[0:05]آج سے 2300 سال پہلے 2300 years ago دنیا میں ایک طاقتور اور عظیم الشان سلطنت ہوا کرتی تھی۔ اس کو اردو میں ہم ہخامنشی سلطنت اور انگلش میں اچمینٹ ایمپائر کے نام سے اج جانتے ہیں۔ یہ تاریخ کی پہلی سلطنت فارس یا پرشین ایمپائر تھی۔ اس سلطنت کا مرکز بیبلونیا یعنی اج کا عراق تھا۔ اس عظیم الشان سلطنت کی حدود مغرب میں جہاں اج یونان ہے اس کے بارڈر تک جاتی تھی اور مشرق میں دریائے سندھ کے کنارے تک یہ سلطنت پھیلی ہوئی تھی۔ پاکستان کے بہت سے حصے جیسے کہ ٹیکسلا اور صوبہ بلوچستان بھی اسی میں شامل تھے۔ پھر افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، ایران، عراق، اذربائیجان، جارجیا، شام، لبنان، اردن، ترکی، اسرائیل، مصر اور لیبیا تک کے موجودہ جغرافیے اسی اچمنڈ ایمپائر کے کنٹرول میں تھے۔ تاریخ کے دو عظیم ترین شہنشاہوں سائرس اعظم اور داریوس دا گریٹ کا نام اپ نے ضرور سنا ہوگا۔ یہ دونوں اسی سلطنت کے شہنشاہ ہوا کرتے تھے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ 331 331 BCE میں یونانی ریاست مقدونیہ کے حکمران سکندر یونانی نے اس سلطنت پر حملہ کر دیا۔ دونوں فوجوں میں تاریخ کی ایک ناقابل فراموش اور زمانہ بدل دینے والی جنگ دا بیٹل اف گوگامیلا ہوئی۔ اس مشہور زمانہ جنگ میں اخری ہخامنشی شہنشاہ داریوس تھری کو شکست ہو گئی۔ پھر یوں ہوا کہ وہ فرار ہوتے ہوئے اپنے ہی ایک افغان کمانڈر بی سیز کے ہاتھوں مارے گئے۔ داریوس تھری کو مارنے والے افغان کمانڈر بی سیز نے خود کو اب نیا شہنشاہ ڈکلیئر کر دیا اور سکندر اعظم کے خلاف لڑائی جاری رکھی۔ لیکن دوستو سکندر اعظم نے اس کا بھی پیچھا نہیں چھوڑا اور تعاقب کرتے ہوئے افغانستان کے موجودہ شہر بلخ تک پہنچ گئے۔ اس وقت یہ شہر بکرہ اور اس کے ارد گرد کا علاقہ بکریا کہلاتا تھا۔ یونانی فوج کمانڈر بیسز کو تلاش کر رہی تھی کہ اس کے ساتھیوں نے ہی اسے گرفتار کر کے سکندر اعظم کے سامنے پیش کر دیا۔ کمانڈر بی سیز کو گرفتار کروانے میں ایک افغان کمانڈر سپیٹیا مینیز بھی شامل تھا۔ سکندر اعظم نے افغان کمانڈر بی سیز کو دوستو عبرتناک سزا دی۔ یونانیوں نے دو درختوں کے تنے موڑ کر انہیں اپس میں جوڑ دیا اور کمانڈر بی سیز کو ان کے درمیان میں باندھ دیا۔ پھر جب تنوں کو ایک جھٹکے سے چھوڑا گیا تو بی سیز کے پرخچے اڑ گئے۔ یوں سکندر اعظم موجودہ افغانستان سمیت پوری ہخامنشی سلطنت اور سینٹرل ایشیا کے ایک بڑے علاقے کے بلا شرکت غیر حکمران بن گئے۔ ان کی سلطنت شمال میں سمرقند سے اگے سر دریا تک پہنچ چکی تھی۔ انہیں ہخامنشی سلطنت اکمنڈ ایمپائر اور افغانستان کے اس پورے علاقے کی فتح تو بہت اسانی سے مل گئی تھی۔ لیکن دوستو تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنا تو مشکل کبھی رہا ہی نہیں۔ قبضہ برقرار رکھنا تو وہ کام ہے جس میں افغانوں نے کبھی کسی کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ کیونکہ افغان لوگ اصل لڑائی شروع ہی تب کرتے ہیں جب کوئی بڑی سلطنت ان پر قابض ہو جاتی ہے۔ تو سکندر یونانی الیگزینڈر دی گریٹ کے سامنے افغانیوں نے ایک ایسی جنگ لڑی جسے وہ لڑ کر بھی نہیں جیت سکے۔ یہ لڑائی کیا تھی؟ افغانستان کو گریوی یارڈ اف دا ایمپائرز کیوں کہا جاتا ہے؟ اج کا افغانستان ہزاروں سال کا سفر کرتا ہوا یہاں کیسے پہنچا؟ میں ہوں فیصل وڑائی اور دیکھو سنو جانو کی نئی منی سیریز ہسٹری اف افغانستان گریوی یارڈ اف دا ایمپائرز میں ہم اپ کو یہی سب دکھائیں گے۔
[3:57]بیٹل اف گامیلا کے بعد سکندر اعظم نے افغانستان کے اوپر شمال میں سر دریا تک سینٹرل ایشیا کا تمام علاقہ فتح کر لیا تھا۔ اب اس دریا کے پار اس کی سرحد کے دوسری طرف سدین قبائل رہتے تھے جو کہ خانہ بدوش تھے۔ سکندر اعظم کو خطرہ رہتا تھا کہ یہ قبائل یونانی قبضے والے علاقوں میں ا کر کہیں لوٹ مار نہ کریں یا اس کے خلاف مقامی بغاوتوں کو سپورٹ نہ کرنے لگے۔ سیدینز کی طرف سے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سکندر اعظم نے اس علاقے میں ایک مستقل فوجی اڈا قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے اج فوجی چھونیاں قائم کی جاتی ہیں۔ ان کے حکم پر یونانی فوج نے سر دریا کے کنارے پر فوج کے لیے ایک بڑا قلعہ تعمیر کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہ جگہ ہے دوستو جہاں اج تاجکستان کا شہر کھوجند اباد ہے۔ سکندر اعظم نے اس علاقے کو الیگزینڈریا اسکیٹ یعنی سب سے دور موجود الیگزینڈریا کا شہر یہ نام دیا تھا۔ یہ قلعہ ہی سکندر اعظم کے لیے دوستو مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو گیا۔ وہ اس لیے کہ افغان قبائل اب تک ہخامنشی سلطنت کے زیر اثر ایک خود مختار حیثیت میں رہتے تھے۔ داریوس بھی ان پر اپنا حکم نہیں چلاتے تھے۔ سکندر اعظم کو چیلنج نہ کرنے والے یہ افغان اور سیدین قبائل یہ سمجھ رہے تھے کہ یونانی حکمران بھی کچھ دیر بعد حملہ کر کے واپس چلے جائیں گے اور یہ علاقے اپنی خود مختاری پہلے کی طرح ہی برقرار رکھ سکیں گے۔ لیکن جب سر دریا پر سکندر اعظم نے قلعے کی تعمیر شروع کروائی تو ان سب کو لگنے لگا کہ یہ یونانی لوگ یہاں سے جانے کے لیے نہیں بلکہ رہنے کے لیے ائے ہیں۔ اب یہ بات انہیں کسی طرح گوارا نہیں تھی۔ سو ان کے خلاف افغانوں نے بغاوت شروع کر دی۔ اس بغاوت کو لیڈ کیا اس افغان جنگجو نے جس نے اپنے کمانڈر بی سیز کو گرفتار کر کے سکندر اعظم کے سامنے پیش کیا تھا۔ یعنی کمانڈر سپیٹیا مینز نے۔ انہوں نے یونانیوں کے اس اقدام کو مقامی قبائل کی خود مختاری پر حملہ سمجھتے ہوئے ان کی ازادی پر ایک وار سمجھتے ہوئے ہتھیار اٹھا لیے۔ اس بغاوت میں افغان، سینٹرل ایشیا کے لوگ اور سیدین قبائل جو سر دریا کے پار رہتے تھے یہ سبھی شامل تھے۔ انہوں نے سمرقند کے قریب یونانی فوج پر پہلا بڑا حملہ کیا اور ان کے بہت سے فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یونانی فوج پر اس پہلے بڑے حملے کے ساتھ ہی سر دریا سے لے کر بلخ تک بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے۔ دیہات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور اپنے اپنے علاقوں میں تعینات یونانی اہلکاروں یا سرداروں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ سر دریا کے قریب موجود ایک قدیم شہر سارو پلس اور اس کے قریبی قصبے بغاوت میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ یہاں کے شہریوں نے اپنے علاقوں میں تعینات یونانی فوجیوں کو قتل کر دیا اور قلعے کے دروازے بند کر لیے۔ اس کے علاوہ بھی ہزاروں کی تعداد میں باغیوں نے پہاڑوں اور جنگلوں میں اپنے نئے ٹھکانے بنا لیے۔ باغی اتنے ایکٹیو ہوئے کہ انہوں نے سمرقند اور الیگزینڈریا اسکیٹ کے درمیان یونانی فوج کا گزرنا ہی محال کر دیا تھا۔ سکندر اعظم بھی ظاہر ہے خاموش بیٹھنے والے تو نہیں تھے وہ ایک منجھے ہوئے کمانڈر تھے اور انہوں نے اس چیلنج کا بھرپور جواب دیا۔ سکندر اعظم نے پہاڑوں اور جنگلوں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے۔ لیکن انہیں دوستو ہر قلعے سے اتنی مزاحمت ملتی تھی جس کی وہ کبھی بھی توقع نہیں کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک پہاڑی قلعے پر حملہ کرتے ہوئے وہ خود بھی دشمن کے تیروں کی زد میں ا گئے۔ ایک تیر ان کی ٹانگ میں گہرا لگا اور انہیں ایک زخم دے گیا۔ مورخ پروٹارچ لکھتے ہیں کہ سکندر اعظم کی ٹانگ کی ہڈی اس بری طرح ٹوٹی کہ ہڈی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو جسم سے باہر نکالنا پڑا۔ یونانی فوج نے جب اپنے سپہ سالار کو زخمی دیکھا تو وہ اگ بگولا ہو گئی۔ انہوں نے قلعے کے محافظوں اور گرفتار سپاہیوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ لیکن یونانیوں کی یہ سوچ کہ بہیمانہ قتل عام سے افغان باغیوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے بالکل غلط تھی۔ یونانیوں کی ایسی ہر کاروائی کے ساتھ افغان باغیوں کے حوصلے اور ان کا جذبہ پروان چڑھ رہا تھا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ سکندر اعظم خود زخمی تھے اور چلنے پھرنے سے معذور تھے۔ ان کی فوج نے سائرہ پلس اور اس کے قریبی قصبوں کا محاصرہ تو کر لیا تھا لیکن ہر جگہ سے انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ سکندر اعظم بستر سے لگے تھے لیکن میدان جنگ کی رپورٹس برابر لے رہے تھے اور اپنے فوجیوں کو سٹریٹجی سمجھاتے بھی جا رہے تھے۔ ان کے حکم پر یونانی فوج نے سائرہ پلس کے قریب ایک ایک قصبے کا الگ الگ محاصرہ کیا اور پھر ہر قصبے کو تباہ و برباد کر کر رکھ دیا۔ یونانی فوج نے یہ طریقہ اپنایا کہ جب وہ کسی بھی قصبے پر قبضہ کرتے تو اس کے تمام مردوں کو قتل کر دیتے اور خواتین کو لونڈیاں بنا کر ساتھ لے اتے۔ سائرہ پلس شہر میں موجود باغی اپنے قصبوں کا یہ انجام دیکھ رہے تھے لیکن انہوں نے پھر بھی ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ یونانی فوج کے خلاف نئی ٹیکنکس اپنانا شروع کر دی۔ انہوں نے یونانیوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ وہ اپنے لوگوں کو سفید پرچم دے کر گفتگو کے بہانے یونانی فوجیوں کے پاس بھیجتے، یونانی فوجیوں کو قریب بلاتے اور پھر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے۔ اسی طرح کافی عرصہ گزرتا گیا اور ایک دن سکندر یونانی صحت مند ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اب وہ دوبارہ لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تیار تھے۔ صحت یاب ہوتے ہی انہوں نے سائرہ پلس پر قبضے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ انہوں نے دیکھا کہ سائرہ پلس کے قلعے کی دیوار کے نیچے ایک نکاسی کے نالے جیسا راستہ تھا جہاں سے پانی شہر کے اندر جاتا تھا۔ سکندر اعظم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو ساتھ لیا اور کمانڈوز کی طرح ایکشن کرتے ہوئے اس پانی میں تیر کر قلعے کے اندر داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے شہر کا ایک دروازہ کھول دیا اور یونانی فوج اندر داخل ہو گئی۔ پھر شہر میں انہوں نے ہر سامنے انے والے شخص کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ شہر کے 15 ہزار محافظوں میں سے بہت کم زندہ بچے۔ شہر میں موجود اخری باغی بھی یونانیوں سے جان توڑ کر لڑا، شہر کے ہر گلی کوچ اور چھت سے تیروں اور پتھروں کی بارش ہو رہی تھی اور یونانی فوج کی پیش قدمی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ سکندر اعظم نے ایک بار پھر بہادری دکھانے کی کوشش کی اور لڑائی میں گھس گئے۔ لیکن اس بار وہ زیادہ خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔ اچانک کسی نے تاک کر پتھر مارا اور سکندر اعظم کی انکھوں کے اگے اندھیرا چھا گیا۔ پتھر لگنے سے ان کے سر اور گردن پر گہرا زخم لگا اور خون ٹپکنے لگا۔ وہ چکرا کر گرے اور بے ہوش ہو گئے۔ اپنے کمانڈر کو ایک بار پھر خون میں لت پت دیکھ کر یونانی فوجیوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے فوری طور پر ڈھالوں کی چھت بنائی اور سکندر اعظم پر تان لی تاکہ وہ مزید پتھروں اور تیروں سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے بعد وہ اپنے بے ہوش بادشاہ کو ڈھالوں کی اڑ میں اپنے کیمپ میں واپس لے ائے۔ سائرہ پلس تو دوستو فتح ہو گیا لیکن یونانیوں کو اپنے سپریم کمانڈر کی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ زخمی ہونے کے کئی روز بعد تک سکندر اعظم کی یہ حالت تھی کہ ان کی انکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا رہتا تھا اور وہ ٹھیک طرح سے بول بھی نہیں پاتے تھے۔ طبیب ان کے زخموں پر پٹیاں کرتے تھے لیکن زخم بار بار کھل جاتے تھے اور خون ٹپکنے لگتا تھا۔ سکندر اعظم کافی عرصے تک اسی حالت میں رہے لیکن اخر کار صحت یاب ہو گئے۔ جب سکندر اعظم نے فوج کی دوبارہ کمان سنبھالی تو ان کی فوج ایک تباہ کن جنگ میں پھنس چکی تھی۔ سائرہ پلس پر یونانیوں کے قبضے کے بعد بھی بغاوت ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہزاروں باغی اب بھی پہاڑوں میں روپوش تھے۔ یہ باغی یونانی فوج کی سپلائی لائن پر مسلسل حملے کر رہے تھے۔ یہاں اپ کو یہ بتا دیں کہ یونانی فوج کی سپلائی لائن بلخ سے شروع ہوتی تھی جہاں سے کھانے پینے کا سامان اور مزید کمک کو سمرقند لایا جاتا تھا اور پھر اسے اگے اسکندریہ اسکیٹ اور اس کے اس پاس کے علاقوں تک پہنچایا جاتا تھا جہاں یونانی فوج تعینات تھی۔ لیکن سمرقند جو اس سپلائی چین کا درمیانی لنک تھا اس پر بھی اب حملے ہو رہے تھے اور اس میں تعینات یونانی فوجی خود کو محاصرے میں محسوس کرنے لگے تھے۔ قلعے میں موجود یونانی فوجی افغانوں کے خوف سے باہر ہی نہیں نکلتے تھے کیونکہ جو باہر نکلتا تھا وہ چھاپہ مار دستوں کے ہاتھوں مارا جاتا تھا۔ دوستو اس لڑائی کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یونانی کمانڈرز اور ان کے سولجرز افغانوں اور سیدینز کو دیکھتے تو خوفزدہ ہو جاتے۔ کیونکہ ان کے سر کے بال اور داڑھی کے بال ان سلجھے اور لمبے لمبے ہوتے تھے اور ان کی ہیبت میں اضافہ کر دیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک یونانی جنرل نے تو سکندر اعظم کو یہ مشورہ بھی دیا کہ ان باغیوں سے رات کے اندھیرے میں لڑنا چاہیے یعنی وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ اندھیرے میں افغانوں کے چہرے ان کے سپاہیوں کو نظر نہیں ائیں گے تو وہ زیادہ خوف بھی نہیں کھائیں گے۔ تو مختصر یہ کہ یونانی فوج پر باغیوں کا رعب بیٹھ چکا تھا اور سپاہیوں کا مورال ڈاؤن تھا۔ لیکن سکندر اعظم نے پھر بھی اسکندریہ اسکیٹ اس قلعے کی تعمیر جاری رکھی جس کی وجہ سے یہ بغاوت شروع ہوئی تھی۔ جبکہ سر دریا کے پار سے سیدینز گھوڑ سوار باغی مسلسل اس قلعے پر تیروں کی بارش کرتے رہتے تھے کیونکہ یہ قلعہ ان کی رینج میں تھا۔ اس دوران ایک دو بار یونانی فوج نے دریا عبور کر کے ان حملہ اوروں پر قاری ضربیں لگانے کی کوشش بھی کی لیکن ہر بار یہ لوگ پلٹ کر دوبارہ وار کرتے تھے۔ دوستو پھر ایک دن یوں ہوا کہ باغیوں نے سکندر اعظم کو ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا زخم لگایا۔ باغیوں نے سمرقند کے قریب یونانی فوج کے ایک دستے جس میں 2360 سپاہی شامل تھے اس پر دھات لگا کر حملہ کیا۔ باغیوں نے زبردست گوریلا جنگ کرتے ہوئے اس دستے کے زیادہ تر سپاہیوں کو قتل کر دیا۔ فوجی دستے کی کمانڈ کرنے والے افسروں اور تین یونانی جرنلز میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ بہت تھوڑے فوجی بمشکل جان بچا کر سمرقند پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ سکندر اعظم نے حکم دیا کہ اس حملے میں بچ جانے والے سپاہیوں کو باقی فوج سے الگ رکھا جائے تاکہ یہ اپنے ساتھیوں کو اس ناکام حملے کی اس پسپائی کی کہانیاں سنا کر مزید پریشانی نہ پھیلا سکیں۔ اس حملے کے بعد سکندر اعظم نے تیزی سے پلٹ کر سمرقند کی طرف پیش قدمی کی لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو سمرقند کے قریب موجود باغی پہاڑوں میں پسپا ہو گئے۔ افغان باغیوں اور ان کے سینٹرل ایشین اتحادیوں کی زبردست کاروائیوں نے سکندر اعظم کو مشتعل کر دیا تھا۔ ان کے حکم پر یونانی فوج نے بڑے پیمانے پر مقامی ابادی کا قتل عام شروع کر دیا۔ کئی قلعے اور دیہات نیست و نابود کر دیے گئے۔ ہزاروں مقامی لوگ مار دیے گئے ان کی فصلوں کو بھی جلا دیا گیا اور بچنے والوں کو غلام اور لونڈیاں بنا لیا گیا۔ لیکن دوستو اپ دیکھیے کہ افغانوں نے اس پر بھی ہتھیار نہیں ڈالے اور یونانیوں سے لڑائی جاری رکھی۔ یونانی فوج مقامی ابادی پر جتنا ظلم کرتی تھی مقامی لوگ اس کے خلاف اپنی مزاحمت اتنی ہی تیز کر دیتے تھے۔ مقامی ابادی بھی یونانی فوج سے ہوشیار ہو گئی تھی۔ عام لوگوں نے بھی پہاڑوں میں خفیہ پناہ گاہیں بنا لی تھیں۔ جب بھی یونانی فوج کسی علاقے پر چھاپہ مارتی تو مقامی لوگ غاروں اور خفیہ پناہ گاہوں میں چھپ کر جان بچا لیتے۔ یونانی فوج اور افغانوں میں زبردست لڑائی کے نتیجے میں سینٹرل ایشیا اور شمالی افغانستان کے علاقے جو پہلے خوشحالی کی مثال تھے وہ تباہانی کی تصویر بن گئی۔ لیکن پھر بھی کوئی فریق ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ یہ صورتحال سکندر اعظم کے لیے بھی پریشانی کا باعث تھی کیونکہ وہ جلد از جلد ہندوستان پر حملے کے لیے جانا چاہتے تھے۔ ہندوستان دوستو دور بھی نہیں تھا کیونکہ دریائے سندھ کے کنارے تک تو وہ پہنچ چکے تھے۔ لیکن افغانستان کی دلدل ان کا پاؤں چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔ سکندر اعظم نے ہندوستان کی مہم کے لیے یونان سے 22 ہزار مزید تازہ دم فوج افغانستان بلوائی لیکن اس فوج کو وہ ہندوستان نہیں بھیج سکے بلکہ افغان باغیوں سے لڑائی ہی میں یہ فوج جھونک دینا پڑی۔ کہتے ہیں کہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں سکندر اعظم کی فوج کا جتنا جانی نقصان ہوا اتنا نقصان اسے پرشین ایمپائر داریوس دا گریٹ کے مقابلے میں بھی نہیں ہوا تھا۔ ان کی فوج اتنی خوفزدہ تھی کہ وہ کنوؤں کے پانی پینے سے ڈرنے لگی تھی کہ مبادا اس میں افغانیوں نے زہر ملا دیا ہو۔ مجبورا سکندر اعظم کو اپنی فوجی پوزیشنز کے قریب ہی نئے کنویں کھدوانے پڑے۔ مگر افغانوں کے سرپرائز ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔ ایک موسم سرما دوستو ایسا ایا جس نے سکندر اعظم کو اخر قائل کر لیا کہ وہ افغانوں سے لڑ کر نہیں جیت سکتے انہیں کچھ اور کرنا ہوگا۔
[16:48]افغانستان میں تین برس کے قیام کے دوران بلخ کا علاقہ سکندر اعظم کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ سکندر اعظم گرمیوں کے موسم میں جنگوں اور مہمات کے لیے یہاں سے نکل جاتے تھے اور سردیاں گزارنے کے لیے بلخ میں اپنے ہیڈ کوارٹر میں واپس ا جاتے تھے۔ کیونکہ افغانستان میں موسم سرما کسی صورت جنگ کے لیے موضوع موسم نہیں ہوتا۔ لیکن ایک سال دوستو باغیوں نے پلان بنایا کہ جب سکندر اعظم گرمیوں میں بلخ سے نکل کر باہر مہمات میں مصروف ہوں گے تو وہ بلخ پر حملہ کر دیں گے۔ سو انہوں نے کر دیا۔ یہاں باغیوں نے بڑی تعداد میں یونانی فوج کو اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب سکندر اعظم اپنی بہت بڑی فوج کے ساتھ اپنے مرکز میں نہیں تھے۔ یونانیوں نے اپنی سردیوں کی خوراک کے لیے جو مال مویشی جمع کیے ہوئے تھے افغان حملہ اور انہیں بھی ہانک کر ساتھ لے گئے۔ اس لڑائی میں سکندر اعظم کا پسندیدہ گلو کار ارسٹونس بھی مارا گیا۔ مائکورس فیلوز باغیوں کے مسلسل حملوں نے یونانیوں کا مورال اس قدر ڈاؤن کر دیا تھا کہ عام سپاہی فرسٹریٹ ہونے لگے تھے۔ یونانی فوجی افسروں میں اکثر تو تو میں میں اور مار پیٹ ہونے لگی تھی۔ حتی کہ خود سکندر اعظم بھی اتنے پریشان تھے کہ ایک بار سمرقند میں قیام کے دوران انہوں نے غصے میں ا کر اپنے ہی ایک یونانی جنرل کلائٹس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا۔ افغانوں سے جنگ کے دوسرے یا تیسرے سال میں سکندر اعظم نے ایک بات اچھی طرح سیکھ لی تھی کہ افغانوں کو تلوار سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ ہاں سفارت کاری سے ڈپلومیسی سے انہیں جیتا ضرور جا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یہ کیا کہ وار لارڈز کو اپنا دوست بنانے کی کوششیں شروع کی۔ اس کا موقع انہیں جلد ہی مل گیا۔ ہوا یہ کہ ایک جھڑپ میں پہاڑی قلعے پر حملے کے دوران ایک افغان سردار اور اس کے کچھ لوگ گرفتار ہو کر ائے۔ ان گرفتار لوگوں میں شامل خواتین کو جب یونانیوں کے سامنے رقص کے لیے پیش کیا گیا تو ان میں سردار کی بیٹی رخسانہ یا جسے وہ روکسن کہتے تھے وہ بھی شامل تھی وہ پیش ہوئی۔ سکندر اعظم نے رخسانہ کو دیکھا تو پہلی نظر میں ہی انہیں رخسانہ پسند ا گئی۔ سکندر اعظم نے اس سے شادی کر لی اور اس کے والد کو اپنے اتحادیوں میں شامل کر لیا۔ اس شادی نے سکندر اعظم کی افغانوں سے رشتہ داری کو قائم کر دیا اور یونانیوں کی سیاسی پوزیشن بھی اب مضبوط ہونے لگی۔ مقامی سرداروں نے جب یہ دیکھا کہ سکندر اعظم اور ان کی فوج افغانوں سے رشتے جوڑنے لگی ہے تو ان میں سے بہت سے اب یونانی فوج سے دوستی کرنے کے لیے اگے بڑھنے لگے۔ سکندر اعظم نے خود کو مضبوط کرنے کے لیے افغانوں اور سینٹرل ایشیا کے لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنی فوج میں بھی بھرتی کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس سے بھی افغانوں کی مزاحمت میں کافی کمی ائی۔ اس سارے بندوبست کا نتیجہ دوستو یہ نکلا کہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں سکندر اعظم کا پلڑا بھاری ہوتا گیا۔ دوسری طرف سکندر اعظم نے افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں یونانیوں کو بڑے پیمانے پر اباد بھی کر دیا۔ یہ صورتحال دوستو افغان باغی کمانڈر سپیٹامینز کے لیے پریشان کن تھی کیونکہ اب ان کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی تھی۔
[21:00]افغان باغی مر چکا تھا لیکن ہسٹورینز کا اتفاق ہے کہ سکندر اعظم کو جیسی مزاحمت کا سامنا سپیٹامینز کے ذریعے ہوا وہ مزاحمت اسے کبھی دوبارہ نہیں جھیلنا پڑی۔ سپیٹامینز تاریخ کے بہترین گوریلا فائٹرز میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی موت کے بعد سکندر اعظم اپنا قلعہ سکندریا اسکیٹ بھی تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہی قلعہ جس کی وجہ سے افغان بغاوت کا اغاز ہوا تھا۔ تاہم اب اس قلعے کا نام و نشان بھی مٹ چکا ہے اور اس کی لوکیشن پر نیا خوجند شہر اباد ہے۔ تو بہرحال دوستو دو سے تین برس تک سخت لڑائیاں لڑنے کے بعد اخر سکندر اعظم افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں امن قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئے۔ لیکن اس امن کی انہیں بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی تھی۔ ان کے کم از کم سات ہزار سپاہی مارے گئے تھے جبکہ عورتوں اور بچوں سمیت ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب افغانوں کو بھی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ بلخ میں داخلے کے تین سال بعد 327 BCE کے لگ بھگ سکندر اعظم افغانستان سے نکل کر ہندوستان میں داخل ہوئے۔ افغانستان کو مسلسل اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے سکندر اعظم کو کافی تعداد میں یونانی فوجی دستے افغانستان ہی میں چھوڑنے پڑے تھے کیونکہ بظاہر بغاوت کچلی گئی تھی لیکن مکمل تو ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہندوستان میں سکندر اعظم کا راجہ پورس سے مقابلہ ہوا۔ انہوں نے راجہ پورس کو شکست دی اس کے بعد وہ مغربی ہندوستان یا موجودہ پاکستان کے کئی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے بلوچستان کے راستے فارس یعنی موجودہ ایران سے ہوتے ہوئے عراق کے شہر باببل پہنچے۔ یہیں 323 323 BCE میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد افغانستان کچھ اور یونانی ایمپائرز کا حصہ رہا لیکن اخر کار ہندوستان کی موریہ سلطنت نے افغانستان کو اپنا حصہ بنا لیا۔ یہ کیسے ہوا؟ افغانوں کے اسلام کی طرف انے کی کہانی کیا تھی؟ مسلم اموی سلطنت نے افغانستان پر کیسے حکومت کی؟ یہ سب اپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری اف افغانستان کی اگلی قسط میں۔ دوستو پاکستان کی جدید تاریخ کو دلچسپ انداز میں دیکھنے کے لیے یہاں ٹچ کیجیے۔ یہاں دیکھیے مسلم سرد جنگ کی ناقابل فراموش کہانی اور یہ رہی عظیم فلسفی سکرات کی شاندار بائیوگرافی۔



