Thumbnail for Response to Dr Faraz Siddiqui I Wrong usage of falsification method  by Muhammad Waqas Khan

Response to Dr Faraz Siddiqui I Wrong usage of falsification method

Muhammad Waqas Khan

12m 55s2,552 words~13 min read
Auto-Generated

[0:00]بسم اللہ الرحمن الرحیم، میں ہوں محمد وقاص اور آپ کے سامنے مختلف ویڈیوز پیش کرتا رہتا ہوں بنیادی طور پر الحاد اور ملحدین کے مقابلے میں۔

[0:11]گزشتہ دنوں میری ایک ڈیبیٹ دو ملحدین کے ساتھ ہوئی و استقبال اور ڈاکٹر فراز صدیقی وہ بھی ہمارے چینل ابن کمال پر موجود ہے۔ ا اس کو بھی وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ اور اسی بہانے اس ا چینل کو سبسکرائب بھی کر دیا جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ آج کی ہماری جو ویڈیو ہے یہ ڈاکٹر فراز صدیقی صاحب کی ایک ویڈیو کا جواب ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ویڈیو میں ایک فالسفیکیشن ٹیسٹ لگایا قرآن پاک کے چند واقعات پر اور اپنے تئی ان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تو آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا فرماتے ہیں اور اس کے بعد پھر اس کا انالیسز کریں گے۔ یہ وہ فرعون تھا جو کہ جا کے غرق ہوا ہے پانی میں۔ لیکن پھر مسئلہ یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر یہ پانی میں غرق ہوا ہے تو کیا ہم اسے جانتے ہیں؟ یہ ایک کتاب کا میں نے جو ممیز اف دا فرو کتاب تھی اس میں مورف بکائے کا یہ میں نے سکرپٹ لگائی میں پڑھتا ہوں اپ کے سامنے۔ on a subject that had died by drowning and had subsequently spent a long time in the water mummification would not have been so effective. یعنی جب انہوں نے اس کا مطالعہ کیا مرنپٹا کی ممی کا رمسیس دوم کی ممی کا اس کے مسل کو لے کے بائیوپسی بھی کیا اس کے مسل کی بائیوپسی کی اس کو مائکروسکوپ میں دیکھا تو یہ پتہ چلا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی باڈی پانی میں اتنی دیر تک غرق رہے اور پھر اس کو جب ممیفائی کیا جائے تو وہ اتنی بہترین طریقے پہ ممیفائی ہو۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ تو یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ وہ فرعون مل گیا۔ یہ بات بھی جھوٹ ہے کہ وہ فرعون غرق ہوا بلکہ جب ہم یہی نہیں جانتے کوئی موسی ہوا تھا کوئی ایگزیڈس ہوئی تھی تو یہ سوال ہی بےمعنی ہے کہ یہ فرعون غرق ہوا تھا یا نہیں ہوا تھا لیکن اگر اپ پھر بھی قرآن مجید کو تاریخی حقیقت مانے کہ ایسا ہوا تھا تو اپ کو چیخ چیخ کے ایویڈنس بتا رہی ہے کہ یہ دعوی غلط ہے۔ یعنی ہم نے فالسفیکیشن میتھڈ سے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ اپ نے دیکھا کہ ڈاکٹر فراز صدیقی صاحب نے فالسفیکیشن ٹیسٹ کی بنیاد پر قرآن پاک کے چند واقعات اور خاص طور پر فرعون کی جس لاش وہ ڈوب گئی تھی اور بعد میں دریافت ہوئی اس پر اس کو لگایا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ فالسفیکیشن ٹیسٹ ہے کیا؟ کارل پوپر ایک سائینٹسٹ گزرے ہیں اور انہوں نے طبعی سائنسز کے لیے علوم کے لیے نیچرل سائنسز کے لیے یہ ایک تھیوری دی تھی کہ جو بھی تھیوری سائنس میں پیش کی جائے گی اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اگر کوئی ایک بھی ایسا ایویڈنس مل جائے اور ایک بھی ایسی نظیر اور ثبوت مل جائے جو اس تھیوری کے خلاف جاتا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تھیوری غلط ہے اسے پھر قانون نہیں مانا جائے گا۔ لیکن وہ خود یہ بات کہتے ہیں کہ یہ صرف نیچرل سائنسز کے لیے ہے فزکس کیمسٹری اور اسی طرح کے علوم کے لیے ہے اور اس کا اطلاق وہ سوشل سائنسز پر اور تاریخ پر اور مذہب پر اور ما بعد طبیعیات یعنی میٹافیزیکل چیزوں پر نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ اس تھیوری کا جو خالق ہے وہ خود کہہ رہا ہے کہ اس کو میٹا فیزیکل چیزوں پر اور مابعد الطبعیات پر اور تاریخ پر ا فٹ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر فراز صدیقی صاحب اس تھیوری کا انتباق وہ قرآن پر کر رہے ہیں جو کہ ایک ظاہر ہے کہ غلط بات ہے لیکن اس کے باوجود پھر بھی جب ہم جائزہ لیتے ہیں اور خاص طور پر انہوں نے جو فرعون کے ممی کے حوالے سے جو بات کی ہے تو پھر ہمیں نظر اتا ہے کہ کہیں کہیں تو ڈاکٹر فراز صاحب کی لاعلمی ہے اور کہیں کہیں ہمیں بالکل واضح نظر اتا ہے کہ ان کی علمی بددیانتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں میں انشاءاللہ اپ کے سامنے بالکل واضح کرتا ہوں۔ ائیے قرآن کی طرف کے قرآن فرعون کی لاش کے حوالے سے کیا معلومات ہمیں دیتا ہے۔ اصل میں قرآن پاک نے لفظ فرعون استعمال کیا ہے جو ٹائٹل کا نام ہے کسی شخص کا نام نہیں ہے۔ فراعین مصر کے جو بادشاہ گزرے ہیں ان کو فرعون کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور ان کے نام ظاہر ہے کہ مختلف تھے۔ اور قرآن نے کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا تو اس لہذا یہ جو بات کے لوگ ہیں جب قرآن کہتا ہے کہ فرعون موسی اور موسی اور فرعون کا مقابلہ ہوا تو قرآن پاک واضح طور پر تشخیص نہیں کرتا کہ وہ شخص کون تھا، اس کا نام کیا تھا۔ لہذا بات کے جو لوگ ہیں وہ اپنے اپنے اندازوں کے مطابق اس کو پھر ائیڈینٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا اور اس کا نام کیا تھا اور اس کا دور کون سا تھا۔ لہذا یہ خالص انسانی کوشش ہے۔ اور اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے اور یہ ٹھیک بھی ہو سکتا ہے لیکن اس میں کسی بات کو اللہ تعالی کی طرف سے منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ نے یہ بات کی ہے اور یہ غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے۔ چلیں اگے بڑھتے ہیں۔ قرآن پاک میں جو فرعون کے حوالے سے تفصیلات اتی ہیں ان کو اگر تورات کی تفصیلات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے نیز تاریخی شواہد کو اس کے ساتھ ملایا جائے تو جو پوری تصویر ہمارے سامنے اتی ہے وہ یہ ہے۔ کہ حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ایک نہیں بلکہ دو فراعنہ کا یہ دور ہے۔ ایک وہ فرعون وہ ہے جس کے دور میں اپ کی پیدائش ہوئی ہے۔ اور پھر بالاخر اپ اس کی محل میں پہنچے ہیں۔ اللہ تعالی کی مشیت کے نتیجے میں اور پھر اپ کی وہاں پرورش ہوئی ہے جوانی تک اپ وہاں رہے ہیں اور پھر اپ نے وہاں سے نکل کر مدین کی طرف ہجرت کی ہے۔ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ رعمسس دوم کا ا دور ہے اور وہ اس وقت فرعون تھا۔ جب اپ مدین تشریف لے گئے تو رعمسس دوم اس کا اس دوران انتقال ہو گیا۔ اپ مدین میں تھے۔ جب اپ مدین سے واپس ائے تو رعمسس دوم کے بیٹا مرن پطاح وہ تخت نشین ہو چکا تھا۔ اور اصل میں یہی وہ فرعون ہے جو خروج کے وقت موجود تھا اور جسے ا یعنی وہ ڈوبا اور اس ہلاکت کے اینڈ تک پہنچا۔ اب اتے ہیں ڈاکٹر فراز صدیقی صاحب کے کلیم کی طرف۔ ڈاکٹر فراز صدیقی صاحب لاعلمی کی بنیاد پر یہ بات کہتے ہیں کہ رعمسس دوم کی جو ممی ہے اس کی جو لاش ہے جسے محفوظ کیا گیا اس کا جب انالیسس کیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ڈوبا نہیں تھا۔ حالانکہ جس سورس کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ مورث بقائی ہیں جنہوں نے اس پر اپنے ساتھیوں سمیت ریسرچ کی ہے اور وہ یہ بات نہیں کہتے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ا ڈاکٹر صاحب کی لاعلمی ہے اور انہیں ازسر نو اس تحقیق کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ دوسری بات جو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو ممی کا جس کا ایگزیمینیشن کی گئی اس پر وہ جو ڈاکٹر موریس بقائی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اس میں چونکہ ڈوبنے کے اثار نہیں ہیں لہذا یہ وہ لاش نہیں ہو سکتی یہ وہ لاش نہیں ہو سکتی جو ڈوب کر جس کی ہلاکت ہوئی ہو۔ یہاں اصل میں انہوں نے ادھوری بات کہی ہے۔ اب میں اپ کے سامنے اس کتاب کا سکرین شاٹ بھی رکھتا ہوں اور اس کا اردو اردو ترجمہ بھی رکھتا ہوں۔ اس کتاب کے چیپٹر تھرٹین کے اور صفحہ پیج نمبر ون ففٹی ایٹ پر ا یہ مورث بقائی لکھتے ہیں کہ جب مرن پطاح کی جو ممی ہے اس کا مشاہدہ کیا تو کیا ہوا؟ واضح ہوا کہ مملیہ کا عمل یعنی ممیفیکیشن کا جو عمل ہے جسم پر مکمل کامیابی سے انجام دیا گیا۔ اگرچہ یہ سب کہتے ہیں کہ فرعون ڈوب کر مرا تھا ایک ایسا شخص جس کی موت ڈوب کر مرنے سے ہوتی ہے اور پھر لمبے عرصے تک پانی میں رہا ہو ممیلیہ بنانا اس کے اتنا اسان اور موثر نہیں ہوتا۔ یہ بات تو ڈاکٹر صاحب نے ا لکھ دی اور اس کے بعد پھر نتیجہ بھی یہ پیش کر دیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ لاش نہیں ہے جو ڈوب کر جس کی ہلاکت ہوئی ہو۔ لیکن اگے کی بات انہوں نے نہیں کی۔ اگے وہی ڈاکٹر وہی مورث بقائی کیا کہتے ہیں؟ ائیے میں اپ کو بتاتا ہوں اور اس کی سکرین شاٹ بھی اپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ وہ اسی چیپٹر تھرٹین کے ا پیج ون تھرٹی فور پر ا بیان کرتے ہیں۔ کہ فرعون کی موت خروج کے دوران میں قرآن نے بہت تفصیل سے بیان کی ہے۔ سورہ یونس کی ایات 90 سے 92 تک اور ہمیں یہ ایات بتاتی ہیں کہ جسم اسی دن مل گیا تھا یہ بات یاد رکھنے والی ہے۔ اس کے بعد بطور نتیجہ یہی مورث بقائی کیا لکھتے ہیں؟ وہ دو باتیں لکھتے ہیں۔ پہلی بات یہ لکھتے ہیں کہ مقدس صحیفے یعنی تورات اور قرآن صرف اتنا کہتے ہیں کہ فرعون ڈوب گیا۔ لہذا یہ بیان بالکل اس کے مطابق ہوگا کہ اسے غوطہ لگا۔ وہ زخمی ہوا۔ خصوصا سر میں گھسنے والا زخم جو اس کی موت کو یعنی تیزی سے اس کی موت کا باعث بنا۔ یعنی ڈاکٹر مورث بقائی یہ کہتے ہیں کہ سچویشن شاید ایسی بنی ہو کہ جب سمندر کی لہریں ائی اور اس کو غوطہ لگا تو اسے پھر ا جو ہے وہ کچھ زخم بھی ائے اور وہ زخم جو ہے اس کے سر پر ائے اور اس کو اس گہری چوٹ لگی اور اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ اور پھر اخر میں وہ بالکل کنکلوڈ کرتے ہیں کہ میں نے بائبل اور قرآن میں بیان کردہ خروج کی روایات اور ہمارے طبی مشاہدے کے درمیان کسی تلاش کسی تضاد کی تلاش کی لیکن مجھے اپنے نظریے کے خلاف کوئی دلیل نہیں ملی اور پھر وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہی بات زیادہ قرین قیاس ہے کہ مرن پطاح جو رامسس دوم کا جانشین تھا وہی خروج کے وقت موجود تھا اور وہی ڈوبا تھا۔ لہذا یہ بات تو بالکل واضح ہو گئی ثابت ہو گئی کہ ڈاکٹر موریس بقائی نے وہ بات نہیں کہی جو کہ ڈاکٹر فراز صدیقی صاحب نے ان سے منسوب کی ہے بلکہ انہوں نے ڈیٹیل انالیسس دیا ہے۔ اور بالاخر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رامسس دوم نہیں بلکہ مرم بطا وہ فرعون ہو سکتا ہے۔ جس کو ا یعنی خروج کے وقت وہ موجود ہو اور اسی کو ڈوبنے کا ا یعنی یہ یہ حادثہ پیش ایا ہو اور اس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی ہو۔ اب اگر اپ قرآن پاک کی سورہ یونس کی ان ایات کو دیکھیں تو اللہ تعالی بھی ایگزیکٹلی یہی بات کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی اس کے غرق ہونے کی یعنی یعنی بالکل جس وقت وہ اسے غوطہ لگ رہا تھا اس وقت اس لمحے کی بات کر رہے ہیں اور پھر فرمایا کہ فلنکا ایا۔ اج کے دن میں تجھے بچا لوں گا تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔ اب اللہ تعالی یہ نہیں کہہ رہا کہ اس کی لاش ڈوب گئی تھی اور پھر سالوں تک یا ہفتوں تک یا دنوں تک زمین کے اندر پڑا یعنی سمندر کے اندر پڑی رہی۔ بلکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں اج کے دن میں تمہیں بچا لوں گا۔ تو اگر یہ ا جو ہے غرق ہونے کا اور ڈوبنے کا یہ عمل ہے تو چار منٹ لگتے ہیں انسان کو اگر وہ پانی کے اندر رہے تو اس کی موت واقع ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالی نے لہروں کے ذریعے اس کی جو لاش ہے اسے کنارے پہ پھنکوا دیا ہوگا۔ اور لکن خلف ایا کہ دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس وقت اس کے امیڈیٹ جو لوگ تھے جو پیچھے رہ گئے تھے وہ اسے دیوتا سمجھتے تھے۔ وہ اسے خدائی اوتار سمجھتے تھے اور جب ان کے سامنے اس کی لاش کو گرایا گیا ہوگا تو ظاہر ہے کہ وہ ایک بہت بڑی نشانی تھی اور انہیں سمجھ ا گئی ہوگی کہ جس کو ہم ناقابل تسخیر سمجھتے تھے اور جسے ہم اوتار سمجھتے تھے اور جس کی پشت پر کھڑے ہو کر ہم نے موسی کو للکارا تھا اور موسی کا مقابلہ کیا تھا خود وہی ڈھیر ہو گیا ہے اور ختم ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹا تھا اور اس کی اس حقیقت میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ تو ایک تو خل کا ایا کا مطلب یہ ہو سکتا ہے۔ اور دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں انے والے لوگ جب اس کی لاش کو دیکھیں گے تو ظاہر ہے اس سے عبرت حاصل کریں گے اور وہی ہوتا ہے کہ اج جب اس کی لاش کو دیکھا جاتا ہے تو اس سے عبرت حاصل کی جاتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ دنیا میں بڑے طاقتور ائے اور وہ انہوں نے خدائی کے دعوے کیے لیکن وہ ا جو ہے وہ بالاخر فانی ہے چلے جاتے ہیں اور اللہ رب العالمین کی جو ذات ہے وہ لافانی ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ لہذا یہ وہ چیز ہے کہ جو کہ ڈاکٹر صاحب وہ انہوں نے علمی بددیانتی کا ثبوت دیا۔ ایک ا جو ریسرچ ریسرچر ہے جس نے ایک بالکل دوسری بات کہی تھی اسے غلط بات منسوب کر لی تو ان سے گزارش یہ ہے کہ ادمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے بے شک اپ کا جو بھی نظریہ ہے اپ کو علمی دیانت کا ثبوت دینا چاہیے۔ اصل میں ملحدین کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنا کوئی ارگومنٹ ہے ہی نہیں یہ سارے کے سارے ارگومنٹ بارو کرتے ہیں اور ادھار لیتے ہیں مستشرقین سے اور ان کی کہی ہوئی بات کو اپنے قالب میں ڈھال کر اور پرانی شراب کو نئی بوتل میں ڈال کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر مقابلہ کیا جائے تو میں بالکل واضح طور پہ کہتا ہوں کہ وہ جو مستشرقین تھے جنہوں نے اسلام پر بڑے بھیانک حملے کیے لیکن پھر بھی اور بھی ایک علمی دیانت موجود تھی۔ یہ لوگ جو ملحدین ہیں ان میں علمی دیانت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور انہیں جو بھی جھوٹ ملتا ہے یہ اس کو اٹھاتے ہیں اور اسلام کے سرتھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو اینٹ اور پتھر انہیں ملتا ہے یہ دیکھتے نہیں کہ یہ کس نوعیت کا ہے اور اس کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ذرا سی سوچ اور سمجھ اور ذرا سا فہم رکھنے والا وہ پھر اس بات پر قائل ہو جاتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں لہذا جھوٹے کو گھر تک پہنچانا چاہیے بہت شکریہ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript