[0:00]اندازہ لگائیے ایک ہودہود جیسے پرندے کو بھی پتا ہے کہ مالک اللہ رب العزت ہے خالق وہ ہے معبود وہ ہے عبادت اسی کی کی جا سکتی ہے مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر اس کے باوجود انسان ذی شعور ہونے کے باوجود عقل رکھنے کے باوجود فہم و فراست رکھنے کے باوجود کس طرح جا کر مزاروں پہ گرتا ہے قبروں پہ گرتا ہے بتوں کے سامنے گرتا ہے درختوں کے سامنے گرتا ہے پتھروں کے سامنے گرتا ہے پتھروں کو جو بڑا مقدس اور جو ہے وہ ہواؤں کو اپنا مالک سمجھتا ہے سمندروں کو اپنا دیوتا سمجھ لیتا ہے تو اج ہمارے بہت سارے لوگ جو ہیں وہ صرف یہی بات کہتے ہیں جی اتنا بڑا کراؤڈ جو ہے وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے تو اللہ یہ فرما رہے ہیں اکثر لوگ تو ایمان نہیں لاتے تو اکثر کراؤڈ جو ہوتا ہے وہ غلطی پر ہوتا ہے تو یہ کوئی معیار نہیں ہے۔ جب اپ اللہ رب العزت پر توکل کر لیتے ہیں تو اللہ رب العزت جو ہے وہ اس طرح سے بھی نہ اگے کوئی راستہ موجود ہوتا ہے نہ پیچھے کوئی راستہ موجود ہوتا ہے اللہ تعالی اس طرح معجزانہ طور پر راستے پیدا فرماتے ہیں وہ مسبب الاسباب ہیں جیسے اس نے اپنی انبیاء کے لیے راستے پیدا فرمائے ہیں اسی طرح سے وہ جب اس کے اوپر توکل کیا جاتا ہے اللہ رب العزت ہمیں بھی صحیح معنی میں ایمان اور توکل اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
[1:10]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک کے حوالے سے خلاصہ مضامین قران مجید کی جو سیریز ہم نے شروع کی ہے اج انشاء اللہ تعالی اس کی انیسویں نشست ہے جس میں ہم اللہ رب العزت کی توفیق کے ساتھ انیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر خلاصہ اس کا اپ کے سامنے پیش کریں گے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو رمضان المبارک میں قران مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ رب العزت ان بابرکت اور با سعادت گھڑیوں سے ہمیں صحیح معنی میں استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے انیسویں پارے میں گزشتہ سے پیوستہ ابتداء میں سورۃ الفرقان ہے اس کے بعد جو ہے وہ مکمل سورۃ شعراء ہے اور اخر میں سورۃ نمل کا کچھ حصہ ہے سب سے پہلے سورۃ الفرقان کا جو حصہ انیسویں پارے میں موجود ہے سابقہ مضمون کے ساتھ اس کا تعلق ہے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جو لوگ اللہ رب العزت کی ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ وہ یہ بات کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتہ نازل کیوں نہیں ہو جاتا یا ہم اللہ رب العزت کو بذات خود جو ہے وہ دیکھ کیوں نہیں لیتے انہوں نے بہت زیادہ تکبر کیا اور اللہ رب العزت کی بڑی ہی نافرمانی کا کام کیا تو مقصد کہنے کا یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کے مطالبات سے رہا ہے مطالبات میں سے رہا ہے کہ اللہ رب العزت کو ہم بذات خود کیوں نہیں دیکھ لیتے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا جو بھی اللہ تعالی کے دیگر انبیاء ہیں ان کے ساتھ جو ہے وہ کوئی فرشتے نازل کیوں نہیں ہو جاتے تاکہ ہم جو ہے وہ پھر ایمان لائیں تو گویا کہ اصل جو بات ہے وہ یہ ہے جو اللہ رب العزت نے بہت زیادہ مسعون جس کو کئی بار دہرایا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک جو بشریت ہے وہ نبوت کے منافی ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ رب العزت کسی بشر کو نبی بنا دیں تو یہ اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت کا دن ہوگا انسان جو ہے وہ اپنے دوستوں کے بارے میں یہ بات کہے گا اپنی انگلیاں کاٹے گا جو ظالم ہوگا بطور خاص وہ جو ہے وہ یہ کہے گا یا کاش کہ میں جو اللہ کے نبیوں کا راستہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ تھا وہ راستہ میں اپنا لیتا اور کاش کہ میں نے جو ہے وہ فلاں فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا تو بطور خاص اج کے دور میں ہمیں اس بات میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے دوستیاں جو ہیں وہ اللہ رب العزت کے لیے لگائی جائیں اللہ رب العزت کے لوگوں کے ساتھ جو اللہ والے ہیں اہل اللہ ہیں علماء ہیں ان کے ساتھ دوستیاں لگائی جائیں تاکہ کل قیامت والے دن جو ہے وہ جیسے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قیامت والے دن بہت ساری دوستیاں ایک دوسرے کے لیے دشمنیوں میں بدل جائیں گی تو ایسا نہ ہو کہ قیامت والے دن انسان اپنی دوستیوں کے بارے میں یہ کہتا رہے کہ کاش میں اس کو دوست نہ بناتا اس کو دوست نہ بناتا تو ایسے دوستوں جو انسان کے دنیا میں بھی اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرنے والے ہوں اور خود اس کو بھی جو ہے وہ اللہ تعالی کی طرف لگانے والے ہوں اور قیامت والے دن بھی انسان ان سے بجائے نظریں چرانے کے جو ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اللہ رب العزت ان کو اکٹھے جو ہے وہ جنت میں ڈالیں اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں ایت نمبر 30 ہے اللہ رب العزت کے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت والے دن یہ بات کہہ دیں گے کہ اللہ رب العزت میری قوم نے قران مجید کو چھوڑ دیا تھا یہاں سے ہمیں قران مجید کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے جیسا کہ اج کل ہماری حالت اور کیفیت ہے کہ ہم نے قران مجید کو قطعی طور پر ہم نے بالکل خیر باد کہہ دیا ہے صرف ہم نے اس کو اوقاکوں میں رکھا بلکہ اوقاقوں میں بھی رکھنے کی روایت اب تقریبا ختم ہو چکی ہے اب ہمارا قران مجید کے ساتھ کوئی تعلق نہیں زیادہ تر جو ہمارے سو کالڈ مذہبی لوگ ہیں وہ بھی جو ہے وہ مختلف قسم کے جو اسکول اف تھاٹس ہیں ان کا بھی قران و حدیث کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بزرگوں کے قصے کہانیاں ہیں اور بہت زیادہ جو ہے وہ اس طرح کی جو ہے وہ مختلف قسم کے جو واقعات ہیں جن کو انہوں نے دین بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ایک طرف وہ صورتحال ہے دوسری طرف ہماری شادی بیاہ کے رسوم و رواج ہیں ہماری میت کے معاملات ہیں الغرض ہمارا کچھ بھی جو ہے وہ قران و حدیث کے مطابق نہیں ہے حالانکہ اللہ رب العزت نے یہ کتاب ہمیں اس لیے عطا فرمائی تھی تاکہ ہم اس کے ذریعے اس کی تلاوت بھی عبادت ہے اس کا فہم اس کا سمجھنا وہ بھی عبادت ہے اس کو اگے پہنچانا بھی عبادت ہے اور اسی طرح اس کے اوپر عمل کرنا بھی عبادت ہے تو جب ہم نہیں کریں گے تو قیامت والے دن جو ہے وہ یہ ہمارے لیے وبال بن جائے گا جیسے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی اور قران مجید جو ہے وہ قیامت والے دن اپ کے لیے حجت بن جائے گا یا اپ کے خلاف حجت بن جائے گا اس کے بعد اللہ رب العزت جو ہے وہ بعض دیگر انبیاء کے واقعات جو ہے وہ ان کا تذکرہ فرماتے ہیں ان کی اللہ رب العزت نے یہاں پر بطور مثال کے کچھ چیزیں بیان فرمائی ہیں اللہ رب العزت نے سب سے پہلے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ کیا ان کے بھائی کا تذکرہ کیا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی بنا کر بھیجا ان کو جو ہے وہ فرعون کی طرف اللہ نے مبعوث کیا اس کا تذکرہ ہے اور جب انہوں نے انکار کیا تو اللہ رب العزت نے ان کو تباہ و برباد کر دیا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے جب ان کی قوم نے انکار کیا تو اللہ تعالی نے ان کو غرق کر دیا اور ان کو لوگوں کے لیے نشانی بنایا قوم عاد کا تذکرہ ہے قوم ثمود کا تذکرہ ہے اور اصحاب الرس اصحاب الرس یہ کون سے لوگ ہیں امام طبری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تفسیر طبری میں کہ یہ اس سے مراد جو ہے وہ کنویں والے یعنی یہ اصحاب الاخدود ہیں اصحاب الاخدود کا معنی یعنی وہ لوگ ہیں جو کھائیوں والے ہیں جن کا واقعہ جو ہے وہ تفصیلی سورۃ البروج کے اندر موجود ہے یہ وہ لوگ ہیں تو ان کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا یہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ساری کی ساری ساری مثالیں ہم اپ کے سامنے بیان کرتے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ اپ جو ہے وہ بعد میں انے والے جو لوگ ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اس سے سبق حاصل کریں اس سے عبرت حاصل کریں اور خود جو ہے وہ اس طرح کے انجام سے بچنے کی کوشش کریں اللہ رب العزت کے انبیاء کو اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا نبی مانیں ان پر ایمان لائیں اور ان کی بھیجی ہوئی شریعت کے مطابق جو ہے وہ اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں اللہ رب العزت ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے ایت نمبر 43 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کیا اپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیتا ہے کیا اپ ایسے شخص کے اوپر کارساز ہو سکتے ہیں جو ہے وہ اپ اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں مراد اس سے یہ ہے کہ بعض مرتبہ انسان جو ہے وہ اپنی خواہشات کے پیچھے اتنا چلتا ہے اپنے نفس کا اتنا غلام ہو جاتا ہے کہ جو اس کا نفس اس کو حکم دیتا ہے وہی وہ کرتا چلا جاتا ہے اس کے نفس کا حکم ہی اس کی عبادت ہوتی ہے وہی اس کے عقائد بن جاتے ہیں وہی اس کے معاملات بن جاتے ہیں تو اس وجہ سے یہ بڑی ہی خطرناک سیچویشن ہوتی ہے بڑی خطرناک صورتحال ہوتی ہے جب کائنات کا رب موجود ہے ہمارا خالق ہے مالک ہے وہی ہمارا معبود ہے وہی ہمارا رب ہے تو پھر اسی کی عبادت ہونی چاہیے اور اپنے نفس کی جو خواہشات ہیں ان کی غلامی سے انسان کو حتی الامکان بچنا چاہیے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 44 میں اپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے ہیں اور عقل کرتے ہیں بلکہ یہ جو اکثر لوگ ہیں یہ سنتے نہیں ہیں بلکہ یہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں بطور خاص جو قران و حدیث کے معاملات کو نہیں سمجھتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہے وہ بھیجی ہوئی شریعت کے مطابق جو ہے وہ عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے زندگی اس کے مطابق نہیں گزارتے بطور خاص کفار مراد ہیں اور عمومی طور پر جو ہے وہ اس سے مراد وہ لوگ بھی ہیں جو کہ مسلمان ہونے کے باوجود اپنی زندگیاں جو ہے وہ بالکل جانوروں جیسی گزارتے ہیں
[8:44]اور قران و حدیث کا اس میں کوئی معنی نہیں مذہب کا اس میں کوئی جو ہے وہ عمل دخل نہیں تو اس طرح سے اللہ رب العزت نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا پھر اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کے مظاہر کا بیان کیا ہے جس نے رات کو لباس کی مانند قرار دیا اور اسی طرح سے جو ہے وہ اس میں نیند کو اللہ رب العزت نے جو ہے وہ اسان کر دیا اسی طرح سے دن کو اللہ رب العزت نے روشن اور جو ہے وہ دیکھنے کے قابل بنایا ہے پھر وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو کہ اللہ تعالی کی رحمت کی امید دلاتی ہیں اور اللہ رب العزت اسمانوں سے بارش کو نازل کرتے ہیں پانی کو نازل فرماتے ہیں جس کے ذریعے اللہ رب العزت مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں اور اسی طرح سے بے شمار جو جانور ہیں اور اسی طرح سے دیگر جو مخلوقات ہیں وہ سب اس سے استفادہ کرتی ہیں اللہ تعالی نے ان کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے انہی نشانیوں میں سے دو سمندروں کا تذکرہ کیا ہے ایک اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ بہت میٹھا اور شیریں ہے اور دوسرا جو ہے وہ جو بالکل کھارا اور کڑوا ہے جو ترش ہے اس کا پانی جو ہے وہ اپس میں ملتے نہیں ہیں ان دونوں کے درمیان ہم نے ایک دیوار اور ایک پردہ ہائل کر دیا ہے جو ان کو ملنے نہیں دیتا اس سے کیا مراد ہے اس سے ایک تو وہ مجمع البحرین ہے جہاں پہ جس کے بارے میں جو ہے وہ لوگ کہتے ہیں کہ جو مطلب ایک منظر جو ہے وہ ہمیں عموما ویڈیوز وغیرہ میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ایک وہ منظر ہے اور دوسرا جو ہے وہ اس سے مراد اصل میں زمین کا پانی ہے ایک زمین کا پانی ہے اور ایک سمندروں کا پانی ہے زمین کا پانی جو اللہ رب العزت نے اس کو زیادہ تر میٹھا بنایا اور اسی میں سے بعض مرتبہ کھارا پانی بھی نکل اتا ہے لیکن ایک ہی جگہ سے پانی کھارا نکلتا ہے اور دوسری جگہ سے پانی میٹھا نکلتا ہے یعنی ایک ہی جگہ سے اس کے دوسری جگہ اس کے قریب ہی جو ہے وہ اگر پانی نکالا جائے تو بعض میٹھا ہوتا ہے لیکن یہ دونوں پانی اپس میں ملتے نہیں ہیں اسی طرح سے جو سمندروں کا پانی ہے اور زیر زمین جو پانی ہے یہ دونوں اپس میں نہیں ملتے اور یہ بھی اللہ رب العزت کی بڑی جو ہے وہ قدرت کا ایک مظہر ہے جو ہمیں سمجھ میں اتا ہے کہ سمندروں کا پانی اللہ رب العزت نے اس کو کھارا بنایا جبکہ زمین سے نکلنے والا پانی اس کو میٹھا بنایا اب زمین سے نکلنے والا پانی جب تک وہ زمین کے اندر رہتا ہے اس کی تازگی اس کی عمدگی اور اس کی جو شفافیت ہے اور جو اس کا اس کی جو انرجی ہے وہ برقرار رہتی ہے جیسے ہی اپ اس کو نکال کے کچھ ٹائم کے لیے باہر رکھ دیتے ہیں تو اہستہ اہستہ اس کے اندر جو ہے وہ اسمیل پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے جبکہ سمندروں کا پانی سالہ سال سے برس برس اور صدیوں سے اسی طرح سے چل رہا ہے جیسا کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ تین حصے کائنات کے اندر پانی ہے اور ایک حصہ جو ہے وہ خشکی کا ہے تو وہ تین حصے اتنا بڑا پانی لیکن وہ اللہ تعالی نے اس کے اندر جو ہے وہ سائنٹیفیکلی ایک کھاراپن رکھا ہے جس کی وجہ سے اس کے خراب ہونے کا اندیشہ نہیں رہتا تو اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کی ذات پر بھروسہ کیجئے جو کہ زندہ ذات ہے جو کسی بھی صورت میں جس کو موت نہیں انے والی اسی کی تعریف کیجئے اور اس کے بعد جو ہے وہ اللہ رب العزت کافی ہے گناہوں سے باخبر ہونے کے بارے میں اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جس اللہ تعالی نے اسمان اور زمین کو جو کچھ اس کے درمیان ہے سب چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش کے اوپر اللہ تعالی مستوی ہو گیا عرش کے بارے میں ہم پہلے بتا چکے ہیں اللہ تعالی کا عرش پہ مستوی ہونا یہ معلوم ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کا اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت عرش کے اوپر موجود ہیں ذات کے اعتبار سے اللہ تعالی ذات کے اعتبار سے ہر انسان کے اندر ہر زی روح کے ساتھ موجود نہیں ہیں اللہ رب العزت کی قدرت ہر جگہ موجود ہے اللہ رب العزت کا علم ہر جگہ موجود ہے کہ اللہ وہ اللہ ایک ہے اور وہ اللہ جو ایک ہے وہ عرش کے اوپر مستوی ہے اس کی قدرت اس کا علم اس کی جو صفات ہیں وہ ہر جگہ موجود ہیں اور جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے اس کی ذات جو ہے وہ عرش کے اوپر موجود ہے
[12:18]جہاں کا اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بھی کروایا اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو یہ مشرکین مکہ کہتے ہیں رحمن کیا ہے رحمن کا انکار کرتے ہیں ہم جو ہمیں تو حکم دیتا ہے ہم اس کو ہم جو ہے وہ اس کو سجدہ کریں اور اس چیز سے ان کی جو ہے وہ نفرت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اپنے نیک بندوں کی صفات کا تذکرہ کیا ہے ان کی صفات اللہ رب العزت نے بتائی ہیں کہ اللہ رب العزت کے نیک بندے جو عباد الرحمن کہلاتے ہیں جب وہ زمین میں چلتے ہیں تو بڑی عاجزی کے ساتھ جب ان کو جاہل لوگ مخاطب کرتے ہیں تو وہ ان کو سلام معارضہ کہہ کر نکل جاتے ہیں یہ سلام تحیہ نہیں ہے یہ سلام معارضہ ہے جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے جی جیسے انسان جو ہے وہ کسی سے اکتاایا ہوا ہوتا ہے تو اچھا جی ٹھیک ہے یہ والا جو سلام ہوتا ہے یہ سلام معارضہ ہے تو اللہ رب العزت کے نیک بندے یعنی وہ جاہلوں کا جواب جو ہے وہ جہالت کے ساتھ نہیں دیتے بلکہ جو ہے وہ وہاں سے جو ہے وہ ان کی مطلب جو ہے وہ اپنی جان چھڑا کر نکلنے کی کرتے ہیں اور اسی طرح سے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ پھر وہ راتوں میں اللہ رب العزت کو سجدے کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزارتے ہیں اللہ تعالی سے دعائیں کرتے ہیں اے اللہ رب العزت ہم سے جہنم کے عذاب کو پھیر دے یقینا وہ عذاب جو ہے وہ بہت ہی زیادہ سخت عذاب ہے اور بڑا ہی جو ہے وہ ہمیشہ کا اور بہت برا عذاب ہے برا ٹھکانے کے اعتبار سے ہے پھر وہ اللہ رب العزت کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اس میں جو ہے وہ اسراف نہیں کرتے نہ ہی کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے اسی طرح سے وہ زنا نہیں کرتے اور یہ بہت ہی برا فعل ہے جو اللہ رب العزت نے زنا کے حوالے سے ذکر کیا جو کوئی شخص ایسا کرتا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو دوہرا جو ہے وہ عذاب دیا جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہ جہنم میں رہے گا اس کے بارے میں اختلاف ہے اس کا جو ہے وہ مفسرین کا بہرحال اگر مومن ہے کوئی شخص اور اس سے یہ گناہ سرزد ہو جاتے ہیں تو اخر کار انشاءاللہ ایمان کی بدولت اللہ رب العزت اس کو اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد وہ جنت میں چلا جائے گا لیکن یہ بڑے سخت گناہ ہیں کبیرہ گناہ ہیں جو بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے اور اگر انسان سے یہ گناہ سرزد ہو جائیں اور اسی طرح بغیر توبہ کے انسان دنیا سے چلا جائے تو قیامت والے دن ان کی بڑی سخت سزا ہے مگر جو شخص توبہ کر لے توبہ کی اللہ رب العزت نے یہاں بڑی جو ہے وہ پیاری تعریف فرمائی ہے اور اس کا بینیفٹ اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے توبہ کر لے ایمان لے ائے یعنی تجدید ایمان کر لے کیونکہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کا ایمان چلا جاتا ہے ایمان جو ہے وہ ایمان کم ہوتا رہتا ہے بڑھتا رہتا ہے گناہ کے وقت انسان جو ہے وہ مومن نہیں ہوتا اس کا ایمان چلا جاتا ہے جیسے ہی وہ گناہ جو ہے نا وہ دوبارہ اللہ تعالی کی طرف توبہ کرتا ہے تو اس کا ایمان انکریز ہو جاتا ہے تو اسی طرح سے اللہ نے فرمایا کہ وہ توبہ کرے پھر اپنی تجدید ایمان کرے پھر نیک اعمال کرے تو ایسے لوگوں کو اللہ گناہوں کو نیکیوں سے بدل ڈالتے ہیں یعنی صرف گناہ معاف نہیں کرتے بلکہ جتنے گناہ تھے اتنا ہی اللہ رب العزت ان کو نیکیوں سے بدل دیتے ہیں اللہ رب العزت بخشنے والے ہیں اور اسی طرح سے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان والے ہیں عباد الرحمن ہیں اللہ رب العزت کے بندے ہیں وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے فضولیات اور لغویات میں زیادہ وقت نہیں گزارتے بطور خاص اج کے سوشل میڈیا کے حوالے سے ہمیں جو ہے وہ اس بات سے محتاط رہنا چاہیے یہ ایمان والوں کی صفات نہیں ہیں سارا سارا دن جو ہے وہ سوشل ایپس کے اوپر بیٹھے رہنا اسی طرح سے جب ان کے سامنے اللہ تعالی کی ایات کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہ اس کے اوپر جو ہے وہ اندھے اور بہرے بن کر نہیں گر پڑتے بلکہ اس کے اوپر غور و فکر کرتے ہیں تدبر کرتے ہیں کیا یہ قران مجید پر غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دل بند ہو چکے ہیں اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وہ لوگ ہمیشہ اللہ تعالی سے دعائیں مانگتے ہیں اے اللہ رب العزت ہمیں ہماری بیویوں سے ہماری اولادوں سے انکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں دنیا کا امام بنا اللہ فرماتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے قیامت والے دن اللہ رب العزت نے بڑے بلند بالا خانے جو ہے وہ اللہ تعالی نے ان کے لیے قائم کر رکھے ہیں اور وہاں پر ان کو جو ان کا تحفہ ہوگا وہ سلامتی ہوگا اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس جنت کے اندر بڑی ہی بہترین ٹھکانہ ہے اللہ فرماتے ہیں دیکھو اگر تم اللہ تعالی سے دعائیں نہ مانگو تو اللہ رب العزت تمہاری پرواہ کرنا چھوڑ دیں یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعا کس قدر انسان کے لیے ضروری ہے اور رمضان کے ساتھ دعا کا بہت گہرا تعلق ہے مومن ہمیشہ جو ہے وہ کبھی بھی اللہ رب العزت کی دعا سے اللہ تعالی سے مانگنے سے مستغنی نہیں ہوتا ہمیشہ اپنا ایک وقت بنائیے فجر کے بعد فجر سے پہلے مغرب کے بعد یا عصر کے بعد یا مغرب سے پہلے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اسی طرح سے جو ہے وہ سورج کے غروب ہونے سے پہلے یا سورج کے غروب ہونے کے بعد یعنی جس ٹائم میں اللہ رب العزت نے تسبیح کرنے کا حکم دیا ہے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے نمازوں کے بعد دعائیں قبول کی جاتی ہیں اسی طرح سے تہجد میں دعا قبول کی جاتی ہے نیک عمل کے بعد تلاوت کے بعد دعا قبول کی جاتی ہے اذان اور اقامت کے درمیان میں جو ہے وہ دعا دعا کی قبولیت کا وقت ہے افطاری کے ٹائم میں دعا کی قبولیت کا وقت ہے سحری کے ٹائم پہ دعا کی قبولیت کا وقت ہے تو مومن کبھی اللہ رب العزت سے مانگنے سے مستغنی نہیں ہوتا اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو اللہ تمہاری پرواہ کرنا چھوڑ دیں اور پھر تمہیں جو ہے وہ چمٹنے والا عذاب تمہیں ان پہنچے اس کے بعد سورہ شعراء ہے جس میں اللہ رب العزت نے ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپ کے کردار کی تعریف بھی فرمائی ہے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی کہا ہے کہ اپ اپنی جان کو لوگوں کے لیے جو ہے وہ زیادہ اپنی جان نہ کھپائیے بلکہ جو ہے وہ ان کو ان کے حالت پر چھوڑ دیجئے اپ نے ان کو دعوت پہنچا دی ایمان کی دعوت ان کو اپ نے دے دی اگر پھر بھی ماننے کو تیار نہیں ہے تو پھر اپ اپنی جان ان کے لیے نہیں کھپائیے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 10 سے 68 تک موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تفصیلی حالات کا تذکرہ کیا ہے اللہ رب العزت نے اپ کو نبی منتخب کیا اللہ رب العزت نے اپ کو نبوت عطا فرمائی موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے کو ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے ان کی مدد فرمائی پھر انہوں نے جا کر اپنی جو ہے وہ قوم کو دعوت دی فرعونیوں کو دعوت دی اسی چیز کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح سے جو ہے وہ ان کا پھر ہجرت کر جانا پھر ہجرت کر کے واپس انا اور جو ہے وہ اس کے بعد فرعونیوں کے سامنے ا کر جو ہے وہ اللہ رب العزت کی توحید کی دعوت کو بلند کرنا جیسے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں فرعون کہنے لگا کہ یہ رب العالمین کون ہے یعنی جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے کیونکہ اس سے پہلے فرعون نے ایسا ماحول پیدا کر رکھا تھا کہ لوگ اللہ رب العزت کے تعارف کو ہی بھول چکے تھے تو جب اپ کے سامنے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جب فرعون اور اس کے لوگوں کے سامنے اللہ رب العزت کے بارے میں بات کی توحید کی بابت بات کی تو کہنے لگا رب العالمین کون ہے یعنی وہ تو اپنے اپ کو کہتا تھا کہتا تھا میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں تو فرمایا وہ رب ہے جو اسمان و زمین اور اس کے درمیان ہر چیز کا مالک ہے اگر تم یقین رکھنے والے ہو اور پھر جو ہے وہ اس کے بعد اللہ تعالی کی تعارف میں مزید ارشاد فرما رہا ہے تمہارا رب تم سے پہلے لوگوں کا رب ہے اور اور اس کے درمیان جو چیزیں ہیں ان کا رب ہے اگر تم عقل کرتے ہو اور اس کے بعد جو ہے وہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو جب فرعون سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو جادوگر جادوگر قرار دے دیا کہنے لگا کہنے لگا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے اپنے جادو کے بل بوتے پر تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کر دینا چاہتا ہے خود بڑا بن کے رہنا چاہتا ہے اور اسی کی جو ہے وہ اس میں انہوں نے پھر کیا کیا جادوگروں کو طلب کیا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مقابلہ کروانے کے لیے جبکہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس تو معجزات تھے بہرحال وہ جادوگر ائے ایک دن مقرر کیا مقرر کرنے کے بعد ان لوگوں نے جو کچھ بھی تھا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اختیار دیا 43 میں اللہ فرماتے ہیں موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ ہاں بھائی ڈالو جو کچھ تم نے ڈالنا ہے جب انہوں نے ڈالا تو اس کے بعد موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اعصاء کو رکھا اللہ تعالی کے حکم سے اس اعصاء نے ازدہا کی شکل اختیار کی اور سارے کے سارے جادو کو ختم کر دیا
[19:43]نتیجہ یہ نکلا کہ جادوگر سارے کے سارے سجدے میں گر گئے اللہ رب العزت پر ایمان لے ائے ہم اللہ تعالی کے ساتھ جو تمام جہانوں کا مالک ہے ایمان لاتے ہیں یعنی جس اللہ کا تعارف موسی علیہ السلام نے کروایا تھا اسی اللہ رب العزت پر وہ لوگ ایمان لے ائے جو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تھے اور موسی اور ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کے رب پر ایمان لاتے ہیں فرعون ان کی جان کا دشمن ہوا اس نے ان کو جو ہے وہ سزائیں دیں لیکن اس کے باوجود اللہ رب العزت نے ان کو استقامت نصیب فرمائی پھر اللہ رب العزت نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو حکم دیا کہ اپ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جائیے کیونکہ اب جو ہے وہ فرعون اتنا زیادہ ببر چکے ہیں کہ اب یہ اپ لوگوں کو دوبارہ پھر مظالم کا شکار بنائیں گے تو اللہ رب العزت کی طرف سے ترتیب بنا دی گئی تھی ہجرت کی موسی علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ اپنی قوم کو لے کر نکلے اور لے کر جو ہے وہ سامنے جیسے ہی دریا کے کنارے پہنچے دریا نیل کے کنارے پر جب وہاں پر پہنچے اور دونوں لشکر امنے سامنے ہوئے تو اصحاب موسی یعنی بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے کہ موسی اب تو ہم پا لیے گئے یعنی اگے دریا ہے اور پیچھے جو ہے وہ فرعونی پہنچ چکے ہیں تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا پریشان نہ ہو اللہ رب العزت ہمارے ساتھ ہے وہ ہمارے لیے کوئی راستہ پیدا فرما دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اپ اللہ رب العزت پر توکل کر لیتے ہیں تو اللہ رب العزت جو ہے وہ اس طرح سے بھی نہ اگے کوئی راستہ موجود ہوتا ہے نہ پیچھے کوئی راستہ موجود ہوتا ہے اللہ تعالی اس طرح معجزانہ طور پر راستے پیدا فرماتے ہیں مسبب الاسباب ہیں جیسے اس نے اپنی انبیاء کے لیے راستے پیدا فرمائے ہیں اسی طرح سے وہ جب اس کے اوپر توکل کیا جاتا ہے اللہ رب العزت ہمیں بھی صحیح معنی میں ایمان اور توکل اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
[22:01]پھر ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ کیا ہے جب انہوں نے اپنی قوم کو جا کر جو ہے وہ کہا کہ تم یہ کس کی عبادت کرتے ہو کہنے لگے ہم تو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہم اسی کے اوپر جو ہے وہ اعتکاف کر کے بیٹھے ہوئے ہیں کیا جب تم ان کو پکارتے ہو تو یہ سنتے ہیں یا تمہیں کوئی فائدہ پہنچاتے ہیں نقصان پہنچاتے ہیں کہنے لگے ہم تو اپنے اباؤ اجداد کو اسی طرح پایا ایسے ہی وہ کرتے تھے تو ہم بھی کرتے چلے ا رہے ہیں اج ہمارا معاشرے کی بہت بڑی تعداد صرف جو ہے وہ اس معاملے میں ایسی ہپوکریسی کا شکار ہے کہ دنیاوی اعتبار سے وہ کہتے ہیں ہمارے والدین کو اباؤ اجداد کو کچھ پتا ہی نہیں تھا اور وہ تو سائنس سے ناواقف تھے ٹیکنالوجی سے ناواقف تھے اور جیسے ہی بات مذہب کی اتی ہے تو پھر وہ نانی دادی کا دین نکل اتا ہے پھر وہی پرانے لوگوں کا دین نکل اتا ہے نہیں جی ہمارے گھر میں تو یہ ہوتا تھا ہمارے گھر میں تو وہ ہوتا تھا اور پھر جو ان کے بزرگ ہیں وہ چند سال والے بزرگ چند سالوں تک وہ چیزیں جاتی ہیں اور اصل جو اسلاف ہیں صحابہ کرام ہیں تابعین ہیں تبع تابعین ہیں محدثین ہیں مفسرین ہیں فقہاء ہیں وہاں تک جو ہے وہ ان کو اپنے اسلاف میں شامل نہیں کرتے اور وہاں تک اس دین کو لینے کی کوشش نہیں کرتے جو اللہ رب العزت کا دیا ہوا دین ہے تو یہی چیز جو ہے وہ مشرکین مکہ بھی پیش کرتے تھے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم نے بھی یہی چیز کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اباؤ اجداد کو اسی طرح پایا اس وجہ سے ہم بھی وہ کرتے ہیں تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو فرمایا کہ یہ سب کچھ جو ہے وہ باطل ہے اور اصل جو اللہ رب العزت ہے اس کی تو ہمیں عبادت کرنی چاہیے تو جو تمام جہانوں کا مالک ہے پھر اللہ تعالی کا تعارف پیش کیا وہ اللہ رب العزت جس نے مجھے پیدا کیا مجھے ہدایت دیتا ہے مجھے کھلاتا ہے پلاتا ہے بیمار ہوتا ہوں شفا عطا فرماتا ہے وہی فوت کرتا ہے وہی زندہ کرتا ہے اور مجھے اسی سے امید ہے کہ وہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا اللہ تعالی سے دعا کی یا اللہ رب العزت مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے نیک بندوں میں شامل فرما دے تو یہ کتنی ہی خوبصورت دعا ہے
[35:26]یہ دعا ہمیشہ اپنے ہمیں اپنی دعاؤں کے اندر شامل کرنی چاہیے پھر ہدہد کا قصہ اللہ رب العزت نے بیان فرمایا ایک مرتبہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام تمام جانوروں کی پرندوں کی اٹینڈنس لے رہے تھے تو وہاں ہدہد غائب تھا پوچھا یہ مالک یا کیا ماجرہ ہے ہدہد اج نظر نہیں ا رہا ہے کہاں یہ کہاں غائب ہے میں اس کو بڑی سخت سزا دوں گا یا پھر کوئی معقول عذر لیے میرے پاس لے کر ائے گا ہدہد جب واپس ایا تو اس نے ا کر قوم کے بارے میں بتایا ملکہ کے بارے میں بتایا بتایا کہ میں نے ایک جگہ پر دیکھا ہے ایک ایسی قوم ہے جس کی حکمران جو ہے وہ ایک عورت ہے شریعت اعتبار سے عورت کا حکمران بننا جائز نہیں ہے اور اپ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جو اپنی قوم کو اپنا حکمران بنا لیتی ہے جیسا کہ اج کل عورت مارچ کے حوالے سے جو ہے وہ اسی طرح سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اس طرح کی چیزوں کو بہت زیادہ ہائی لائٹ کیا جاتا ہے تو ا کر بتایا اس نے ہدہد نے کہنے لگا کہ میں نے اس قوم کو دیکھا ہے اس عورت کو اور اس کی قوم کو دیکھا یہ سورج کو سجدہ کرتے ہیں اللہ رب العزت کو چھوڑ کر اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوبصورت کر دیے ہیں اور ان کو اصل راہ سے روک دیا ہے وہ ہدایت نہیں پاتے اندازہ لگائیے ایک ہودہود جیسے پرندے کو بھی پتا ہے کہ مالک اللہ رب العزت ہے خالق وہ ہے معبود وہ ہے عبادت اسی کی کی جا سکتی ہے مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر اس کے باوجود انسان ذی شعور ہونے کے باوجود عقل رکھنے کے باوجود فہم و فراست رکھنے کے باوجود کس طرح جا کر مزاروں پہ گرتا ہے قبروں پہ گرتا ہے بتوں کے سامنے گرتا ہے درختوں کے سامنے گرتا ہے پتھروں کے سامنے گرتا ہے پتھروں کو جو بڑا مقدس اور جو ہے وہ ہواؤں کو اپنا مالک سمجھتا ہے سمندروں کو اپنا دیوتا سمجھ لیتا ہے



