[0:00]اردو کور کے معزز دوستو میں ہوں ماجد ملک اور اپ تمام دیکھنے اور سننے والوں کو السلام علیکم ناظرین گرامی دیو مالائی قدیمی قصے کہانیوں میں ایک کردار میڈوسہ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس مخلوق کی شکل و صورت عورتوں جیسی تھی جبکہ اس کے سر کے بالوں کی جگہ زندہ سانپ ہوا کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مخلوق واقعی وجود رکھتی تھی اور خلافت عثمانیہ کے دور میں اٹلی کے افراد نے اس کی قبر کیسے تلاش کی؟ اور سلطان محمد فاتح کو قبر کے عوض کتنی رقم کی افر کی گئی؟ اور یہ کہ سلطان محمد فاتح نے کیا جواب دیا؟ اج کی زیر نظر ویڈیو میڈوسہ نامی دیو مالائی کردار کے گرد گھومتی ہے جس کی پراسرارریت اج بھی اٹلی روم اور دیگر علاقوں میں بدستور موجود ہے اس کردار کی حقیقت جاننے کے لیے ویڈیو سکپ کیے بغیر اخر تک ضرور دیکھیے گا تو ائیے چل کر موضوع کا باقاعدہ اغاز کرتے ہیں معزز خواتین و حضرات میڈوسہ قدیم یونان کے افسانوں کی غیر معمولی شخصیات میں سے ایک ہے جو اپنے سانپ جیسے بالوں اور پراسرار نگاہوں کی وجہ سے مشہور تھی اور کوئی ادم ذات اس کو قتل نہیں کر سکتا تھا اس لیے جیسے ہی کسی کی نظر اس کی شکل پر پڑتی وہ ادمی پتھر کا ہو جاتا اس کردار کو ایک افسانوی کردار مانا جاتا ہے جس کی سچائی کا علم کسی کو بھی نہیں ہے لیکن جہاں اللہ تعالی نے حیران کن اور دیو ہیکل مخلوقات تخلیق فرمائی ہیں وہیں ممکن ہے کہ کوئی ایسا کردار تاریخ میں موجود ہو اور بیشتر انسان اس کردار کو دیو مالائی تصور کرتے ہو دنیا میں کئی افراد تو ایسے بھی ہیں جو جنات پر بھی یقین نہیں رکھتے اس کے علاوہ ادھا سانپ اور ادھی عورت کے جسم والا ایک افسانوی کردار شاہ ماران کا بھی ہے جسے حقیقی تسلیم کیا جاتا ہے سننے میں یہ قصے کہانیوں والی بات لگتی ہے لیکن دنیا کے کئی حصوں میں اس کردار کو دیکھے جانے کی گواہیاں سامنے اتی ہیں چین میں لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی انکھوں سے شاماران نامی مخلوق دیکھی ہے اب ان تمام باتوں میں کتنی سچائی ہے اس کا علم تو اللہ تعالی کی پاک ذات کو ہی ہے لیکن خلافت عثمانیہ کے دور میں کچھ ایسے واقعات سامنے ائے جن میں ایک حیران کن مخلوق کا تذکرہ ملتا ہے اس کو تفصیل سے جاننے اور سمجھنے کے لیے ہمیں سال 1456 میں جانا ہو گا دوستو یہ بات ہے 1456 کی جب اٹلی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اس وقت کے سلطان محمد فاتح سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اس ملاقات کے لیے انہوں نے وہاں موجود سفیروں کو قیمتی تحائف بھی دیے تاکہ سلطان سے ان کی ملاقات کروائی جا سکے لیکن سلطان محمد فاتح نے ان کے بے حد اصرار کے باوجود ان سے ملنے سے انکار کر دیا لیکن سلطان کے انکار کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ لوگ سلطان سے ڈائریکٹ تو نہیں مگر انڈائریکٹ ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئے
[2:53]اس ملاقات کے پیچھے کہانی انتہائی دلچسپ تھی اٹلی کا یہ وفد استنبول میں موجود زیر زمین قدیم تالاب کے ایک سلسلے جس کا نام بسیکا سسٹین بتایا جاتا ہے تک جانا چاہتا تھا اور ان کے خیال میں وہاں قدیم زمانے سے ہی خزانے موجود تھے لیکن اس وقت وہاں موجود حکومت مسلمانوں کی تھی اور اٹلی کا یہ وفد سلطان محمد فاتح کی اجازت کے بغیر ان خزانوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا اس لیے انہوں نے وزیراعظم کے ذریعے سلطان محمد فاتح کو ایک بار پھر پیغام بھجوایا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں سلطان محمد فاتح جو سیاست کے میدان کے ماہر تھے انہوں نے ان سے ملاقات کرنے کی حامی بھر لی اور اس ملاقات میں انہوں نے سلطان کو بتایا کہ بسیکا سسٹین میں بے شمار خزانے موجود ہیں جن کی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے انہوں نے سلطان کو کہا کہ ہمیں ان تمام خزانوں سے کوئی سروکار نہیں ہے لیکن وہاں پتھر کی ایک ایسی قبر موجود ہے جو وہاں موجود تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہے دراصل یہی میڈوسہ کی قبر تھی اور اٹلی کا وفد اس قبر کے ساتھ ساتھ میڈوسہ کی لاش کو بھی حاصل کرنا چاہتا تھا مگر وہ یہ کام سلطان محمد فاتح کی اجازت کے بنا نہیں کر سکتے تھے ناظرین گرامی سلطان محمد فاتح سے ملاقات کرنے والے اٹیلین وفد کا خیال تھا کہ میڈوسہ حقیقت میں وجود رکھتی تھی جس کے جسم کو ممی کی شکل میں تالاب کے بیچوں بیچ کہیں محفوظ رکھا گیا تھا انہوں نے سلطان محمد فاتح کو میڈوسہ کی اس لاش کے بدلے اربوں روپے دینے کی افر کی مگر سلطان نے انتہائی غصے میں ان کی افر ٹھکرا دی پیارے ساتھیوں تاریخی کتب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سلطان محمد سے ملنے والے اٹیلین افراد بت پرست تھے اور سلطان محمد فاتح بت پرستی سے شدید نفرت کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اٹیلین وفد کے اربوں روپے اسی نفرت پر وار کر پھینک دیے دوسری جانب سلطان محمد فاتح نے استنبول کے زیر زمین خزانوں کی سیکیورٹی مزید بڑھا دی تاکہ کوئی بھی وہاں تک پہنچ نہ پائے اور ساتھ ساتھ اس پتھر سے بنی قبر کو بھی وہاں سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا اور اس کاروائی کو خفیہ رکھا یہاں تک کہ سالوں بعد اس کا علم خلافت عثمانیہ کے اخری باسر بادشاہ سلطان عبدالحمید کو ہوا سلطان عبدالحمید جن کے بارے میں مشہور تھا کہ انہیں پراسرار اور دلچسپ کہانیوں کا شوق تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مشہور زمانہ شرلک ہومز کے ناولوں کو بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے اور انہوں نے ان کے تمام ناولز ترکش زبان میں ترجمہ کروا کر اپنی لائبریری میں رکھے ہوئے تھے سلطان کے اس شوق کا علم اٹلی کے افراد کو ہوا تو ایک بار پھر سے میڈوسہ کی لاش حاصل کرنے کے لیے اٹلی کی حکومت نے تگ و دو شروع کر دی وہ لوگ جو پہلے سلطان محمد فاتح کے پاس میڈوسہ کی لاش کو لینے کے لیے ائے تھے انہی لوگوں کی تنظیم نے ایک بار پھر سلطان عبدالحمید سے رابطہ کیا جن سے بات چیت اور تفتیش کرنے کے بعد سلطان عبدالحمید سمجھ گئے کہ یہ لوگ مشہور شیطانی تنظیم فری میسن سے تعلق رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سلطان محمد فاتح کی طرح سلطان عبدالحمید نے بھی اٹیلین افراد کو کلین چٹ دیتے ہوئے رخصت کر دیا اور میڈوسہ کی لاش یا اس کی قبر تک رسائی نہیں دی معزز خواتین و حضرات جب سارا معاملہ سلطان عبدالحمید کے علم میں ایا تو حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں سلطان نے خود اس معاملے کی تہ تک پہنچنے کا ارادہ کیا اس لیے سلطان عبدالحمید نے اپنے سب سے قابل انٹیلیجنس افیسرز کو منتخب کیا اور اس پراسرار قبر کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے متعلق دعوی تھا کہ یہ قبر میڈوسہ کی ہے جب اس قبر کو کھول کر دیکھا گیا تو وہاں موجود ہر انسان حیرت زدہ رہ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ کی شکل والی مخلوق ممی کی صورت میں رکھی گئی تھی جس کا زیادہ تر حصہ سڑ چکا تھا سلطان عبدالحمید نے وہاں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ اس بات کو انتہائی خفیہ رکھا جائے کیونکہ اگر یہ بات لوگوں تک پہنچ گئی تو ان کے درمیان اس حوالے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں لیکن سلطان کے علاوہ فری میسن بھی یہ بات جانتے تھے کہ میڈوسہ کی لاش استنبول میں موجود ہے وہ ہر ممکن کوشش میں تھے کہ اس لاش کو کسی طریقے سے حاصل کر لیا جائے اس لیے جب سلطان عبدالحمید کو ایسا لگا کہ یہ لوگ اس راز کو فاش کرنے والے ہیں تو سلطان نے ایک ترکیب لڑائی اور اس قبر کو عام عوام کے سامنے رکھا لیکن اسے کھولنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے کھولا گیا تو اس پر روشنی پڑتے ہی اس کے اندر موجود چیز ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ایسے تاریخی ورثے کو ضائع ہونے دیا جائے وہاں موجود افراد نے اس معاملے کو تحریری صورت میں محفوظ کر لیا یوں میڈوسہ کی لاش اٹلی تک نہ پہنچ سکی اج یہ پتھر کی قبر ترکی میں بل افناری عیسی کے مقبرے کے قریب موجود ہے لیکن اج یہ اندر سے بالکل خالی ہے کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ سلطان عبدالحمید نے اس قبر میں موجود میڈوسہ کی لاش کو نکال کر کسی اور جگہ رکھا تھا جس کا علم کسی کو بھی نہیں ہے جبکہ کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ میڈوسہ کی لاش کو اسی تنظیم فری میسن کے لوگ نکال کر اپنے ساتھ لے گئے اور یہی وجہ ہے کہ شیطانی تنظیم فری میسن کی بنیاد رکھنے والے شہر ویٹیکن کی عمارتوں پر اس مخلوق کی تصاویر بنائی گئی ہیں ناظرین اخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک سانپ خود کو انسان کی شکل میں تبدیل کر سکتا ہو اس بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اج کل جن لوگوں کا دنیا پر کنٹرول ہے وہ لوگ بھی اج سانپ بنے ہوئے ہیں جن کا کام لوگوں کو دھوکے میں رکھ کر اپنا شیطانی مشن مکمل کرنا ہے یعنی یہ لوگ بھی ادھے سانپ اور ادھے انسان کی شکل میں موجود ہیں جی تو معزز دوستوں اج کی ویڈیو میں بس اتنا ہی ویڈیو کیسی لگی کمنٹ کر کے ہمیں ضرور بتائیے گا اور اگر واقعی ویڈیو اچھی لگی ہے تو اسے لائک کرتے ہوئے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ شیئر ضرور کیجیے گا انشاءاللہ اپ سے ملاقات ہوتی ہے اگلی ویڈیو میں تب تک اپنا اور اپنے پیاروں کا ڈھیر سارا خیال رکھیے گا اللہ نگہبان



