Thumbnail for Umar ibn al Khattab (Ra) | Biography, Achievements, & Death | Molana Tariq Jameel Bayan by AJ Official

Umar ibn al Khattab (Ra) | Biography, Achievements, & Death | Molana Tariq Jameel Bayan

AJ Official

16m 42s2,594 words~13 min read
Auto-Generated

[0:11]کیا ماؤں نے لال جنے تھے؟ کیا دھرتی نے انسان دیکھے تھے؟ آج تک دنیا ایسا بادشاہ نہ دکھا سکی۔

[0:20]جو 22 لاکھ مربع میل پہ حکومت کر کے مسجد میں جھاڑو دے رہا ہو۔ جو 22 لاکھ مربع میل پر حکومت کر کے پانی کی مشک کندھے پہ اٹھا کے بیوہ عورتوں کے گھر میں گھڑوں میں پانی بھرنے جا رہا ہو۔ امیرالمومنین کہاں جا رہے ہو؟ فلاں اماں کے گھڑے میں پانی بھرنے جا رہا ہوں۔ فلاں کے گھر میں پانی بھرنے جا رہا ہوں، 22 لاکھ مربع میل پہ حکومت کر کے دھرتی نے ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جو اونٹ چراتا پھر رہا ہو۔ اور جو بیت المال کا اونٹ گم ہوا چھولے کو باندھا اور دوڑ لگائی۔ آگے انس بن قیس ملے۔ ارے کہاں جا رہے ہو امیرالمومنین؟ کہا تو بھی آ جا، بیت المال کا اونٹ گم ہو گیا ہے مل کے تلاش کریں، پتہ نہیں کتنے مسلمانوں کا اس میں حصہ ہے۔ دھرتی ایسا بادشاہ نہ دکھا سکے گی نہ دکھا سکے گی۔ کوئی ایسا آیا ہی نہیں ہے کہ جو اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہو۔ اور کیکر کے درخت کے نیچے بغیر پہروں کے سو رہا ہو۔ یہ ہمارے چھوٹے چھوٹے حکمران ووٹوں کے ذریعے سے کرسیوں پر بیٹھنے والے ان بیوقوفوں کے آگے بھی پہرے، پیچھے بھی پہرے، دائیں بھی پہرے، بائیں بھی پہرے اوپر بھی پہرے، ان کی گاڑیاں بھی بلٹ پروف، یہ پھر بھی ڈرتے ڈرتے جا رہے۔ کہ انہوں نے ظلم کیا۔ یہ اپنی ذات میں خوف زدہ ہو گئے۔ عمر نے اپنے نام کے ساتھ فاروق کا لقب، لقب آپ نے کہا عمر عمر فرق بین الحق والباطل، عمر وہ عمر ہے جس نے حق اور باطل میں فرق کر کے دکھا دیا۔ اس لیے یہ فاروق ہے جس نے حق اور باطل میں فرق کر کے دکھایا۔ یہ فاروق ہے۔ حسن بصری فرمایا کرتے تھے اپنی محفلوں کو عمر کے ذکر سے سجاؤ۔ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں عمر کے تذکرے کیا کرو کہ جب عمر کا تذکرہ ہوتا ہے تو عدل کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جب عدل کا تذکرہ ہوتا ہے تو اللہ کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ام عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمایا کرتی تھیں۔ اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں جانے والے مجاہدین کے گھر گیا کھڑا ہوا ہے۔ دروازے پہ دستک دے رہا ہے۔ بیٹی کوئی بازار سے سودا لینا ہو تو مجھے بتاؤ۔ تیرے گھر والا تو اللہ کی راہ میں ہے۔ میں تمہارے گھر کا سودا لے آؤں۔ کیا کیا چیز چاہیے؟ تم نے اپنے خاوند کو خط لکھنا ہوگا۔ تم تو لکھنا نہیں جانتی۔ مجھے بتاؤ میں تیرے خاوند کو تیری طرف سے خط لکھوں۔ اماں تیرا بیٹا اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہے مجھے بتا میں تیرے بیٹے کے نام تیری طرف سے خط لکھوں۔ اتنی بڑی جس کے سامنے قیصر اور قسری زیر و زبر ہو گئے، کج کلا وہ زمین میں جا کے تحت خاک میں وہ سارے ہیرے لال جواہر وہ زمین میں لوٹ پوٹ کرنے والا کسریٰ کے تخت کو توڑنے والا اور روم کی طاقت کو توڑنے والا آل ساساں کی طاقت کو توڑنے والا اور نوشیرواں کے خزانے مدینے میں لانے والا اور خسرو پرویز کے خزانے مدینے میں لانے والا۔ اور رومتہ الکبریٰ کے خزانے مدینے میں لانے والا خود اپنے اپنے کڑتے میں 14 پیوند لے کے چل رہا ہے۔

[3:49]14 پیوند کے ساتھ کرتا ہے۔ مہینے میں ایک دن گوشت کھاتے تھے۔ وہ روٹی کھاتے تھے کہ عام آدمی حلق کے نیچے نہیں لے جا سکتا تھا۔ ہائے ہائے سال کی ابتدا اس شخص کی شہادت سے ہوتی ہے۔ جس کو اللہ نے وہ عزت دی۔ آپ نے کہا میرے دو وزیر آسمان میں دو وزیر زمین میں۔ آسمان پہ جبرائیل اور میکائیل میرے وزیر ہیں۔ زمین پر ابوبکر اور عمر میرے وزیر ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے ابوبکر، عمر اگر کسی بات پہ جمع ہو جائیں تو میں ان کے مشورے کے خلاف کبھی نہ کروں گا۔ ابوبکر تیری مثال ابراہیم کی ہے۔ عمر تیری مثال نوح علیہ السلام کی ہے۔ ابوبکر تیری مثال عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ عمر تیری مثال موسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ آپ مسجد میں آئے۔ آپ کے دائیں طرف ابوبکر تھے بائیں طرف عمر تھے۔ آپ اندر آئے اور کہا دیکھو اسی طرح قیامت کے دن ہم اٹھیں گے۔ کہ میرے دائیں طرف ابوبکر ہوگا میرے بائیں طرف عمر ہوگا۔ اور ہم ہاتھوں میں ہاتھ لیے ہوئے اٹھائے جائیں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے اور میرے قدموں سے بلال کو اٹھایا جائے گا۔ جو نکلتے ہی اذان دے گا۔

[5:14]جس کے اسلام لانے نے اسلام کو اونچا کیا۔ جس کے اسلام لانے نے باطل کو پست کیا۔ جن راہوں سے عمر گزر جائے شیطان وہ راہیں چھوڑ دیتا تھا۔ عرفات کا میدان تھا۔ سوا لاکھ مقدس ہستیاں سامنے ہیں۔ میرے نبی نے فرمایا اس وقت میرا اللہ میرے سب صحابہ پہ فخر کر رہا ہے اور عمر بن خطاب پہ خاص طور پہ فخر کر رہا ہے۔ خاص طور پہ فخر ہو رہا ہے۔ عمر بن خطاب پہ خاص طور پہ فخر ہو رہا ہے۔ میرے بعد کوئی نبی ہوتا عمر ہوتا عمر میں نے رات جنت میں محل دیکھا۔ ایک اینٹ موتی کی ایک یاقوت کی ایک زمرد کی میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا گیا ایک قریشی کا ہے۔ میں کہا میں قریشی ہوں اتنا خوبصورت محل ہے۔ میرا ہی ہو گا۔ جب جانے لگا تو فرشتے نے کہا یہ آپ کے غلام عمر بن خطاب کا ہے۔ وہ کیا مبارک لوگ ہیں۔ کہ جنہیں نبی کے گھر میں قبر نصیب ہو۔ ایک طرف ایک ساتھی ایک طرف دوسرا ساتھی جن کو نبی کے دو پہلوؤں میں جگہ ملی ہو۔ وہ کیسے عظیم وہ کیسی عظیم ہستیاں اتنی بڑی سلطنت کا مالک اور اتنے بڑے عدل کی نشانی بن کر مدینے میں مسجد میں بیٹھے رو رہے ہیں۔ امیرالمومنین کیوں رو رہے ہو؟ کہا کہا دجلہ کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا۔ تو پوچھ تو عمر کی ہو گی۔ فرات کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا۔ تو پوچھ تو عمر کی ہو گی۔ راتوں کو پہرے دیے جا رہے۔ راتوں کو خبر گیری کی جا رہی ہے۔ مدینے کے باہر ایک خیمہ ملتا ہے۔ چند بچے ملتے ہیں جو رو رہے ہیں ایک عورت ہانڈی چڑھا کے دوئی پھیر رہی ہے۔ پوچھتے ہیں بہن یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ کہا یہ بھوک سے رو رہے ہیں۔ ہانڈی میں کیا ہے؟ پانی کچھ بھی نہیں۔ کیوں چڑھایا ہوا ہے؟ بہلانے کے لیے سو جائیں گے روتے روتے۔ میرا اور عمر کا اللہ کے ہاں فیصلہ ہوگا۔ تو عمر کی ہچکیاں بند گئیں۔ کہا عمر کو بہن تیرے حال کی کیا خبر؟ کہا پھر ہمارا بادشاہ کیوں بنا ہے۔ اگر ہمارے حال کی خبر نہیں لیتا تو ہمارا خلیفہ کیوں بنا ہے۔ پر لگ گئے۔ بیت المال سے سامان نکالا بوری بھری سر پہ اٹھائی کمر پہ اٹھائی۔ غلام اسلم نے کہا میں اٹھاؤں۔ کہا قیامت کے دن بھی میرا وزن تو اٹھائے گا۔ اسی طرح بھاگے ہوئے آئے۔ پنیر نکالا آٹا نکالا، گھی نکالا، شہد نکالا۔ ڈال کر ہانڈی میں نیچے آگ خود دھواں گیلی لکڑیوں میں پھونکیں مار مار مار آگ جلائی۔ حلوہ تیار کیا۔ پھر پلیٹوں میں ڈال ڈال کے بچوں کو کھلایا۔ وہ عورت کہنے لگی کاش عمر کی بجائے تو خلیفہ ہوتا۔ تو یہ نہیں کہا کہ میں ہی عمر ہوں۔ میں ہی عمر ہوں۔ فرمایا جب کل تو امیرالمومنین سے ملے گی تو مجھے بھی وہیں دیکھ لے گی۔ مجھے بھی وہیں پا لے گی۔ پھر وہاں بیٹھ کے دیکھتے رہے۔ اٹھ کے چل دیے بچے ہنسنے لگے۔ کھیلنے لگے کہا اپنے غلام سے فرمایا میں نے انہیں روتا دیکھا تھا۔ میرا جی چاہا میں نے ہنستا بھی دیکھوں۔ 22 لاکھ مربع میل پہ اسلام پھیلا کر حکومت اس سے بھی بڑے علاقے میں لوگوں نے کی۔ چنگیز نے اس سے زیادہ فتوحات کی۔ محمود غزنوی نے اس سے زیادہ کی۔ سکندر تیمور نے اس سے زیادہ کی۔ پر فتوحات کر کے یوں خدمت کر رہا ہو۔ پانی بھر رہا ہو۔ اونٹ چرا رہا ہو۔ امامت کرا رہا ہو۔ 14 پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ خلافت کے تخت پر بیٹھا ہوا ہو۔ یہ دھرتی میں پھر کوئی نہیں آئے گا۔ ہائے ہائے نماز میں خنجر لگا نماز پڑھاتے ہوئے 27 ذوالحج 27، 28، 29 یکم کو انتقال ہوا۔ یکم محرم موت کے آثار گہرے نظر آئے۔ بیٹے کو بلایا کہا بیٹا جاؤ اماں عائشہ سے پوچھ کے آؤ کہ عمر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے۔ امیرالمومنین کے لقب سے بات نہ کرنا عمر کہنا عمر اب میں امیرالمومنین نہیں رہا۔ جب وہ پوچھنے گئے تو حضرت عائشہ رو رہی تھیں۔ انہوں نے عرض کی اے اماں جان میرا باپ عمر بن خطاب دروازے پہ حاضر ہو چکا ہے۔ اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے رکھی تھی۔ لیکن اگر عمر چاہتے ہیں تو ان کو مجھ پر فضیلت ہے۔ میں ان کے لیے دستبردار ہوں۔ انہوں نے واپس آ کر خوشخبری سنائی مبارک ہو۔ اجازت مل گئی۔ کہا نہیں شاید میرے شرم میں اجازت دی ہو۔ جب مر جاؤں تو مجھے دوبارہ دروازے کے سامنے رکھ کر پھر جا کے پوچھنا اس وقت اجازت ملے تو پھر لے جانا ورنہ مجھے بقی کی طرف لوٹا دینا۔ اتنے میں حضرت علی آئے۔ پریشان دیکھا۔ عمر کیوں؟ موت سے ڈر گئے۔ کہا نہیں موت کے بعد کی گھاٹی سے ڈر رہا ہوں۔ کہا ڈرو نہیں۔ میرے ان کانوں نے سنا ہے اور اتنی دفعہ سنا ہے کہ میں گن نہیں سکتا کہ اللہ کے نبی فرمایا کرتے تھے ابوبکر اور عمر جنت کے بڑی عمر کے لوگوں کے سردار ہیں۔ آپ نے فرمایا تو میری تو اس بات کی گواہی دے گا؟ کہا میں بھی دوں گا میرا بیٹا حسن بھی دے گا۔ امام حسن بھی ساتھ تھے۔ کہا میں بھی دوں گا میرا بیٹا حسن بھی گواہی دے گا۔ پھر بھی پھر بھی پھر بھی ہائے ہائے جو جنت کی بشارتیں لیے ہوئے ہیں۔ عشرہ مبشرہ ابوبکر جنتی، عمر جنتی، عثمان جنتی، علی جنتی، طلحہ جنتی، زبیر جنتی، ابو عبدالرحمن بن عوف جنتی، ابو عبیدہ بن جراح جنتی، سعید بن زید جنتی۔ آپ نے نام لے کر گنے نام لے کر گن کر کہا سنو ابوبکر جنتی ہے، عمر جنتی ہے، عثمان جنتی ہے، علی جنتی ہے، طلحہ جنتی ہے، زبیر جنتی ہے، سعد بن ابی وقاص جنتی ہے، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے، ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہے، سعید بن زید جنتی ہے۔

[11:38]میں ان سے راضی ہوں۔ لوگو ان کا حق پہچانو میں ان سے راضی ہوں۔ میں ان سے راضی ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا اگر اگر اگر تم نے ان کے بارے میں کسی ایک کے بارے میں بھی دل میں بغض لے کر مر گئے۔ اور تم نے اتنی بندگی کی تھی کہ سوکھ کے کانٹا ہو گئے تھے۔ روزے اتنے رکھے تھے کہ پیٹ کمر کو لگ گیا تھا۔ سجدے اتنے کیے تھے کہ تمہارے ماتھے اور گھٹنوں پر پتھروں جیسے نشان پڑ گئے تھے۔ اتنا کچھ کر کے ان دس میں سے کسی ایک کا بغض لے کر اگر تم مر گئے۔ تو اللہ تمہیں منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔ لوگو میں ان سے راضی ہوں ان کا حق پہچانو۔ جن کو اللہ بھی رضا کے پروانے دے رہا ہو۔ جن کو اللہ کا رسول رضا کے پروانے دے رہا ہو۔ جن کو وزارت کا شرف مل چکا ہو نبی کے پہلو میں قبر جن کی بننے کا اعلان ہو چکا ہو۔ وہ موت پر کیا کہہ رہا ہے؟ موت پہ کیا کہہ رہا ہے؟ اپنے بیٹے سے کہا میرا سر زمین پہ ڈال دے۔ ان کی گود میں سر تھا عبداللہ بن عمر تو انہوں نے گود سے ہٹا کر پنڈلی پہ رکھ لو یہاں رکھ لی۔ کہنے لگے کیا کہہ رہا ہوں؟ کیا کہہ رہا ہوں؟ سنتے نہیں ہو؟ زمین پہ ڈال دو۔ تو نے زمین پر ڈالا تو اپنے چہرے کو مٹی میں رکھ دیا۔ اور ایسے ملنے لگے اور کہنے لگے اے میرے رب اگر تو نے عمر کو معاف نہ کیا تو عمر ہلاک ہو جائے۔ ویل لک یا عمر ول امک ان لم یغفر لک ربک عمر تیری ہلاکت ہے اگر تیرے رب نے تجھے معاف نہ کیا۔ یہ کہتے کہتے کہتے جان دے دی۔ 22 لاکھ مربع میل میں اسلام کو زندہ کرنے والا عین حالت نماز میں زخم کھا کے گرنے والا۔ مطلوب مطلوب مصطفیٰ، وزیر مصطفیٰ، جنت کی خوشخبریاں لے کر پھر موت پر یوں کہہ رہا ہو اے اللہ تو نے معاف نہ کیا تو میرا کیا بنے گا۔ کیا بے طلبی ہے ان کے بیٹے خلافت کے اہل ان کے بہنوئی سعید بن زید عشرہ مبشرہ میں سے دونوں کے نام کاٹ دیے۔ کہا یہ چھ ہیں۔ جن سے اللہ کا رسول راضی تھا۔ جس کو چاہو خلیفہ بنا دو۔ یہ اس کو چاہو حکومت دے دو۔ نہ میرے بیٹے کو ملے گی نہ سعید بن زید کو ملے گی۔ کسی نے کہا شوشہ چھوڑا آپ کا بیٹا بھی تو بہت قابل ہے۔ اسی کو بنا دیں۔ تو اسے تو طلاق دینا نہیں آتا حکومت کہاں سے چلائے گا؟ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کے پیچھے کوئی واقعہ ہے جس کو انہوں نے یاد کر کے فرمایا وہ تو طلاق دینا نہیں جانتا وہ حکومت کیا چلائے گا۔ حالانکہ بڑے صحابہ میں عبداللہ بن عمر کا مقام ہے۔ ہائے ہائے جنازہ سید رومی نے پڑھایا۔ دروازے کے سامنے لا کے رکھ دیا گیا۔ سب لوگ جنازے کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ عبداللہ بن عمر اکیلے آگے گئے۔ دروازے پر دستک دی۔ کہا اماں جان میرا باپ عمر بن خطاب دروازے پہ حاضر ہو چکا ہے۔ اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی چادر کو اٹھایا اور روتے ہوئے باہر نکل گئیں۔ پھر لوگ اندر داخل ہوئے۔ قبر کھودی گئیں۔ قبر کھودتے ہوئے عبداللہ بن عباس بھی قبر کے کھودنے میں شریک تھے۔ تو کہتے میرے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھا۔ میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو علی رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے رو رہے تھے اور فرما رہے تھے مجھے پتہ تھا۔ تو یہیں آئے گا۔

[15:10]یہاں تیرے سوا کوئی نہیں آ سکتا کہ میں نے ایک دفعہ نہیں کتنی دفعہ کتنی دفعہ کتنی دفعہ میں نے اللہ کے نبی سے یہ بات کا تکرار سنا۔ میں ابوبکر اور عمر میں ابوبکر اور عمر اس کا اتنا تکرار سنا ہے میں نے کہ مجھے یقین تھا یہیں آئے گا۔ تو اور کہیں نہیں جا سکتا۔ میرے بھائیو، میرے بھائیو، غفلت سے باہر آ جائیں غفلت سے باہر آ جائیں غفلت سے باہر آ جائیں۔ یہ دھوکے کا گھر یہ مچھر کا پر یہ مکڑی کا جالا یہ دنیا کہیں ہمیں ہلاک نہ کر دے کہیں ہلاک نہ کر دے۔ ان لوگوں کو سامنے رکھ کے زندگی گزارو جنہوں نے اللہ کو راضی کیا اس کے رسول کو راضی کیا کلمہ حق کو بلند کیا۔ خیر کے ذریعہ بنے۔ شر کو مٹانے والے بنے۔ اور دنیا میں مرنے کے بعد بھی ان کے تذکرے ہدایت کا سامان بنے ان کے تذکرے روشنی کا مینار بنے ان کے پیچھے چلو مغرب کے اندھیروں کی طرف مت دوڑو وہاں تو سورج بھی ڈوب جاتا ہے۔ مغرب میں تو سورج بھی ڈوب جاتا ہے۔ اور تو نے پکار پکار کے کہتا ہے مغرب کی طرف نہ آنا ادھر اندھیرا ہے۔ میں یہاں گم ہو گیا تم کون سا سراغ ڈھونڈنے آئے ہو۔ دوڑو دوڑو اللہ اس کے رسول کی پاک زندگی کی طرف۔ اس کے پاک صحابہ کی زندگی کی طرف جن کو اللہ نے مرنے سے پہلے جنت ہاتھ میں دے دی۔ جنت کی بشارت دے دی۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript