[0:00]والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا اما بعد آج کی ہماری کلاس کا یوں کہہ لیں کہ کل کے درس کا ہی تتمہ اور کچھ کتاب کا اغاز انشاءاللہ آج کے درس میں ہوگا۔ وباللہ تعالی التوفیق کل ہم نے جو بات کی کہ ہر انسان پر عقیدہ توحید کی معرفت اور عقیدہ توحید کی سمجھ بوجھ اور فہم حاصل کرنا ضروری اور فرض ہے۔
[0:57]اور تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اسی فرض کو نبھانے اور اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف اور اللہ کے سامنے جھکانے کے لیے تشریف لائے اور انہیں مبعوث کیا گیا۔
[1:16]اور اسی ضمن میں ہم نے یہ بات بھی کی کہ اہل السنہ والجماعت کا جو عقیدہ ہے اور ان کی جو دعوت ہے وہ درست بنیادوں پر اور قرآن و سنت کے دلائل سے بھرپور اور قرآن و سنت کی تائید نہ صرف تائید بلکہ عین قرآن و سنت کے مطابق ان کی دعوت ہے۔ اور ان کی دعوت کے جو امتیازات ہیں اور خوبیاں ہیں انہیں بھی ہم نے الحمدللہ کل ذکر کیا۔ آج کے درس میں ہم سب سے پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے انتہائی اختصار کے ساتھ کچھ حالات زندگی بالکل اختصار مقصود وہاں یہاں ان کی پوری سیرت بیان کرنا نہیں۔ کیونکہ ان کی سیرت خود ایک انجمن ہے اور ایک بہت بڑا سمندر ہے جسے یہاں بیان کرنا شاید مشکل ہو۔ اور پھر اس کتاب کی خوبیاں جو کہ ہم پڑھنے جا رہے ہیں اور انشاءاللہ کتاب کا آغاز۔ آپ نوٹ کریں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ ان کا نام ہے احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن خضر ابن تیمیہ الحرانی احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن خضر ابن تیمیہ الحرانی یہ تیمیہ جو لقب ہے بعض کا خیال ہے کہ یہ جو امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے اوپر ایک دادا ہیں مکمل نام یوں سن لیں آپ احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن خضر بن محمد بن خضر۔ تو یہ جو محمد بن خضر ہیں ان کی والدہ ماجدہ تھیں جن کا نام تیمیہ تھا۔ ابن نجار فرماتے ہیں اور ان کے اس قول کو امام ابن عبدالہادی جو کہ شیخ الاسلام کے شاگرد ہیں العقود الذریہ میں ذکر کیا۔ فرماتے ہیں کہ ذکرا لنا ان جدہ محمد كانت امہ تسمى تیمیہ یہ جو محمد بن خضر تھے ان کی والدہ تھیں ان کا نام تیمیہ تھا اور وہ وعظ و نصیحت کیا کرتی تھیں۔ تو اور معروف و مشہور تھیں تو امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ ان کی طرف منسوب ہو گئے۔ نہ صرف ابن تیمیہ بلکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے والد عبدالحلیم اور آپ کے دادا عبدالسلام یہ بھی ابن تیمیہ کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ گویا کہ ان کے خاندان میں محمد بن خضر کی والدہ جو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے پانچویں دادا گویا کہ بنتے ہیں۔ و یا پانچویں نمبر پر نصب میں آتے ہیں۔ تو چونکہ وہ معروف و مشہور تھیں۔ تو انہیں کی طرف ان کی نسبت ہو گئی۔
[5:08]شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سوموار کے دن 10 ربیع الاول سوموار کے دن 10 ربیع الاول 661 ہجری میں پیدا ہوئے۔
[5:28]661 661 ہجری 10 ربیع الاول بروز سوموار 661 ہجری کو شام کے علاقے حران میں پیدا ہوئے۔ حران
[5:49]آپ کا لقب تقی الدین ہے۔ تقی الدین کے لقب سے ملقب ہیں۔ اور آپ کی کنیت ابوالعباس ہے۔ آپ کا نام احمد آپ کی کنیت ابوالعباس آپ کا لقب تقی الدین اور نسبت یوں کہہ لیں کہ جو کہ مشہور و معروف ہوئی وہ تیمیہ ابن تیمیہ الحرانی یہ مشہور ہوئی۔
[6:28]اور ایک لقب جو کہ بطور یوں کہہ لیں کہ بطور احترام کے اور بطور ان کے علم کی وسعت کے اعتبار سے انہیں دیا گیا وہ لقب ہے شیخ الاسلام۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پہلے اور قبل بڑے بڑے آئمہ محدثین کو بھی کہا گیا جیسا کہ عبداللہ بن مبارک المروزی رحمہ اللہ کو بھی شیخ الاسلام کا لقب دیا گیا۔ امام سفیان سوری رحمہ اللہ کو بھی شیخ الاسلام کا لقب دیا گیا۔ اور بھی ایسے آئمہ محدثین موجود ہیں جنہیں شیخ الاسلام کا لقب دیا گیا۔ اور یہ لقب ان کی علم کے اندر دقت، گہرائی اور وسعت مطالعہ اور ایک سے زائد علوم و فنون میں مہارت کی وجہ سے اور خاص طور پر یہ بہت ضروری چیز ہے کہ نہ صرف علم بلکہ اپنے اس علم کے ذریعے سے اپنی زندگی کو دین اسلام کے لیے کھپا دینا اور لگا دینا یہ بھی شیخ الاسلام کے لقب میں یہ صفت داخل ہے۔ کیونکہ اس کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا۔ شیخ فی الاسلام شیخ فی الاسلام یعنی انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں لگا لگا کر یہاں تک کہ اپنی پوری جوانی اور اپنا بڑھاپا اسی میں خرچ کر دیا اور اب اس اسلام ہی کے اندر اسی تگ و دو میں خود کو بوڑھا کر لیا۔ جیسا کہ ایک حدیث بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من شاب شیبہ فی الاسلام فہ لہ نور یوم القیامہ جس نے خود کی جوانی کو گویا کہ بڑھاپے میں بدل دیا اسلام میں تو یہ قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوگا۔ جیسا کہ مسند احمد جامع ترمذی سنن نسائی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ اور حافظ ابن کثیر نے اس کی اسانیت کو قوی قرار دیا۔
[9:00]تو ویسے تو پھر بعد میں لوگوں نے اس نام کو ایک کھلونا سا بنا لیا اور ہر ایک نے اپنے مسلک اور اپنے بڑے کے لیے یہ لفظ کو انتہائی بے دردی سے استعمال کرنا شروع کیا۔ حالانکہ یہ نام اور یہ لقب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بعد ایسا نہیں لگتا کہ کسی کے اوپر یہ جچ سکے۔
[9:33]آپ کا جو خاندان ہے وہ حران علاقے کا ہی ہے۔ آپ کے والد بھی اور آپ کے دادا بھی یہ بھی بڑے علماء میں سے تھے۔
[9:48]آپ کے والد عبدالحلیم ان کا لقب شہاب الدین تھا اور ان کی کنیت ابوالعباس تھی۔ اور اسی طرح آپ کے جو دادا ہیں عبدالسلام عبدالسلام ان کی کنیت ابوالبرکات اور لقب مجدالدین یہ بڑے علماء میں سے تھے۔ انہوں نے ایک حدیث کی یوں کہہ لیں کہ کتاب بھی جمع کی جس کا نام رکھا المنتقی من اخبار المصطفى صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ کتاب بڑی مشہور و معروف ہوئی المنتقل کے نام سے۔ یعنی منتقال اخبار کے نام سے یہ مشہور و معروف ہے اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا تھے۔
[10:48]عبدالسلام اسی کتاب کی شرح لکھی علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوتار شرح منتقال اخبار یہ 16 جلدوں میں چھپی ہوئی ہے۔ یہ اسی کتاب کی شرح ہے جو کہ مشہور و معروف کتاب ہے نیل الاوتار وہ بنیادی طور پر اسی حدیث کے مجموعے جو کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا عبدالسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے المنتقال من اخبار المصطفی لکھی۔ اسی کتاب کی شرح علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوتار شرح منتقال اخبار لکھی۔ آپ کے شاگردوں میں سے بڑے بڑے نام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تعارف کے لیے اور کچھ بھی نہ ہوتا تو ان کے شاگرد ہی کافی تھے۔ اور خاص طور پر ان کے مشہور و معروف شاگرد امام ابن قیم رحمہ اللہ جو کہ یوں کہنا چاہیے۔ کہ انہوں نے اپنے استاد کے علم کو پھیلایا بھی اور علم کی شرح بھی کی۔ آپ کے شاگرد ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے امام ابن عبدالہادی فرماتے ہیں۔ کہ آپ کے استاد بھی اور آپ کے شاگرد بھی بہت زیادہ تھے۔ مثلاً آپ کے اساتذہ کے متعلق فرماتے ہیں وشیخہ الذی سمع منھم اقصر من مایتین شیخین۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے ایک سو سے زائد شاگرد تھے۔ یہ عفن 101 سو سے زائد اساتذہ تھے۔ ایک سو سے زائد اساتذہ تھے۔ اور اسی طرح شاگرد بھی اساتذہ میں سے میں دو تین کے نام آپ کو ذکر کیے دیتا ہوں۔ شمس الدین ابو محمد عبدالرحمان بن قدامہ المقدسی مشہور امام ہے۔ ابن قدامہ المقدسی جن کی المغنی ہے۔ فقہ کی مشہور کتاب 15 جلدوں میں چھپی ہوئی ہے۔ جو کہ 682 ہجری میں فوت ہوئے۔ دوسرے اساتذہ میں سے عبدالصمد بن عساکر الدمشقی۔ مشہور تاریخ ابن عساکر والے جو کہ 80 جلدوں میں مطبوع ہے ان کی کتاب مشہور امین الدین ابوالیمن الدمشقی الشافعی یہ 686 ہجری میں وفات پائی۔ اور ایک اور استاد ہیں محمد بن القوی ابن بدران المردادی ان کی وفات 703 ہجری میں ہوئی۔ چند شاگردوں کے نام بھی آپ نوٹ کر لیں۔ مشہور شاگرد شمس الدین ابن عبدالہادی رحمہ اللہ یہ بڑے عالم ہیں۔ انہوں نے شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی سیرت پر کتاب بھی لکھی العقود الذریہ فی مناقب شیخ الاسلام ابن تیمیہ۔ اور ان کی مشہور ترین کتاب ہے بدعت کے رد میں الصار والمنکی الصار والمنکی الرد علی السبکی۔
[14:41]شمس الدین الذہبی محمد بن عثمان الذہبی مشہور امام ذہبی کے نام سے بڑے علماء میں سے تھے۔ وہ ان کے شاگرد ہیں۔ انہی کا کہنا ہے کہ میں نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے بڑا استاد عالم نہیں دیکھا۔ ان کی مشہور کتابیں ہیں تاریخ الاسلام سیر اعلام النبلا میزان الاعتدال اور بہت سی کتب۔ نمبر تین شمس الدین ابن القیم ابوبکر ابن القیم رحمہ اللہ یہ تو یوں کہہ لیں۔ کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے کتابوں کے اشارے بھی ہیں اور ان کے علوم کو نقل کرنے والے ہیں۔ چوتھے نمبر پر مشہور امام عمادالدین ابوالوفا ابن کثیر رحمہ اللہ جو کہ تفسیر والے تفسیر ابن کثیر مشہور تفسیر القرآن العظیم اس کے مصنف۔ اور انہیں یہ بھی شرف حاصل ہے کہ یہ اس موقع پر موجود تھے جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو وفات کے بعد غسل دیا گیا۔ اور اس سارے منظر کے چشم دید گواہ ہیں۔ اور اس سارا قصہ آپ نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر بھی کیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حالات زندگی میں یہ امام مزی رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہیں۔ ابن تیمیہ کے بھی شاگرد ہیں اور امام مزی کے داماد بھی ہیں۔ اور امام مزی اور امام ابن تیمیہ دونوں آپس میں یعنی زمیل تھے ساتھی تھے۔
[16:34]آپ کی کتابیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی امام ذہبی فرماتے ہیں کہ جمعت مصنفات شیخ الاسلام تقی الدین ابی العباس احمد ابن تیمیہ فوجدته الف مصنف ثم رایت له ايضا مصنفات اخر۔ کہتے ہیں کہ میں نے ابن تیمیہ کی کتابیں جمع کی تو میں نے انہیں گننا شروع کیا تو وہ ایک ہزار سے زائد تھیں۔ اور جب میں نے گن لیا تو اس کے بعد بھی مجھے کتابیں ملیں جو کہ ایک ہزار کے بعد بھی تھیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنے استاد ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کو اور ان کے ناموں کو جمع بھی کیا ہے۔ بہت سی کتابوں کا مجموعہ چھوٹی بڑی بہت بہت بڑی نہیں مطلب ایک مناسب اور چھوٹی کتابوں کا مجموعہ مجموع الفتاوی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ جو کہ موجودہ دور کے امام و خطیب مسجد نبوی شیخ عبدالمحسن القاسم حفظہ اللہ کے والد اور ان کے دادا نے جمع کیا تھا۔ جو کہ 37 جلدوں میں تبا شدہ ہے۔ 37 جلدوں میں اس کے علاوہ اور کتابیں وہ الگ ہیں ابھی نو جلدوں میں جامع المسائل کے نام سے الگ وہ کتابیں شائع ہوئیں جو کہ مجموع فتاوی میں نہیں تھیں۔ اور اس کے علاوہ منہج السنہ وہ بھی الگ ہے۔ اور بھی بہت سی کتب شیخ عذیر شمس رحمتہ اللہ علیہ الہندی انہوں نے وہ فہرست الگ کی ہے جو کہ مجموع فتاوی میں نہیں ہیں۔ یہ اختصار کے ساتھ میں کچھ ذکر کر سکا ہوں۔ ورنہ تو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی زندگی اور ان کی شخصیت پر جو تعریفات ہیں وہ بھی ایک لمبا موضوع ہے لیکن میں اس میں داخل نہیں ہونا چاہتا ورنہ وہ بہت وقت درکار ہے۔
[18:46]شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بہت دفعہ قید و بند کی صعوبتیں صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ بہت دفعہ جیل میں جانا پڑا۔ ایک دفعہ آپ کو جو جیل میں لے جایا گیا وہ 705 ہجری کو لے جایا گیا۔
[19:06]اور تقریبا دو سال کا عرصہ آپ نے جیل میں گزارا۔ اور 707 ہجری میں آپ کو نکالا گیا۔ پھر دوبارہ سے بعض صوفیوں کی وجہ سے جھوٹے ان کے مقدمات کی وجہ سے پھر سے عیدالفطر کے دن آپ کو دوبارہ سے قید میں ڈالا گیا 709 ہجری میں۔ پھر 726 ہجری میں اور اسی طرح 726 میں جب ڈالا گیا تو پھر آپ قید میں ہی رہے قلعے میں بند رہے اور 728 ہجری
[19:53]یہ بھی سوموار کا دن تھا اور 20 ذوالقعدہ سوموار کا دن 20 ذوالقعدہ 728 ہجری کو آپ کی وفات اسی قلعے کے اندر اور اسی قید میں ہوئی۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ کا بیان ہے البدایہ والنہایہ جو کہ تاریخ ابن کثیر کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ کہ جب آپ کی میت مبارکہ کو باہر لے آیا گیا۔ تو زمین دکھائی نہیں دے رہی تھی لوگوں کی کثرت کی وجہ سے تمام گلیاں اور تمام راستے پر تھے۔ اور عورتیں چھتوں پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے جنازے کا دیدار کرنے کے لیے کھڑی تھیں۔ اور کوئی تل دھرنے کی جگہ بھی نہ تھی۔ اس قدر جو ہے وہ رش تھا اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو امام مزی نے اور دوسرے بڑے بڑے ائمہ نے مل کر غسل دیا
[21:11]اور اتنی بڑی تعداد تھی۔ کہ کائنات نے کم ہی اتنے بڑا جنازہ اور اس چشم فلک نے اتنے بڑے جنازہ دیکھا ہوگا۔ تو آپ کی وفات سوموار کے دن 20 20 ذوالقعدہ 728 ہجری کو ہوئی گویا کہ اٹھویں صدی ہجری میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کے حالات زندگی پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ جیسا کہ ابن ناصرالدین الدمشقی نے الرد الوافر کے نام سے کتاب لکھی۔ امام ابن عبدالہادی جو ان کے شاگرد ہیں العقود الذریہ فی مناقب شیخ الاسلام ابن تیمیہ۔ ایک اور شاگرد ہیں مرعی الکرمی انہوں نے دو کتابیں لکھی ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے فضائل میں العقاقب الذریہ فی مناقب ابن تیمیہ اور دوسری کتاب الشہادۃ الذکیہ فی ثناء الائمۃ علی ابن تیمیہ۔ اردو زبان میں جو مشہور کتاب ہے جو کہ آپ احباب کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ محمد ابوزہرہ کی یہ کتاب تھی ابن تیمیہ حیاتہ و عصرہ۔ اس کا اردو ترجمہ ہوا اور اس پر بہت بڑے عالم شیخ عطا اللہ حنیف رحمہ اللہ نے حاشی بھی لکھے اور مکتبہ المکتبہ السلفیہ جو لاہور کا ہے انہوں نے اس کو اردو زبان میں شائع کیا۔ تو اردودان طبقے کے لیے وہ انتہائی مفید ہے اور وہ لازمی پڑھنی چاہیے۔ ویسے غلام رسول مہر بہت بڑے تاریخ دان تھے۔ یہ علامہ اقبال کے شاگردوں میں سے بھی تھے اور اہل حدیث مورخ تھے انہوں نے بہت کتابیں لکھی خاص طور پر 1857 کی جنگ آزادی پر بہت سی کتابیں ان کی۔ تو انہوں نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر بہت اچھا رسالہ لکھا ہے اور اس کی تحقیق شہیر شمس رحمہ اللہ نے کی ہے۔ اردو زبان میں وہ بھی بہت زیادہ مفید ہے۔ اسے پڑھنا چاہیے۔
[23:28]ویسے شیخ حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ نے اپنی ایک کتاب بھی شائع کی ہے تو اس میں چند مضامین بہت شاندار ہیں۔ وہ میرے مطابق آپ احباب کو ضرور پڑھنے چاہیے کہ ابن تیمیہ ابن تیمیہ نے کایا پلٹ دی۔
[24:47]کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھ کر کن کن لوگوں نے اپنے عقیدے کی اصلاح کی جو بڑے بڑے لوگ تھے تو وہ انہوں نے اس کو ذکر کیا ہے وہ بہت شاندار ہے۔ تو وہ مضامین جو ہے شیخ حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ کے اگر نیٹ پر بھی شاید سرچ کریں تو وہ آ جائیں گے تو ہر ایک کو ہر طالب علم کو ضرور وہ پڑھنے چاہیے بڑا فائدہ ہو گا۔ اب ہم آتے ہیں یہ میں نے مختصر طور پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حالات زندگی جو میں سمجھتا ہوں کہ کافی نہیں ہیں۔ لیکن میں نے کسی حد تک اس کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب ہم آتے ہیں العقیدۃ الواسطیہ جو کہ جس کے متعلق ہم کل پڑھ چکے ہیں۔ کہ واسط علاقے کے قاضی رضی الدین الواسطی وہ آئے تھے رضی الدین الواسطی وہ آئے تھے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے پاس کہ تاتاریوں کے حملوں کے بعد ظاہری بات ہے جب جنگیں ختم ہوتی ہیں تو مخالف حکومتیں اور یا جو دشمن لوگ ہوتے ہیں وہ نہ صرف جنگ مسلط کرتے ہیں بلکہ عقیدہ بھی چھین کر لے جاتے ہیں عمل چھین کر لے جاتے ہیں بے یار و مددگار کا داری کا عالم ہوتا ہے تو ان حالات کے اندر صحیح عقیدے کی رہنمائی انتہائی ضروری تھی تو آپ ہمارے لیے کچھ ایسا عقیدہ لکھ دیں کہ ہم اپنے پیچھے والوں کو جا کر گھر والوں کو بھی اور علاقے والوں کو بھی پڑھائیں۔ تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان کے کہنے پر یہ عقیدہ لکھا اور اس کا نام بھی یہی مشہور ہو گیا العقیدۃ الواسطیہ۔ اس عقیدے میں کیا بنیادی اور امتیازی خوبیاں ہیں وہ اب چند نوٹ کر لیں۔ اچھا یہ جو میں خوبیاں بیان کرنے لگا ہوں یہ اس عقیدہ العقیدہ الواسطیہ میں بھی ہیں اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی دوسری کتب میں بھی آپ کو یہی خوبیاں دکھائی دیں گی۔ نمبر ایک یہ بات آپ کو اس عقیدے کو پڑھتے ہوئے خوب سے دکھائی دے گی کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پرانے آئمہ سلف کے کلام کو خوب سمجھنے والے تھے۔ یعنی صحابہ کے کلام کو سمجھنے والے تابعین تبع تابعین آئمہ دین جو آئمہ اہل سنت تھے۔ ان کے کلام کو جو انہوں نے کہا ہے اس کو خوب سمجھنے والے تھے۔ گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دینے والی بات ہے کہ ان آئمہ کے اقوال کو سمجھ کر بہت اختصار اور بڑی ہی عرق ریزی کے ساتھ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس عقیدے میں ان کا گویا کہ خلاصہ اور ان کے کلام کی اور ان کی عقیدے کی خلاصے کے طور پر اس کتاب میں جمع کر دیا۔ یہ اس کتاب کی گویا کہ بہت بڑی خوبی ہے کہ حجم اتنا بڑا نہیں لیکن ان تمام آئمہ سلف کے اقوال کو اس انداز سے جمع کیا۔ دوسری چیز جو اس عقیدے میں آپ کو دکھائی دے گی وہ یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کتاب و سنت اور ان کے فہم میں اعلی درجے پر فائز تھے۔ یعنی بڑا سمجھنے والے تھے کہ قرآن یعنی کیسے کیسے وہ قرآن کی آیات سے اللہ کی صفات کو بیان کرتے ہیں اللہ تعالی کے ناموں کو بیان کرتے ہیں پھر عقیدے کو بیان کرتے ہیں دلائل کے ساتھ اور کس طرح سے چناؤ اور بہترین انتخاب کے ساتھ قرآن کی آیتیں لے کر آتے ہیں آپ دیکھیے گا آپ جب ہم انشاءاللہ اس کو پڑھیں گے۔ تو آپ اس کو دیکھیے گا کہ کس انداز میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ قرآن سے استدلال کرتے ہیں احادیث سے استدلال کرتے ہیں اور آپ کا چناؤ کتنا خوبصورت ہے قرآن کی آیت سے صفت ثابت کرنے کے لیے اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے کس طرح سے وہ عقیدہ ثابت کرتے ہیں۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کس قدر گہرا فہم رکھتے ہیں قرآن و سنت کا اور ان سے دلائل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام للعلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ کہ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی آیتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار ایتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی ایتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار آیتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی آیتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار ایتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی آیتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار آیتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی آیتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار آیتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی آیتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار ایتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔ مجھے یہاں تک یہاں ایک بات یاد آتی ہے وہ آپ کے لیے بھی بڑا فائدہ ہو گا۔ ہمارے محبوب استاد اور بہت بڑے عالم فقیہ فضیلت الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر رحمہ اللہ جب ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ تو صحیح بخاری پڑھاتے ہوئے یہ بات انہوں نے ایک دفعہ ذکر کی۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید ازہر رحمہ اللہ جو ان کے دوست تھے۔ جنہوں نے انہیں سنا ہے وہ جانتے ہیں۔ کہ ان کا قرآن پر بہت ہی زیادہ نظر تھی۔ اور قرآن پر بہت زیادہ یعنی ان کا توجہ تھی اور قرآن سے بڑی محبت تھی۔ تقاریر میں بہت کثرت سے قرآن کی آیات کو پیش کرتے تھے۔ بڑی گہری نظر تھی قرآن پر۔ تو کوئی کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ آیا تو اس میں ڈاکٹر عبدالرشید ازہر رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے میں چار قرآن کی آیتیں تلاش کیں کہ یہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔ اور بہت خوش تھے کہ میں نے چار آیات اس مسئلے میں نکال لی ہیں۔ چونکہ ان کا قرآن پر بہت نظر تھی قرآن سے بڑی گہری ان کی وابستگی تھی۔ تو بعد میں ایسا ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھتے پڑھتے اسی مسئلے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام بھی مل گیا یعنی ان کے انہوں نے بھی اس مسئلے پر بحث کی ہوئی تھی۔ تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف اس ایک مسئلے پر 31 قرآن کی آیتیں ذکر کی ہوئی تھیں۔ اللہ اکبر یعنی موجودہ دور کا وہ عالم جو قرآن سے بہت گہرا رشتہ رکھتا ہے وہ صرف چار ایتیں تلاش کر سکے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کو جب پڑھا ان کی کتاب کو دیکھا تو انہوں نے اسی مسئلے میں قرآن کی 31 آیات کو ذکر کیا ہوا تھا۔ تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قرآن پر کتنی گہری نظر ہے اور وہ کس طرح سے عقیدے کو قرآن کی آیتوں سے اور احادیث سے ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عد احسن کلام العلماء المتاخرین کہ جو بعد میں علماء آنے والے ہیں۔ سب سے بہترین اگر کسی کی کلام ہوتا ہے اور کتابیں ہوتی ہیں تو وہ ابن تیمیہ کی ہیں رحمہ اللہ۔ اتنی گہرائی ہے اس کے اندر اتنی گہرائی ہے۔



