[0:03]باع ادب با ملاحضہ ہوشیار بادشاہ تشریف لا رہے ہیں۔
[0:23]بہت عمدہ۔
[0:49]بادشاہ سلامت یہ شاہی تخت ہے۔ بھرم کا پٹا نہیں۔
[0:55]ماضی جی حضور
[0:59]تم یہ جان لو کہ ہم جاہ و جلال کے بادشاہ ہیں۔ ہم کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنی بیوی سے بہت ڈرتے ہیں۔ ماضی جی حضور ہم نے تمہیں اپنے خزانے سے کل ڈیڑھ سو روپے دیے تھے۔ اس کا حساب چاہیے۔ اچھا ڈیڑھ سو۔ حضور اس میں سے میں نے سو کا اپ کو لوڈ کروایا تھا اور تیس روپے کی فین لوئی اپ کے اس نے ہاف کے لیے اور 20 روپے کا اپ کا پمپر لایا تھا۔ ادری ادب ریے والا۔ ویسے کریم کا کوئی خاص فرق تو نہیں پڑا۔ حضور کریم ساروں کو گورا کر دیا کالو کو نہیں۔ ادری ادب ریے والا۔ بادشاہ سلامت بادشاہ سلامت بادشاہ نے لاسٹ میں بھائی کو اٹھایا۔ ادری ادب ریے والا۔ بادشاہ سلامت غضب ہو گیا۔ کیا ہوا؟ جو 30 کے تین مہینے سے اپ نے چائے پی ہے اس کا بل آ گیا ہے۔ ہم مفت خور اور یہاں بہت معقول گفتگو ہو رہی ہے۔ بادشاہ سلامت تو اسے کہتے ہیں ناول لیا کرو بہت مشکل آتی ہے سننے میں۔ ادری ادب ریے والا۔
[2:19]ویسے کتنا عرصہ ہوا ہے ہم نہا نہیں پائے؟ حضور ڈیڑھ ماہ ہو گیا ہے۔ بس جی
[2:28]شہزادہ سلیم کو پیش کیا جائے حضور وہ تو انارکلی کے ساتھ ڈیٹ پر گئے ہیں۔ ڈیٹ پر؟ جی کسی نہ کسی طریقے سے اسے پیش کیا جائے۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار شہزادے سلیم تشریف لا رہے ہیں۔
[3:19]پاجان اپ کو شہزادہ سلیم کا سلام۔
[3:27]پاجان اپ کو شہزادہ سلیم کا سلام۔
[3:38]وعلیکم السلام۔ اچھا جان اپ کا مزاج کیسا ہے؟ کیوں لگتا ہے اماں کے پاس چیتڑ پائے نے؟ ارے ادب۔ اور سنائیں ابا جان کیا حال ہے۔ بس یہ بتاؤ کہ انارکلی کیسی ہے؟ ابا جان کیڑی انارکلی؟ جس کے ساتھ تم ڈیٹیں منا رہے ہو؟ اوو ہو وہ والی انارکلی ابا جان وہ تو میری معشوق ہے۔ معشوق ہے؟ ہم خلاف نہیں محبت کے لیکن ہم نے محبت کا ٹھیکا نہیں دے رکھا۔
[4:15]کیسی ہے انارکلی؟ ابا جان وہ تو الے بچی ہے بچی ہے، بچی کچی ہے۔ نہیں ابا جان وہ حالے بچی ہے۔ جیسی بھی ہے پیش کی جائے۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار انارکلی ارہی ہے۔
[4:59]راجا سلامت گانا محکم ہو گیا ہے۔ ادری ادب ریے والا۔
[5:10]سبحان اللہ۔ اباجان ماشاءاللہ یہ کیا خدا کی نعمت ہے؟ بادشاہ سلامت بادشاہ پر ٹھڑکی نہ بن۔ ادری ادب۔ شہزادہ سلیم جی اباجان ہم ان سے تین سوال کریں گے۔ اگر انہوں نے تین سوالوں کا جواب ٹھیک دیا تو یہ تمہاری ورنہ ہماری۔
[5:39]بس میرا دل آ گیا اس پر۔ اباجان پھر انو نو ہی بنا لو پھر۔ ادری ادب۔ سوال شروع کرتے ہیں۔ پہلا سوال۔ مینار پاکستان کس نے بنایا؟ جی قائداعظم نے۔ غلط مستریوں نے۔
[6:02]دوسرا سوال ہاتھی کپڑے کیوں نہیں پہنتا؟ اباجان انو کیویں پتا ہو سکدا اے۔ ادری ادب۔ مان سنگھ اس کا جواب تم دو گے۔ حضور کیونکہ وہ اپنی معشوق کو ڈولے دکھانا چاہتا تھا۔ شاباش۔ تیسرا سوال ابا جان کوئی پریکٹیکلی لے لو تساں۔ وہ کپڑے نہیں پاوندا سی وہ اے نہیں پاوندا سی وہ نہیں پاوندا سی اے کی ہندا۔ شہزادہ سلیم زیادہ ہوشیاری نہیں۔ تیسرا سوال۔ کیا انار کلی اپنے بغل میں ہاتھ رکھ کے تین دفعہ ایسے کر سکتی ہے؟ اباجان تساں انو نو بنانا ہے یا پٹاخیاں دی فیکٹری کھولنی ہے۔ ادری ادب۔ زرا میں انار کلی کو دیکھ لوں۔
[6:56]استغفراللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ
[7:20]ماشاءاللہ اس کی خوشبو بہت پیاری تھی۔ اس کو لے کر آیا جائے۔
[7:34]انار کلی انار کلی۔ بادشاہ دا بادشاہ ہس دیا وایا بھی سارا ٹھرکی۔ ادری ادب۔
[7:48]بادشاہ سلامت دو میری تنخواہ۔ کون سی تنخواہ؟ حضور جو چھ ماہ کام کیے۔ چھ ماہ اور کر لیں۔ حضور تو سارا دے حسن کو روٹی مانگ کے کھانے اور سانوں بھی تنخواہ نہیں دینی۔ بس اصل میں بجٹ تھوڑا سا کم ہے۔ جی شاہی تنخواہ۔ حضور فریادی ایا ہے۔ بلایا جائے۔ یہ کیا طریقہ ہے؟ سوری بادشاہ سلامت۔ فریاد پیش کی جائے میں فریاد تین شرطیں پیش کروں گا۔ جی۔ میری پہلی شرط یہ ہے تمام انے والے مہمانوں کو کھانا دی جائے ان شاءاللہ پارٹی کے بعد دیا جائے گا۔ میری دوسری شرط یہ ہے کہ تمام یونیورسٹی کو کل چھٹی دی جائے گی۔ کل بروز جمعہ میری طرف سے سب کو چھٹی ہے اور میری تیسری شرط۔



