[0:05]حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں میں حج کرنے گیا تو اس سال نہ حج میں بڑا راش ہوا۔ لاکھوں لوگ ائے۔ تو میں نے عرض کی مولا سب کا قبول ہوا ہے کہ کوئی رہ بھی گیا ہے؟ تو فرماتے ہیں مجھے خواب ائی اور بتایا گیا لاکھوں کا قبول ہو گیا۔ بڑا بے نیاز ہے اللہ۔ بڑا بے نیاز ہے، بڑا کریم ہے۔ چاہے تو گھر بیٹھے بیٹھے کہے ماں باپ کا چہرہ دیکھ میں تجھے حج کا ثواب۔ دیکھ ماں باپ کا چہرہ۔ کہا سب کا قبول ہوا ایک ہے محمد بن ہارون بلخی۔ اس کا نہیں قبول ہوا۔ فرماتے ہیں میں سویرے اٹھا تو میں ڈھونڈنے لگا کہ بلخ کے لوگ خراسان کے لوگ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ وہاں علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں نا یہ پاکستانیوں کی بلڈنگیں، یہ انڈین ہیں یہ فلاں ملک ہے۔ تو کہتے ہیں میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچا تو میں نے بلخ کے لوگوں کو پا لیا۔ میں نے پوچھا تم میں محمد بن ہارون بلخی کون ہے؟ تو لوگ کہنے لگے وہ تو بڑا نیک ادمی ہے۔ بڑا پرہیزگار ہے۔ کہتے ہیں میں نے کہا مجھے خواب ائی ہے حج قبول نہیں ہوا اور یہ تعریفیں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کس طرح کا نیک؟ تو لوگ کہنے لگے جی 24 واں تو وہ حج کرنے ایا ہے۔ ساری رات نفل پڑھتا ہے، سارا دن روزہ رکھتا ہے۔ بہت مالدار تھا پر ہر چیز اللہ کی راہ میں خیرات کر دی۔ فرماتے ہیں میں نے کہا وہ کہاں ہے؟ کہنے لگے پہاڑ کے پیچھے خیمہ اس نے لگایا ہے وہاں اللہ اللہ کر رہا ہے۔ حضرت مالک بن دینار رحمہ فرماتے ہیں میں وہاں پہنچا مصلے پہ بیٹھا تھا سلام پھری میں نے السلام علیکم کے بعد کہا اپ محمد بن ہارون بلخی ہیں؟ کہنے لگا ہاں اپ مالک بن دینار ہیں۔ کہتے ہیں میں نے کہا کہ اس نے تو میرا نام بھی جان لیا بغیر بتائے۔ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ ہاں میں مالک بن دینار ہوں کہنے لگے کیسے ائے ہو؟ میں نے کہا بس ملنے ایا تھا کہنے لگے نہیں جس کام ائے ہو وہ بتاؤ۔ میں نے کہا میں ملنے ایا ہوں تو کہتے ہیں وہ رو پڑے کہنے لگے نہیں اپ کو خواب ائی ہوگی کہ میرا حج قبول نہیں ہوا۔ کہتے ہیں میں میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ اسے اتنا بھی پتہ ہے۔ کہ میرا حج قبول نہیں ہوا۔ میں نے اس کو کہا کہ تجھے کیسے پتہ کہ مجھے خواب ائی ہے۔ کہنے لگا مالک بن دینار مجھے 24 سال ہو گئے میں اس بے نیاز کے گھر کا طواف کرتا ہوں۔ میں حجر اسود کے بوسے لیتا ہوں میں مقام ابراہیم پہ نفل پڑھتا ہوں۔ میں صفا مروہ کی صحیح کرتا ہوں۔ پر 24 سال بیت گئے جب میں طواف وداع کرنے کے قریب اتا ہوں تو کوئی نہ کوئی اللہ کا ولی ا کے کہتا ہے دوڑ جا تیرا کوئی نہیں قبول ہوا۔ 24 سال حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں میں اس کے قریب بیٹھ گیا اور اس کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھا میں نے۔ بندہ بھی معذور تھا اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ چہرے پہ عبادت کے نشانات نمایاں تھے۔ تو میں نے کہا یار پھر تیرا حج قبول کیوں نہیں ہوتا؟ تو کہتے کہنے لگا مت پوچھ تو مجھ سے نفرت کرے گا۔ میں نے کہا نہیں تو بتا کہنے لگا نہ پوچھ میں نے اصرار کیا تو کہنے لگا اس لیے نہیں قبول ہوتا کہ میں اپنی اماں کا نافرمان ہوں۔ ماں کا نافرمان کیا ہوا؟ تو کہنے لگے اللہ نے دولت دی، جائیدادیں، گھوڑے، زمینیں میں عیاش ہو گیا۔ میں اللہ کے دیے ہوئے مال کو ناجائز جگہ خرچ کرنے لگا۔ ماں میری بوڑھی تھی، عبادت گزار تھی مجھے سمجھاتی تھی۔ رمضان کا مہینہ عصر کے بعد اماں تو نور میں روٹیاں لگا رہی۔ میں گھر ایا شراب کے نشے میں اماں روٹی دو۔ ماں کہنے لگی شرم کر روزہ رکھا نہیں تو جنہوں نے رکھا ہے ان کا تو خیال کر۔ کہتے ہیں یہ لفظ میں نے سنے تو ماں کو ایک تھپڑ دے مارا۔ اماں جلتے ہوئے تندور میں گر گئی۔ لوگوں نے مجھے کمرے میں بند کر دیا۔ کہتے ہیں ساری رات میں شور سنتا رہا پر نشے میں پڑا رہا۔ اگلے دن ظہر کے بعد انکھ تب کھلی جب میری بیوی الماریوں سے کپڑے نکال رہی تھی۔ میں نے کہا کہاں جا رہی ہو؟ کہنے لگی میکے جا رہی ہوں۔ میں ماں کے قاتل کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتی۔ میں نے کہا ماں قتل ہو گئی۔ کہا ہاں رات نو مہینے تجھے پیٹ میں رکھنے والی اور چھاتی کا دودھ تیرے گلے میں اتار کے پالنے والی تیرے ہاتھوں قتل ہو گئی۔ کہا کدھر ہے میری ماں کی میت؟ کہا دفن کر دیا۔ بتایا کیوں نہیں؟ کہتے ہیں مرتے وقت کہہ گئی تھی۔ اسے میرا منہ نہ دکھانا میرے جنازے کے قریب نہ ائے۔ کہنے لگا میں اسی وقت اٹھا جس ہاتھ سے ماں کو مارا تھا کلہاڑا لے کے ہاتھ کاٹ دیا۔ جائیدادیں، گھوڑے، مکانات خیرات کر دیے۔ ساری رات نفل پڑھتا ہوں۔ سارے دن کے روزے رکھتا ہوں۔ ہر سال حج کرتا ہوں عرش کا مالک معاف نہیں کرتا۔ حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے بھی ایک تھپڑ مارا میں نے کہا تو اسی قابل ہے۔ تجھے معاف نہ کیا جائے۔ کبھی تجھے معافی نہیں ملے گی۔ کہتے ہیں میں ہو کے ایا وہ روتا رہا تڑپتا رہا۔ میں سویا گھر ا کے تو مجھے مصطفی کریم علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو گیا۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مالک تو اسے کیوں مایوس کر ایا ہے اللہ کی رحمت سے؟ کیوں کہا ہے اسے؟ میں نے کہا حضور اتنا بڑا قاتل ماں کا کیسے معافی ملے گی؟ تو محبوب فرمانے لگے اس کی ماں کی وجہ سے ہی اسے معافی ملے گی۔ ماں کی وجہ سے۔ حضور کس طرح؟ فرمایا ماں قیامت کے دن اس کے خلاف مقدمہ دائر کرے گی۔ کہے گی اللہ اسے پوچھ میرا جرم کیا تھا؟ مجھے کیوں جلا کے مارا؟ رب بات سنے گا اور پھر کہے گا اٹھاؤ اس کے بیٹے کو۔ ماں او بچے کی ماں بھیجے نا اب تیرے بیٹے کو سزا دیں کہ یا اللہ سخت سزا دے۔ تو رب کریم فرمائے گا اٹھاؤ اسے جہنم میں لے جاؤ۔ مصطفی کریم فرمانے لگے جب زنجیریں ڈال کے فرشتے دوزخ کی طرف لے جا رہے ہوں گے نا تو پلٹ کے ماں کی طرف دیکھے گا۔ تھوڑا پھر اگے بڑھیں گے تو پھر دیکھے گا۔ پھر دوزخ کے قریب جائیں گے پھر دیکھے گا اور کہے گا اماں جی مجھے جلائیں گے مجھے تکلیف ہو گی۔ زندگی میں جب درد ہوتا تھا تیرا نام میری زبان پہ اتا تھا اماں مارنے لگے ہیں مجھے جلائیں گے۔ میرے مصطفی کریم فرمانے لگے وہ ماں اسے جلا کے مار دیا وہ میدان محشر بول پڑے گی کہے گی اللہ اے اللہ اے اللہ رب کریم فرمائے گا کہہ عرض کرے گی مولا میں نے معاف کیا تو بھی اسے معاف کر دے۔ اللہ میں نے اللہ فرمائے گا اس نے تو جلا کے مارا تو کیوں نہیں جلنے دیتی؟ حالانکہ اللہ سب جانتا ہے کہے گی مولا میں تو ماں ہوں نا۔ کیسے موقع دوں؟ تو میرے محبوب فرمانے لگے مالک اللہ اسے اس کی ماں کی وجہ سے ہی اسے معافی ملے گی۔ تو عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں فرض حج کر لیا نفل کرنے جا رہا تھا۔ 300 دینار پاس تھے۔ میں پہنچ گیا کوفے تک۔ وہاں سے جا کر کے کچھ سامان خریدنا تھا احرام خریدنا تھا ضرورت کی چیزیں دوست بھی ساتھ تھے۔ کہتے ہیں یار میرے جلدی تھک گئے خریداری کر کے وہ چلے گئے میں شام تک رکا۔ بڑا تھک گیا تو سوچا اتنی لمبی چوڑی خریداری کی ہے تو جھیل تھی پاس۔ میں نے کہا وہاں جا کے ذرا ٹھنڈی ہوا لیتا ہوں کہتے ہیں میں اس طرف گیا رات کا اندھیرا تھا۔ مری ہوئی بھینس پڑی تھی۔ یہ کوئی سات اٹھ سو سال پہلے کی بات عرض کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں مری ہوئی بھینس پڑی تھی ایک عورت کالے برقے میں نقاب پوش ائی۔ اور اس بی بی نے مری ہوئی بھینس کا خنجر سے گوشت کاٹا۔ تھیلے میں ڈالا اور دوڑی۔ کہتے ہیں میرے ذہن کے اندر خیال ایا کہ بی بی کوئی ہوٹل چلاتی ہے۔ اور مردہ جانور کا گوشت لوگوں کو کھلاتی ہے ویسے تو جاسوسی منع ہے اس نیت سے کہ مسلمانوں کو بچاؤں اس کے پیچھے ہو لیا۔ کہتے ہیں وہ گلیاں گزرتی گزرتی کوفے کی تنگ گلی میں گئی ایک بڑا سا دروازہ لکڑی کا بڑا پھاٹک جو پرانے شہروں میں ہوتے۔ کہتے ہیں اس بڑے پھاٹک پر اس نے زور زور سے دستک دی دونوں ہاتھوں سے دروازہ کھلا۔ وہ عورت اندر داخل ہوئی تو تین چار بچیاں جھٹ سے اس کے گرد اکٹھی ہو گئیں۔ اماں کچھ لائی ہو؟ تو رونے لگی کہنے لگی میں کچھ نہیں لا سکی۔ کہتے ہیں کہنے لگی یہ مردہ جانور کا گوشت ہے۔ اور حضور نے فرمایا جب مرنے لگو تو مردار کھا کے بھی جان بچا لو۔ اب میں دیکھتی ہوں تم سے کھڑا نہیں ہوا جاتا نہ کھاؤ گی تو گر پڑو گی۔ یہ مردہ ہی ہے پکا لو۔ کہتے ہیں اگلے لفظ اس عورت نے کہے تو میں باہر کھڑا چیخنے لگا۔ وہ کہنے لگی ہم سید زادیاں ہیں۔ صدقہ زکوۃ کھا نہیں سکتی اور سب روگاں دا روگ محمد جس کا نام غریبی کنڈ بلا کے لنگھ جاندے سب دوست یار قریبی۔ سید ہیں۔ صدقہ زکوۃ یہ مردار کھا کے گزارا کرو کہتے ہیں پھر اس عورت نے چاروں بیٹیوں کو سینے سے لگایا۔ کہنے لگی تمہارا باپ زندہ ہوتا تو یہ دن نہ سید بھی اور یتیم بھی اور مسکین بھی۔ پھر وہ روئیں۔ حضرت عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں زور زور سے دروازے پہ دستک دی۔ بی بی باہر ائی کون ہے؟ تو میں نے کہا میں عبداللہ بن مبارک ہوں محدث ہوں زمانہ مجھے جانتا ہے۔ میرے شاگردوں کی لسٹ بڑی لمبی ہے۔ کہنے لگی اچھا تو کہنے لگا یہ 300 دینار ہیں تو مہربانی کرے تو رکھ لے۔ کہلے اپنا کام کریں ہم جانے ہمارا کہتے ہیں میں نے زمین پہ گھٹنے ٹیک کے نا تو سید زادی کے اگے ہاتھ باندھ دیے میں نے کہا میں نوکر ہوں۔ تم اولاد ہو۔ میں خادم ہوں تم نسل ہو۔ مہربانی کرو مہربانی میرے اوپر مہربانی۔ پیسے رکھ لو۔ کہتے ہیں میں نے وہ پیسے دیے میں واپس لوٹا۔ یار کہنے لگے چل۔ میں نے کہا نہیں میں نے نہیں اج کرنا۔ کہنے لگے کوئی نیا پلاٹ لینے کا پروگرام بن گیا ہے۔ کوئی نئی انویسٹمنٹ لوگ طعنے دیتے ہیں نا پر جے کر یار دے نام دا ملے میہ نہ انوں جھولی پا لیے پجے سٹئیے نہ۔ جے کر یار دے نام دی ملے سولی جھوٹا جھوٹ لیے پیچھے ہٹیے نا کہتے ہیں میں نے کہا یار جیسے تمہاری مرضی سمجھ لو یہ میرا راز ہے۔ میں بتاتا نہیں فرماتے ہیں لوگ حج کرنے چلے گئے میں وطن اگیا۔ چھ ماہ کے بعد قافلے لوٹے۔ جا کے سننا ذرا بات میرے نبی نے فرمایا تو میرے امتی کی پریشانی دور کر اللہ کامل اج کا ثواب دے گا۔ فرمایا میرے حبیب علیہ السلام کے امتی حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں میں ایا۔ حج کر کے حاجی ائے تو میں بڑی حسرت کے ساتھ میں گھر میں روتا تھا سوچتا تھا اج وہ منی میں ہوں گے۔ اج اج وہ مزدلفہ عرفات میں ہوں گے۔ اج وہ لوگ جم رات کی رمی کر رہے ہوں گے۔ میں تڑپ کے سوچتا تھا اج ادھر رسول کی حاضری دے رہے ہوں گے کہتے ہیں میں روتا تھا۔ جب حاجی لوٹے چھ ماہ کے بعد تو حاضری دینے گیا ملنے گیا پہلا دروازہ کھولا حاجی صاحب نے میں نے کہا مبارک ہو۔ کہتے ہیں میں نے مبارک دی ذرا سنیے گا کہتے ہیں وہ حاجی مجھے ڈانٹنے لگے کہنے لگے چھوڑ یار۔ اتنا بڑا ادمی ہو کے تو غلط بات کرتا ہے۔ میں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگے تو نے ہمیں کہا کہ جانا نہیں اور پھر ہم منی میں اوازیں دیتے رہے تو بات ہی نہیں سنتا تھا۔ سبحان اللہ ہم اوازیں دیتے رہے ان اللہ علی کل شی قدیر اوازیں دیتے تھے سنتا نہیں تھا۔ کہتے ہیں میں حیران ہوں میں میں یار میں تو گیا نہیں کہنے لگے ہم گیارہ حاجی جھوٹ بولتے ہیں تو اکیلا سچ بولتا ہے۔ سب نے دیکھا ہے کہتے ہیں میں پلٹ ایا۔ چوتھے دن پھر ایک حاجی کو ملنے گیا۔ مبارک دی کہنے لگا چھوڑ کس بات کی مبارک میدان عرفات میں تو نے بات بھی نہیں سنی۔ اور یہاں مبارک ہیں کہتے ہیں عرفات میں اور میں تو کہنے لگے چپ کر غلط بات بھی کرتا ہے اتنا بڑا محدث ہو کے۔ کہتے ہیں جب اخری قافلے ائے اخری دن تو اٹھ دس قافلے اکٹھے ائے۔ شام تک سات قافلوں سے ملا۔ ہر ایک مجھے کہنے لگا بندے کے پاس گھوڑا نیا ا جائے سواری بڑی ا جائے تو یاروں سے تو ملنا چاہیے نا تو اواز ہی نہیں سنتا تھا۔ فرماتے ہیں میں تھک گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے میں تو یہاں اس شہر کی گلیوں میں پھرتا رہا۔ اور یہ سارے حاجی کہہ کیا رہے ہیں؟ فرماتے ہیں رات کو حضرت ربیع بن اسلم وہ بہت بڑے بزرگ محدث تھے وہ بھی حج کرنے گئے دروازے پہ دستک دی۔ باہر ائے تو جھگڑنے لگے۔ کہنے لگے تو نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا ہے؟ میں نے کہا حضور کیا ہوا کس مشکل میں میں تو ملنے کہنے لگے چھوڑ یار عالم تھا تو میں تیری عزت کرتا تھا تو نے یہ کیا کیا میں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگے یاد نہیں جب تو روضہ رسول کے سامنے ملا تھا؟ جب نبی پاک کے مواجہ کے سامنے تو پیسوں والی تھیلی مجھے پکڑا گیا پکڑ اپنے پیسے میں تو سنبھالتے سنبھالتے تھک گیا ہوں۔ کہتے ہیں یہ سینے سے پیسے لگائے گھر ایا۔ عشاء پڑھی تو سو گیا۔ میں نے کہا یا اللہ عقدہ کھول دے۔ رات گہری ہوئی میرے گھر کی دیواریں چمکنے لگیں نور پھیلنے لگا۔ خوشبو ہی خوشبو پورے شہر کو معطر کرنے لگی۔ کہتے ہیں میں نے انکھ جھپکی تو سامنے اللہ کے رسول تشریف فرما ہیں۔ سامنے محبوب تشریف فرما ہیں۔ خواب میری وچ ایا ماہی میں ادے گل وچ پا لیا باہواں تے ڈر دی ماری اکھ وی نہ کھولا کتے پھر وچھڑ نہ جاواں۔ فرماتے ہیں میں محبوب پاک کی زیارت کی تو نبی پاک علیہ السلام کا دیدار کر کے پھوٹ پھوٹ کے رویا۔ اب میرا دل تھا حضور بولے کوئی بات کریں۔ محبوب بولے لب کھولے فرمایا کیا۔ حضور نے فرمایا میں تجھے کتنے اور گواہ بھیجوں کہ تیرا حج ہو گیا ہے۔ میں کتنے گواہ بھیجوں کہ حج تیرا۔ بے پروائی دیکھ سجن دی جتھے کسے دی پیش نہ جاوے انے تاجاں والے در در رولے منگتے تخت بٹھاوے اعظم کسے نوں گھر ا مل دی۔ کسے نوں گھر ا کسے نوں گھر ا مل دے کوئی کعبے ہو خالی اوے فرمایا کتنے گواہ بھیجوں کہ حج ہو گیا ہے۔ میرے حبیب نے فرمایا اٹھ کے تھیلی کھول کے گن لے تو نے 300 دینار دیے تھے میں نے 600 کر کے واپس کیے ہیں۔ سبحان اللہ فرمایا گن۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے 60 حج فرمائے۔ اس کے بعد کتنے حج کیے؟ ایک فرض کیا ہوا تھا 61 ہو گئے فرماتے ہیں میں باہر بار بار گیا۔ اور جب بلایا سرکار نے خود ہی انتظام ہو گئے۔ فرماتے ہیں بار بار گئے میرے حبیب نے فرمایا تو ا چاہے نہ ا۔ رب نے تیرے نام کا فرشتہ بنا دیا ہے۔ جو قیامت تک تیری طرف سے حج کرتا رہے گا۔ قیامت تک تیری طرف سے منی، مزدلفہ، عرفات، سب لے رحمت پہ اتا رہے گا۔ میری بارگاہ میں درود پڑھتا رہے گا۔ حج فرشتہ کرے گا ثواب اللہ تیرے نام اعمال میں لکھے گا۔ میرے دوستوں میرے نبی نے فرمایا میرے امتی کی ایک پریشانی دور کر اللہ قبول حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ غریبوں کا حج ہے کہ نہیں؟ ہے بولے ہے اشراق چاشت پڑھ حج ہے۔ دو لوگوں کی صلح کرا حج ہے علماء کی نوکری کر ایک ایک دفعہ 70 70 حج تجھے ملیں گے۔ اور میرے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوکھا حج ہے۔ سامنے ابا جی ہیں۔ سامنے اماں جی ہیں۔ بار بار پیار سے دیکھ بار بار حج کر بار بار پیار سے دیکھ اور کسی غریب کی مدد کر دے سڑک پار کرا دے۔ میڈیکل سٹور سے دوائی لا دے کسی کی نوکری کر دے۔ بچہ گھر میں نہیں ابا جی بیمار ہو گئے جا بھاگ کے تو چچا کو چھوڑ ا۔ ڈاکٹر تک تو نیکی کر اللہ تجھے پورے حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ حج بڑے ہیں۔ کرنے کی تیاری کرو حج کا بڑا موقع ہمیں میسر اتا ہے۔ بس پروگرام بنا صحیح مسلم کی حدیث۔ کتاب کا نام کیا ہے؟ صحیح مسلم اور بڑی مضبوط حدیث میرے نبی پاک۔ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کچھ لوگوں کو اللہ قیامت میں کھڑا کرے گا۔ اور کھڑا کر کے فرمائے گا چلو جنت میں جاؤ۔ عرض کریں گے مولا ہم تو پاپی گناہگار پتہ سارا سردار نوں کیتیاں دا۔ ہم تو بڑے گناہگار کس وجہ سے جنت فرمایا تمہارے حج کی برکت سے۔ تم نے حج کیا تھا نا اس برکت سے جنت۔ تو بندے عرض کریں گے مولا ہم تو ماڑے تھے۔ غریب تھے۔ گئے ہی نہیں حج کیا ہی نہیں تو تو حج کی وجہ سے معاف کر رہا ہے۔ تو رب کریم فرمائے گا جب حاجی جاتے تھے دل تڑپتا تھا نا۔ جب حاجی جاتے تھے انکھیں برستی تھیں جب حاجیوں کے قافلے نکلتے تھے اس وقت تمہارے دل میں خواہش پیدا ہوتی تھی۔ فرمایا تم تڑپا کرتے تھے میں نے تڑپ پر ہی تمہیں حج کا ثواب دیا اور خالی ثواب نہیں دیا اس حج کی برکت سے اج جنت بھی عطا فرما رہا ہوں۔ میرے دوست پروگرام بنا تڑپ پیدا کر نیت پیدا کر یہ نہ کہا کر کے حج دو صرف امیروں کا ایا ہے غریب کیسے کرے حج بڑے ہیں کرنے کی تیاری کر تو پروگرام بنا میرا رب تجھے گام گام پہ نگر نگر پہ گلی گلی حج کا ثواب دے گا۔ ہمیشہ مدحت خیر الانعام میں گزری۔ قران مجید میں نا اللہ تعالی نے کچھ قسمیں ارشاد فرمائی ہیں۔ اللہ بے نیاز ہے اللہ تو کسی کی قسم نہیں نہ اٹھاتا ہے ہی بے نیاز ہے۔ لیکن کچھ قسمیں قران نے اٹھائی ہیں۔ ان میں سے ایک قسم اٹھائی اللہ تعالی نے مکہ مکرمہ کی۔ فرمایا لا اقسم بہازال بلد محبوب مجھے اس شہر کی قسم ہو۔ کیوں؟ وانتحل بہازال بلد اس لیے قسم ہو کہ محبوب اپ اس شہر میں جلوہ فرما ہیں۔ اللہ نے قسم اٹھائی۔ حرمین شریفین مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ یہ عظمتوں والی جگہ ہیں۔ ان جگہوں کو اللہ نے شانیں عطا فرمائی ہیں۔ ان کو اللہ تبارک و تعالی نے بڑے اعزازات سے نوازا ہے۔ حج نہیں ہو رہا اس دفعہ دنیا سے زیادہ لوگ نہیں جا رہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ لوگ بڑا شوق پیدا کرتے۔ ذہن کے اندر خیال اتا کہ میں اپنی تڑپ کو بڑھاؤں۔ لوگ روتے دعائیں مانگتے لیکن ہم کہتے ہیں خیر صلہ اگلے سال چلے جائیں گے۔ میری تو رائے یہ ہے کہ یہ جو اس دفعہ حج عمرہ کچھ عرصے کے لیے نہیں ہو رہا تو اللہ تعالی ہماری تڑپ بڑھانا چاہتا ہے۔ ذوق بڑھے شوق بڑھے۔ خانہ کعبہ کے فضائل پڑھے مدینہ طیبہ کی عظمت کو سوچیں۔ نعتیں سنیں وہ ذوق جو خاص کیفیت ہے اس کو پیدا کریں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہمیں فضیلتیں بیان کی نا مکہ مکرمہ کی اور مدینہ طیبہ کی اس کی حکمت بھی یہ ہے کہ ہمارے دل میں شوق پیدا ہو کہ ہم نے اس جگہ جانا ہے۔ ہمارے دل میں تڑپ پیدا ہو ذوق ائے ہمیں دیکھیں۔ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا جو نماز تم اپنے گھر کے اندر پڑھو گے ایک نماز کا اللہ تمہیں ثواب دے گا۔ جماعت کے ساتھ پڑھو گے تو 27 نمازوں کا ثواب لیکن فرمایا وہی نماز اگر تم نے میری مسجد نبوی میں ا کے پڑھو گے تو اللہ 50 ہزار نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔ 50 ہزار نمازوں کا اور مدینے والے حبیب فرمانے لگے وہی نماز اگر تم نے بیت اللہ میں ا کے پڑھی تو نماز ایک ہوگی۔ لیکن رب تمہیں ایک لاکھ نماز کا ثواب عطا فرمائے گا۔ اب یہ فضیلت حضور نے بیان کی فضیلت دیکھیں اللہ تعالی کی رحمتیں ہر جگہ برستی ہیں۔ یہاں کب برسیں گی ہمیں کوئی پتہ نہیں۔ تقریر کے وقت خطبے کے وقت نماز کے وقت دعا کب برسیں گی نہیں پتہ لیکن خانہ کعبہ کا جو معاملہ ہے اور وہاں جو رحمت کا معاملہ ہے ملا رومی فرماتے ہیں کہ خدا کی رحمت اگر تجھے اتنی مل جائے نا قطرے کے برابر بھی۔ تو سمجھ لے تیری دنیا بھی بن گئی اور تیری اخرت بھی بن گئی۔ اب میرے نبی پاک علیہ السلام کی حدیث سنیں حضور فرماتے ہیں روزانہ۔ بیت اللہ شریف پر اللہ کی 120 رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ یا رسول اللہ کس وقت ہوتا ہے فجر کے وقت ظہر کے وقت عصر کے وقت طواف کے وقت نماز کے وقت کب تو حضور نے طے کر کے بتایا۔ فرمایا 120 رحمتیں اللہ خانہ کعبہ پہ نازل فرماتے ہیں یا رسول اللہ کب؟ فرمایا 60 رحمتیں تو ان پہ برستی ہیں جو بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔ سبحان اللہ اور فرمایا 40 رحمتیں اس پر برستی ہیں جو حرم شریف میں نماز پڑھتا ہے۔ اور حضور فرماتے ہیں کچھ بھی نہ کرے بس بیٹھ کے کعبے کی زیارت ہی کرتا رہے 20 رحمتیں تو اللہ اسے بھی عطا فرمائے گا۔ کتنی مقدس جگہ ہے۔ وہاں جانے کا ذوق وہاں جانے کی تڑپ وہاں جانے کا شوق ان لوگوں سے تھوڑا سا شکوہ ہے جو کہتے ہیں جی میں نے جی بڑی راجے راج کے زیارت کر لیا۔ بس رج گئے ختم ہو گئی بات سنو نبی پاک علیہ السلام نے 53 سال حیات ظاہرہ کے وہاں گزارے 53 سال۔ لیکن جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں قربان جاؤں جس رات میرے کریم محبوب علیہ السلام ہجرت کی رات مکہ مکرمہ سے نکل رہے تھے تو حضور پلٹ پلٹ کے بیت اللہ کو دیکھتے تھے۔ حضور پلٹ پلٹ کے دیکھتے تھے اور پھر میرے محبوب کریم علیہ السلام نے پلٹ کے کعبے کی طرف دیکھا اور دیکھ کے فرمایا بیت اللہ تو مجھے بڑا ہی پیارا ہے۔ تو مجھے بڑا ہی پیارا ہے۔ اے شہر مکہ تو مجھے بڑا ہی پیارا ہے۔ فرمایا اگر میری قوم مجھے پریشان نہ کرتی میں تجھے کبھی چھوڑ کے نہ جاتا۔ 53 سال رہنے کے باوجود بھی حضور کا بیت اللہ سے پیار۔ نبی پاک کی اس شہر کی ساتھ وابستگی وہ دلچسپی وہ ذوق وہ شوق وہ کیفیات کیوں مان پڑتے جا رہے ہیں ہمارے جذبے؟ ہمارے سیاست کی باتیں روز ہونے لگی ہیں۔ بحثوں کی باتیں روز ہوتی ہیں۔ لیکن اپنا عشق مضبوط کرنے کی بات۔ اپ یقین کریں یہ جو عشق ہوتا ہے یہ بندے کو ازاد کر دیتا ہے۔ عشق ازاد کر دیتا ہے۔ اعلی حضرت فرماتے ہیں اے عشق تیرے صدقے۔ جلنے سے چھٹے سستے جو اگ بجھا دے گی وہ اگ لگائی ہے۔ اور علامہ اقبال کہنے لگے۔ اقبال سمجھاتے ہیں وہ کہتے ہیں بجھی عشق کی اگ اندھیر ہے۔ اب مسلمان نہیں اب خاک کا ڈھیر ہے۔ کہتے ہیں بغیر عشق کے نا کوئی کام بھی نماز بھی بغیر عشق کے پڑھی جاتی ہے تو کوئی مزہ ہی نہیں دیتی۔ بندے کہتے ہیں دل ہی نہیں لگتا پیری مریدی ہے بغیر عشق کے ایسی بس رسم رسامی ہے ٹھیک ہے گزارا چل رہا ہے۔ قران شریف کی تلاوت ہے تو بغیر عشق کے کیسے کیفیات چلیں گی۔ اللہ رسول کے ساتھ پیار ہے تو کوئی دلچسپی نہیں کوئی شوق نہیں۔ اپ یقین کریں کچھ بندوں پہ بندے کو تڑپ ا جاتی ہے شوق ا جاتا ہے۔ یار اس کو کیسے نکالیں یہ کس طرح کا پیار کرتا ہے ا کے بیٹھا رہتا ہے۔ چپ کر کے بیٹھا رہتا ہے کہتا ہے جی کوئی کام نہیں بس 10 منٹ ملنا ہے۔ بندے کو اس بندے پر ویسے ہی پیار ا جاتا ہے۔ کچھ ایسے سنگی ہوتے ہیں جو اس تھانوں پہ 10 10 چکر لگا کے اتے ہیں۔ شکوہ نہیں کرتے کہ میں 100 دفعہ بھی ایا ہوں فلانے حضرت ملے نہیں وہ وارفتگی ہے وہ شوق ہے۔ ہمارا جب تک اللہ رسول کے ساتھ رشتہ عشق کا تھا پیار کا تھا شوق کا تھا درد کا تھا خلوص کا تھا اپ یقین کریں طبیعتیں جمی ہوئی تھی۔

Malik Bin Dinar Story ! 🔥 Hajj Ka Waqia ! 🕋 Peer Ajmal Raza Qadri Hajj Bayan 2025
Deen On Screen
23m 7s4,081 words~21 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS

![Thumbnail for ✅ Best Smart Door Lock 2026 [Find Which Smart Lock is Right for YOU?] by Foremost Picks](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fimg.youtube.com%2Fvi%2FoRozIS6IsnY%2Fhqdefault.jpg&w=3840&q=75)
