[0:21]دوستو، یہ سات ہجری کی بات ہے۔ جب مسلمانوں کی عزت 39 دن سے خیبر میں داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ آخر دست رسالت دعا کے لیے بلند ہوئے اور لب رسالت پر وحی ناطق کچھ یوں اچھلنے لگی۔ ناد علی مظہر العجائب۔ علی علی علی علی ناد علی مظہر العجائب۔ ناد علی مظہر العجائب۔ پہرا الہیہ پہ ناد علی کا ہے۔ اک خوف مشکلات پہ ناد علی کا ہے۔ سایہ عجائبات پہ ناد علی کا ہے۔ احسان کائنات پہ ناد علی کا ہے۔ ہے ورد دھڑکنوں کا یہی یا علی مدد۔ ناد علی سمٹ کے بنی یا علی مدد۔ علی علی علی علی ناد علی ناد علی ناد علی مظہر العجائب۔ ادم سے کر رہا ہے سفر یا علی مدد ہے۔ مرتضیٰ کے زیر اثر یا علی مدد۔ تعویذ ہے پہن لو اگر یا علی مدد۔ کرتا ہے مشکلات کو سر یا علی مدد۔ محشر میں جب نماز بھی دامن چھڑائے گی۔ محشر میں جب نماز بھی دامن چھڑائے گی۔ بس یا علی مدد کی صدا کام آئے گی۔ علی علی علی علی ناد علی ناد علی ناد علی مظہر العجائب۔ ہے سامنے کی بات نہ سمجھا یہ آدمی۔ اللہ اب نہ جسم تو رکھتا نہیں کوئی۔ ذات خدا نے اس لیے خود کو رکھا خفی۔ دست خدا علی ہے، لسان خدا علی۔ خود آزما کے دیکھو نظر آئیں گے علی۔ اللہ مدد۔ اللہ مدد کہو گے مگر آئیں گے علی۔ علی علی علی علی ناد علی ناد علی ناد علی مظہر العجائب۔ جو فخر مصطفیٰ ہے مدد اس سے مانگیے۔ جو ناصر خدا ہے مدد اس سے مانگیے۔ جو دین کا اسرا ہے مدد اس سے مانگیے۔ جو زندہ معجزہ ہے مدد اس سے مانگیے۔ جو خود ہی مر چکے ہیں۔ جو خود ہی مر چکے ہیں وہ کیسے بچائیں گے تم حشر تک بلاتے رہو گے نا آئیں گے۔ علی علی علی علی ناد علی ناد علی ناد علی مظہر العجائب۔ علی علی علی علی جنگل پہاڑ کہتے ہیں۔ ناد علی علی۔ مشکل کو میری حل کرو۔ مشکل کشا علی۔
[4:58]علی علی علی علی دم دم علی علی کی جو اتی ہے یہ صدا۔ دل کہہ رہا ہے چھیڑ دوں خیبر کا واقعہ۔ علی علی علی علی خیبر میں گونجتی ہے یہ سلمان کی پکار۔ لو آگئے ہیں حیدر کرار ہوشیار۔ خوش اج مصطفیٰ کے صحابی ہیں بے شمار۔ چھپتی ہے موت رن میں نکلتی ہے ذوالفقار۔ میدان کارزار میں حیدر اتر گئے جبریل پر سمیٹ لو ورنہ یہ پر گئے علی علی علی علی سر سر چلی سر سر چلی جو تیغ تو مرحب کا سر گیا۔ مرحب گیا تو دل سے صحابہ کا ڈر گیا۔ دو انگلیوں سے اٹھا سروں سے گزر گیا۔ اب تک نہیں پتا در خیبر کدھر گیا۔ ہاتھی شکن جو غیز میں ان کی جبین پر۔ پھر در تو کیا پھر در تو کیا قلا بھی نہ ملتا زمین پر۔ علی علی علی علی
[6:44]پلٹا علم جو میر تکلم وہ اکھاڑ کے۔ رکھ دی علی نے کفر کی بستی اجاڑ کے۔ کہنے لگا یہ دست خدا ہاتھ جھاڑ کے۔ لو آگئے ہیں در خیبر اکھاڑ کے۔ جتنی بھی اج جس کو ضرورت ہے لوٹ لو۔ تلواریں چھوڑو مال غنیمت ہے لوٹ لو۔ لوٹ لو، لوٹ لو، لوٹ لو، لوٹ لو۔ ناد علی مظہر العجائب۔ علی علی علی علی ناد علی مظہر العجائب۔



