Thumbnail for Para 16 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 16 | Inspiring Quranic Summary by Youth Flix

Para 16 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 16 | Inspiring Quranic Summary

Youth Flix

39m 45s6,050 words~31 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]یاجوج ماجوج قرب قیامت ائیں گے بہت ساری ان کی نشانیاں ان کے بارے میں احادیث کے اندر بے شمار واقعات موجود ہیں۔ دجال کے زمانے میں ائیں گے اور جو ہے نا وہ سمندروں کو چٹ کر جائیں گے دنیا جہان کے اندر جو بھی چیزیں ہیں ان سب کو کھا جائیں گے اور پھر جو ہے وہ فساد مچائیں گے اور یوں جو ہے وہ پہاڑوں سے امڑتے ہوئے چلے ائیں گے جیسا کہ مختلف قسم کے جانور ان کے جھنڈ ہوتے ہیں کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے اس سے پہلے ہلاک کیا ہے کیا اپ ان میں سے کسی کی اہٹ یا کسی کے اثار و نشانات کو بھی دنیا کے اندر باقی پاتے ہیں یقینا یہ سب سلسلے ختم ہو چکے ہیں اللہ تعالی نے ان کے نام و نشان تک مٹا دیے ہیں۔

[0:42]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین و من تبع باحسان الی یوم الدین جیسا کہ اپ لوگ جانتے ہیں کہ خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری سولویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی سولویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ لیں گے ابتداء میں سورۃ الکہف کا اخری حصہ ہے اس کے بعد اس میں سورہ مریم مکمل ہے اور اسی طرح سے سورہ طہ اس میں مکمل ہے۔ سب سے پہلے جو سورۃ الکہف کا اخری حصہ ہے گزشتہ سے پیوستہ اس میں موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو جرنی تھی ان کی ان کا جو جانا تھا اس کی کچھ جو ہے وہ باقی باتیں ہیں جس کا اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے۔ ابتدا میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ انہوں نے خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا قال الم اقل لك انك تستطيع معی صبرا جب بچے کو قتل کیا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس چیز کے اوپر نکیر فرمائی تو خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا میں نے اپ سے کہا نہیں تھا کہ اپ سے صبر نہیں ہو گا تو عرض کیا قال ان شی بعد فلا قد بلغت من عذرا اگر اس کے بعد میں اپ سے کوئی سوال کروں تو پھر اپ جو ہے وہ با اختیار ہیں کہ اپ مجھے ساتھ لے کر چلنا چاہیں یا نہ چلنا چاہیں تو اپ کی مرضی ہو گی یقینا اپ جو ہے وہ میرے حوالے سے عذر کو پہنچ چکے ہیں یعنی اب جو ہے وہ انتہا ہو چکی ہے تو اب میں اپ سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ اس کے بعد ایت نمبر 77 میں اللہ فرماتے ہیں جب وہ چلے بستی والوں کے پاس سے گزر ہوا جیسا کہ پہلے یہ روایات تھیں ثقافت تھی لوگوں کی کہ کسی بھی بستی کے پاس سے کسی اجنبی کا گزر ہوتا مسافر کا گزر ہوتا تو وہ اس کی مہمان نوازی کرتے تو ان لوگوں نے مہمان نوازی سے بھی انکار کیا لیکن کیا ہوا دیوار جو کہ گرنے کے قریب ہی تھی اور تقریبا گر چکی تھی اس کو کھڑا کر دیا۔ تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر فرمایا کہ ایک طرف تو یہ اتنے بد اخلاق لوگ ہیں کہ انہوں نے ہماری مہمان نوازی تک نہیں کی اور دوسری طرف اپ نے ان کا کام کر دیا اور ان سے کوئی اجرت بھی نہیں لی تو اس کے بعد اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا خضر علیہ السلام نے اب میری اور اپ کی راہیں جدا ہیں اب میں اپ کو ان چیزوں کے بارے میں خبر دوں گا جو جو واقعات جیسے جیسے رونما ہوئے تو سب سے پہلے جو ہے وہ سفینہ والوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک مسکینوں کی کشتی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے اور اس وقت کا جو بادشاہ تھا وہ ہر نئی کشتی کو دیکھ کر غصب کر لیتا تھا تو میں نے اس کو توڑ کر اس وجہ سے داغدار کیا تاکہ وہ کشتی جو ہے وہ بادشاہ کی نظروں میں نہ ا سکے۔ رہا مسئلہ اس بچے کا جس کو ہم نے قتل کیا اس کے والدین بڑے نیک لوگ تھے ہمیں اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بچہ بڑا ہو کر ان کے لیے کسی طرح کی پریشانی اور جو ہے وہ کفر و سرکشی کا سبب بنے تو اس وجہ سے ہم نے یہ چاہا اللہ تعالی کے حکم کے ساتھ کہ اللہ رب العزت اس کی جگہ پر اس کو ان ان کے والدین کو ایک بہتر نعم البدل عطا فرما دے۔ اس کے بعد فرمایا کہ رہا مسئلہ اس دیوار کا جس کو ہم نے کھڑا کیا تھا با وجود بستی والوں کے مہمان نوازی سے انکار کے تو وہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ دو یتیم بچوں کی دیوار تھی اور اس کے نیچے جو ہے وہ ان کے کچھ خزانہ جو ہے وہ دفن تھا اور وہ بستی والے جو ہیں وہ اپ کے سامنے جیسا کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ بیہو کیا تو اس بچوں کے جو والدین تھے وہ بڑے نیک لوگ تھے تو اس سے جو ہے وہ یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ والدین نیک ہوں تو ان کی برکت اولاد تک بھی چلی جاتی ہے اولاد تک بھی پہنچتی ہے اللہ رب العزت ان کی برکت سے اولاد کو بھی ان کی اس نیکی کا فائدہ پہنچاتے ہیں تو اپ کے رب نے یہ چاہا کہ اللہ رب العزت جو ہے وہ ان کے بڑے ہونے تک اس خزانے کو محفوظ رکھے تو اس وجہ سے یہ ہم نے ان کی دیوار بنا دی اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی کام میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ یہ سب کا سب جو ہے وہ اللہ رب العزت کے حکم سے کیا ہے لیکن یہ ہے کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے اوپر اپ سے صبر کرنا مشکل ہو رہا تھا تو بہرحال یہ اللہ رب العزت کی حکمتیں ہیں اس میں کسی بھی طرح سے ہم خضر علیہ الصلوۃ والسلام کو موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر یا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتے یہ اللہ رب العزت کی مرضی ہے اللہ رب العزت نے مختلف انبیاء کو مختلف درجات ان کے ساتھ مختلف جو ہے وہ اللہ تعالی نے مراتب رکھے ہیں ہم میں ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم جو ہے وہ کسی بھی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے جو ان کی شان اللہ نے بیان کیا ہے اس سے زیادہ ہم اس کو بڑھائے چڑھائے اور اس طرح کے معاملات کریں۔ یہ یہود کا تیسرا سوال ہے جس کا اللہ رب العزت نے ذکر کیا ایت نمبر 83 میں یہ پوچھتے ہیں اپ سے ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ان کو بتائیے کہ میں عنقریب ان کے معاملات جو ہے وہ اپ کے سامنے تلاوت کروں گا اور میں اللہ رب العزت کے حکم سے وہ ساری باتیں اپ کے سامنے رکھوں گا ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام وہی ہیں جن کو دو سینگوں والے کہا جاتا ہے اور مختلف جو ہے وہ روایات میں انہی کو جو ہے وہ قیصروں کے نام سے جانا جاتا ہے اور انہی کو جو ہے وہ جنہوں نے پوری زمین کا چکر لگایا ایک طرف جو ہے وہ مشرق میں گئے اور ایک طرف جو ہے وہ مغرب میں گئے جہاں سورج طلوع ہوتا ہے جہاں سورج غروب ہوتا ہے وہاں وہاں تک اللہ رب العزت نے ان کو رسائی عطا فرمائی بادشاہ بنا ہے اللہ رب العزت نے اپنا نبی منتخب کیا اور یاجوج ماجوج کے سامنے جو ہے وہ انہوں نے دیوار قائم کی جہاں پر ایک بستی اباد تھی تو یہ سارے معاملات جو ہے وہ ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام کے ہیں ان کے بارے میں اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے یہ یہود نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو سوال سے جو سوالات کیے تھے ان میں سے تیسرا سوال ہے جو یہاں پر اللہ رب العزت نے اس کا جواب دیا ہے مغربی ملک کے طرف جو ہے وہ ملکوں پر ملک فتح کرتے ہوئے اللہ جب وہ ملکوں پر ملک فتح کرتے ہوئے گزرے تو اللہ رب العزت نے اس کا ذکر کیا ایت نمبر 86 میں تو سورج کو سورج جہاں پر غروب ہوتا ہے یعنی اس کے اینڈ اینڈ کا جو مطلب سائٹ ہے وہاں پر اپ علیہ الصلوۃ والسلام پہنچے اور اس سورج کو ایک دلدل والی جو ہے وہ چشمے میں غروب ہوتے ہوئے دیکھا اور وہاں پر ایک قوم موجود تھی اللہ رب العزت فرماتے ہیں چونکہ وہ نافرمان قوم تھی ہم نے کہا یا القرنین اپ ان کو عذاب دیں یا ان کے ساتھ کوئی حسن سلوک کریں اپ اس معاملے میں خود مختار ہیں فرمایا کہ جو لوگ ظلم کریں گے ان کو تو ہم جو ہے وہ جو ہے وہ ان کو ہم تک عذاب اور سزا دیں گے اور جو جو ہے وہ اللہ رب العزت کے اس کے فرما بردار رہیں گے ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے تو ان کے لیے بہترین جزا اور جو ہے وہ بہترین ان کا بدلہ ہو گا اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں پھر انہوں نے ایک نئی مہم جو ہے وہ اس کے اوپر چلے یہاں تک کہ وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پر پہنچ گئے تو وہاں پر بھی ایک قوم کو دیکھا جن کے اوپر جو ہے وہ سورج نکلتے ہی ڈائریکٹ ان کے جسموں پر پڑتا یعنی وہ کپڑوں سے بھی ازاد تھے اور بالکل ننگے بدن وہ رہا کرتے تھے تو اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو وہاں پر ایک قوم کو پایا جو کسی بھی بات کو سمجھتے نہیں تھے تو اس کا معنی یہ ہے کہ پھر ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ انہوں نے کیسے کلام کیا ہو گا کیونکہ اس کے بعد اللہ نے فرمایا وہ تو کوئی بات سمجھتے بھی نہیں تھے تو اس کا معنی یہ ہے کہ یہ کلام اللہ رب العزت نے یا تو ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت ساری زبانیں سکھا رکھی تھی جیسا کہ سلیمان علیہ السلام کو داؤد علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے بادشاہتوں کے ساتھ یہ سارے کے سارے وسائل اور مختلف طرح کی صلاحیتیں عطا فرمائی تھی یا پھر اس کا مطلب ہے کہ کسی ترجمان کے ذریعے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بات ہوئی تو مختصر یہ یاجوج ماجوج کون ہے اس کے حوالے سے پہلے بھی نویں پارے میں ہم نے ایک روایت میں ذکر کیا تھا یاجوج ماجوج قرب قیامت ائیں گے بہت ساری ان کی نشانیاں ان کے بارے میں احادیث کے اندر بے شمار واقعات موجود ہیں دجال کے زمانے میں ائیں گے اور جو ہے نا وہ سمندروں کو چٹ کر جائیں گے دنیا جہان کے اندر جو بھی چیزیں ہیں ان سب کو کھا جائیں گے اور پھر جو ہے وہ فساد مچائیں گے اور یوں جو ہے وہ پہاڑوں سے امڑتے ہوئے چلے ائیں گے جیسا کہ مختلف قسم کے جانور ان کے جھنڈ ہوتے ہیں اس طرح سے یہ دنیا کے اندر ائیں گے فساد مچائیں گے اور پھر اللہ رب العزت کے حکم سے ان کی گدی میں ایک جو ہے وہ ایک بیماری پیدا ہو گی اور ایک کیڑا پیدا ہو گا اس کے ذریعے سے جو ہے وہ ان کو ختم کر دیا جائے گا پھر اللہ تعالی کے حکم سے ایک بارش ہو گی اور بارش کے ذریعے جو ہے زمین کو پھر سے صاف کر دیا جائے گا تو یہ یاجوج ماجوج ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق اپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ نسل انسانی میں سے ہیں بعض لوگوں نے یہ کہا کہ یہ ان کی نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے یافز کی اولاد میں سے ہیں یہ اللہ رب العزت جانتے ہیں بہرحال یہ ان کے بارے میں اپ نے فرمایا کہ اہل جہنم کے بارے میں جب اللہ تعالی ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمائیں گے کہ جہنم والوں کو نکال لیجئے تو وہ پوچھیں گے کہ اللہ رب العزت کتنے تو اللہ فرمائیں گے ہزار میں سے 999 یعنی 999 جو ہے وہ جہنمیوں کو نکال لیجئے تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب صحابہ کرام اس بات کو سن کر ڈر گئے تو اپ نے فرمایا کہ یہ 999 جو ہوں گی یہ یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے تو بہرحال ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قوم کے درمیان اور ان کے درمیان یعنی وہ درہ تھا دو پہاڑوں کے درمیان میں اس کو جو ہے وہ ایک دیوار چونہ گز دیوار لگا کر اور جو ہے وہ بڑی مضبوط قسم کی فصیل کھڑی کر کے اس کو بند کر دیا اور فرمایا کہ جب تک اللہ رب العزت چاہیں گے اس وقت تک یہ دیوار قائم رہے گی جب تک جب اللہ تعالی چاہیں گے تو اس دیوار کو ریزہ ریزہ کر دیں گے اور جب میرے وعد رب کا وعدہ پہنچ جائے گا تو اس وقت یہ دیوار ختم ہو جائے گی اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی سورت کے اخر میں اخری رکوع میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے کیا اپ کو یہ نہ بتائیں کہ دنیا میں خسارے کے اعتبار سے سب سے زیادہ کون سے لوگ ہیں جن کے اعمال خسارے والے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن جو محنت تو کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں لیکن ان کی ساری محنت ضائع چلی جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ان کی ڈائریکشن ٹھیک نہیں ہے اور وہ جیسے اللہ تعالی نے یہ ایت تو کافروں کے بارے میں ارشاد فرمائی جنہوں نے اپنے رب کی ایتوں کا انکار کیا کفر کیا اس کی ملاقات کا انکار کیا ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اللہ فرماتے ہیں ان کے لیے قیامت والے دن میزان قائم ہی نہیں کیا جائے گا بغیر میزان کے بغیر حساب کے ان کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا تو مطلب یہ کہ ڈائریکشن ٹھیک نہیں ہے اسی سے ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہٹ کر اعمال کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا اے ایمان والوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع مت کرو کیونکہ اطاعت کے بغیر کیے جانے والے اعمال جو ہیں وہ ضائع ہو جاتے ہیں اس کے بعد اس سورت کے اخر میں اللہ رب العزت نے اپنی بے شمار تعریفات کا ذکر کیا ہے ایت نمبر 109 ہے اللہ فرماتے ہیں اگر سارے کے سارے سمندر جو دنیا کے اندر موجود ہیں یہ سب جو ہے وہ انک بن جائیں سیاہی بن جائیں روشنائی بن جائیں اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور یہ ان کی روشنائی بنانے کے بعد ان کے ساتھ جو ہے وہ تیرے رب کے کلمات کو لکھنا شروع کر دیا جائے تمام کے تمام سمندر ختم ہو جائیں قبل اس کے کہ تیرے رب کی تعریف مکمل ہو اور اگرچہ ہم اس کے مثل جتنے سمندر دنیا کے اندر موجود ہیں اگرچہ ہم اتنے ہی اور بھی لے ائیں تو اس کے باوجود اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ کم پڑ جائیں اور تیرے رب کی تعریفات تیرے رب کے کلمات جو ہیں وہ مکمل نہ ہوں اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان سے کہہ دیجئے کہ بے شک میں تمہارے جیسا ادمی ہوں ادمی ہونے میں ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہونے میں بشر ہونے میں تمہارے جیسا ہوں ہاں یہ یقینا یقینی سی بات ہے کہ مراتب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو کوئی نبی نہیں پہنچ سکتے تو کوئی عام انسان کیسے پہنچ سکتا ہے میری طرف اللہ رب العزت کی طرف سے وحی کی جاتی ہے جو میرا یقینا ایک فضل اور مرتبہ ہے جو کہ عام لوگوں کو حاصل نہیں ہے انبیاء کو حاصل ہے لیکن اس میں بھی مراتب ہیں تو جو کوئی اللہ تعالی سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اس کو چاہیے نیک اعمال کرے اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائے اس کے بعد سورہ مریم ہے سورہ مریم کے اندر اللہ رب العزت نے مریم علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے تفصیلی جو ہیں وہ ان کا قصہ کو ذکر کیا ہے ان کو اللہ رب العزت نے کس طرح معجزانہ طریقے سے جو ہے وہ اللہ اپنے حکم کے ساتھ بغیر باپ کے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش جو ہے وہ کروائی ہے اور عیسی علیہ الصلوۃ والسلام عطا فرمائے ہیں یہ اللہ تعالی کی خاص جو ہے نا وہ حکمت ہے اللہ رب العزت کی مرضی ہے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرما دے حوا علیہ الصلوۃ والسلام کو بغیر ماں کے پیدا فرما دے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بغیر باپ کے پیدا فرما دے اور عام انسانوں کو ماں اور باپ دونوں سے پیدا فرما دے تو اللہ تعالی کی حکمت ہے ہجرت حبشہ اولی جو ہے جس میں تقریبا 15 افراد مسلمان ہوئے تھے اس میں عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رقیہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد یہ دوسرا جوڑا ہے دوسرا پیئر ہے دوسرا کپل ہے جنہوں نے جو ہے وہ اسلام کی خاطر ہجرت کی ہے تو اس ہجرت میں جو ہے وہ اس کے بعد جو ہے وہ دوسری دوبارہ جب ہجرت ہوئی ہجرت ہجرت حبشہ ثانیہ جو ہے جو کہلاتی ہے ہجرت ہجرت حبشہ ثانیہ جس میں تقریبا 83 مرد تھے اور اسی طرح سے تقریبا 11 عورتیں اس میں شامل تھیں اس وقت جو ہے وہ کفار کے سامنے خاص طور پر حبشی کے سامنے حبشی کے سامنے جب یہ لوگ ہجرت کر کے حبشہ میں گئے تو وہاں پر کفار کی طرف سے امر بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ جب یہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اسی طرح سے ابوجہل کے بھائی جن کا نام عبداللہ بن ربیعہ ہے ان کو سفیر بنا کر مسلمانوں کو واپس لینے کے لیے بھیجا گیا مسلمانوں نے وہاں پر جو ہے وہ اپنا مقدمہ پیش کیا حبشہ کے جو نجاشی تھے ان کے سامنے اور ان کفار نے جو ہے وہ ان کو کہا کہ یہ ہمارے سیاسی مجرمین ہیں ان کو ہمارے سپرد کر دیا جائے لیکن جو ہے وہ جیسے ہی ان کو پتہ چلا تو انہوں نے نجاشی نے جو ہے وہ اپنے سامنے بلوایا ان مسلمانوں کو حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے جو بھائی تھے انہوں نے مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ پیش کیا اور جب نجاشی نے کہا کہ مجھے اس کلام میں سے کچھ سناؤ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے تو جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ نے سورہ مریم کی ایات جو ہے وہ تلاوت کرنا شروع کر دی نجاشی سنتا جاتا اور اس کی جو ہے وہ انکھوں سے انسو جاری ہو گئے حتی کہ اس کی داڑھی جو تھی وہ انسوؤں سے تر ہو گئی اور اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ یقینا جو ہے وہ اللہ رب العزت جس نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی بنا کر بھیجا تھا جس نے انجیل کو نازل کیا اسی اللہ رب العزت کی طرف سے ہی یہ قران بھی نازل کیا گیا ہے یعنی یہ دونوں جو ہے وہ ان کا منبہ ایک ہی ہے اور اس کے بعد جو ہے وہ پھر ان لوگوں نے ایک دوسری چال بھی چلی انہوں نے کہا کہ اپ کو پتہ ہے مسلمانوں کا اپ کے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کیا عقیدہ ہے تو انہوں نے دوبارہ جو ہے وہ نجاشی نے پوچھا ان کو بلا کر پھر سے پوچھا ان کے ذہنوں میں تھا کہ اس طرح جو ہے وہ مسلمانوں کا مقدمہ کمزور پڑ جائے گا مسلمانوں نے سوچا کہ یہاں پر جو ہے وہ کچھ ہم مصلحت کا جو ہے وہ سہارا لیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں نے کہا کہ سچ جو ہے وہ اس کو بول دینا چاہیے اور سچی بات انہوں نے ان کے سامنے کی اور کہا کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کے جو ہے وہ روح ہیں اللہ تعالی کی روح کے ذریعے ان کو یعنی کہ ان کو جو ہے وہ خاص معجزانہ طریقے سے پیدا کیا گیا ہے وہ اللہ تعالی کے مریم علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے ہیں اور وہ اللہ رب العزت کے بیٹے نہیں ہیں اللہ رب العزت نے ان کا اپنا نبی اور اپنا بندہ بنا کر بھیجا ہے تو جو جو قران کے اندر عقائد موجود تھے وہ سارے بتا دیے تو وہ کہنے لگا ایک تنکا اٹھایا اور کہنے لگا اللہ کی قسم عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں تھے جتنا تم لوگوں نے بیان کیا ہے تو بہرحال یہ وہ سورت ہے جس کا جو ہے وہ اللہ رب العزت کی جو ہے وہ اس کے نجاشی کے سامنے جو ہے وہ جب ذکر ہوا تو اس نے بھی گویا کہ اسلام قبول کر لیا اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی صورت کے اندر جو ہے وہ زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کو بطور خاص جو ہے وہ بیٹے کی خوشخبری دی ہے پہلے اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ سے دعا مانگی اور دعا کے ساتھ بڑے پیارے الفاظ کہے کہا کہ اے اللہ رب العزت یقینا میرا بڑھاپا جو ہے وہ ظاہر ہو چکا ہے اور اسی طرح سے جو ہے وہ کوئی ایسے اثار تو باقی نہیں ہیں لیکن میں اے اللہ تعالی کبھی بھی اپ سے مانگنے کے بعد میں جو ہے وہ شقی نہیں رہا کبھی نا نامراد نہیں لوٹا تو اللہ رب العزت اب بھی مجھے یہی امید ہے کہ تو مجھے نامراد نہیں کرے گا تو اس وجہ سے اللہ رب العزت مجھے بیٹا عطا فرما اللہ رب العزت نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بیٹے کی خوشخبری دی بیٹے کا نام بھی رکھا اور اس بیٹے کو یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے نبی بھی بنایا بڑھاپے میں اللہ رب العزت نے زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کو بیٹا عطا فرمایا حتی کہ ایسا ہوا کہ زکریا علیہ السلام پوچھنے لگے کہ اللہ رب العزت اس کی نشانی کیا ہے یعنی اس قدر اب یوں سمجھ لیجئے اس کو بے یقینی تو نہیں کہا جائے گا لیکن یہ کہا جائے گا کہ جیسے انسان کو اپنے بارے میں ایک نا امیدی سی ہو جاتی ہے کہ اتنی عمر میں پتہ نہیں بیٹا ملے گا نہیں ملے گا شاید یہ معاملات ممکن ہو نہ ہو تو اللہ رب العزت نے فرمایا تین دن تک تم کسی سے بات نہیں کر سکو گے تو یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نشانی جو ہے وہ دی گئی اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بیٹے کی خوشخبری دی اور ان کو نبی بنا کر دنیا کے اندر معبوس فرمایا پھر اللہ رب العزت نے ایت نمبر 17 سے لے کر ایت نمبر 40 تک مریم علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا ہے وہ اپنے گھر والوں سے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جو ہے وہ مشرقی جانب چلی گئیں اور اللہ رب العزت نے اپنے حکم کے ساتھ جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے پاس بھیجا انہوں نے جو ہے وہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے جو ہے وہ سینہ مبارک پہ پھونکا اللہ تعالی کے حکم کے ساتھ اور معجزانہ طور پر اپ جو ہے وہ پریگننٹ ہو گئیں جو کہ اپ کے لیے ایک ظاہری طور پر پریشانی کا سبب بھی تھا انہوں نے سوچا کہ اب جو ہے وہ کس طرح سے معاملات کو ہینڈل کر پاؤں گی تو بہرحال ابھی جب وہ تکلیف تھی اور اس طرح کا سلسلہ تھا جو کہ ایک خاص طور پر پریگننسی کے حوالے سے ہوتی ہے تو اللہ رب العزت کے حکم سے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا گیا کہ اپ جو ہے وہ وہاں پر جائیے اور درخت کے نیچے کھجور کے درخت کے نیچے اس کو ہلائیے اس میں سے کھجوریں گریں گی تازاہ اپ وہ کھائیے جس کا معنی یہ ہے کہ ان کھجوروں کے ذریعے اللہ رب العزت نے اس کے اندر برکت رکھی ہے کیونکہ ایمان کے ساتھ اللہ رب العزت نے اس کی مثال بھی بیان فرمائی ہے مومن کے ساتھ اس درخت کی مثال اللہ رب العزت نے بیان فرمائی ہے تو اس کے بعد اللہ رب العزت نے جب خاص طور پر اپ کو یہ پریشانی ہوئی اور قوم کے لوگوں نے اپ کو مور الزام بھی ٹھہرایا تو اس کے جواب میں اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت کی طرف سے جو بات کہی گئی تھی وہ یہ کہ اپ جو ہے وہ اپنے بیٹے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اشارہ کر دیجئے گا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا تو وہ قوم کے لوگ ایک دم جو ہے وہ سڑپٹا گئے کہنے لگے ایسے کیسا ہو سکتا ہے کہ ایک بچہ جو کہ ابھی گود میں ہے ہم اس کے ساتھ بات کریں تو عیسی علیہ الصلوۃ والسلام بے اختیار بولے یہ ابھی بالکل شیر خوارگی کا عالم ہے جس وقت بچے بات نہیں کرتے اس وقت کہا کہ میں اللہ رب العزت کا بندہ ہوں اللہ تعالی نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور اللہ رب العزت نے مجھے جو ہے وہ جہاں کہیں پر بھی میں ہوں برکت جو ہے وہ عطا فرمائی ہے مجھے نماز زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں تو معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اسی طرح سے والدین کے ساتھ نیکی کا حکم دیا ہے اور اللہ رب العزت نے مجھے جو ہے وہ نامراد نہیں بنایا اور اسی طرح سے میں جب میری پیدائش کے دن سلامتی کا دن ہے اسی طرح سے جب میں فوت ہوں گا اور اسی طرح سے جس دن مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا اس سے میلاد وغیرہ کی کوئی دلیل نہیں نکلتی ہے اللہ رب العزت ہمارے ان قران مجید کو بدلنے والوں کو ہدایت نصیب فرمائے تو خیر اس کے بعد اگلے رکوع میں اللہ رب العزت نے رکوع نمبر جو ہے وہ اس پارے کا اس پارے کا اور سورت کا رکوع نمبر فور ہے اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو حکم دیا کہ اب بنی اسرائیل کو لے کر جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے نجات عطا فرمائی اور فرعونیوں کو جو ہے وہ دریا کے اندر غرق کیا دریائے نیل میں اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے دریا سے نکل کر جو ہے وہ اگے پہنچے تو وہاں جا کر جب اپ نے پڑاؤ کیا ٹھہرائے ٹھہرایا اپنی قوم کو تو وہاں پر ایک نئی جو ہے وہ ازمائش کا یہ قوم شکار ہو گئی اور اللہ فرماتے ہیں اس کا ذکر اللہ رب العزت نے کیا ایت نمبر 85 میں ہم نے اپ کی قوم کو ایک نئے فتنے میں ڈال دیا اپ کے بعد اور ان کو سامری جادوگر نے جو ہے وہ گمراہ کر دیا جس کی تفصیلات ہیں اور اس کے بعد جو ہے وہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کے سمجھانے کے باوجود یہ قوم جو ہے وہ اس سے باز نہ ائی اور وہ جو ہے وہ اس نے سامری جادوگر نے بیسکلی کیا کیا اس نے ایک جو ہے وہ بچھڑا بنایا ان کے سارے زیورات کو ایک اس میں گڑھے میں اکٹھا کروایا اور ان کے اندر جو ہے وہ جیسے اگے ہم تفصیلات میں پڑھیں گے ان کے اندر جو ہے وہ جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام کے گھوڑے کے سموں کی جو مٹی تھی یعنی اس کے پاؤں کی جو مٹی تھی اس مٹی کو اس نے اٹھا کے اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور یہ جادوگر تھا تو اس نے اس مٹی کو اس کے اندر ملا دیا اور اس کے اثرات سے یہ شخص جو ہے وہ واقف تھا تو ان اثرات کی وجہ سے یہ ہوتا کہ اس کے اندر جو ہے وہ اس جو ایک بچھڑا انہوں نے بنایا زیورات کا اس کے اندر سے اواز پیدا ہوتی اور کہنے لگا کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام تو بھول کر کوہ طور پر چلے گئے ہیں ان کا اصل رب تو یہ ہے اور پوری قوم کو بت پرستی پہ لگا دیا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھایا لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہ ائی اور فرمایا اے قوم کے لوگوں تم فتنے میں ڈال دیے گئے ہو تمہارا اصل رب جو ہے وہ تو رحمان ہے جو اللہ رب العزت ہے میری اتباع کرو میری بات کو مانو اور جو ہے وہ اس طرف ا جاؤ ہم اس کے اوپر اعتکاف کر کے نہیں بیٹھیں گے جب تک موسی علیہ الصلوۃ والسلام ہماری طرف واپس نہیں ا جاتے ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جب موسی علیہ الصلوۃ والسلام واپس ائے تو ا کر جو فورا ان کو کہا اے ہارون تو نے بھی ان کو نہیں سمجھایا اے میرے ماں جائے بھائی میرے سر اور میرے داڑھی کے بالوں کو چھوڑیے مجھے تو صرف یہ ڈر تھا کہ کہیں میں بنی اسرائیل میں پھوٹ کا جو ہے نا وہ سبب نہ بن جاؤں ورنہ میں نے تو ان کو سمجھایا تھا پھر اپ علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ سامری کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا یہاں بھی سامری بتا تو نے یہ کیا حرکت کی ہے کہنے لگا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو کہ فرشتوں کے جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام کے جو ہے وہ اثار سے میں نے جو چیز محسوس کی تو میں نے جس کا پہلے میں نے اپ کے سامنے تفصیلات رکھی ہیں اس چیز کا اس نے تذکرہ کیا کہنے لگا کہ گھوڑے کی خاک جو ہے وہ میں نے لی تھی اس کے پاؤں کی اور اس کو میں نے مکس اپ کر کے جو ہے وہ یہ ان کے لیے بچھڑا بنایا تو خیر موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو بد دعا بھی دی اور فرمایا کہ تو ساری زندگی یہ کہتا رہے گا مجھے نہ چھونا مجھے نہ چھونا مجھ سے دور رہنا اور فرمایا کہ تیرے لیے وہ وعدہ ہے جس کا تو کبھی بھی خلاف نہیں کیا جائے گا اور اس کے بعد فرمایا کہ اپنے ان بتوں کی طرف دیکھ جن کو تو نے بنایا تھا اور جس کے اوپر تو اعتکاف کر کے بیٹھا تھا ہم اس کو جلا دیں گے اور جلانے کے بعد جلا کی جلا کے بعد جو راکھ ہو گی اس کو فرمایا کہ سمندر کے اندر ریزہ ریزہ کر کے ڈال دیں گے تو یہاں سے یہ بات سمجھ اتی ہے جہاں شرک اور اس کی جو ہے وہ نشانات موجود ہوں ان کو مٹا دینا ان کو سرے سے ختم کر دینا یہ اور از بس جو ہے وہ ضروری ہے اس کے بعد جو ہے وہ اللہ رب العزت نے سور کے پھونکے جانے کا ذکر کیا ہے جس دن سور پھونکا جائے گا اور جو ہے وہ ہم مجرمین کو نیلی انکھوں کے ساتھ قیامت والے دن جمع کریں گے سور وہ ہے جو قیامت والے دن اسرافیل علیہ الصلوۃ والسلام پھونکیں گے وہ اپنے منہ میں لے کر کھڑے ہوئے ہیں اللہ رب العزت کے حکم کے انتظار میں پہلا سور پھونکیں گے تو سب لوگوں پر موت طاری ہو جائے گی دوسرا پھونکیں گے تو اس کے اوپر لوگ زندہ ہو جائیں گے اور زندہ ہونے کے بعد جو ہے وہ قیامت قائم ہو جائے گی اس کا تذکرہ ہے پھر اس کے بعد جو ہے وہ اللہ رب العزت نے پہاڑوں کے حوالے سے فرمایا کہ اپ سے پہاڑوں سے متعلق سوال کرتے ہیں یہ کہاں جائیں گے فرمایا ان سے بتا دیجئے اللہ رب العزت ان کو بھی ریزہ ریزہ کر کے ختم کر دیں گی یہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کیا ہے ایت نمبر 114 میں اپ قران مجید جب نازل ہوتا ہے تو اس کا جب تک وحی مکمل نہ کر دی جائے اپ جلدی جلدی مت کیا کریں اور اپنے رب سے ہمیشہ اپنے علم میں اضافے کی دعا اللہ رب العزت کی دعا پڑا کریں اس کے بعد اللہ رب العزت نے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کا دوبارہ سے ذکر کیا ہے اور ساتھ میں یہ بتایا کہ کس طرح سے جو ہے وہ شیطان نے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو ورغلایا اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو جنت کا وہ پھل جو اللہ تعالی نے منع کیا تھا اس کو کھانے پر مجبور کیا جبکہ اللہ رب العزت نے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو متنبہ بھی کیا تھا لیکن اس کے باوجود اپ علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ اس اس بہکاوے میں ائے اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ رب العزت کے حوالے سے یہ جو ایک کوتاہی ہوئی تھی اس کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں کہ جو بندہ میری جو ہے وہ ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے اس کی معیشت تنگ کر دی جائے گی اس کو ہم قیامت والے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے وہ کہے گا اے اللہ مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ہے اللہ فرماتے ہیں اور وہ کہے گا کہ میں تو دنیا میں دیکھنے والا تھا اللہ فرماتے ہیں اسی طرح سے تیرے پاس ہماری نشانیاں اتی رہیں لیکن تو ان کو جھٹلاتا رہا اور اج کے دن تجھے بھی بھلا دیا جائے گا تو اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس سورت کے اخر میں جو ہے وہ ایت نمبر 130 میں ذکر فرمایا ہے اپ ان کے اوپر صبر کیجئے اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے بعض نے تسبیح سے مراد نماز لی ہے قبل سے مراد جو ہے وہ نماز فجر لی ہے قبل غروب اس سے مراد جو ہے وہ نماز عصر لی ہے اور رات کی گھڑیوں میں سے نماز مغرب اور عشاء مراد لی ہے اور اطراف نہار سے مراد جو ہے وہ نماز ظہر کو لیا ہے تاکہ جو ہے وہ اپ راضی ہو جائیں اور اپ کا رب بھی اپ سے راضی ہو جائے تو یہ بعض نے اس سے نماز مراد لی ہے بعض نے جو ہے وہ سمپل تسبیح مراد لی ہے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دیجئے اور جو خود بھی جو ہے وہ اپنے ثابت قدم رہیے اور ان لوگوں کی باتوں کو جو ہے وہ ادھر اس میں خاطر میں نہ لائیے ہم اپ سے کسی قسم کے رزق کا سوال نہیں کرتے ہم تو اپ کو خود رزق دینے والے ہیں اور انجام کار جو ہے وہ تقوی اختیار کرنے والوں کے لیے ہے اس سورت کے اخر میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور اگر ہم ان کو جو ہے وہ حجۃ پوری کرنے سے پہلے جو ہے وہ عذاب کا شکار کر دیتے ان کو ہلاک کر دیتے تو کہنے لگے کہنے لگتے اے اللہ تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم اس کی اتباع کر کے جو ہے وہ اس سے پہلے ہی ہم رسوائی اور ذلت کا عذاب پہنچنے سے پہلے ہم ایمان لے اتے جبکہ ایسا نہیں ہے اللہ فرماتے ہیں یہ تب بھی ایمان نہ لاتے اور یہ اب بھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہے اخری ایت میں اللہ فرماتے ہیں ان سے کہہ دیجئے ایت نمبر 135 ہے اس سورت کی اور اس پارے کی اخری ایت ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان سے کہہ دیجئے ہر شخص انتظار میں ہے تو تم بھی انتظار کرو جس کا جو انجام ہو گا وہ پا لے گا عنقریب تمہیں اس بات کی سمجھ ا جائے گی کون سیدھے راستے پر ہے اور کون جو ہے وہ ہدایت پر ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

[39:39]واستغفراللہ ولک ولائر المسلمین والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript