Thumbnail for Secrets of the Inner World | From Literature to Spirituality Ft. Sahibzada Mian Ashraf Asmi  by Pir Khawaja Mian Omer Ashraf Asmi

Secrets of the Inner World | From Literature to Spirituality Ft. Sahibzada Mian Ashraf Asmi

Pir Khawaja Mian Omer Ashraf Asmi

20m 37s3,594 words~18 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]ابن کی نگری اور دل درویش ہمارے دلوں کو سوچنے سمجھنے محسوس کرنے اور غور کرنے کی ترکیب دیتی ہے۔ اپ کی کتابیں جو ہیں محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک باطنی سفر ہے۔ انے بعد میں خبر جو ہے وہ مریکہ نے پانچ منٹ پہلے جو ہوا ہوتا ہے ودا نو ٹائم وہ ہم ادھر دیکھ لیتے ہیں۔ انفارمیشن کا سیلاب ہے۔ سوشل میڈیا واٹس ایپ نے لوگوں کو بہت زیادہ باخبر کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا جو ہے وہ ایک ایسی ڈرائیون فورس بن چکا ہے کہ جس طرف بھی کسی کو لگانا ہو وہ سوشل میڈیا پہ وہ ٹرینڈ لگا کر لوگوں کو اس طرف جو ہے نا وہ لے جایا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب میں یہ دیکھا کہ پولیٹیکل طور پر پاکستان میں نوجوانوں کو جو ہے وہ اتنا وہ ابھارا گیا ہے اور انہوں نے جو ہے وہ بڑے بھرپور طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ پچھلے تقریبا جب سے پاکستان بنا ہے 80 سال ہونے کو ائے ہیں۔ ہمارے ہاں جو ہے وہ جمہوریت بھی صحیح طور پر اپنی سکی اور جو ڈکٹیٹرشپ رہی ہے اس کا بھی اپنا اپنا مزاج رہا ہے۔ نوجوان جو ہے وہ پھر روحانی طور پر یہ محسوس کرتا ہے۔ کہ جناب شاید اس کو جو ہے وہ سکون مل نہیں مل رہا اور ڈسکریمینیشن جب دیکھتا ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کو روحانی باتیں کر کے تھپکیاں دے کے نہیں سلایا جا سکتا۔

[1:22]کہ ہم ایک مسلمان قوم ہیں مسلمان جو ہوتا ہے وہ کسی کا جبر برداشت نہیں کرتا۔ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ ہم معاشرے میں عزت دار اس لیے ہوئے عزت کی بلندیوں پر فائز اس لیے ہوئے کہ ہم نے اللہ تعالی کی اطاعت کی۔ کیا خانقاہی نظام میں متحرک سماجی فلاحی اور فکری اثاث آج بھی قائم ہو سکتا ہے؟ پہلے دور اور تھا لوگوں کے سامنے انفارمیشن نہیں تھی۔ اب ظاہر ہے جو چیز اصل ہوتی ہے اس کی پھر نقل بنتی ہے۔ السلام علیکم دوستو ا میں ہوں عمر اشرف عاصمی۔ ا اج ہمارے ساتھ ایک ایسے مہمان موجود ہیں جو نہ صرف ادبی روحانی سفر میں مل کے مہارت حاصل رکھتے ہیں۔ بلکہ قانونی میدان میں بھی اپنا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی کتابیں من کی نگری اور دل درویش ہمارے دلوں کو سوچنے سمجھنے محسوس کرنے اور غور کرنے کی ترتیب دیتی ہیں۔ اج ہم بات کریں گے دل روحانیت اور اسلاف کی حکمت اور اج کے نوجوانوں کے خانقاہی نظام۔ خوش امدید جناب صاحبزادہ اشرف اسمی صاحب۔ جی بہت شکریہ اپ کا۔ اپ کی کتابیں جو ہیں محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک باطنی سفر ہے۔ کیا اج کے انسان کو لے کر اپ نے یہ کتابیں لکھی یا اسلاف کی حکمت کو مدنظر رکھتے تھے؟ اج کا نوجوان اور پچھلے دور کے گزرے ہوئے لوگوں کو کیسا دیکھتے ہیں اور کیا ا تجربہ رکھتے ہیں اس حوالے سے؟ بہت شکریہ جناب بات دراصل یہ ہے کہ موجودہ دور جو ہے وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انے بعد میں خبر جو ہے وہ امریکہ نے پانچ منٹ پہلے جو ہوا ہوتا ہے۔ ودا نو ٹائم وہ ہم ادھر دیکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح پوری دنیا گلوبل ولج بن چکی ہے۔ انفارمیشن کا سلاب ہے۔ سوشل میڈیا واٹس ایپ نے لوگوں کو بہت زیادہ باخبر کر دیا ہے۔ اس باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگ جو ہیں اتنے زیادہ مصروف ہو گئے ہیں اپنے واٹس ایپ پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہ ان کا ٹائم جو ہے وہ بہت زیادہ ادھر سرف ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی یہ ہے کہ سوشل میڈیا جو ہے وہ ایک ایسی ڈرائیون فورس بن چکا ہے کہ جس طرف بھی کسی کو لگانا ہو وہ سوشل میڈیا پہ وہ ٹرینڈ لگا کر لوگوں کو اس طرف جو ہے نا وہ لے جایا جا سکتا ہے۔ ہم نے ماضی قریب میں دیکھا کہ پولیٹیکل طور پر پاکستان میں نوجوانوں کو جو ہے وہ اتنا وہ ابھارا گیا ہے اور انہوں نے جو ہے وہ بڑے بھرپور طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ لیکن اس کا ایک ساتھ ساتھ ایک بات اور بھی ہے کہ نوجوانوں کو ڈائریکشن دینی چاہیے۔ ڈائریکشن ہمیشہ جو ہے نا وہ لیڈر دیا کرتے ہیں۔ اور لیڈر جو ہوتا ہے وہ اپنی قوم سے محبت کرنے والا اپنے وطن سے محبت کرنا کرنے والا اور اپنے وطن کے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے والا ہوتا ہے۔ بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ پچھلے تقریبا جب سے پاکستان بنا ہے 80 سال ہونے کو ائے ہیں۔ ہمارے ہاں جو ہے وہ جمہوریت بھی صحیح طور پر اپنی سکی اور جو ڈکٹیٹرشپ رہی ہے اس کا بھی اپنا اپنا مزاج رہا ہے۔ نوجوان جو ہے وہ پھر روحانی طور پر یہ محسوس کرتا ہے۔ کہ جناب شاید اس کو جو ہے وہ سکون مل نہیں مل رہا۔ ملازمت کا نہ ہونا ایجوکیشن بہت زیادہ مہنگی ہو جانا اور ڈسکریمینیشن جب دیکھتا ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ان حالات میں صرف اس کو روحانی باتیں کر کے تھپکیاں دے کے نہیں سلایا جا سکتا۔ مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اسلاف کا بھی جو ہے اس کی طرف بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم ایک مسلمان قوم ہیں مسلمان جو ہوتا ہے وہ کسی کا جبر برداشت نہیں کرتا۔ مسلمان حق کا ساتھ دینے والا ہوتا ہے۔ مسلمان سچا ہوتا ہے۔ مسلمان جو ہے وہ اپنے انے والے کل کے لیے اپنی اخرت کے لیے کام کرتا ہے۔ تو نوجوان نسل جو ہے ہماری بڑی ڈائنامک ہے۔ بڑی مثبت سوچ رکھنے والی ہے۔ لیکن اگر ہم نے اس کو موجودہ جو ہمارا سوشل میڈیا پر جو ا ٹرینڈ چلتے ہیں اور دماغ کو دماغوں کو پروپیگنڈا کر دیا جاتا ہے اور جو ہمارے دشمن لوگ ہیں دشمن مالک ہیں وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان کا تعلق جو ہے اپنے نوجوانوں کا وہ اپنے رب سے جوڑیں۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک ایسا ہمارے پاس ایک جذبہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم لوگوں کے دلوں کو اللہ کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں اور نوجوان طبقہ جو ہے۔ وہ جب اپنے رب کے ساتھ لو لگا لے رب کو اپنا رب مان لے کہ میرے تمام دکھوں کا مداوا رب نے ہی کرنا ہے تو یقینی طور پر جو نوجوان لوگ جو ہیں نوجوان طبقہ جو ہے نوجوان نسل جو ہے جو حالات و واقعات سے شاکی نظر اتی ہے۔ دیکھیں قانونی طور پر معاشرے میں رہتے ہوئے سماج کا انصاف بھی ہونا چاہیے معیشت کا بھی انصاف ہونا چاہیے۔ لیکن ایک ڈائریکشن ہونی چاہیے۔ ڈائریکشن کے لیے ڈیفینیٹلی جو ملک کی لیڈرشپ ہوتی ہے وہ اپنا رول پلے کرتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس تو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم رول ماڈل ہیں۔ تو اس معاشرے کے جو نفوس پذیری کے حامل لوگ ہیں اساتذہ کرام ہیں۔ وکلاء ہیں۔ مزدور رہنما ہیں۔ ڈاکٹرز ہیں مسجدوں محراب ممبر کے جو وارث علماء کرام ہیں۔ مشائخ ہیں۔ اسی طرح جو لوگ موٹیویشن کا کام کر رہے ہیں اور خانقاہی نظام کے جو علمبردار ہیں ان سب کو اس طریقے کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ تعلق جوڑنا ہوگا کہ ان کو اطیع اللہ و اطیع الرسول کے حوالے سے جو ہے وہ کیا جائے کہ جناب یہ ڈائریکشن ہے اپ کی اپ نے سچائی کا ساتھ دینا اپ نے ہمت سے کام کرنا ہے اپ نے حوصلے سے کام کرنا دانش بندی کا یہ تقاضا ہوا کرتا ہے کہ دانش مند جو ہوتا ہے وہ پہلے تو ریسرچ کر لیتا ہے۔ کہ جناب حق کیا ہے جب وہ دانش جو ہے جب وہ حقائق تک پہنچ جاتا ہے اور اس کو دل سے مان لیتا ہے اور پھر اس کے اوپر جب عمل کرتا ہے تو وہی دانش بندی ہوا کرتی ہے۔ تو نوجوان نسل کو دانشمندانہ انداز میں ترقی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا تعلق اللہ پاک سے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مضبوط ہو تاکہ وہ اپنے معاشرے میں جو غربت ہے اپنے معاشرے میں جو بیرا روی ہے ہمارے معاشرے میں جو نا انصافی ہے اس پہ وہ اپنا رول ادا کر سکیں۔ ا حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ ہم معاشرے میں عزت دار اس لیے ہوئے عزت کی بلندیوں پر فائز اس لیے ہوئے کہ ہم نے اللہ تعالی کی اطاعت کی۔ کیا خانقاہی نظام میں متحرک سماجی فلاحی اور فکری اثاث اج بھی قائم ہو سکتا ہے کیا؟ دیکھیں میں اپ کو بتاؤں کہ پہلے دور اور تھا لوگوں کے سامنے انفارمیشن نہیں تھی۔ اب ظاہر ہے جو چیز اصل ہوتی ہے اس کی پھر نقل بنتی ہے۔ خانقاہی نظام جو ہے وہ اپنی اہمیت اس لیے کھو بیٹھا ہے کہ جن لوگوں کو اس کا جو ہے اس کو بہتر ڈائریکشن میں لے کے چلنا تھا وہی لوگ جو ہیں وہ دنیاوی معاملات میں پڑ گئے اور اپ دیکھ لیں کہ جو خانقاہیں ہیں وہاں سے اس طرح جو ہے نا وہ حق کی صدا بلند نہیں ہو رہی۔ وہ بھی معاشی طور پر جس طرح جاگیردار اور زمیندار طبقہ ہے اسی طرح جو گدی نشین ہیں وہ بھی انہی کی طرز کا ایک ایسا طبقہ بن چکا ہے جن کا مقصد صرف یہی ہے کہ وہ بھی پیسہ اکٹھا کرے اور وہ بھی جاگیرداروں اور زمینداروں کی طرح اپنی زندگی گزاریں۔ خانقاہی نظام ہمارے مسائل کا حل ضرور ہے خانقاہ کیا ہے خانقاہ یہی ہے کہ اپ کو کوئی درویش کے پاس جا کر اپ اپنے دل کا حال بتائیں دکھ بتائیں اور وہ اپ کے دکھ اور مداوے دکھ کا مداوا کرنے کے لیے اپنا رول پلے کرے اپ کے مسائل کو سنے اور اپ کو اللہ کی طرف لے کر جائے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی طرف لے کے جائے۔ اس دور میں جو ہے وہ صرف باتوں سے بلایا نہیں جا سکتا۔ پہلے تو یہ تھا نا کمیونیکیشن تھی نہیں۔ انفارمیشن تھی نہیں تھی۔ میڈیا اتنا فاسٹ تھا ہی نہیں۔ اب ہر چیز جو ہے وہ سامنے بندے کے ا جاتی ہے۔ کہ جناب یہ تو خود اس کی جلوت اور خلوت میں فرق ہے۔ خانقاہی نظام ضرور جو ہے وہ مدد کر سکتا ہے نوجوان نسل کو راہ راست پہ لانے کے لیے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے لیکن خانقاہی نظام جو خانقاہی نظام کے جو وارث ہیں وہ درست طور پر ہوں گے تو وہ خانقاہی نظام کو صحیح چلا سکیں گے اب تو جو ہم میراث جو وارث نظر ارہے ہیں یہ تو بالکل گدی نشینی جو ہے وہ بالکل وراثت والا ہی معاملہ بنا ہے کہ باپ پیر تھا پھر بیٹا پیر بن گیا ہے۔ یہ چیزیں جو ہیں اس نے ہمارے معاشرے میں جو پیار محبت خلوص اخوت بھائی چارے اور صوفیانہ انداز کا سبب دینے والی خانقاہ جو تھی اس کا جو مقام ہے وہ وہ نظر نہیں اتا جو کہ ہمیں ماضی میں ہمارے ساتھ جو تعلق جوڑا ہوا تھا ا خانقاہ نے ہمارے ساتھ اور ہم نے خانقاہ کے ساتھ۔ ا اپ قانون اور روحانیت کی بات کرتے ہیں کہ اج کے معاشرے میں قانون ہو اور دل سے کام نہ لے لے ہو اور قانون کی بات کر رہے ہو اور بیچ میں روحانیت نہ ہو تو کیا قانون صرف کازی طور پر نہیں رہ جاتا۔

[11:21]اصل میں روحانیت کیا ہے؟ روحانیت یہی ہے کہ اللہ پاک کو ایک مانا جائے اللہ پاک نے جن جن چیزوں سے روکا ہے۔ اس سے رک جائیں اور جن جن چیزوں کا حکم دیا ہے وہ کریں۔ تو یہ روحانیت کوئی ایسی چیز نہیں ہے قانون بھی نیچرل چیز ہے جو چیز قانون کیا ہوتا ہے کہ قاعدے طریقے کے مطابق زندگی گزاری جائے اس لیے قانون بنائے جاتے ہیں اگر قانون جو فطرت کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا وہ قانون بن ہی نہیں سکتا اور وہ قانون وہ درست ہوتا ہی نہیں ہے۔ قانون پہ عمل کر کے قانون کی حاکمیت کے اوپر عمل پیرا ہو کر اور روحانیت تو یہ دیکھیں ہم اللہ کے اللہ کو ہم نے دیکھا نہیں ہے لیکن ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جو ہے وہ ہم سے اج سے 14 15 سو سال پہلے جو ہے ا ان کا ظہور ہوا ہم غیب پر ایمان رکھنے والے لوگ ہیں۔ تو جو لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں ان کا روحانیت کے ساتھ اپ دیکھ لیں کتنا گہرا تعلق ہوگا کہ ایک اللہ کو دیکھا نہیں لیکن اللہ کے جو اللہ کی جو رحمتیں ہیں اللہ کے جو معجزے ہیں اور یہ کائنات کا نظام جس طرح چل رہا ہے وہ بھی ایک قانون کے تحت چل رہا ہے تو روحانیت اور قانون جو ہے وہ ایک ہی چیز کا نام ہے۔ ا اسلاف کی جو روح تھی وہ شارٹ کٹ پر مبنی تھی یا ان کا ویژن جو تھا وہ بہت کلیئر تھا۔ نہیں نہیں اصل میں زندگی میں کبھی شارٹ کٹ نہیں ہوا کرتا۔ اپ نے اگر وہ ٹھیک ہے نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیر ہے تربیت کا ایک انداز ہوتا ہے اگر تربیت اچھی ہو ہو رہی ہے تو وہ مقام جو اپ نے 20 سال میں کیا ہے وہ چار سال میں بھی ہو سکتا ہے دو سال میں بھی ہو سکتا ہے تین سال گھر کا نظام اس طرح کا ہونا چاہیے۔ تو ہمارے جو اسلاف تھے انہوں نے ماحول ہی ایسا بنایا ہوا تھا کہ گھر میں جناب بچہ قران مجید پڑھ پڑھ لیتا تھا۔ عربی فارسی اس کو پڑھائی جاتی تھی بچے کی تربیت کی جاتی تھی کہ بیٹا تم نے بڑوں کو سلام کرنا ہے۔ گلی سے گزرتے ہوئے جو بڑا ملے اسے سلام کرنا ہے ادب و احترام کے ساتھ رہنا ہے۔ اور یہ جو نظام اب اس وقت ہمارے ہاں چلا ہے پکڑ لو پکڑ لو پکڑ لو یعنی جن لوگوں نے اس معاشرے کو سدھارنا تھا اساتذہ کرام، علماء کرام، موٹیویشنل سپیکر بنے ہوئے ہیں جو لوگ وہ اور وکلاء۔ جتنے لوگوں کا ڈائریکٹلی اور ان ڈائریکٹلی عوام کے ساتھ تعلق ہوتا ہے انہوں نے اس معاشرے کی اور نوجوانوں کی جو ہے نا وہ تربیت کرنا ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو یہی صورتحال بنے گی جو اج ہمارا نوجوان جو ہے وہ ہمیں اس کی کوئی ڈائریکشن اس لیے نظر نہیں اتی کہ روحانی طور پر جو ہے وہ ہم نے اپنے دین پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے جب ہم اپنے دین پر عمل کریں گے تو روحانی طور پر ہم سٹرونگ ہو جائیں گے۔ اللہ کے ساتھ تعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تعلق جو ہے وہ ہمیں اس نہج پر لے ائے گا کہ جناب ہم حق کے ساتھ ہیں ہم سچائی کے ساتھ ہیں کیونکہ مسلمان کا تو کوئی کام نہیں ہے نا امید ہونا نا امید تو کفر ہے۔ ابھی بھی ہم جو ہے پاکستان میں رہنے والے لوگ جو ہیں بہت سی اقوام سے بہتر ہیں بہت سے ملکوں سے بہتر ہیں اپ اپنے ہمسایہ ملک ا ہندوستان کو لے لیں وہاں مسلمانوں کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا جاتا ہے کرسچن کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا جاتا ہے تو یہ مملکت خداداد پاکستان ایک روحانی ریاست ہے یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام پر بننے والی جو ہے وہ ریاست ہے۔ یہاں پر جو اگر قران و سنت کا نظام نافذ ہو جائے جو حکمران اشرافیہ جو ہے جس طریقے سے وہ اپنا پیٹ بھر رہی ہے اور عوام کا جو ہے عوام کو انصاف سماجی بھی اور معاشی بھی نہیں مل رہا تو پھر نوجوانوں کے اندر جو ہے وہ بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن قانون اور جو روحانیت ہے ہمارے اسلاف کا دیا ہوا جو ہمیں سبق ہے وہ اج بھی اسی طرح ہی ہے جس طرح داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں دیا میاں امیر رحمتہ اللہ علیہ نے دیا حضرت باؤ دین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ نے دیا حضرت میاں وڈا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے دیا حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ اپ دیکھ لیں ان تمام جن بزرگوں کا نام لیا ہے۔ ان کے جو گدی نشین یا مجاور بنے ہوئے ہیں وہ پولیٹکس میں بھی ہیں بزنس میں بھی بہت اگے ہیں یعنی کہ پیر انتہائی امیر ہو چکا ہے اور مرید غریب تر غریب ہوتا جا رہا ہے۔ میں پیروں پر کوئی تنقید نہیں کر رہا میں اوورال ایک بات بتا رہا ہوں کہ وہ بھی اس معاشرے کے جو ہے وہ اس طبقے کے ساتھ مل گئے ہیں جن کو ہم مافیاز کہتے ہیں۔ تو روحانیت کے لیے تو پھر ضروری ہے اسی طرح کی پاک بازی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اپنے اپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ہے وہ اطاعت گزار بنانا پڑے گا تب وہ روحانیت کے علمبردار بن کے معاشرے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب تو اپ دیکھ لیں کہ یہ جو ہے وہ حضرت اقبال نے کہا تھا کہ درویشی بھی عیاری سلطانی بھی ہے عیاری۔ یا رب تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں اب لوگ علماء کرام کو دیکھتے ہیں ان کے کریکٹر کو دیکھتے ہیں۔ یہ جو مشائخ وظام ان کے کریکٹر کو دیکھتے ہیں جو وکلاء کے کریکٹر کو دیکھتے ہیں۔ وہ جناب ڈاکٹروں کے کریکٹر کو دیکھتے ہیں کہ یار ڈاکٹر بھی کسائی بنا ہوا ہے وکیل جو ہے وہ بھی لوگوں کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے ججز جو ہیں وہ بھی ربڑ سٹیمپ بن کر وہی فیصلے کر رہے ہیں جو ان کو کہے جاتے ہیں یا بالکل ہی فیصلے نہیں کرتے تو معاشرے کا اوورال جو اس ٹائم سٹرکچر بنا ہوا ہے اس میں روحانیت کی کمی ہے۔ روحانی طور پر جب ہم سٹرانگ ہو جائیں گے اور اپنے معاشرے میں قران و سنت کا نظام نافذ کر دیں گے تو ہمارے مسائل انشاءاللہ حل ہو جائیں گے۔ انسانی کائنات کے ظہور کے بعد رب تعالی نے نور کو اپنے مقلد اپنے خلیفہ کے اندر پہنچا دیا۔ مولانا جلال الدین رومی کہتے ہیں کہ کل میں ہوشیار تھا دنیا کو بدلنا چاہتا تھا اج میں دانا ہوں خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔ دیکھیں اپ نے کتابیں لکھیں من کی نگری دل درویش اس حوالے سے نوجوانوں کو کیا اخری پیغام دینا چاہیں گے؟ دیکھیں یہ تو ایک مضطرب دل کی صدائیں ہیں خواہ وہ من کی نگری ہو یا دل درویش ہو۔ ہمیں اپنی اثاث کی طرف واپس لوٹنا ہوگا ہمیں اس سبق کو یاد کرنا ہوگا جو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سبق ہے جو اللہ تعالی نے ہمیں سبق دیا ہے کہ ہم نے معاشرے میں سچائی کے ساتھ رہنا ہے ہم نے دوسروں کے ساتھ جو ہے وہ صلح رحمی کے ساتھ سلوک کرنا ہے۔ ہم نے اپنے فیملی یونٹ جو گھر ہے اپنے گھر کے جو افراد ہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اپنے گلی محلے کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے ہم نے اپنے شہر کے لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا ہے اچھا اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے ہم نے اپنے فرائض ادا کرنے ہیں جب ہم اپنے فرائض ادا کریں گے تو ہمیں ہمارے حقوق خود بخود مل جائیں گے تو اس لیے یہ جو کتابیں ہیں اپ سمجھ لیں کہ روحانی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ ایک مضطرب دل کی صدائیں ہیں کہ اللہ پاک ہمارے ملک میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالی نافذ کر دے اور ہماری جو سسکتی ہوئی قوم ہے۔ مشکلات کا سامنا کرنے والی قوم ہے جس کو انصاف بھی نہیں مل رہا جس کو معاشی انصاف بھی نہیں مل رہا اور عدالتی انصاف بھی نہیں مل رہا ان کا کوئی مداوا ہو سکے۔ اپ نے قانون پر کتابیں لکھیں قانون کی حاکمیت رول اف لاء کنٹورس اف جسٹس دیکھیں ترامیم تو امینڈمنٹس تو بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔ اس پر عمل ہی نہیں ہوتا قوانین تو بنائے جا رہے ہیں۔

[19:04]جیسے کہ اوورسیز کے حوالے سے دیکھ لیں یہ ا ابھی گھورنے والا قانون ایا اور کتنے قوانین ارہے ہیں۔ امینڈمنٹس میں تو ترامیم تو ا رہی ہیں۔ ان پر عمل نہیں ہوتا اور کیسز تو سالہ سال چلتے رہتے ہیں اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے اپ؟ دیکھیں یہ تو ایک ایسا ٹاپک ہے جس کے اوپر ہم گھنٹوں بول سکتے ہیں۔ ا ہمارے پاس قران پاک کی صورت میں سب سے بڑا کوڈ اف لائف ہے اس سے بڑی قانون کی کوئی کتاب نہیں ہے بے شک قانون بناتی ہے حکومت ریاست بناتی ہے تاکہ معاشرے میں رہنے والے جو لوگ ہیں وہ بہتر انداز میں زندگی گزار سکیں۔ معاملہ قانون بنانے کا نہیں ہے۔ معاملہ امپلیمنٹیشن کا ہے اس کے اوپر عمل درامد کرنے کا ہے۔ عمل درامد کرنے کے لیے حکمرانوں کے ہاتھ میں تو ڈنڈا ہوتا ہے۔ عوام الناس جو ہے وہ ڈنڈے کے بغیر بھی کام قانون کے اوپر عمل کر سکتی ہے جب ہم میں نے جیسے پہلے عرض کیا کہ اگر ہم دوسروں کے حق دینا شروع کر دیں گے تو ہمارا حق ہمیں خود ملنا شروع ہو جائے گا۔ بہت شکریہ یہ تھے ہمارے مہمان جناب صاحبزادہ میاں اشرف عاصمی صاحب ا یقینا ہم نے بہت کچھ سیکھنے کو سمجھنے کو ان کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا بھی یہ گفتگو صرف کتابوں اور قانون تک محدود نہیں ہے ہم نے محسوس کرنا ہے اپنے فکری احساس کو لے کر چلنا ہے اور ان تجربات سے سیکھتے ہوئے معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے ری پودکاسٹ تک اجازت چاہتا ہوں اللہ حافظ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript