے وہ دنوں پر نہیں مہینوں پر مشتمل ہوتا تھا اور پیدل لوگ جاتے تھے سواریوں پر جاتے تھے اور بہت لمبا عرصہ لگتا تھا حج کے لیے اس کی بیوی نے کہا کہ بھئی ہمارے پاس اتنے ریسورسز نہیں ہیں اپ جو ہے نا پھر انشاءاللہ اگر اللہ اپ کو موقع دے تو اپ جائیے گا لیکن جو اس کی بیٹی تھی نا وہ بہت سپیشل تھی اللہ پر بہت توکل کرتی تھی اس نے کہا کہ ابا جان اپ جو ہے نا حج پر چلے جائیں ہمارے رزق کا اہتمام اللہ کی ذات کرنے والی ہے اپ بالکل بے فکر ہو کر جائیں اللہ تعالی ہمارا اہتمام کر دے گا تو اس کو بڑی انکرجمنٹ ملی اور وہ بہت موٹیویٹ ہوا اپنی بیٹی کی بات سن کر اور حاتم بلسان جو ہیں وہ حج پر چلے گئے ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان حاتم بلسام کی بیٹی اور اس کی جو بیوی تھی ان کو وہ جو ہے نا وہ فقر کا شکار ہو گئے ان کے جو تھے حالات تھوڑے سے ڈسٹرب ہو گئے ان کے جو ریسورسز تھے وہ ختم ہو گئے تو اس پر جو حاتم بلسام کی بیوی ہے اس نے اس کی بیٹی کو اور جا کر بولا کہ تم تو بڑی باتیں کر رہی تھی کہ ہمارا رزق جو ہے وہ اللہ تعالی ہمیں سسٹین کرے گا ہمارا اہتمام اللہ کرے گا تو دیکھو اب ہم لوگ جو ہے وہ فقر کا شکار ہو گئے ہیں بھوک پیاس کا شکار ہو گئے ہیں اب تم کیا کرو گی جب اس کی بیٹی نے یہ الفاظ سنے تو اپنے کمرے میں گئی اور جا کر وہ بہت روئی اور اس نے اللہ سے دعا کی کہ اے میرے اللہ میں نے تو تجھ پر اعتبار کیا تھا تو ہی قران میں بولتا ہے کہ جو تجھ پر اعتبار کرتا ہے جو تیرا تقوی اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے ہر مشکل میں سے اسانی پیدا کرتا ہے اور اللہ تو تو رزاق ہے تو میری مدد فرما ابھی اس کی بیٹی کے ہاتھ اسمان کی طرف ہی تھے اٹھے ہوئے تھے کہ دروازے پر ایک دستک ہوئی اور جا کر اس نے دیکھا دروازے پر تو وہاں سے ایک بادشاہ کا جو اس وقت کا بادشاہ تھا اس کا قافلہ گزر رہا تھا اور اس کا ایک گارڈ کھڑا ہوا تھا وہاں پہ اور اس گارڈ نے حاسم بلسام کی بیٹی سے فریاد کی کہ ہمارا قافلہ اپ کے گھر کے باہر سے گزر رہا تھا اور ہمارے پاس جو ہے نا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ سلامت نے مجھے حکم دیا کہ میں کہیں سے پانی لے کر اؤں ان کو پیاس لگی ہوئی ہے اس پر جو حاتم بلسام کی بیٹی تھی اس نے اس گارڈ کو پانی دیا اور وہ بادشاہ کے پاس پانی لے کر گیا اور بادشاہ کو پانی پیش کیا اب بادشاہ نے جب پانی پیا تو اللہ تعالی نے اس پانی کے اندر اتنی ریفریشمنٹ رکھ دی تھی کہ اس کو بہت اچھا لگا اتنی ریفریشمنٹ اللہ کی طرف سے اللہ تعالی نے اس بادشاہ کے لیے اس پانی میں ریفریشمنٹ ڈالی کیونکہ اللہ تعالی اس بادشاہ سے حاتم بلسام کی فیملی کے لیے کوئی کام لینا چاہتا تھا جب بادشاہ نے وہ پانی پیا اس کو اتنی تسکین ملی اتنا سکون ملا کہ اس نے پوچھا کہ یہ پانی تم کہاں سے لے کر ائے ہو جس پر اس کے گارڈ نے جواب دیا کہ یہاں قریب ہی ایک بہت اچھا شخص رہتا ہے حاتم بال اسام اس کے گھر سے میں پانی لے کر ایا ہوں تو بادشاہ نے کہا کہ چلو پھر ہم جا کر حاتم بال اسام کا جو ہے وہ شکریہ ادا کرتے ہیں اس پر اس کے جو گارڈ نے بولا کہ اپ جا نہیں سکتے کیونکہ حاتم بلسام تو حج پر گیا ہوا ہے اس کی فیملی گھر میں اکیلی ہے اس کی بیوی اور بیٹی اس پر بادشاہ نے کہا کہ حاتم بلسام حج پر گیا ہوا تو پھر تو اس کی گھر والوں کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اس پر اس بادشاہ نے خوش ہو کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک پوٹلی نکالی جس کے اندر سونے کے سکے تھے اور حاتم بلسام کے گھر کے اندر پھینک دیے اب جو جب وہ سونے کے سکے حاتم بلسام کے صحن میں گرے تو اللہ تعالی زیادہ ان کو نوازنا چاہتا تھا اس لیے اللہ تعالی نے بادشاہ کے دل میں ایک ایسی بات ڈالی جس کی وجہ سے ان پر سونے کے سکوں کی بارش ہو گئی بادشاہ نے کہا کہ جو بھی مجھ سے پیار کرتا ہے وہ میرے اس عمل کو دہرائے گا جیسے کہ میں نے سکے پھینکے ان کے گھر سونے کے تو جو مجھ سے پیار کرتا ہے وہ یہی عمل کرے گا اس پر اس کے پورے قافلے نے اپنی جیب میں سے سکے نکالے اور پوٹلیاں ان کے گھر میں پھینکی اور حاتم بلسام کا صحن دیکھتے ہی دیکھتے سونے کے سکوں سے بھر گیا اس پر جو تھی حاتم بلسان کی بیٹی وہ بہت زیادہ روئی دیکھ کر یہ یہ منظر دیکھ کر وہ بہت زیادہ روئی تو اس کی ماں ائی اور ا کے اس کی ماں نے بولا کہ جب ہم لوگ بھوک پیاس میں مار رہے تھے تب تو تم خوش تھی اب اللہ تعالی نے ہمیں اتنا زیادہ نواز دیا ہے اتنے سکے ہمارے پاس ہو گئے ہیں اتنا ہمارے پاس سونا اگیا ہے ہم تو اب اپنی جو حالات ہیں وہ بدل سکتے ہیں اب تم کیوں رو رہی ہو اس پر اس کی بیٹی نے بہت خوبصورت جواب دیا اس پر اس کی بیٹی نے کہا کہ ماں میں رو اس لیے رہی ہوں کہ دیکھو ابھی ایک دنیا میں ایک شخص ہے جس نے ہماری طرف کرم کی نگاہ سے دیکھا ہے نرم نگاہ سے دیکھا ہے ہمارا خیال کیا ہے تو ہم لوگوں کو اتنی خوشی ہوئی ہے جب تمام کائنات اور زمینوں کا مالک اللہ ہم پر رحم کرے گا تو سوچو وہ کتنا رحم کرے گا سبحان اللہ یہ سٹوری یہ سٹوری بنیاد ہے یہ سٹوری جو ہے نا یہ انسانوں کے لیے ایک بہت بڑا پوائنٹ ہے سمجھنے کے لیے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع ہے جو بندہ اللہ سے امید لگاتا ہے اللہ اس کے خالی ہاتھ کبھی واپس نہیں لوٹاتا اللہ پر ایمان رکھیں کیونکہ اللہ تعالی قران کے اندر فرماتے ہیں جو کوئی انسان اللہ کا تقوی اختیار کرے گا اور اللہ سے مدد مانگے گا ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ کی مدد نہ ائے اللہ کی مدد لازما ائے گی اور اللہ تعالی اس شخص کی مدد ضرور کرے گا اس کو ہر مشکل رستے سے نکالے گا اور اس کے لیے ایسی ایسی جگہ سے سسٹیننس پیدا کرے گا اس کے لیے رزق کے دروازے کھولے گا جہاں سے اس شخص نے گمان بھی نہیں کیا ہوگا تو اب اپ نے یہ یاد رکھنا ہے کہ جب بھی اپ جس مرضی پریشانی کے اندر ہیں اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے اپ اللہ تعالی سے رجوع کریں اللہ تعالی سے مدد مانگیں اللہ تعالی اپ کا اور میرا خامی اور ناصر ہو اپنے بھائی کو دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ تعالی سب کے لیے اسانیوں کے معاملات پیش کرے امین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript