[0:00]چاند رات کی ٹھنڈی ہوا گاؤں کی کچی گلیوں سے گزرتی ہوئی ہر دروازے کو خوشخبری دے رہی تھی۔ آسمان پر باریک سا چاند ایسے مسکرا رہا تھا جیسے برسوں بعد کوئی پیارا مہمان آیا ہو۔ مسجد کے مینار سے اعلان ہوا کہ کل پہلا روزہ ہے تو پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بچوں نے تالیاں بجائیں، جوانوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور بوڑھی آنکھوں میں شکر کے آنسو آگئے۔ ہر گھر میں چراغ روشن ہوگئے اور دلوں میں عبادت کی روشنی جاگ اٹھی۔ یوں لگا جیسے پورا گاؤں ایک دل بن کر دھڑک رہا ہو۔ گاؤں کے بیچوں بیچ رہنے والی بوڑھی اماں سب سے زیادہ خوش تھیں۔ ان کے سفید بال چاندنی میں چمک رہے تھے اور ہاتھوں میں تسبیح تھی۔ وہ ہر سال سب کو اکٹھا کرکے اجتماعی سحری کروانے کی روایت زندہ رکھتی تھیں۔ ان کی آواز میں شفقت تھی اور لہجے میں دعا کی مٹھاس۔ وہ کہتی تھیں کہ مل کر کھانے میں برکت ہوتی ہے۔ اسی لیے اس سال بھی انہوں نے اعلان کیا کہ سحری سب مل کر بنائیں گے۔ گاؤں والوں نے دل سے ان کی بات مان لی۔ رات کے آخری پہر جب اندھیرا گہرا تھا تو اماں سب سے پہلے جاگ گئیں۔ انہوں نے آہستہ سے وضو کیا اور دو نفل ادا کیے۔ پھر بڑے صحن میں چولہے جلانے کا انتظام کرنے لگیں۔ کچھ عورتیں آٹا گوندھنے لگیں اور کچھ چاول چننے بیٹھ گئیں۔ مرد حضرات لکڑیاں جمع کرکے آگ تیز کرنے لگے۔ ہر طرف ہلکی روشنی اور خوشبو پھیلنے لگی۔ سحری کی تیاری پورے جوش سے شروع ہوئی۔ ایک طرف بڑے دیگچے میں دودھ گرم ہو رہا تھا، دوسری طرف پراٹھوں کے لیے آٹا نرم گوندھا جا رہا تھا۔ اماں خود نمک اور اجوائن کی مقدار دیکھ رہی تھیں۔ وہ ہر لڑکی کو سمجھا رہی تھیں کہ آٹا زیادہ سخت نہ ہو۔ ان کی نگرانی میں ہر چیز ترتیب سے ہو رہی تھی۔ ایک کونے میں دال دھو کر بھگوئی جا رہی تھی تاکہ ہلکی سی چنا دال کی سالن بن سکے۔ اماں نے کہا کہ سحری میں زیادہ مرچ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہلدی کی چٹکی ڈالی اور ہلکی آنچ پر پکنے دیا۔ ساتھ ہی دیسی گھی میں زیرہ تڑکا لگا۔ خوشبو پورے صحن میں پھیل گئی۔ سب نے مسکرا کر اماں کو دیکھا۔ پراٹھے بنانے کا مرحلہ آیا تو اماں نے خود بیلن اٹھا لیا۔ وہ گول گول پیڑے بناتیں اور ہلکے ہاتھ سے بیلتی جاتی۔ توی گرم تھا اور گھی کی ہلکی سی تہہ لگائی گئی۔ پراٹھے سنہری ہونے لگے تو بچوں کے منہ میں پانی آ گیا۔ اماں نے کہا ابھی اذان نہیں ہوئی۔ صبر کرو۔ سب نے ہنستے ہوئے سر ہلا دیا۔ سحری کے دسترخوان پر کھجوریں، پراٹھے، دال، ابلا انڈا اور دودھ رکھا گیا۔ اماں نے سب کو اکٹھا بیٹھنے کو کہا۔ انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ اس گاؤں کو سلامت رکھ۔ اذان سے پہلے سب نے پانی پی لیا۔ پھر فجر کی اذان گونجی تو سب مسجد کی طرف چل پڑے۔ گاؤں کی فضا نور سے بھر گئی۔ فجر کی نماز میں مرد صفوں میں کھڑے تھے اور دلوں میں خشوع تھا۔ امام صاحب نے لمبی قرات کی اور سب خاموشی سے سنتے رہے۔ عورتیں گھروں میں نماز ادا کر رہی تھیں۔ نماز کے بعد سب نے ذکر کیا۔ اماں مسجد کے دروازے پر کھڑی سب کو دعائیں دے رہی تھیں۔ سورج آہستہ آہستہ نکل آیا۔ صبح کے وقت گاؤں میں سکون تھا مگر روزے کی نیت نے سب کو مضبوط رکھا۔ بچے قرآن پڑھنے بیٹھ گئے۔ جوان کھیتوں کی طرف روانہ ہوئے۔ عورتیں گھر سمیٹنے لگیں۔ اماں ہر گھر جا کر حوصلہ بڑھا رہی تھیں۔ وہ کہتی تھیں پہلا روزہ صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ دوپہر کی گرمی بڑھنے لگی تو پیاس بھی بڑھ گئی۔ کھیتوں میں کام کرنے والوں کے چہرے پسینے سے تر تھے مگر کسی نے شکایت نہ کی۔ اماں نے مسجد میں ٹھنڈا پانی رکھوا دیا تاکہ غیر روزے دار مسافر استعمال کر سکیں۔ وہ خود تسبیح پڑھتی رہیں۔ ان کا یقین سب کو طاقت دے رہا تھا۔ مسجد میں صفیں دوبارہ سج گئیں۔ امام صاحب نے صبر اور شکر پر بیان دیا۔ لوگ خاموشی سے سنتے رہے۔ نماز کے بعد سب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ اماں نے آمین کہہ کر آنکھیں بند کرلیں۔ عصر تک بھوک شدت اختیار کرنے لگی۔ بچے تھک گئے تھے مگر اماں نے کہانی سنائی کہ کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبر کرتے تھے۔ سب بچوں نے غور سے سنا۔ ان کے چہروں پر نیا حوصلہ آ گیا۔ اماں کی باتوں میں اثر تھا۔ وقت آہستہ آہستہ گزرنے لگا۔ عصر کے بعد افطاری کی تیاری شروع ہوئی۔ سب نے طے کیا کہ آج بھی افطاری اجتماعی ہوگی۔ صحن میں بڑے برتن رکھے گئے۔ چنے ابالے گئے اور فروٹ کاٹنے کے لیے لڑکیاں بیٹھ گئیں۔ اماں نے سب کو ترتیب سے کام دیا۔ ہر کوئی خوشی سے مصروف تھا۔ پکوڑوں کے لیے بیسن ایک بڑے پیالے میں ڈالا گیا۔ اماں نے دو کپ بیسن میں ایک چائے کا چمچ نمک ڈالا، آدھا چمچ لال مرچ اور آدھا چمچ ہلدی شامل کی۔ باریک کٹی ہری مرچ اور ہرا دھنیا بھی ملایا۔ پھر تھوڑا تھوڑا پانی ڈال کر گاڑھا گھول تیار کیا۔ انہوں نے کہا گھول نہ زیادہ پتلا ہو نہ زیادہ گاڑھا۔ آلو اور پیاز باریک پتلے قطلے میں کاٹے گئے۔ اماں نے بتایا کہ آلو زیادہ موٹے نہ ہوں تاکہ اندر سے کچے نہ رہیں۔ پیاز کے لچھے الگ رکھے گئے۔ کچھ پالک کے پتے بھی دھو کر شامل کیے گئے۔ سب سبزیوں کو بیسن کے گھول میں اچھی طرح لپیٹا گیا۔ گھول ہر ٹکڑے پر برابر لگنا چاہیے۔ کڑاہی میں تیل ڈالا گیا اور درمیانی آنچ پر گرم کیا گیا۔ اماں نے ایک قطرہ گھول ڈال کر دیکھا کہ تیل تیار ہے یا نہیں۔ جب قطرہ فورا اوپر آ گیا تو انہوں نے چمچ سے پکوڑے ڈالنے شروع کیے۔ انہوں نے کہا ایک وقت میں زیادہ نہ ڈالنا ورنہ پکوڑے نرم ہو جائیں گے۔ سب غور سے دیکھ رہے تھے۔ پکوڑے سنہری ہونے لگے تو اماں نے آنچ ہلکی کر دی۔ انہوں نے انہیں پلٹ پلٹ کر برابر تلا۔ جب کرسپی ہو گئے تو کاغذ پر نکال لیا۔ اوپر سے ہلکا سا چاٹ مصالحہ چھڑکا گیا۔ خوشبو سے سب بے قرار ہو گئے۔ اماں نے مسکرا کر کہا صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ افطاری کے دسترخوان پر کھجوریں، شربت، فروٹ چاٹ، چنے اور کرسپی پکوڑے سجے سب مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے۔ بچے بے صبری سے اذان کا انتظار کر رہے تھے۔ اماں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ ہر آنکھ میں امید تھی۔ فضا خاموش ہو گئی۔ جیسے ہی مغرب کی اذان ہوئی سب نے پہلے کھجور کھائی پھر پانی کا گھونٹ پیا۔ تھکے چہرے کھل اٹھے۔ پکوڑوں کی خستہ آواز سنائی دی۔ سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ مغرب کی نماز ادا کی گئی تو دل اور بھی مطمئن ہو گئے۔ نماز کے بعد سب نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ بچے پکوڑوں کی تعریف کر رہے تھے۔ اماں ہنس کر کہہ رہی تھی کہ راز صبر اور صحیح آنچ میں ہے۔ سب نے ان کی بات یاد رکھی۔ گاؤں میں محبت کی فضا تھی۔ رات کے کھانے میں ہلکی سی سبزی اور روٹی رکھی گئی۔ کسی نے زیادہ کھانے کی کوشش نہ کی۔ سب جانتے تھے کہ عبادت کا مہینہ ہے۔ عشا کی اذان ہوئی تو مسجد بھر گئی۔ امام صاحب نے تراویح شروع کی۔ قرآن کی آواز فضا میں گونجنے لگی۔ تراویح میں بوڑھی اماں بھی کرسی پر بیٹھ کر شامل ہوئیں۔ ان کے ہونٹوں پر ذکر جاری تھا۔ بچے خاموشی سے صف میں کھڑے تھے۔ ہر رکعت میں خشوع بڑھتا جا رہا تھا۔ قرآن کی آیات دلوں کو نرم کر رہی تھیں۔ گاؤں کا ماحول نورانی ہو گیا۔ تراویح کے بعد سب صحن میں بیٹھ گئے۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ اماں نے سب کو نصیحت کی کہ رمضان صرف بھوک کا نام نہیں۔ یہ دل صاف کرنے کا مہینہ ہے۔ سب نے سر جھکا کر سنا۔ ہوا میں عجیب سی تمانیت تھی۔ رات گہری ہوئی تو لوگ گھروں کو لوٹنے لگے۔ اماں نے ہر ایک کو دعا دی۔ بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔ انہوں نے کہا کل بھی ایسے ہی مل کر سحری کریں گے۔ سب نے خوشی سے ہاں کہا۔ گاؤں ایک خاندان لگ رہا تھا۔ گھر پہنچ کر سب نے سونے سے پہلے شکر ادا کیا۔ پہلا روزہ مکمل ہو چکا تھا۔ جسم تھکا تھا مگر دل مطمئن تھا۔ اماں اپنی چارپائی پر لیٹ کر مسکرا رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں اطمینان تھا۔ اگلی سحری کی نیت کرتے ہوئے سب سو گئے۔ چاندنی اب بھی صحن میں بکھری تھی۔ ہوا میں پکوڑوں کی ہلکی خوشبو باقی تھی۔ مسجد کا مینار خاموش مگر باوقار کھڑا تھا۔ گاؤں ایک نئی روحانی زندگی میں داخل ہو چکا تھا۔ اس پہلے روزے نے سب کو بدل دیا تھا۔ بچوں نے صبر سیکھا، جوانوں نے شکر سیکھا، عورتوں نے خدمت کی قدر جانی۔ مردوں نے اتحاد کی طاقت پہچانی اور بوڑھی اماں نے سب کو جوڑ دیا۔ آخر میں سب نے یہی سمجھا کہ رمضان کا اصل حسن اجتماع میں ہے۔ جب دل مل جائیں تو کھانا بھی میٹھا لگتا ہے۔ جب نیت صاف ہو تو تھکن بھی عبادت بن جاتی ہے۔ جب بزرگوں کی دعا شامل ہو تو گھر جنت بن جاتا ہے۔ پہلا روزہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے کا پیغام ہے۔

“Ramadan Story | Gaon Ki Pehli Roza | Suhoor to Iftar Village Ramadan Journey 🌙❤️”
Khamosh Qissay
9m 3s1,554 words~8 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


