[0:00]دوستوں کیا اپ جانتے ہیں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ چین مشرق وسطی میں جاری بحران کے دوران کتنا اہمیت کا حامل ہے؟ اور کیا یہ ایران امریکہ جنگ میں اب پاکستان کے ساتھ چین کے بھی بطور ثالث شامل ہونے کا اشارہ ہے؟ ائیے جانتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیجنگ کا دورہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
[0:27]چینی وزیر خارجہ ونگ یہ کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات میں پاکستان و چائنہ نے مشرق وسطی میں امن کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے چین کو بھی قائل کر لیا ہے کہ وہ بھی اس عالمی بحران میں ایک بڑے ثالث کے طور پر میدان میں ائے۔ اس سے قبل پاکستان برج بلڈر کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات کے ذریعے جنگی صورتحال کو کافی حد تک سنبھال چکا ہے۔ دوستو اس پانچ نکاتی منصوبے میں فوری جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی، غیر عسکری تنصیبات کا تحفظ اور سٹریٹ اف ہرمز میں محفوظ جہاز رانی شامل ہے جو عالمی توانائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ بیجنگ اسلام اباد کی یہ شراکت داری خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی ہے اور یونائیٹڈ نیشنز کے اصولوں پر مبنی ایک تیسرا راستہ بھی پیش کرتی ہے۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ ابنائے ہرمز کے تحفظ اور عالمی امن کے مسائل کے حل کے لیے قلیدی کردار اس وقت صرف اسلام اباد اور بیجنگ ادا کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی ثالثی اور امن کوششوں کے ہی واضح نتائج ہیں کہ دنیا سے ایک متوقع نیوکلیئر جنگ کا خطرہ ٹل رہا ہے۔ مشرق وسطی کی کشیدگی میں کمی ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادی بھی اب اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک کامیاب سفارت کاری کیا ہوتی ہے؟ یہ پاکستان نے دنیا کو بتایا ہے۔



