[0:00]الحمدللہ الذی خلق الانسان علمہ البیان الصلاۃ والسلام علی حبیب الرحمان سید الانس والجان صاحب الجود والاحسان سیدنا ومولانا محمد المبعوث بخیر الملل والادیان وعلی آلہ واصحابہ بدول الایمان اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین
[1:03]صدق اللہ مولانا العظیم ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلی آلک واصحابک یا حبیب اللہ الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلی آلک واصحابک یا حبیب اللہ برادران اسلام اللہ پاک کا شکر ہے جس نے ہمیں جمعۃ المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کا یہ موقع عطا فرمایا ہے۔ بعض جگہوں کو اللہ نے شان بخشی ہے تو اسی طرح بعض وقتوں کو اللہ نے فضیلت عطا فرمائی ہے جمعۃ المبارک کا دن ہفتے کے دنوں میں بڑی شان والا دن ہے۔ آج کے دن کوئی ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یہ یوم مشہود ہے جو محبت سے درود پڑھتے ہیں حضور ان کا درود خود سنتے ہیں۔ دور و نزدیک سے سننے والے وہ کان کانے لال کرامت پہ لاکھوں سلام۔ آج کے دن جس نے شرعی آداب کے ساتھ نماز جمعۃ المبارک ادا کر لی اللہ پاک اس کے گزشتہ ہفتے کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ بارگاہ ذوالجلال میں حاضری پیش کرنے والوں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں۔ دعا کریں اللہ پاک ہمارا بھی نام ان خوش نصیبوں میں شامل کرے جنہیں آج بخش دیا جائے گا۔ جن کی دعائیں قبول ہوں گی۔ جن کے لیے یہ دن آنے والے دنوں کے لیے کلید رحمت بن جائے گا۔ آج ۱۲ رجب المرجب ہے۔ رجب کی ۱۲ تاریخ ہے۔ تو آج کے جمعۃ المبارک کے موقع پر میں آپ احباب کے سامنے حضور سیدنا حیدر کرار اسد اللہ الغالب امام المشارک والمغارب واقف رموز جلی و خفی سیدنا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم آپ کے حوالے سے آپ کی عظمت و شان آپ کی سیرت و کردار آپ کی تعلیمات
[4:08]اس حوالے سے گفتگو کروں گا۔ ویسے تو ہمارے ہاں اس مسجد میں کوئی جمعہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس جمعہ ہم حضور حیدر کرار کا نام لے کر آپ پر سلام نہیں پڑھتے۔ بعض دوست تو سمجھ گئے ہوں گے بعض کے لیے تشریح کر رہا ہوں یہ جو ہم عربی والا خطبہ پڑھتے ہیں جو دو خطبے امام صاحب پڑھتے ہیں ان میں جو دوسرا خطبہ ہے ہر جمعۃ المبارک کو حضور حیدر کرار کا نام لے کر آپ پر سلام پڑھا جاتا ہے۔
[5:58]تو اس لیے مولا علی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی جو ولادت انہوں نے ۱۳ رجب مقرر کیا یہ اندازے سے ہے۔ اس پر کوئی ایسا معتبر حوالہ نہیں پیش کیا جا سکتا یہ ایک اندازہ تھا ان کا کہ ممکن ہے 13 رجب کو آپ کی ولادت ہو۔ یہ تو میں نے آپ کے سامنے ایک علمی تحقیق پیش کی ہے۔ ورنہ ہمیں تاریخ سے تو کوئی غرض نہیں ہے۔ کہ کس تاریخ کو آپ کی ولادت ہوئی ہمارے نزدیک تو مولا علی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی محبت ہمارے اوپر فرض ہے۔
[6:47]تاریخ کوئی بھی ہو ہم مولا علی شیر خدا کی عظمتوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اور ہم آپ کی محبت کو اپنے لیے بخشش کا وظیفہ اور وسیلہ سمجھتے ہیں۔ اور قرب رسول کا سب سے آسان وسیلہ وظیفہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے قطع نظر کسی تاریخ کے حضور حیدر کرار شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی جو عظمتیں اور شانیں ہیں میں نے شروع میں ہی عرض کر دیا کہ وہ تاریخوں کی محتاج نہیں ہم تو ہر جمعہ آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ کی والدہ جو ہیں حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالی عنہا حضور کی چچی یہ حضور سے بڑی محبت کرتی تھیں اور میرے آقا کریم بھی ان سے محبت فرماتے تھے۔
[7:53]حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالی عنہا جب حضور ان کے ہاں تشریف فرما تھے میرے آقا کریم کی ظاہری عمر پاک اس وقت نو سال یا 10 سال ہے تو حضرت فاطمہ بنت اسد اپنے گھر جب دسترخوان بچھاتیں اس پہ کھانا رکھ دیتیں دیگر اہل خانہ اس کھانے پہ بیٹھ جاتے دسترخوان پہ کھانا شروع کرنے لگتے ابھی حضور نہیں تشریف لائے تو حضرت فاطمہ بنت اسد اس وقت بھی حضور سے اتنی محبت کرتی تھیں فرماتی تھیں خبردار کوئی کھانے کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میرا بیٹا محمد نہ آجائے۔ تو حضور جب تشریف لاتے تھے آپ اس دسترخوان پہ رونق افروز ہوتے تھے تو پھر حضرت فاطمہ بنت اسد دوسروں کو بھی اجازت دیتی تھیں کہ ٹھیک ہے تم کھانا کھا سکتے ہو۔ جب ان کا وصال ہوا مدنی دور میں مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا ہے مولا علی شیر خدا کی والدہ کا اور آپ کی قبر جنت البقیع میں ہے۔



