[0:00]دنیا بھر سے مسلمان اپنی جان اور مال خرچ کر کے عرفات کے میدان میں پہنچیں گے انشاء اللہ تعالی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حج کیوں کرنا ہے؟ حج کیوں فرض ہے؟ یہ وجہ جاننا بہت ضروری ہے۔ یعنی کیا وجہ ہے کہ اس زمانے میں اسپیشلی اب جو زمانہ آ گیا ہے جس میں بہت زیادہ آپا دھاپی ہے، کم کمائی کی فکر ہے، ہر وقت کمانا ہے، ہر وقت ضروریات پوری کرنی ہے، اس میں آپ اپنا اچھا خاصا پیسہ خرچ کر کے اپنے کاروبار سے یا دفتروں سے چھٹی لے کے بچوں کو پیچھے چھوڑ کے آپ حج پر جاتے ہیں۔ وائے؟ یہ وجہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اس کا ایک پس منظر ہے۔ وہ پس منظر میں اپ کو قرآن کے تین جگہوں سے عیاں کروں گا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ حج کیوں فرض کیا گیا ہے۔ ہوا یہ کہ جب اللہ تعالی نے آدم کی تخلیق کی اور فرمایا فرشتوں کو اور جنوں کو شیطان جس کو ہم کہتے ہیں وہ جنوں میں سے ہے۔ تو فرشتوں اور جنوں کو اناؤنس کیا اللہ نے کہ میں یہ ایک مخلوق بنائی ہے حضرت انسان جس کو اپ کہتے ہیں آدم علیہ السلام اور اس کو میں نے فری ول دی ہے۔ اس فری ول پہ فرشتوں نے یہ ایک اظہار کیا کہ یہ تو خون ریزی کرے گا کیونکہ اس کے پاس اختیار ہے، اختیار پر تو خون ریزی کرے گا، دنگا فساد کرے گا، ریپ کرے گا، کرپشن کرے گا۔ تو اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو کچھ نام سکھائے وہ سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے قرآن کے ہی سیاق و سباق سے کہ چونکہ فرشتوں نے نام لیے ان لوگوں کے جو فساد کریں گے یعنی کہ وہ اظہار کیا تو اللہ پاک نے اسی کے عوض میں ان لوگوں کے نام بتائے جو اس فری ول کی بنیاد پہ جو خود مختار ہے انسان اس بنیاد پہ وہ اچھے عمل کریں گے۔ جس میں اللہ تعالی نے چار بڑے خوبصورت نام لیے ہیں سورہ نساء میں نبیین، صدیقین، صالحین اور شہدا اور صالحین۔ یعنی یہ وہ لوگ بھی ہیں جو اسی فری ول کو یوز کر کے لوگوں کے کام ائیں گے، بھلے انسان ہوں گے، لوگوں کی رہنمائی کریں گے۔ اس پر فرشتے جو ہیں تمام فرشتوں نے کو سمجھ آ گئی کہ اللہ کی بہت اچھی سکیم ہے۔ جس پر اللہ نے کہا کہ اب اپ آدم کو سجدہ کیجیے۔ تو اس میں سے بھرحال ابلیس نے نہیں کیا۔ جو جنوں میں سے تھا۔ تو اس پر میں ابلیس کے ساتھ جو واقعات ہوئے وہ قرآن کے تین جگہوں سے میں اس کو آپ کو پڑھ کے سناؤں گا۔ پہلا ریفرنس ہے سورہ اعراف اور اس کی آیات ہیں 16 سے 18۔ میں صرف ترجمہ پڑھوں گا وقت کے پیش نظر۔ دیکھیے اس میں اللہ پاک نے کیا فرمایا جب یہ سارا واقعہ ہوا تو اللہ فرماتے ہیں اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم تو جب اس نے مہلت مانگی شیطان نے جب اللہ نے کہا کہ اپ میرے بارگاہ میرے دربار سے نکل جائیں اور اپ ذلیل ہو کر رہیں۔ تو اس نے کہا مجھے اپ ایک مہلت دیجیے کہ میں اس کی وجہ سے جس کی وجہ سے تو نے مجھے گمراہ کیا۔ میں مجھے موقع دے کہ میں ان کو گمراہ کر سکوں، مجھے مہلت دیجیے۔ جو اللہ پاک نے فرمایا تو مہلت دے تو مہلت تو مہلت دے دی گئی چونکہ تو نے مجھے گمراہ میں ڈالا ہے اس وجہ سے شیطان کہتا ہے میں تیری سیدھی راہ پر ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا۔ میں تیری سیدھی راہ میں ان کے لیے ایمبش میں بیٹھوں گا، گھات میں بیٹھوں گا۔ سیدھی راہ اللہ کی سیدھی راہ فقط توحید کی راہ ہے۔ یکسویی حنیف جس کو اپ کہتے ہیں ایک اللہ کی پرستش کرنے والا وہ جو سیدھا راستہ اللہ اللہ کا شیطان نے کہا یا اللہ میں تیری اس سیدھی راہ پر بیٹھوں گا اور ان تمام انسانوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر پگڈنڈیوں پہ ڈالوں گا۔ تو اللہ تو شیطان کہتا ہے اس وجہ سے میں تیری سیدھی راہ پر ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا۔ پھر میں ان کے آگے ان کے پیچھے ان کے دہنے اور ان کے بائیں سے ان پر تخت کروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ تو اللہ پاک نے فرمایا تو یہاں سے نکل خوار اور اندھا ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ شیطان سمیت سب کو جہنم سے بھر دوں گا۔ یہ ایک چیلنج تھا شیطان کا تو اس نے اللہ سے مہلت مانگی اللہ نے مہلت دے دی۔ یہ بہت امپورٹنٹ اسپیکٹ ہے۔ اسی طرح سورہ سورہ بنی اسرائیل ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ پاک نے ایک بڑی خوبصورت بات کی اللہ نے کہا کہ یہی واقعہ پھر بیان ہوا آدم اور حوا کا اور ابلیس کا اور فرشتوں کا تو اس میں ایک اور اسپیکٹ ہے۔ تو اللہ نے کہا کہ اور ان میں سے جن پر تیرا بس چلے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنے ہوس سے گھبرا لے۔ ان پر اپنے سوار اور پیدل چڑھا لے، چڑھا لا مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدے کر لے۔ دس از کوائٹ بریلیئنٹ یعنی اللہ نے ہم کو بتا دیا ہے کہ اپ شیطان کو یہ مہلت دی کہ اپ اپنے پروپیگنڈا سے اپنے نریٹو سے اپنے ساتھیوں سے مل کے ان پر اٹیک کر لیں اور ان کو ان کے کاروبار میں ان کی اولاد میں یہ یعنی انسان کرپشن کرتا ہے نا کس لیے کہ میری پشتیں سنور جائیں۔ تو لہذا اپ یہ کر لیجیے اللہ نے ان کو کہا شیطان کو کہا۔ اور پھر اللہ نے ایک اور بات کہی اور شیطان ان سے محض دھوکے ہی کے وعدے کرتا ہے۔ بیشک میرے اپنے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ یہ اللہ نے یہ بھی ساتھ کہہ دیا کہ میرے جو بندے ہوں گے جو میرے کون سے بندے جو اللہ کا تقوی اختیار کرنا چاہیں گے، جو اللہ کی حدود میں رہنا چاہیں گے۔ جو راضی رہیں گے کہ میں اللہ کی حدود کی پاسداری کروں جن چیزوں کا کرنے کا اللہ نے حکم دیا میں وہ کرنے کے لیے راضی ہوں جن چیزوں سے اللہ نے مجھے روکا ہے میں اس سے روکنے کے لیے راضی ہوں۔ اگر مجھ سے غلط کام ہو بھی جائے یہ ہو جاتا ہے مجھ سے ہو جاتا ہے تو میں توبہ کر کے یو ٹرن کر کے اللہ کی حدود میں واپس ا جاؤں۔ سو اللہ نے فرمایا بیشک میرے اپنے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہے۔ اچھا ایک تیسرا مقام ہے۔ سورہ طہ میں میں اب اپ کو وجہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ حج کیوں کرنا ہے؟ کیوں فرض کہا گیا ہے؟ کیوں اتنی بڑی عبادت قرار دی گئی ہے۔ اس کا یہ بیک گراؤنڈ ہے۔ ایک تیسری جگہ پر جب اللہ تعالی نے ادم علیہ السلام کو کہا کہ اپ نے اس درخت کا پھل نہیں کھانا۔ باقی اپ مزے میں رہیے اور نہ ادھر سردی ہے نہ گرمی ہے جسٹ انجوائے یور لائف ڈونٹ کم نیر دس پرٹیکلر ٹری اور ڈونٹ ایٹ دا فروٹ اف دا فوربڈن ٹری۔ یہ ہے نا الفاظ تو اس پر شیطان نے اس کو ورغلایا جو شیطان کا کام ہے کہ سیدھی راہ پر بیٹھے گا ورغلائے گا۔ تو شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو ورغلایا۔ کہا کہ اے ادم کیا میں تمہیں زندگی دوام کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کوہنگی نہیں ائے گی، کوہنگی مینز بوڑھا پن پرانا پن نہیں ائے گا۔ یعنی شیطان نے کہا کیا میں تجھے ایسے درخت کا پھل چکھاؤں کہ جب تو وہ چکھے تو تو کبھی تو ہمیشہ زندہ رہے۔ تیرا نام ہمیشہ زندہ رہے۔ تو وہ بہک گئے حضرت حضرت آدم علیہ السلام بہک گئے۔ تو ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ کن دونوں نے؟ آدم اور حوا نے۔ تو ان کے ڈھانپنے کی چیزیں عریاں ہو گئیں، نوٹ فرمائیے ان کی ڈھانپنے کی چیزیں یعنی ان کے پرائیویٹ پارٹس ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے۔ اور وہ اپنے اوپر باغ کے پتے گانٹھنے گونٹھنے لگے یعنی باغ کے پتے یعنی جو درخت تھا گارڈن کے جو درخت ہے اس کے پتوں سے اپنے اپ کو وہ ڈھانپنے لگے۔ اور ادم نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی تو بھٹک گیا۔ یعنی شیطان کا وعدہ پورا ہوا۔ پھر اس کے رب نے اس کو نوازا یعنی ادم کو اس کے رب نے بھٹک گیا لیکن نواز دیا اس کو بخش دیا۔ اور اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشی۔ حکم ہوا کہ تم سب یہاں سے اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ پس اگر تمہارے پاس میری ہدایت ائے اگر تمہارے پاس میری ہدایت ائے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ محروم رہے گا۔ اور جو میری یاد دہانی سے اعراض کرے گا یعنی یاد دہانی میرے قرآن سے میرے ریمائنڈر سے جو اعراض کرے گا جو اس کو اپنے پیچھے رکھے گا اس کو لفٹ نہیں کرائے گا اس کو ڈیو شیئر نہیں دے گا۔ تو اس کے لیے زندگی میں تنگ کر دوں گا۔ اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھا لیں گے۔ یہ بہرحال اگے پورا ایک چل رہا ہے۔ یعنی ایک ایسی زندگی جس میں سکون نہیں ہوگا۔ میں ایسی زندگی دوں گا جو میرے اس ریمائنڈر سے اپنے اپ کو الگ کرے گا۔ یہ تین میں نے آیات پڑھی ہیں قرآن کی ادم اور حوا کے سے ریلیٹڈ۔ ایک اس میں نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے۔ یہ اللہ پاک نے ہم کو قرآن میں ایز ا یاد دہانی بتا دی ہے کہ اس سے اپ نے بچ کر رہنا ہے۔ اگر بھٹکا بھی دے گا تو اپ نے توبہ کرنی ہے اور اللہ کی طرف دوبارہ پلٹنا ہے جس طرح ابراہیم آدم علیہ السلام پلٹے۔ اب حج کیا ہے۔ حج دراصل یہ بڑا امپورٹنٹ نقطہ ہے حج دراصل اسی شیطان کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے۔ میرا اس شیطان کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے۔ اسی لیے ہم ایک مجاہد کی طرح ایک سولجر کی طرح ہم اس کے خلاف جنگ کرنے اپنا مال خرچتے ہیں، اپنی جان خرچتے ہیں اور عرفات کے میدان میں ا جاتے ہیں اس جنگ کے لیے۔ اس جنگ کی تمثیل کیسی ہے۔ اس کی تمثیل بڑی دلچسپ ہے کہ اپ پہلے منا کے احرام باندھتے ہیں گویا کہ وہ اپ کا لباس ہے۔ اپ نے اپنے اپ کو دنیا کی لذتوں سے لگژریز سے کٹ اف کیا خالص اللہ کے لیے اپ اپنے گھر سے نکلے اور سب سے پہلے منا میں اپ نے پڑاؤ کیا۔ منا کو اج بھی ہم ٹینٹ سٹی کہتے ہیں خیموں والا خیمے لگے ہوتے ہیں۔ وہ خیمہ کیا چیز ہے وہ خیمہ دراصل وہ جو ساری دنیا سے جو وہ مجاہد ائے ہیں جنگ شیطان کے خلاف اعلان جنگ کرنے وہ وہاں پر اپنا کیمپ کرتے ہیں۔ جیسے اج کے زمانے میں بھی جب جنگ ہوتی ہے تو ارمیز اپنا پہلے کیمپ سیٹ کرتی سیٹ اپ کرتی ہے۔ تو وہ منا دراصل وہ کیمپ ہے جہاں پہ ایز ا مجاہد اپ پڑاؤ کرتے ہیں سب سے پہلے وہاں جمع ہوتے ہیں استغفار کرتے ہیں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ اللہ نے یہ کہا ہوا ہے کہ جب اپ جنگ ہو ایکچول وار میں تو اللہ کو بہت یاد کرو۔ حبیب بدر کے تنازل میں اللہ پاک نے یہ بات فرمائی ہوئی ہے۔ اس کے بعد اگلے دن اپ کیا کرتے ہیں اپ عرفات کے میدان میں جاتے ہیں جو حج ہے۔ عرفات میں جو اپ کا لیڈر ہے یعنی اس جنگ میں جو لیڈر ہے وہ اپ کو اپ سے خطاب کرتا ہے وہ دو خطبے پڑھتا ہے۔ یعنی اپ کو جنگ کے لیے تیار کرتا ہے اپ کو یاد دہانی کراتا ہے اللہ کی بات کرتا ہے۔ اور اپ نوٹ فرمائیے کہ عرفات کے میدان میں ہم دو نمازیں اکٹھی کرتے ہیں یعنی ظہر اور عصر ہم قصر کرتے ہیں دو دو کرتے ہیں اور اکٹھی کرتے ہیں کیونکہ وہ جنگی حالت ہے۔ اور اس کے بعد جیسے ہی مغرب اور اس میں اپ باقی دن اپنے اپ کو اللہ سے اللہ سے مغفرت چاہتے ہیں اور اپنے اپ کو جو گناہ ہے اس کا بوجھ اترواتے ہیں۔ شام جب ہوتی ہے جیسے ہی مغرب کی اذان ہوتی ہے اپ عرفات کو چھوڑ کے مزدلفہ چلے جاتے ہیں۔ چونکہ اپ جنگی حالت میں ہیں تو مزدلفہ پہنچ کے اپ مغرب اور عشاء قصر کر کے اکٹھی پڑھیں گے جیسے جنگی حالت میں ہیں۔ اور وہاں اپ اپنا ویپن جو اپ کا ویپن ہے۔ کنکریاں وہ اکٹھی کرتے ہیں۔ یعنی وہ جو اپ نے شیطان کو مارنی اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اگلے دن جب صبح ہوتی ہے اپ جمرات پہ جاتے ہیں اور وہ شیطان ہیں اس کے تین سمبلز ہیں۔ دے ار تھری پلرز وہ اپ اس کو کنکر مارتے ہیں۔ یعنی یہ وہ جنگ ہے کہ میں اس کے خلاف جنگ کرنے ایا ہوں۔ تاکہ میں سیدھی راہ پر رہوں۔ اسی لیے ہم تلبیہ پڑھتے ہیں۔ جب اپ احرام باندھتے ہیں اپ ایز ا مجاہد کیا پڑھتے اتے ہیں اللہ کے پاس؟ لبیک اللہم لبیک میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔ لبیک لا شریک لکا لبیک میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ وہ جو شیطان نے کہا تھا میں تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا میں کہتے ہیں اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ اور میں حاضر ہوں۔ ان الحمد والنعم تمام حمد اور تمام نعمتیں تیرے لیے ہیں۔ لکا والملک تمام سلطنت تمام کنگڈم تمام یہ جو بادشاہت تیرے لیے ہے۔ لا شریک تیرا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ منادی کرتے ہیں ہم اتے ہیں۔ اس پر جب ہم کنکریاں مارتے ہیں اور شیطان کو وہ تین شیطان ہیں وہ بار بار ہم مارتے ہیں یعنی شیطان کے جو بار بار حملے ائیں گے ہم اس کو یعنی ایک مینیفیسٹیشن ہے ہم اس کو ریپلس کریں گے انشاءاللہ ائندہ زندگی میں۔ اس کے بعد اپ دیکھیں ایک بہت خصوصی عبادت ہم اور کرتے ہیں ہم قربانی کرتے ہیں۔ قربانی کیا چیز ہے یعنی ہم اللہ کو یہ کہتے ہیں کہ یا اللہ اف نیڈ بھی اگر ضرورت پڑے گی ہم اپنی جان بھی اپ کے لیے حاضر کر دیں گے۔ اس وقت اپ یہ قربانی کا جانور قبول کیجیے۔ تو وہ ہم قربانی کرتے ہیں اسی لیے اللہ پاک نے قرآن میں کہا ہے کہ مجھے نہ اس کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون پہنچتا ہے۔ مجھے تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔ تو ہم اسی کے لیے قربانی کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد جو لاسٹ چیز ہے۔ ہم ٹنڈ کراتے ہیں یعنی بال منڈواتے ہیں۔ کیوں منڈواتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے وقتوں میں جو غلام تھے جب غلامی تھی دنیا میں تو غلام اپنے بال منڈوا کے رکھتے تھے گویا کہ یہ بتانے کے لیے کہ میں اگے کسی کا غلام ہوں۔ میں دو کی غلامی نہیں کر سکتا۔ تو ہم گویا کہ ٹنڈ کر کے اپنے بال منڈوا کے اللہ کو کہتے ہیں یا اللہ میں تیرا غلام ہوں میں اور کسی کا غلام نہیں۔ میں خالص تیرا بندہ ہوں تو میرا رب ہے میں تیرا غلام ہوں۔ یہ ساری حج کی مینیفیسٹیشن ہے۔ تو اس کو جاننا ضروری ہے۔ السلام علیکم۔

Connection of Hajj with Iblis & Adam. Are you going for Hajj in 2026? A MUST-SEE clip.
Aamir Yazdani
15m 41s2,569 words~13 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


