[0:02]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم رب ادخلني مدخل صدق واخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصیرا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تمام دوستوں کا شکریہ کہ ایک دفعہ پھر میں اپ کے ساتھ مخاطب ہو رہا ہوں اور چونکہ ہم بہت سارا کام کر چکے ہیں خروج دجال پہ بھی یاجوج ماجوج پہ بھی اور اس کے علاوہ ہم نے دجال کے ڈفرنٹ پہلوؤں کو کو ریلیٹ کرنے کی کوشش کی تھی سورہ کہف کے ساتھ اور دو پارٹ میں نے اس میں اپ کی خدمت میں گزارش کیے تھے کہ کس طرح سورہ کہف اور دجال کا جو ہے وہ کو ریلیشن بنتا ہے اور ایکچول وہ دو پارٹ تو میں نے اس طرح بیان کیے تھے اور سورہ کہف میں اگے جا کے پھر ذوالقرنین کا جو بیان ہے وہ میں نے تفصیلی اپ کے ساتھ سبا والے حوالے سے ڈسکس کیا تھا کہ یاجوج ماجوج کہاں سے نکلیں گے اور یہ ساری کی ساری یہ جو علامات ہیں ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اور پھر ہمارے محدثین نے ایک لفظ یوز کیا ہے وہ ہے اخر الزما کا تو اج میں چاہتا ہوں کہ ہم اخر الزما پہ ڈسکس کریں کہ اخر الزما کیا ہے یعنی اینڈ اف دی ٹائم کیا ہے تو اینڈ اف ٹائم جو ہے اس کا اینڈ جو ہے وہ تو اللہ تعالی کو معلوم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے یہ بات اپنے لیے خاص رکھی ہے کہ اس نے یہ علم کسی کو عطا نہیں کیا کہ قیامت کب ائے گی اور اس کا بین ثبوت ہمیں قران میں بھی ملتا ہے کہ قران میں ایک ایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ اپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ گھڑی کب ائے گی تو اپ انہیں کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو صرف اللہ تعالی کو ہے اسی طرح جب وہ حدیث جبریل مشہور ہے ہماری جو سب سے بڑی متواتر حدیث ہے ہماری اس پہ ہم اگے جا کے ڈسکس کریں گے اس میں بھی جب جبریل پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ قیامت کب ائے گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے ہیں کہ نہ اس کا جواب سوال کرنے والے کو پتہ ہے نہ اس کا جواب جواب دینے والے کو پتہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اینڈ اف ٹائم کا جو اینڈ ہے وہ تو صرف اللہ کو پتہ ہے لیکن اینڈ اف ٹائم کا سٹارٹ کیا ہے یعنی اخر الزما جس کو کہا گیا ہے وہ سٹارٹ کہاں سے ہوگا اور کیا یہ واقعی حقیقت ہے کہ ہم اج اخر الزما میں جی رہے ہیں ہم اج وقت کے اس اخری حصے میں جی رہے ہیں جس کی مدت چلیں کوئی پتہ نہیں 200 سال ہے 250 سال ہے 500 سال ہے ہزار سال ہے لیکن کیا یہ وہی اخری پیچ اف ٹائم ہے جس میں ہم لوگ زندہ ہیں اگر واقعی ہم قران اور حدیث سے یہ بات تلاش کر سکیں کہ یہ اخر الزما ہی ہے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے اس کے تدارک کے لیے اور اپنی زندگیوں کو کس طرح لے کر اگے چلنا چاہیے تو سب سے پہلے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ قران کی طرف ہم رجوع کرتے ہیں کیونکہ قران پاک میں چونکہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے تو اس حوالے سے اگر ہم دیکھیں تو ہم تلاش کرتے ہیں کہ قران پاک میں اخر الزماں کے حوالے سے کہ یہ اخر الزماں کہاں سے سٹارٹ ہوتا ہے اس کا کہاں پہ جا کے ہمیں کوئی چیز ملتی ہے تو سورہ یونس کی ایت نمبر جو ہے 92 میں نے جو اس پہ ریسرچ کی ہے جو سٹڈی کی ہے اس کے مطابق مجھے قران پاک میں ایک واضح ثبوت ملا ہے یو میں سے کہ اٹ از ا بل بورڈ اف دی سٹارٹنگ اف اخر الزماں ڈسپلیڈ ان دا قران قران میں ایک بل بورڈ لگا دیا گیا ہے کہ اس وقت اخر الزماں سٹارٹ ہوگا وہ میں اپ سے بیان کرتا ہوں دراصل قران کی یہ جو ایت ہے نا کہ جی ہم نے اس میں ہر چیز کا بیان رکھا ہے تو اس ایت میں کچھ لوگ سرسری قران پاک پڑھتے ہیں پھر جب اپ اس کو تھوڑا سا اور گہرائی میں جاتے ہیں اس کے اور مطالب نکلتے ہیں جب اپ اس میں غوتا زن ہوتے ہیں تو اپ کو بہت سارے علوم و فنون اس میں سے نکلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں تو اس حوالے سے جب میں نے قران پہ سٹڈی شروع کی کہ میں یہ دیکھوں کہ اس میں اخر الزماں کا سٹارٹ کہاں سے ہمیں کوئی کوئی کلو ملتا ہے تو یہ بڑی خوبصورت ایت ہے سورہ یونس کی ایت نمبر 92 ہے کہ فلما ننج کا بدن کالی تکون خلفک ایا انا کثیرا من الناس عنا لاغفلون اس سے اوپر والی ایات میں اللہ تعالی فرعون کے ڈوبنے کا ذکر کر رہے ہیں اور جب وہ فرعون ڈوب جاتا ہے خیرو جب سمندر میں ڈوب جاتا ہے تو اس کے بعد اللہ تعالی قران پاک میں کہہ رہے ہیں کہ اج کے دن ہم تمہارے جسم کو بچا لیں گے فلما ننج کا اج کے دن ہم بچا لیں گے بے بد نگاہ تمہارے بدن کو لتاکو تاکہ وہ بن جائے لمن ان کے لیے خلف کا جو اخر میں انے والے ہیں ایاتن ایک نشانی کثیرا من الناس اور انسانوں میں سے انسانوں کی اکثریت جو ہے وہ ہماری
[5:32]حیات سے ہماری نشانیوں سے غافل رہتی ہے یعنی اللہ پاک کہہ رہے ہیں کہ فرعون جب غرق ہوگیا سمندر میں تو ایت نمبر 92 میں اللہ کہہ رہے ہیں کہ اج کے دن ہم تمہارے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تمہارا بدن بعد میں انے والوں کے لیے ایک نشانی بن جائے اور انسانوں کی اکثریت میری بتائی ہوئی نشانیوں سے غافل رہتی ہے اب یہ ایات قران جب نازل ہو رہی تھیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بن نفس نفیس اس دنیا میں موجود تھے تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ فرعون کی لاش فرعون کی لاش جو ہے وہ کہیں پر باڈی اس کی موجود ہے پوری دنیا میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں تھا جس کو پتہ ہو کہ فرعون کی لاش کس جگہ پہ ہے لیکن اللہ تعالی کہتا ہے کہ ہم تمہاری اس لاش کو بعد میں انے والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں گے یعنی یہ لاش جب ڈسکور ہوگی جب یہ واضح طور پر باہر ا جائے گی جب دنیا کے سامنے ا جائے گی تو اس وقت یہ اخر الزماں جو ہے وہ اس کا اغاز ہوگا دس از بل بورڈ
[7:11]تو یہ کب ہوا یہ 1886 میں 1886 میں فیرا کی باڈی ڈسکور ہوئی اور پھر اپ سب لوگوں نے دیکھا کہ کس طرح اسے 19 1924 یا 1920 کے راؤنڈ اباؤٹ میں کس طرح مصر سے پھر پیرس لے جایا گیا پھر اسے پوری سلامی دی گئی اسے پورا سیلوٹ دیا گیا اور 21 گنز کا سیلوٹ اس کو وہاں پہ دیا گیا ایک ایک شہنشاہ کی طرح اس کا استقبال کیا گیا اس کی باڈی کا اور واپس پھر وہ مصر میں لا کے رکھ دی گئی یعنی 1886 وین دا فیروز باڈی واز ڈسکورڈ اٹ واز دا بل بورڈ ڈسپلیڈ بائی دا قران دٹ دا اخر الزماں ہیز بین سٹارٹڈ تو نو اگے ہم چلتے ہیں کیا احادیث اس سے ٹیلی کرتی ہیں ہمارے اس موقف کو سپورٹ کرنے کے لیے کیا احادیث ٹیلی کرتی ہیں
[8:14]تو سب سے پہلی جو سب سے پہلی حدیث جو میں اپ کو کوٹ کروں گا وہ حدیث جبریل ہے یہ ہماری تمام کتابوں میں موجود ہے اس کو متواتر کا درجہ حاصل ہے میں مسلم سے اس کو کوٹ کر رہا ہوں اس لیے مسلم سے کوٹ کر رہا ہوں کہ صحیح مسلم کی یہ پہلی حدیث ہے صحیح مسلم کا سٹارٹ ہی اس حدیث سے ہوتا ہے اور اس کے راوی بھی جو ہیں وہ عمر ابن الخطاب ہیں عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ عمر ابن الخطاب سے سنا ہے اور اس سے پہلے وہ قسم کھاتے ہیں کہ میں یہ قسم کھاتا ہوں کہ میں نے یہ بات اپنے باپ سے بنفسی نفیس سنی ہے تو سیدنا عمر فاروق کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ اپ کو پتہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق سے بہت تھوڑی احادیث جو ہیں وہ روایت ہوئی ہیں بہت ہی تھوڑی میرا خیال ہے 10 سے بھی کم ہوں گی چار پانچ ہیں تو یہ سب سے بڑی حدیث جو ہے حدیث کو ہم حدیث جبریل کہتے ہیں تو جس میں ایمان ہے جس میں اسلام ہے اور اگے کچھ چیزیں ہیں جو میں اپ سے ڈسکس کرنے والا ہوں تو وہ سیدنا عمر فاروق اس کے راوی ہیں تو سیدنا عمر بن الخطاب کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک شخص ایا ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ اپنے گھٹنے جوڑ کے ان کے سامنے بالکل بیٹھ گیا ہے اور اس نے اپنے ہاتھ ان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں کے اوپر رکھ دیے اور وہ شخص جو تھا اس کے سفید کپڑے تھے اور اس کے اوپر سفر کے کوئی نشان نہیں تھے اس لیے ہم حیران ہوئے کہ اتنا ترو تازہ شخص جو ہے یہ کیسے یہاں تک اگیا جبکہ یہ مسافر بھی نہیں ہے اور مدینے کا رہنے والا بھی نہیں ہے تو وہ وہاں ا کے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رانوں کے اوپر اپنے ہاتھ رکھے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اسلام جو ہے وہ اللہ پر ایمان ہے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے نماز قائم کرنا ہے زکات دینا ہے حج کرنا ہے اس کے بعد اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ایمان کیا ہے تو انہوں نے کہا ایمان اللہ کی وحدنیت پہ ایمان ہے اللہ کے رسولوں پر ایمان ہے اللہ کی کتابوں پہ ایمان ہے اللہ کے ملائکہ پہ ایمان ہے اور اخرت میں مرنے کے بعد جی اٹھنے پہ ایمان ہے اور تقدیر پہ ایمان ہے اس کے بعد اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ائے گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اس کا جواب نہ مجھے پتہ ہے نہ تجھے پتہ ہے تو پھر اس نے کہا کہ اپ اس کی کوئی نشانیاں بتا دیں
[10:54]تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسلم کی روایت کے مطابق جو سب سے بڑی اور پہلی نشانی یہ بتائی کہ انہوں نے کہا کہ تم دیکھو گے جبریل کو کہا کہ تم دیکھو گے کہ یہ بھیڑ بکریاں چرانے والے جو ننگے پاؤں ننگے بدن رہتے ہیں ایک وقت ائے گا کہ یہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے اب دیکھیں کہ یہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے والے کون ہیں اور یہ بھیڑ بکریاں اور کالے اونٹ چرانے والے کون ہیں اپ کو یہ سن کے بڑی حیرانگی ہوگی کہ کالے اونٹ جو ہے یہ نجد کے علاقے میں پائے جاتے تھے اور بنو تمیم بنو عبد قیس اور بنو حنیفہ ان کے پاس بھیڑ اور بکریوں کے بڑے بڑے ریور ہوتے تھے اور ان کی یہ عادت تھی کہ یہ ننگے پاؤں بھیڑ بکریاں چرا کر دیس پائٹ اف ہیونگ بگ اینڈ ہیوژ ہرز اج بھی ہمارے معاشرے میں بھی گجر قبیلے میں اگر اپ کہیں دیکھیں تو 50 60 70 اس کے پاس بھینسیں یا گائیں ہوتی ہیں تو وہ ننگے پاؤں جا رہا ہوتا ہے تو یہ انہوں نے لمبی اونچی عمارتیں بنانی کب شروع کیں یہ واقعہ ہوا تقریبا 1960 میں جا کے بلکہ اپ 1970 کہہ لیں میننگ دیر بائی کہ 1886 کو اللہ تعالی نے بل بورڈ لگایا خیرو کی باڈی کی ڈسکوری کر اب اخر الزماں سٹارٹ ہو گیا ہے وہ قران کا پہلا فیصلہ اگیا اس کے بعد جو حدیث نے سب سے بڑی نشانی بنائی بتائی کہ یہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا سے مقابلہ کریں گے یہ 70 میں تقریبا 100 سال کے بعد فیرا کی باڈی کی ڈسکوری کے بعد شروع ہوا اور اج یہ مقابلہ اپنے پیک پر ہے پہلے برج العرب بنا پھر برج الخلیفہ بنا اب برج الجدہ بن رہا ہے اپ مکہ میں چلے جائیں اپ کو کوئی عمارت جو ہے 20 25 15 20 25 سٹوری سے کم نظر نہیں اتی اپ جدہ میں چلے جائیں اپ مدینہ چلے جائیں اپ دبئی چلے جائیں اپ قطر میں چلے جائیں ہیوج ہائی رائزنگ عمارتیں ہیں پورے جزیرہ العرب میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بات کہنی کہ قیامت کے نزدیک یعنی اخر الزماں میں یہ لوگ اونچی اونچی عمارتوں میں اپنا جو ہے کمپٹیشن کریں گے یہ ثابت ہوتی ہے اور یہ شروع ہوتی ہے 1970 میں اس کے بعد جو ہم نے میں نے اپ سے پہلے بھی اس پہ ڈسکس کیا تھا کہ ایک حدیث ہے جو بخاری میں جس کا جو نمبر ہے وہ 1037 ہے صحیح بخاری سے میں کوٹ کر رہا ہوں 1037 1037 حدیث نمبر ہے جس میں کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں
[14:06]تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک بلند فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ یا اللہ ہمارے یمن پر رحم فرما ہمارے شام پر رحم فرما تو بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ ہمارے نجد پر بھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے ہیں پھر ہاتھ اٹھاتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ ہمارے شام پر رحم فرما یا اللہ ہمارے شام پہ رحم فرما یا اللہ ہمارے یمن پہ رحم فرما لوگ پھر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ ہمارے نجد میں بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہتے ہیں پھر تیسری دفعہ ہاتھ اٹھاتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یا اللہم بارکنا شامنا اللہم بارکنا یامینا اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے اے اللہ ہمارے یمن میں برکت دے لوگ پھر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ ہمارے نجد میں بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں نہیں وہاں زلزلے ائیں گے یاطل قرن الشتان یاطل قرن الشیطان یہ الفاظ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث نمبر 1037 میں یاتل قرن الشیطان شیطان کا قرن طلوع ہوگا اب ہم بتائیں گے اپ کو کہ قرن کیا چیز ہے
[15:40]انہوں نے جو مس گائیڈ کیا ہے مسلم امہ کو قرن کا ترجمہ سینگ سے کر دیا ہے جس سے بہت سارے لوگوں کو سمجھ نہیں لگتی کہ یہ شیطان کا سینگ کہاں طلوع ہوگا قرن کا لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کبھی سینگ کے لیے استعمال نہیں کیا اور قران پاک میں قرن کرائن اور قرون قرن کرائن اور قرون یہ تقریبا 28 دفعہ استعمال ہوا ہے اپ چیک کر لیں اور ہر جگہ پہ قرن کا مطلب زمانے کے لیے استعمال ہوا ہے اینا کے لیے استعمال ہوا ہے ایرا کے لیے استعمال ہوا ہے یہ کبھی بھی سینگ کے لیے استعمال نہیں ہوا اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ یا طل قرن الشیطان وہاں سے شیطان کا قرن جو ہے وہ طلوع ہوگا یعنی شیطان کا زمانہ جو ہے وہ نجد سے طلوع ہوگا نجد سے شیطان کا زمانہ اگر طلوع ہوتا ہے تو نجد والوں کو جو اقتدار ہے وہ 1926 سے ملنا شروع ہوا ہے اور 1936 میں پھر یہ پائدار ایک ہوا ہے اور اس کے بعد نجد کے جو دوسرے قبائل ہیں وہ ا کے 1970 میں ا کے جو ہے وہ ازاد ہوئے ہیں جو یو اے ای والے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ 1886 میں قران کے مطابق اخر الزماں سٹارٹ ہوا اور اس کے بعد جو بڑی بڑی عمارتوں والی حدیث ہے وہ پوری ہوئی 1970 میں اور اس کے بعد جو شیطان کا قرن طلوع ہونا تھا نجد سے اس کا بھی اغاز 1936 یعنی اسی ارا میں ہوا یعنی اگر ہم دیکھیں تو 1886 سے اخر الزماں کا اغاز ہو چکا ہے اور ہم اس اخر الزماں کے دور میں زندہ ہیں اسی میں سانس لے رہے ہیں اسی سے ہمیں بچ کر نکلنا ہے اس کا اینڈ کیا ہے اس کا علم اللہ کو ہے لیکن اللہ کے اور اللہ کے رسول نے قران میں اور حدیث میں واضح طور پر یہ نشانی بتا دی ہوئی ہے کہ یہ کب شروع ہوگا اخر الزماں اور اخر الزماں 1886 سے سٹارٹ ہو چکا ہے اج یہاں تک ہی اس کے اگلی گفتگو میں ہم بات کریں گے کہ اخر الزماں میں ہمارا رویہ جو ہے وہ کیا ہونا چاہیے اور اسلام کیا سٹیج اختیار کرے گا اخر الزماں میں اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا فرمایا ہے اور ہمیں کیا کرنا ہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



