[0:05]ہو حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں فرض حج کر لیا نفل کرنے جا رہا تھا۔ 300 دینار پاس تھے میں پہنچ گیا کوفے تک۔ وہاں سے جا کر کے کچھ سامان خریدنا تھا احرام خریدنا تھا ضرورت کی چیزیں دوست بھی ساتھ تھے کہتے ہیں یار میرے جلدی تھک گئے۔ خریداری کر کے وہ چلے گئے میں شام تک رکا۔ بڑا تھک گیا تو سوچا اتنی لمبی چوڑی خریداری کی ہے تو جھیل تھی پاس۔ میں نے کہا وہاں جا کے ذرا ٹھنڈی ہوا لیتا ہوں۔ کہتے ہیں میں اس طرف گیا رات کا اندھیرا تھا۔ مری ہوئی بھینس پڑی تھی۔ یہ کوئی 700 800 سال پہلے کی بات عرض کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں مری ہوئی بھینس پڑی تھی۔ ایک عورت کالے برقے میں نقاب پوش ائی اور اس بی بی نے مری ہوئی بھینس کا خنجر سے گوشت کاٹا۔ تھیلے میں ڈالا اور دوڑی۔ کہتے ہیں میرے ذہن کے اندر خیال ایا کہ بی بی کوئی ہوٹل چلاتی ہے۔ اور مردہ جانور کا گوشت لوگوں کو کھلاتی ہے ویسے تو جاسوسی منع ہے اس نیت سے کہ مسلمانوں کو بچاؤں اس کے پیچھے ہو لیا۔ کہتے ہیں وہ گلیاں گزرتی گزرتی کوفے کی تنگ گلی میں گئی ایک بڑا سا دروازہ لکڑی کا بڑا پھاٹک جو پرانے شہروں میں ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں اس بڑے پھاٹک پر اس نے زور زور سے دستک دی دونوں ہاتھوں سے دروازہ کھلا۔ وہ عورت اندر داخل ہوئی تو تین چار بچیاں جھٹ سے اس کے گرد اکٹھی ہو گئیں۔ اماں کچھ لائی ہو؟ تو رونے لگی کہنے لگی میں کچھ نہیں لا سکی۔ کہتے ہیں کہنے لگی یہ مردہ جانور کا گوشت ہے۔ اور حضور نے فرمایا جب مرنے لگو تو مردار کھا کے بھی جان بچا لو۔ اب میں دیکھتی ہوں تم سے کھڑا نہیں ہوا جاتا نہ کھاؤ گی تو گر پڑو گی۔ یہ مردہ ہی ہے پکا لو۔ کہتے ہیں اگلے لفظ اس عورت نے کہے تو میں باہر کھڑا چیخنے لگا۔ وہ کہنے لگی ہم سید زادیاں ہیں۔ صدقہ زکوۃ کھا نہیں سکتی۔ اور سب روگاں دا روگ محمد جس دا نام غریبی کنڈ و لا کے لنگھ جاندے سب دوست یار قریبی سید ہیں۔ صدقہ زکوۃ یہ مردار کھا کے گزارا کرو کہتے ہیں پھر اس عورت نے چاروں بیٹیوں کو سینے سے لگایا۔ کہنے لگی تمہارا باپ زندہ ہوتا تو یہ دن نہ سید بھی اور یتیم بھی۔ اور مسکین بھی پھر وہ روئیں۔ حضرت عبداللہ مبارک کہتے ہیں زور زور سے دروازے پہ دستک دی۔ بی بی باہر ائی کون ہے؟ تو میں نے کہا میں عبداللہ بن مبارک ہوں محدث ہوں زمانہ مجھے جانتا ہے۔ میرے شاگردوں کی لسٹ بڑی لمبی ہے۔ کہنے لگی اچھا تو؟ کہنے لگا یہ 300 دینار ہیں۔ تو مہربانی کرے تو رکھ لے چلے اپنا کام کریں۔ ہم جانے ہمارا کہتے ہیں میں نے زمین پہ گھٹنے ٹیک کے نا تو سید زادی کے اگے ہاتھ باندھ دیے۔ میں نے کہا میں نوکر ہوں۔ تم اولاد ہو۔ میں خادم ہوں۔ تم نسل ہو۔ مہربانی کرو۔ مہربانی میرے اوپر مہربانی پیسے رکھ لو۔ کہتے ہیں میں نے وہ پیسے دیے میں واپس لوٹا یار کہنے لگے چل۔ میں نے کہا نہیں میں نے نہیں حج کرنا۔ کہنے لگے کوئی نیا پلاٹ لینے کا پروگرام بن گیا ہے۔ کوئی نئی انویسٹمنٹ لوگ طعنے دیتے ہیں نا پر جے کر یار دے نام دا ملے مہنا انو جھولی پا لیے بھنجے سٹئیے نہ جے کر یار دے نام دی ملے سولی چھٹا چھٹ لیے پیشانی نہ۔ کہتے میں نے کہا یار جیسے تمہاری مرضی سمجھ لو یہ میرا راز ہے۔ میں بتاتا نہیں۔ فرماتے ہیں لوگ حج کرنے چلے گئے۔ میں وطن اگیا چھ ماہ کے بعد قافلے لوٹے جاگ کے سننا ذرا بات۔ میرے نبی نے فرمایا تو میرے امتی کی پریشانی دور کر اللہ کامل حج کا ثواب دے گا۔ فرمایا میرے حبیب علیہ السلام کے امتی حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں میں ایا۔ حج کر کے حاجی ائے تو میں بڑی حسرت کے ساتھ میں گھر میں روتا تھا سوچتا تھا اج وہ منہ میں ہوں گے۔ اج اج وہ مزدلفہ عرفات میں ہوں گے۔ اج وہ لوگ جمرات کی رمی کر رہے ہوں گے۔ میں تڑپ کے سوچتا تھا اج در رسول کی حاضری دے رہے ہوں گے۔ کہتے میں روتا تھا۔ جب حاجی لوٹے چھ ماہ کے بعد تو حاضری دینے گیا ملنے گیا۔ پہلا دروازہ کھولا حاجی صاحب نے میں نے کہا مبارک ہو۔ کہتے ہیں میں نے مبارک دی ذرا سنیے گا۔ کہتے ہیں وہ حاجی مجھے ڈانٹنے لگا کہنے لگے چھوڑ یار۔ اتنا بڑا ادمی ہو کے تو غلط بات کرتا ہے۔ میں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگے تو نے ہمیں کہا کہ جانا نہیں پر پھر ہم منہ میں اوازیں دیتے رہے تو بات ہی نہیں سنتا تھا۔ ہم اوازیں دیتے رہے ان اللہ علی کل شی قدیر اوازیں دیتے تھے سنتا نہیں تھا۔ کہتے ہیں میں حیران ہوا میں میں یار میں تو گیا نہیں کہنے لگے چپ کر۔ غلط بات بھی کرتا ہے اتنا بڑا محدث ہو کے۔
[5:24]کہتے ہیں جب اخری قافلے ائے اخری دن تو اٹھ 10 قافلے اکٹھے ائے شام تک سات قافلوں سے ملا۔ ہر ایک مجھے کہنے لگا بندے کے پاس گھوڑا نیا اجائے سواری بڑی اجائے تو یاروں سے تو ملنا چاہیے نا تو اواز ہی نہیں سنتا تھا۔ فرماتے ہیں میں تھک گیا کہ الہی ماجرہ کیا ہے میں تو یہاں اس شہر کی گلیوں میں پھرتا رہا اور یہ سارے حاجی کہہ کیا رہے ہیں۔ فرماتے ہیں رات کو حضرت ربیع بن اسلم وہ بہت بڑے بزرگ محدث تھے وہ بھی حج کرنے گئے دروازے پہ دستک دی۔ باہر ائے تو جھگڑنے لگے کہنے لگے تو نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا ہے۔ میں نے کہا حضور کیا ہوا کس مشکل میں میں تو مل کہنے لگے چپ کر۔ عالم تھا تو میں تیری عزت کرتا تھا تو نے یہ کیا کیا میں نے کہا کیا ہوا کہنے لگے یاد نہیں جب تو روزے رسول کے سامنے ملا تھا۔ جب نبی پاک کے مواجے کے سامنے تو پیسوں والی تھیلی مجھے پکڑا گیا پکڑ اپنے پیسے میں تو سنبھالتے سنبھالتے تھک گیا ہوں۔ کہتے ہیں یوں سینے سے پیسے لگائے گھر ایا عشاء پڑھی تو سو گیا۔ میں نے کہا یا اللہ عقدہ کھول دے رات گہری ہوئی۔ میرے گھر کی دیواریں چمکنے لگیں نور پھیلنے لگا خوشبو ہی خوشبو پورے شہر کو معطر کرنے لگی۔ کہتے ہیں میں نے انکھ جھپکی تو سامنے اللہ کے رسول تشریف فرما ہیں۔ سامنے محبوب تشریف فرما ہیں۔ خواب میری وچ ایا ماہی میں ادے گل وچ پا لیاں باہواں تے ڈر دی ماری اکھ بھی نہ کھولاں کتے پھر وچھڑ نہ جاواں۔ فرماتے ہیں میں محبوب پاک کی زیارت کی تو نبی پاک علیہ السلام کا دیدار کر کے پھوٹ پھوٹ کے رویا۔ اب میرا دل تھا حضور بولے کوئی بات کریں محبوب بولے لب کھولے فرمایا کیا؟ حضور نے فرمایا میں تجھے کتنے اور گواہ بھیجوں کہ تیرا حج ہو گیا ہے۔ میں کتنے گواہ بھیجوں کہ حج تیرا۔ بے پروائی ویکھ سجن دی جتھے کسے دی پیش نہ جاوے نے تاجا والے در در رو لے منگتے ہیں تخت بٹھاوے اعظم کسے نو گھر آ ملدئی۔ کسے نوں گھر آ کسے نوں گھر آ ملدئی کوئی کعبے و خالی اوے۔ فرمایا کتنے گواہ بھیجوں کہ حج ہو گیا میرے حبیب نے فرمایا اٹھ کے تھیلی کھول کے گھن لے تو نے 300 دینار دیے تھے۔ میں نے 600 کر کے واپس کیے فرمایا کن حضرت عبداللہ بن مبارک نے 60 حج فرمائے۔ اس کے بعد کتنے حج کیے ایک فرض کیا ہوا تھا 61 ہو گئے فرماتے ہیں میں بار بار گیا۔ اور جب بلایا سرکار نے خود ہی انتظام ہو گئے۔ فرماتے ہیں بار بار میرے حبیب نے فرمایا تو ا چاہے نہ ا۔ رب نے تیرے نام کا فرشتہ بنا دیا ہے جو قیامت تک تیری طرف سے حج کرتا رہے گا۔ قیامت تک تیری طرف سے منہ، مزدلفہ، عرفات، جبل رحمت پہ اتا رہے گا۔ میری بارگاہ میں درود پڑھتا رہے گا۔ حج فرشتہ کرے گا ثواب اللہ تیرے نام اعمال میں لکھے گا۔ میرے دوستو میرے نبی نے فرمایا میرے امتی کی ایک پریشانی دور کر اللہ قبول حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ غریبوں کا حج ہے کہ نہیں۔ بولیں اشراق چاشت پڑھ حج ہے۔ دو لوگوں کی صلح کرا۔ حج ہے علماء کی نوکری کر ایک ایک دفعہ 70 70 حج تجھے ملیں گے اور میرے رسول پاک۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوکھا حج ہے۔ سامنے ابا جی ہیں سامنے اماں جی ہیں۔ بار بار پیار سے دیکھ بار بار حج کر۔ بار بار پیار سے دیکھ اور کسی غریب کی مدد کر دے سڑک پار کرا دے میڈیکل سٹور سے دوائی لا دے۔ کسی کی نوکری کر دے بچہ گھر میں نہیں ابا جی بیمار ہو گئے جا بھاگ کے تو چچا کو چھوڑا۔ ڈاکٹر تک تو نیکی کر اللہ تجھے پورے حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ حج بڑے ہیں کرنے کی تیاری کرو۔ حج کا بڑا موقع ہمیں میسر اتا ہے بس پروگرام بناؤ صحیح مسلم کی حدیث۔ کتاب کا نام کیا ہے؟ صحیح مسلم اور بڑی مضبوط حدیث میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کچھ لوگوں کو اللہ قیامت میں کھڑا کرے گا۔ اور کھڑا کر کے فرمائے گا چلو جنت میں جاؤ۔ عرض کریں گے مولا ہم تو پاپی گناہگار پتہ سارا سردار نو کیتیاں دا ہم تو بڑے گناہگار کس وجہ سے جنت فرمایا تمہارے حج کی برکت سے۔ تم نے حج کیا تھا نہ اس برکت سے جنت تو بندے عرض کریں گے مولا ہم تو ماڑے تھے۔ غریب تھے۔ گئے ہی نہیں حج کیا ہی نہیں تو تو حج کی وجہ سے معاف کر رہا ہے۔ تو رب کریم فرمائے گا جب حاجی جاتے تھے دل تڑپتا تھا نا جب حاجی جاتے تھے انکھیں برستی تھیں جب حاجیوں کے قافلے نکلتے تھے اس وقت تمہارے دل میں خواہش پیدا ہوتی تھی فرمایا تم تڑپا کرتے تھے۔ میں نے تڑپ پر ہی تمہیں حج کا ثواب دیا۔ اور خالی ثواب نہیں دیا اس حج کی برکت سے اج جنت بھی عطا فرما رہا ہوں۔ میرے دوست پروگرام بنا تڑپ پیدا کر نیت پیدا کر یہ نہ کہا کر کہ حج تو صرف امیروں کا ایا غریب کیسے کرے۔ حج بڑے ہیں کرنے کی تیاری کر تو پروگرام بنا میرا رب تجھے گام گام پہ نگر نگر پہ گلی گلی حج کا ثواب دے گا۔
[11:06]ہمیشہ مدحت خیر الانام میں گزری۔ ایمان کی موت دے اللہ کریم۔ ایمان کی موت دے۔
[11:21]ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں مسجد نبوی ہے رسول اللہ کا شہر ہے۔ سر سجدے میں ہے روح پرواز کر گئی۔ روح پر کتنے نصیبوں والا ہے۔ کتنا نصیبوں والا ہے کہ مسجد نبوی میں سر سجدے میں رکھا ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالی نے محبوب کے قدموں میں موت عطا فرمائی۔ تو حضرت عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں میں نے اس کو کہا کلمہ پڑھ تو اس کی زبان پہ جاری نہیں ہوتا۔
[12:05]میں بار بار کہتا تو وہ منت کرتا کہتا حضور میں کوشش کرتا ہوں جاری نہیں ہوتا۔ فرماتے ہیں میں پریشان ہو کے اٹھا ابھی میں دروازے پہ پہنچا تھا اس نے چیخ ماری اور روح پرواز کر گئی۔ بچے رونے لگے بی بی رونے لگی تو میں نے اس کی بی بی سے کہا کہ یہ جرم کیا کرتا تھا؟ اتنا بڑا پاپی پہ کلمہ جاری نہیں ہوا۔ اس کی زوجہ کہنے لگی حضرت جی دو گناہ تھے اس کے۔ ایک تو یہ شراب کا عادی تھا۔ روکتی تھی باز نہیں اتا تھا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ اپنی اماں کا نافرمان تھا۔ وہ دو گلیاں چھوڑ کے رہتی ہے۔ یہ کبھی ملنے نہیں گیا تھا۔ اس بوڑھی کا کلیجہ اس کی طرف سے بڑی تکلیف میں تھا۔ تو حضرت عبداللہ بن مبارک کہنے لگے جا تو بھی دعا کر اور اس کی ماں کو بھی کہہ دعا کرے۔ کہ یہاں تو یہ کلمہ نہیں اسے نصیب ہوا اللہ کرے اللہ اخرت کی منزلیں اس کی بہتر فرما دے۔ میرے بھائی ایسے گناہ حضرت مالک بن دینار نے توبہ کی۔ توبہ کی انہوں نے کس طرح؟ فرماتے ہیں میں نشے کا عادی تھا۔ کسی نے مجھے کہا کہ بطور دوائی شراب پی لو تو میں نے پی لی۔ نشے کا عادی تھا شراب پیتا تھا اللہ تعالی نے بڑی منتوں اور کوششوں کے بعد منتوں کے بعد ایک بیٹی عطا فرمائی۔ وہ بھی ڈھائی تین سال کی ہوئی تو پردہ کر گئی۔ کہتا ہے میں اس کی قبر پہ بیٹھ کے گھنٹوں روتا شراب کا عادی تھا۔ ایک دن سویا تو خواب دیکھتا ہوں کہ میرے پیچھے ایک بڑا سانپ لگ گیا ہے۔ اور سانپ جب منہ کھولتا ہے تو انگارہ نکلتا ہے۔ میں پھر دعا کرتا ہوں اللہ ہمیں معاف فرمائے۔ امین اللہ ہم سے در گزر میں کچھ قبرستانوں میں جاتا ہوں تو میں وہاں میں سانپ بچھو پھرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ ڈر اتا ہے۔ ڈر اتا ہے کہ ہم یہاں انے والے ہیں۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ تم تمہاری تیاری ہے۔ کسی وقت بھی اعلان ہو جائے گا کہ چلو بھئی چلو فلاں صاحب کا جنازہ ہے۔ اٹھو۔ لوگ کہتے ہیں جلدی کرو۔ اور ایک کونے میں ایک شخص یہ بھی کہتا ہے کہ دیگ بھی رکھ لو مہمان بڑے جمع ہو گئے۔ اور ایک کونے میں یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ برف ٹھنڈی لے اؤ لوگوں نے پانی بھی پینا ہے۔ پہلے اعلان ہوتا ہے کہ فلاں فوت ہو گیا۔ پھر اعلان ہوتا ہے جنازے کا ٹائم ہو گیا۔ پھر اعلان ہوتا ہے جنازہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر بات ختم ہو جاتی ہے۔ پھر کل من علیہ فان۔ پھر کوئی نہیں پوچھنے اتا ختم ہو گئے۔ قصہ ہی ختم ہو گیا۔ ان لوگوں کی کہانی مٹ گئی۔ ختم ہو گئے۔ بڑے بڑے کنج کلا کوئی پوچھنے والا نہیں موت کا راز ہے راز ہے موت کا راز ہے۔ موت راز کرتی ہے بس اور کسی کا راز نہیں وہ راز کرتی ہے جدھر جاتی ہے اسی کا راز ہے راز کر رہی ہے۔ تو حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں قبرستان میں میں نے دیکھا میں خواب دیکھتا ہوں بڑا ازدہ اس کے منہ کے اندر اگ میرا پیچھا کر رہا ہے۔ کہتے ہیں میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ میں دوڑا لیکن وہ ازدہ جب میں دوڑا تو میرے اگے ا کے کھڑا ہو گیا۔ میں مشرق کو دوڑا تو وہاں بھی ا گیا۔ مغرب کو دوڑا تو وہاں بھی ا گیا۔ جناب مالک بن دینار کہتے ہیں ایک بوڑھا شخص کمزور مجھے بچانے ایا۔ پر اس ازدہ نے پھونک ماری تو وہ بوڑھا ادمی دور جا گرا۔ کہتے میں چیختا تھا چلاتا تھا ایک پہاڑی پہ میں بھاگا گیا تو وہاں مجھے میری بیٹی ملی۔ مجھے فوت ہو گئی۔ وہ اس ازدے کے اگے اس نے یوں ہاتھ کیا تو ازدہ پیچھے بھاگ گیا۔ میں نے بیٹی کو گود میں اٹھایا میں نے کہا بیٹی یہ کون تھا؟ کہنے لگی ابا یہ تیرا برا عمل تھا۔ یہ تیرا برا عمل تھا۔ یہ تجھے کھا جاتا اگر میں نہ ہوتی۔ تو کہا یہ بوڑھا جو مجھے بچانے ایا یہ کون تھا؟ کہا یہ تیرا اچھا عمل تھا پر کمزور بڑا تھا۔ تھوڑا تھا۔ یہ تیرے برے عمل کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ تو حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں جب میں سو کے اٹھا تو میری داڑھی انسوؤں سے بھری ہوئی تھی پھر اس کے بعد میں نے توبہ کی۔ اس طرح کی توبہ کی کہ پھر میں نے کوشش کی کہ دوبارہ میں اپنے رب کی نافرمانی نہ کروں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے تھے جو دنیا میں ہنس ہنس کے گناہ کرتے ہیں نا۔ ہنس ہنس کے جھوٹ ہنس ہنس کے بولتے ہیں۔ ہنس ہنس کے لوگوں کی غیبت کرتے ہیں۔ فرمایا یہ جو تمہیں ہنس ہنس کے گناہ کرتے نظر اتے ہیں ان کا رونا قیامت میں دیکھا نہیں جائے گا۔ ان کے انسو قیامت میں دیکھے نہیں جاتے جو ہنس ہنس کے گناہ کرتے ہیں۔ یہ روئیں گے۔ فلیضحکو قلیلا ولیکو کثیرا۔ رب فرماتے ہیں زیادہ رویا کرو کم ہنسا کرو۔ نبی پاک علیہ السلام روتے تو صحابہ کہتے ہیں حضور اپ اتنا کیوں روتے ہیں تو محبوب فرماتے ہیں جو میں جانتا ہوں۔ وہ تم نہیں جانتے ہو۔ بھائیوں قبروں میں اکیلے جانا ہے۔ کبھی غور کرنا اکیلے۔ کوئی بندہ ساتھ حساب دینے نہیں جائے گا۔ اماں بڑا پیار کرتی ہے۔ لیکن قبر میں کبھی کوئی ماں بھی ساتھ دفن نہیں ہوتی۔ اپنا اپنا حساب دینا ہے۔ مشکل وقت ہے حساب کر لینا چاہیے۔ تیاری کر کے رکھنی چاہیے۔ گناہ اگر یہاں ہماری زندگی کو تنگ کریں گے تو وہاں بھی ہمارے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ نبی کریم۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ بڑا مہربان ہے۔ اللہ بڑا کریم ہے۔ اللہ بڑا ستار ہے۔ پر یاد رکھو جب کوئی اس کی ریٹ کو چیلنج کرے۔ جب کوئی اس کے قانون کو توڑے جب کوئی اللہ کی اعلانیہ نافرمانی کرے۔ پھر رب کریم کی غیرت کو اس کے عدل کو جوش اتا ہے۔ توبہ کرے سچی مسجد کی حاضری دے پابندی کے ساتھ۔ میری اپ سے ہمیشہ یہ گزارش رہتی ہے کہ مسجد کی حاضری پابندی سے دے میں اپیل کرتا ہوں۔ داڑھی رکھ لیں یہ میرے نبی کا طریقہ ہے۔ صلی اللہ تعالی علیہ واپس ا گئے۔ ہماری بقا نہ ہمارے دین میں ہے۔ کوئی نہیں ہمیں رکھے گا۔ کوئی نہیں رکھے گا میرا ایک دوست راز بتا رہا تھا کہ سعودی عرب میں ایک شخص نے 30 سال محنت کی۔



