[0:00]الحمد لله الحمد لله رب العالمين والعاقبه للمتقين والصلاه والسلام على اشرف الانبياء والمرسلين وعلى اله واصحابه اجمعين
[0:45]اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
[1:00]يريد الله بكم اليسرى ولا يريد بكم العسرى ولتكملوا العده ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون سبحان ربك رب العزه عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين انتہائی قابل عزت قابل احترام ذی قدر بزرگوں بھائیو عزیزو نوجوان ساتھیو السلام علیکم اج کا دن انتہائی مسرت اور خوشی کا دن ہے۔
[2:06]اور اس خوشی والے دن کا نام ہے عید الفطر
[2:17]یقیناً آج ان کی خوشی قابل دید ہے کہ جنہوں نے رمضان المبارک کے روزے رکھے راتوں کا قیام کیا قرآن کریم کی تلاوت کی تہجد میں سحری میں افطاری میں اپنے رب کو راضی کرتے رہے التجائیں کرتے رہے آج ان کے لیے جو خوشی ہے واقعی خوشی ہے
[3:06]اور اصول ہے جب بندہ مزدوری کرتا ہے محنت کرتا ہے اور محنت کرنے کے بعد جب اس کو صلہ ملتا ہے تنخواہ ملتی ہے اجرت ملتی ہے تو ایک سکون قلبی حاصل ہوتا ہے تو جس شخص نے ایک مہینہ اللہ کی عبادت میں گزارا ہو اور برکتوں رحمتوں اور سعادتوں کے اس سیزن سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہو تو آج تو واقعی اس کی خوشی قابل دید ہوگی اور ایسی خوشی ہوگی جو صرف چہرے کی نہیں دل کی خوشی ہوگی اس کا دل مطمئن ہوگا ضمیر مطمئن ہوگا کیوں خوشی نہ ہو اس بندے کے لیے جس کے لیے یہ اعلان ہوا من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان کی حالت میں اور ثواب اور بدلے کی نیت سے تو غفر له ما تقدم من ذنبه اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے گئے تو جس کے گناہوں پر پانی پھیر دیا گیا ہو یقینا آج اس کے دل میں خوشی ہوگی کیوں خوشی نہ ہو اس کو آج کے دن جس کے لیے اعلان ہوا من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه جس نے رمضان المبارک کی راتوں میں قیام کیا ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ اس کے بھی پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے گئے اور تیسرا اعلان اس بندے کو بھی آج خوشی ہوگی حقیقی خوشی کہ من قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا جس نے رمضان کی ہر رات عبادت کی لیکن اخری عشرے کی طاق راتوں میں خصوصیت کے ساتھ کھڑا رہا اور لیلۃ القدر کو بھی پا لیا اور لیلۃ القدر کو بھی اس نے قیام کیا تو جس شخص کو لیلۃ القدر حاصل ہوگئی اور اس نے قیام کیا اس کے لیے بھی اعلان ہے غفر له ما تقدم من ذنبه اس کے بھی گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے گئے تو جو یہ تین انعام پانے کے بعد عید گاہ کی طرف مصلی کی طرف اور مسجد کی طرف نمازیں عید ادا کرنے آ رہا ہوگا یقینا اس کے دل میں خوشی ہوگی اور وہ دل ہی سے بلکہ زبان سے بھی کہتا ہوگا الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں میں نے جو قرآن کریم کی ایت پڑھی ہے اپ کے سامنے اس میں بھی اللہ فرماتے ہیں يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر اللہ تمہارے ساتھ اسانی کا ارادہ کرتے ہیں کیا چاہتے ہیں تمہارے لیے اسانیاں چاہتے ہیں ولا يريد بكم العسر اللہ تم پہ تنگی اور مشکل نہیں چاہتے ولتکملوا العدة تاکہ تم یہ گنتی پورے کرو کوئی 29 اور کئی مہینے 30 ہو جائیں گے گنتی کے یہ دن پورے کرو اور جب پورے کرو تو ولتکبروا اللہ علی ما ہداکم پھر تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو ولتکبروا اللہ تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو لیکن کس طریقے پر علی ما ہداکم اس طریقے پر جو طریقہ اللہ نے تمہیں بتلایا ہے ولعلکم تشکرون تاکہ تم شکر بجا لاؤ شکر گزار بن جاؤ اگر اپ کو یاد ہو تو میں نے رمضان المبارک کے ابتداء میں ایک جملہ کہا تھا جہاں میں نے روزے کی عظمت اور فضیلت بیان کی چند ایات پہلے یہی رکوع تھا یہی سورت سورت البقرہ تین ایات پہلے میں نے کہا کہ روزے کا فلسفہ میرے مالک نے یوں بیان کیا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم اللہ نے تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں فرض کر دیے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے تھے کس لیے لعلكم تتقون لعلكم تتقون تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ تقوے دار بن جاؤ متقی بن جاؤ
[9:21]اور عید کی باری ائی فرمایا ولتکبروا اللہ علی ما ہداکم گنتی کے دن پورے کرو تاکہ رب کی بڑائی بیان کرو ولعلکم تشکرون تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ تو روزے کے لیے فلسفہ لعلكم تتقون تاکہ تقوے دار بن جاؤ اور عید کا فلسفہ اور حکمت کیا ہے لعلكم تشكرون تاکہ اللہ کی نعمتوں پہ اللہ کے شکر گزار بن جاؤ تو اج کا دن یوم شکر سمجھ لیجئے جو یوم الفطر ہے یہی یوم شکر ہے اللہ کا شکر ادا کیجئے جس نے توفیق بخشی اپ نے روزے رکھے جس نے توفیق بخشی اپ نے قیام اللیل کیا جس نے توفیق بخشی اپ نے تلاوت کی جس نے توفیق بخشی ایسی رات کی قیام کا موقع دیا جس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے جب یہ ساری سعادتیں تمہیں مل گئی ہیں اج عید کے دن غسل کیے ہوئے نئے کپڑے پہنے ہوئے اللہ کی بارگاہ کی طرف ا کے کہہ رہے ہو کیا ہو رہا ہے لعلکم تشکرون تاکہ شکر گزار بن جاؤ شکر ادا کرو اللہ تیرا شکر ہے الحمدللہ دونوں چیزیں اس عید الفطر کی تکبیرات میں اپ دیکھ لیں اس کا اندازہ لگائیں الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد تو بڑائی بھی ہے اور اللہ کی حمد بھی ہے اور یہی شکر ہے یہی کیا ہے شکر ہے لعلکم تشکرون لیکن افسوس کی بات ہے کمی اس لیے ائی ہے کہ ہمارے شکر میں کمی ائی ہے ورنہ اگر شکر میں کمی تم نہ انے دو تو نعمتوں میں کمی میرا مالک نہیں انے دے گا وعدہ ہے اس کا کیا لئن شكرتم لازيدنكم اگر تم میرا شکر بجا لاؤ لاعذكم تو میں نعمتیں اور زیادہ کروں گا
[12:06]نعمتوں میں کمی نہیں انے دوں گا اور قرآن دوسرے مقام پہ کہتا ہے جب نبیوں کا تذکرہ کرتا ہے اپنے خلیل کا ذکر کرتا ہے قرآن تو فرماتا ہے شاکر عنهم میرا خلیل ابراہیم میری نعمتوں کا شکر گزار تھا شاکر یہ رب کی نعمتوں کا کیا تھا شکر گزار تھا اور جب قرآن نبیوں کا ذکر کرتے ہوئے تذکرہ کرتا ہے نوح علیہ السلام کا تو قرآن کیا کہتا ہے ذریت من حملنا مع نوح ذریت من حملنا مع نوح انه كان عبدا شكورا یقینا میرا نوح شکور تھا کیا تھا بہت زیادہ شکر گزار تھا اور اللہ اپنے محبوب سے بھی کہتا ہے بل اللہ فعبد بل اللہ فعبد وكن من الشاكرين اللہ ہی کی بندگی کر وكن من الشاكرين اور میرا شکر گزار بندہ ہو جا میرے شکر گزاروں میں سے ہو جا اور قرآن دوسرے مقام پہ کہتا ہے فذكروني اذكركم واشكرو لي ولا تكفرون تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اشکروونی ولا تکفرون میرا شکر ادا کرو میرے ناشکرے نہ بنو تو دوستو اج کا دن شکر کا دن ہے جس مالک نے اتنی نوازشیں کی ہیں جس نے اتنی عنایات کی ہیں جس مالک نے اپ کا نام جہنمیوں کی لسٹ سے نکال کر جنتیوں کی لسٹ میں شمار کر دیا ہے اج اس مالک کے شکر ادا کرنے کا دن ہے اج اس کی بغاوت کا دن نہیں ہے کہ ایک بندہ کہے اج خوشی کا دن ہے لہذا بغاوت پہ ا جائے اج خوشی کا دن ہے تو خوشی میں اتنا مست ہو کہ اللہ کی غضب اللہ کے غصے کو دعوت دینے لگ جائے اللہ کی بغاوت کرنے پہ اتر ائے نہیں یہ اپنے مالک کے شکر کا دن ہے اندازہ لگائیے عام دنوں میں نمازیں پانچ ہیں کتنی ہیں پانچ ہیں لیکن عید کے دن اضافہ کر کے ایک اور زیادہ کر دی چھ
[15:00]عیدین کی نماز کا اضافہ معلوم ہوتا ہے کہ فلسفہ یہ ہے کہ جب تمہیں مالک نے خوشی دے دی ہے تم اس کے سجدوں میں اضافہ کر دو اسے راضی کرنے پہ زیادہ زور دے دو
[15:16]اور جس بندے نے شکر ادا کیا ہے یقین کیجیے بعض اہل علم نے ایک عجیب بات لکھی ہے
[15:26]جسے نقل کیا ہے امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں دل پہ لکھنے کی بات ہے کیا فرماتے ہیں قال بعض اہل العلم بعض اہل علم نے یہ بات کہی ہے من اوتی اربعان من اوتی اربعان جس کو چار چیزیں عطا کی گئیں کتنی چیزوں سے نوازا گیا
[16:01]چار چیزوں سے لم یمنع اربعان تو اسے چار چیزیں دینے ملنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی جسے اللہ نے چار چیزیں دے دیں اس کو چار مزید ملیں گی کوئی چیز رکاوٹ نہیں ڈال سکے گی پہلی چیز من اوت الشکر جسے اللہ نے شکر کی توفیق دے دی لم يمنع المزيد اسے نعمتوں کے اضافے سے کوئی نہیں روک سکتا جسے شکر مل گیا اسے اضافی نعمتیں ملنے سے کوئی روک مل کے رہیں گی
[16:47]دوسری بات و من اوت التوبہ لم یم القبول جس کو اللہ نے توبہ کی توفیق دے دی تو قبولیت کی قبولیت ملنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا جس مالک نے توبہ کی توفیق دی ہے وہ قبولیت سے بھی نوازے گا جب اپ کو توبہ کی توفیق مل گئی تو اس کا نتیجہ ہے کہ اپ کو قبولیت بھی ملے گی اور نمبر تین من اوت الاستخارہ جس کو استخارہ کرنے کی توفیق مل گئی استخارہ کا ایک مطلب تو لوگوں نے سمجھ رکھا ہے نا فون کرتے ہیں جی میرے لیے استخارہ کرو خود گھر میں سویا ہوا ہوتا ہے اور اس کے لیے ان لائن استخارہ جاری ہے میں کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں یہ دین بھی لوگوں نے مذاق بنا دیا ہے ان لائن استخارہ ہو رہا ہے ٹیلی فون کے اوپر دم ڈالا جا رہا ہے تصویر کے اوپر بھی دم ڈالا جاتا ہے
[18:10]یہ کیا تماشہ ہے
[18:16]دین کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے جس کو بیماری ہے اس کی تصویر لے اؤ تصویر دم کر اس کی بیماری ٹھیک ہو جائے گی واہ بھائی یہ دین ہے یہ دین کے نام پہ ٹھیکیداری اور تجارت ہے استخارہ یہ نہیں ہے استخارہ یہ ہے اپ نے نفل پڑھے استخارہ کی دعا کی اور اپنے رب سے مشورہ طلب کیا کہ اللہ یہ کام میرے لیے اگر بہتر ہو تو تو اس میں میری مدد کر اگر یہ میرے حق میں بہتر نہیں تو مجھے اس کام سے بچا لے اب اگر کام کرو گے تو اللہ کی مدد شامل حال ہوگی اور اگر رب نے بچا لیا تو سمجھ جانا کہ اس میں خیر نہیں تھی اللہ نے مجھ سے نہیں کروایا یہ کام اور استخارہ یہ جو ہوتا ہے کہ اپ سوئے ہوئے ہوں گے اپ کو خواب ائے گی اب اپ کو خواب ائی کسی نے رات کو خواب میں پانی دیکھ لیا کسی نے دودھ دیکھ لیا کسی نے اندھی دیکھ لی کسی نے کیا دیکھ لیا اب پہلے استخارہ تماشہ بنایا اس سے اب جب خواب دیکھی وہ خواب تماشہ بن گیا ایک کے پاس جا کے تعبیر پوچھی اس نے کہا کام نہ کرنا اس کی تعبیر ہے اس میں خیر نہیں ہے اچھا دوسرے کے پاس جا کے خواب کی تعبیر پوچھی اس نے کہا بڑا اچھا کام ہے کرو اب بتاؤ یہ استخارہ ہو گیا کہ یہ تو مزید اس کو الجھن میں ڈال دیا ہے اس کے اپنے دل میں کچھ اور خیالات ا رہے ہیں تو خیر بات کر رہا تھا کہ من اوت الاستخاره لم يمنع الخير جس کو استخارہ دیا گیا وہ خیر سے منع نہیں کیا جا سکتا ومن اوت المشورہ لم يمنع الصواب جس کو مشورہ کی توفیق دی گئی یعنی جب بھی کام کرتا ہے مشورہ کرتا ہے تو جب جس کو مشورہ کی توفیق دی گئی اس کو کام کی درستگی بھی عطا کر دی گئی ان شاء اللہ جب بھی کام ہوگا اس مشورے کے ساتھ تو درست ہوگا ثواب ہوگا اس کا بہتر نتیجہ ائے گا تو بات کر رہا تھا کہ شکر جس کو شکر کی توفیق مل گئی اس کو مزید نعمتوں سے کوئی نہیں روک سکتا یہ ایک عظیم نعمت ہے حسن بصری نے کتنی پیاری بات کہی ہے کہ جب بندہ دل سے اپنے مالک کی نعمت جان لے اور زبان سے اس کا شکر ادا کرے تو ابھی یہ کاروائی پوری نہیں ہوئی ہوگی کہ اس نعمت میں اضافہ اپنی انکھوں سے دیکھ لے گا
[21:11]اج جس کو دیکھ لو وہی ناشکرا ہے کیا حال ہے کچھ حال نہیں ہے کئی لوگوں کو تو عید والے دن بھی دیکھو ان کی حالت ایسی ہوتی ہے بندہ کہتا ہے کہ اج کا عید کا دن نہیں ہے اج کہیں پتہ نہیں اس کا کوئی غم ہے پتہ نہیں اس کے اوپر کیا پریشانی ائی ہوئی ہے میرے دوستو یہ خوشی مسرت کا دن ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نماز پڑھتے عید گاہ سے جب جاتے کسی اپس میں ملاقات ہوتی تو ایک دوسرے کو کہتے تقبل اللہ منا ومنكم اللہ ہمارے بھی یہ نیکیاں اور اعمال قبول کرے اللہ اپ کی بھی یہ نیک اعمال قبول فرمائے یہ کہنا جائز ہے صحابہ سے ثابت ہے اور استحبابی امر ہے لیکن یہ جو لوگوں نے ایک رواج سا بنا لیا ہے وہ دین نہیں ہے وہ اپ کا ایک ذاتی ایک عمل ہے لوگوں کے ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا تین دن پہلے سے کئی کہتے ہیں جی تین دن بعد پتہ نہیں چلتا عید کے دن میں ہوں نہ ہوں لہذا ایڈوانس میں عید مبارک کوئی سال پہلے ہی میسج کر دیں اگلے سال کا پتہ نہیں لہذا اگلے تین سالوں کی بھی عید مبارک یہ طریقہ نہیں ہے میرے دوستو ہم نے ہر چیز میں بہت سارے اضافے کر دیے ہیں کہیں گھٹا گھٹا کے ختم کر دیا کہیں بڑھا کے رائی کو جو ہے ہم نے چٹان بنا دیا ہے کہیں چٹان کو رائی بنا دی ہے تو بات کر رہا تھا دوستو کہ اج خوشی کا دن ہے اج مسرت کا دن ہے اور اج اللہ کی طرف سے اللہ کی بارگاہ سے نوازشات اور بدلہ لینے کا دن ہے جو روزے رکھ کے اللہ کی بارگاہ کی طرف اتے ہیں اللہ اپنے ان بندوں کے اوپر فخر کرتے ہیں کیا کرتے ہیں فخر کرتے ہیں حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ان النعمہ موصولہ بالشکر نعمتیں شکر کے ساتھ ملی ہوئی جڑی ہوئی ہیں یعنی شکر نعمت کو کھینچ کے لاتا ہے
[23:28]نعمت کس کے ساتھ ملی ہوئی ہے شکر کے ساتھ ملی ہوئی ہے
[23:36]اور شکر جو ہے یہ مزید نعمتوں کے ساتھ ملا ہوا ہے
[23:47]وهما مقرونان فی قرن اور یہ دونوں ایک جگہ باندھی ہوئی ہیں فلن ينقطع المزيد من اللہ اللہ کی طرف سے اضافے میں رکاوٹ نہیں ائے گی حتى ينقطع الشكر من العبد جب تک بندے کی طرف سے شکر ادا کرنے میں کمی نہ ائے
[24:15]دوستو اللہ ہمیں اپنا شکر گزار بنائے ایک عالم کے پاس ایک شخص ایا بڑے شکوے کیے ہیں اللہ کے کئی لوگ ہوتے ہیں نا جب یہ اللہ سے ناراض ہوتے ہیں نا پھر کسی عالم دین کے پاس جا کے بیٹھتے ہیں پھر کہتے ہیں مولانا صاحب اللہ نے یہ کر دیا اللہ نے یہ کر دیا اللہ نے یہ کر دیا رونا دھونا شروع کر کے اپنے مالک کے شکوے کرتا ہے میرا دوست یہ بہت بری بات ہے کہ بندہ خالق کے شکوے اس کے مخلوق کے سامنے کرے علماء فرماتے ہیں پہلا درجہ تو یہ ہے کہ اللہ کا شکوہ بندہ کرے ہی نہ کیا شکوہ کرے ہی نہ اور دوسرا درجہ ہے اگر شکوہ کرنا ہے تو اللہ کا شکوہ مخلوق کے سامنے نہیں خود اللہ کے سامنے کرو شکوہ کس کے سامنے پیش کرو یعقوب علیہ السلام کیا فرماتے ہیں انما اشکو بس وحزنی الی اللہ میں اپنی بے بسی کمزوری اور اپنے غم کا شکوہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہوں تو اللہ اگر شکوہ کرنا ہے اپنے مالک سے کیجئے مالک کی بارگاہ میں پیش کیجئے اللہ کے شکوے مخلوق کے سامنے نہ کیجئے جب عالم کے پاس بیٹھا تو عالم نے اسے کہا اس طرح کرو یہ ایک ہاتھ مجھے 1000 درہم کا دے دو دیتے ہو کہتا نہیں کہا اچھا چلو ایک کہان ہی 1000 درہم کا دے دو کہتا یہ بھی نہیں دیتا ہوں انہوں نے کہا ایک انکھ دے دو گھنتے گئے گھنتے گئے پاؤں تک پہنچا وہ کوئی ایک عضو بھی ہزاروں ریال درہم میں دینے کو تیار نہ ہوا جب نہ ہوا اس نے کہا اللہ کے بندے اس مالک کے شکوے کرتا ہے جس نے ایک ایک اتنی بڑی بڑی نعمت سے نوازا ہے جس کی قیمت تو بھی ہزاروں کے بدلے میں اس کو بیچنے کو تیار نہیں ہے جس نے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں اور کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہیں ہری پور والوں جس بندے کے دونوں ہاتھ کٹے ہوں دونوں بازو کٹے ہوں اور انکھوں سے نابینا ہو نہ چل سکتا ہے نہ پکڑ سکتا ہے ایک رولر کی طرح یوں زمین میں کروٹیں لے لے کے پھرتا ہے ٹائر کی طرح یوں اور یہ حال کرتے ہوئے جا رہا ہے اور کیا کہتا ہے کہتا ہے اے میرے اللہ مجھے اپنی نعمتوں کے شکر ادا کرنے کی توفیق دے دے ہاتھ کٹے پاؤں کٹے انکھوں سے نابینا ہے اور دعائیں کر رہا ہے اللہ مجھے اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے دے کسی اللہ والے نے پوچھ لیا کہ او بندے تیرے وجود میں تو کوئی سالم عوض مجھے نظر نہیں ایا تو کس نعمت پر شکر کی توفیق مانگ رہا ہے وہ کہنے لگا او سادہ کیا دیکھتا نہیں ہے جس نے زبان ذاکر اور قلب صابر عطا کیا ہے او سادے دیکھتا نہیں جس نے صبر کرنے والا دل دیا ہے ذکر والی زبان دی ہے کیوں شکر ادا نہ کروں کئی تو ایسے بھی ہوتے ہیں اللہ ہمیں ایسا ہی شکر گزار بنائے
[29:28]اللہ ہمیں اپنا شکر گزار بنائے اللہ شکر ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اخر دعوانا عن الحمدللہ رب العالمین



