Thumbnail for الأربعين النووية | Arkan-e-Islam: Shahada Salah Sawm Hajj Zakat | Dr Maqbool | حدیث 03 by Youth Flix

الأربعين النووية | Arkan-e-Islam: Shahada Salah Sawm Hajj Zakat | Dr Maqbool | حدیث 03

Youth Flix

21m 29s2,198 words~11 min read
Auto-Generated

[0:00]اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ معبود جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو الہ مانا جائے۔ معبود برحق برحق اس لیے ہم کہتے ہیں کہ بعض معبودان باطلہ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو وہ باطل ہیں۔ یہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔ تو ہر دعوے کی دلیل ہوتی ہے۔ اس دعوے کی دلیل اسلام لانے کے بعد سب سے پہلی جو دلیل ہے۔ وہ ہے۔ اقامت الصلاۃ۔ اور حج کا جو لفظی معنی ہے وہ قصد ہے ارادہ ہے۔ اللہ کے گھر کا ارادہ کرنا، قصد کرنا اور مخصوص عبادت اور مخصوص دنوں میں یہ حج ہے۔ الحمدللہ الحمدللہ رب العالمین والعاقبت للمتقین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی الہ واصحابہ ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین۔ حدیث نمبر تین جس کا عنوان ہے۔ ارکان اسلام۔ حدیث ہے عن عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنی الاسلام علی خمسن شہادت لا الہ الا اللہ وانا محمد رسول اللہ واقامت الصلاۃ وایت الزکاتی وثوم رمضان وحج البیت من استطاع الیہ سبیلہ متفق علیہ متفق علیہ کا مطلب ہے اخرج البخاری والمسلم متقفع علیہ الامام البخاری وامام المسلم رحمہ اللہ یہ حدیث مبارکہ پہلی حدیث حدیث جبریل کے اندر جو آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ مال اسلام اسلام کیا ہے۔ اسی کی وضاحت ہے بس اس کے اندر اتنا سا فرق ہے کہ سیدنا عبداللہ ابن عمر جن کی کنیت ابو عبدالرحمان تھی وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ بنی اسلام علی خمسن اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یعنی اسلام کے ارکان پانچ ہیں۔ اور سب سے پہلا رکن شہادت لا الہ الا اللہ وانا محمد رسول اللہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد نطق و شہادتین کے بعد جو اہم رکن ہے۔ وہ اقامت الصلاۃ نماز کو قائم کرنا ہے۔ وازکا زکوۃ ادا کرنا ہے۔ اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ہے۔ اور پانچواں اور آخری رکن ہے۔ حج البیت اللہ کے گھر کا حج کرنا۔ لیکن اس کی شرط کیا ہے؟ من استعاہ سبیلہ جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہے۔ مالی طور پر اور جسمانی طور پر۔ یہ حدیث مبارکہ پہلی حدیث حدیث جبریل کے اندر جو آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ مال اسلام اسلام کیا ہے۔ اسی کی وضاحت ہے۔

[4:15]بس اس کے اندر اتنا سا فرق ہے کہ سیدنا عبداللہ ابن عمر جن کی کنیت ابو عبدالرحمن تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ بنی الاسلام علی خمسن اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یعنی اسلام کے ارکان پانچ ہیں۔ اور سب سے پہلا رکن شہادت لا الہ الا اللہ وانا محمد رسول اللہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد

[5:01]نطق و شہادتین کے بعد جو اہم رکن ہے۔ وہ اقامت الصلاۃ نماز کو قائم کرنا ہے۔ وایت الزکاۃ زکوۃ ادا کرنا ہے۔ اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ہے۔ اور پانچواں اور آخری رکن ہے۔ حج البیت اللہ کے گھر کا حج کرنا۔ لیکن اس کی شرط کیا ہے؟ من استطاع الیہ سبیلہ جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہے۔ مالی طور پر اور جسمانی طور پر۔ یہ حدیث مبارکہ اسلام کی بنیادیں ہیں۔

[5:51]اس کے اندر ذکر کی گئی۔ کہ یہ اگر ان سے کوئی ہٹ کر کوئی کام کرے گا تو گویا کہ وہ اسلام کی بنیادوں کو گرا رہا ہے۔

[6:12]اور سب سے پہلی جو بنیاد ہے۔ وہ اللہ کی توحید اور اس کے رسول کی رسالت پر ایمان لانا ہے۔ اور یہ دروازہ ہے جس کے ذریعے سے اسلام میں داخل ہوا جاتا ہے۔ اور اسلام کا معنی اپ پہلے سن چکے ہیں کہ اسلام کے معنی اطاعت کے ہیں فرمانبرداری کے ہیں۔ تسلیم کرنے کے ہیں۔ ماننے کے ہیں۔ اسلام کے معنی امن اور سلامتی کے بھی ہیں۔ تو اسلام میں داخل ہونے کی سب سے پہلی بنیاد وہ کلمہ شہادت ہے۔ اس بات کی گواہی دینا توحید کا اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ معبود جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو الہ مانا جائے۔ معبود برحق۔ برحق اس لیے ہم کہتے ہیں کہ بعض معبودان باطلہ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو وہ باطل ہیں۔ حق جو ہے وہ صرف اللہ ہے۔ اور عبادت میں صرف نماز روزہ ہی نہیں ہر طرح کی عبادت۔ کیونکہ عبادت اسم جامع لما یحبہ اللہ من الاقوال والافعال کالسلاۃ والذبح والنظر والخشوع والتوکل والمحبت یہ ساری چیزیں عبادت ہیں۔ نماز کے ساتھ ساتھ دعا توکل، بھروسہ، اللہ کا ڈر، خوف، یہ ساری چیزیں عبادت میں۔ تو ان تمام عبادات کے لیے اللہ تعالی کو خالص کرنا۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا یہ توحید ہے۔ سب سے پہلے توحید ہے اور اس کے اندر لا ہے۔ لا کا معنی ہے کہ نہیں۔ انکار ہے۔ انکار کا مطلب ہے کہ پہلے اپ اللہ کے علاوہ جتنے بھی معبودان باطلہ ہیں۔ جس جس کی بھی کوئی پوجا کر سکتا ہے کرتا ہے اس کا پہلے انکار کیا جائے کہ کوئی نہیں کوئی معبود نہیں۔ کوئی لائق نہیں عبادت کے صرف اللہ تعالی۔ اور پھر اللہ تعالی نے اپنی توحید کے ساتھ اگلی بات جو ذکر کی ہے کہ وہ جس طرح آپ اللہ کو توحید میں اکیلے مانتے ہیں۔ اس طرح رسالت میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تباہ اور ان کی پیروی ان کی محبت۔ جس طرح اللہ سے محبت ہے اسی طرح اللہ کے رسول سے محبت اور ان کی پیروی اور ان کی تباہ اسی طرح اس میں ان کو یکتا مانا جائے، اکیلا مانا جائے۔ اطاعت کی بات ہو فرمانبرداری کی بات ہو تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔

[9:31]اس کے بعد یہ اسلام میں داخل ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہے۔

[9:41]یہ اسلام میں داخل ہونے کا آپ کے پاس کارڈ ہے۔ یہ اسلام کی عمارت ہے اس میں اپ داخل ہو رہے ہیں۔ یہ اپ کا دعویٰ ہے کہ اپ مسلمان ہیں۔ تو ہر دعوے کی دلیل ہوتی ہے۔ اس دعوے کی دلیل اسلام لانے کے بعد سب سے پہلی جو دلیل ہے۔ وہ ہے۔ اقامت الصلاۃ۔ نماز کو قائم کرنا نماز کو ادا کرنا۔ نماز کا اہتمام کرنا اور نماز سنت کے مطابق ادا کرنا جس طرح کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نماز پڑھ کے ہمیں دکھائی سکھائی اور احادیث کے اندر صحیح احادیث میں جو نماز کا طریقہ ہے مرد اور عورت اس طرح نماز پڑھیں۔ تو یہ اقامت الصلاۃ ہے۔ فتنوں کا دور ہے۔ اب کچھ لوگوں نے اقامت الصلاۃ کا مطلب یہ نکال لیا ہے کہ قران میں تو کہیں تذکرہ نہیں ہے کہ نماز اپ اس طرح پڑھیں ایسے پڑھیں اتنی پڑھیں اس وقت پڑھیں۔ اس لیے اقامت کا مطلب یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ائے تھوڑی دیر بیٹھیں اور دل میں بس نماز کا تصور کر لیں۔ نماز کو قائم کر لیں دل میں۔ یہ سراسر غلط ہے اور جھوٹ ہے۔

[11:39]قران کی سمجھ اور قران کو سمجھنا اور قران کی تفسیر وہ حدیث ہے۔ صحیح احادیث ہیں۔ تو جو احادیث میں نماز کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اس طرح نماز کو ادا کیا جائے۔ تو پھر نماز ادا ہو گی۔ اور اسلام کی بنیادیں پانچ چیزوں پر قائم ہیں۔ تو اس میں اگر کوئی ان تمام ارکان میں سے اگر تو کوئی شہادتین کا انکار کرتا ہے تو وہ مسلمان ہی نہیں ہے وہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہوا ہے۔

[12:28]ایک ادمی نطق و شہادتین کا اقرار کر لیتا ہے زبان سے۔

[12:38]اور اس کے بعد جو اگلے ارکان ہیں۔ نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، روزے رکھنا، حج کرنا اس میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے۔ تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اگر وہ انکار تو نہیں کرتا لیکن اس کے اندر وہ سستی کرتا ہے۔ ان کو ادا نہیں کرتا یا بالکل بھی ادا نہیں کرتا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ادا ہی نہیں کرتا ان کو تو وہ فاسق ہے وہ فاجر ہے۔ وہ ایسا ہی ہے کہ اس کا دعوی اسلام کا ہے۔ لیکن اس کے پاس اس کی دلیل نہیں ہے۔ تو دلیل کیا ہے؟ نماز ہے۔ روزہ ہے۔ حج ہے۔ زکوۃ ہے۔

[13:41]تو سب سے پہلا رکن جو اسلام کا ہے وہ نماز ہے۔ راس الامر الاسلام وعمودہ الصلاۃ وذروسنامہی الجہاد۔ سنن ترمذی کی صحیح روایت ہے کہ راس الامر الاسلام اس کی جو بنیاد ہے اس کا جو ستون ہے وہ نماز ہے۔ اور اس کی جو کہان ہے وہ جہاد ہے۔ تو اسلام میں نماز کی بہت اہمیت ہے۔ اگر ہم اس حدیث کی روح سے نماز کی اہمیت بیان کریں تو وہ بہت لمبا موضوع ہو جائے گا۔ تو نماز ہر مسلمان عاقل، بالغ، مرد، عورت پر فرض ہے۔

[14:50]باقی جتنے بھی ارکان ہیں۔ جیسے حج ہے، روزہ ہے، زکوۃ ہے اس میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی گنجائش نکلتی ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا رکن ہے کہ جس میں کوئی گنجائش نہیں۔ کہ اگر کوئی ادمی کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو وہ بیٹھ کر پڑھے۔ بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر پڑھے۔ لیٹ کر نہیں پڑھ سکتا تو اشارے سے پڑھے۔ پڑھنی ضرور ہے۔ نماز میں نماز معاف نہیں ہے۔ کہ نماز میں کوئی کہے کہ مجھے کوئی گنجائش نکل ائے گی تو نماز میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں بیمار ہے تو وہ فرض پڑھ لے۔ اگر سنتیں نہیں پڑھ سکتا۔ مسافر ہے تو اس کے اوپر ویسے ہی قصر ہے ادھی ہے۔

[15:58]لیکن اس کے اندر چھوٹ نہیں ہے۔ بین العبد والکفر ترک الصلاۃ بندے اور کافر کے درمیان جو فرق کرنے والی چیز ہے وہ نماز ہے۔ جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا۔ جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس نے دین کی عمارت کو ہی گرا دیا۔ اور قیامت والے دن سب سے پہلے جو سوال جس بات پر کیا جائے گا وہ اللہ کے حقوق میں سے نماز کا سوال ہو گا۔ نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اس کی نمازیں کیسی ہیں۔ نمازیں پوری ہیں۔ نمازیں پوری ہیں یا نہیں ہیں۔ تو اس لیے سب سے پہلے توحید اور رسالت کے بعد جو دوسرا رکن بیان کیا گیا ہے وہ نماز ہے نماز کو قائم کرنا ہے۔ اس کے بعد زکوۃ ہے۔ تو زکوۃ تو ہر ادمی پر نہیں ہے۔ صاحب استطاعت پر ہے۔ جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا، ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی مالیت کے پیسے ہیں یا اس کے پر اگر تجارت ہے۔ تو تجارت بھی اس کی اس نصاب کو پہنچتی ہو۔ اور سال بھر اس کے پاس یہ نصاب کمی بیشی کے ساتھ پورا رہا ہو۔ تو تب جا کر سال کے بعد اس پر 100 پر ڈھائی پرسنٹ ہے۔ 100 میں سے ڈھائی روپے ہے۔ اور وہ بھی اپنے ہی عزیز و اقارب کو رشتہ داروں کو جن کے اوپر ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ کہ باپ بیٹے کو، بیٹا باپ کو، خاوند بیوی کو زکوۃ دے دے بچوں کو یہ ایسا نہیں ہے۔ اس کے لیے مصارف ہیں۔ وہ اگے کوئی اور حدیث ائے گی تو اس میں مصارف زکوۃ کا تذکرہ کیا جائے گا۔ لیکن یہ سال کے بعد ہے اور ہر ایک پر نہیں۔ اس طرح روزے سال میں ایک دفعہ ایک مہینے کے ہیں۔ اور اس میں بھی یہ ہے کہ اگر کوئی بیمار ہے۔ سفر پر جا رہا ہے۔ یا کوئی اور شرعی مجبوری ہے۔ تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ یا اس کی قضا بعد میں دے سکتا ہے۔ یا اگر کوئی دائمی مریض ہے۔ مستقل بیماری ہے کسی کو۔ ڈاکٹر نے اس کو بھوکے رہنے سے پیاسے رہنے سے منع کیا ہے اور اس کی بیماری بڑھ جاتی ہے۔ تو وہ اس کا فدیہ دے سکتا ہے۔ لیکن یہ سال کے بعد ہیں اور وہ روزوں کے بہت سے طبعی فوائد ہیں اور بہت سے روحانی فوائد ہیں۔ اس کے بعد حج کا تذکرہ ہے۔ اور حج زندگی میں ہر عاقل بالغ صاحب مال صاحب استطاعت جس کے پاس جسمانی استطاعت بھی ہے۔ سفر کرنے کے وہ قابل ہے۔ سفر کر سکتا ہے۔ اور مال بھی ہے۔ زاد راہ لے جا سکتا ہے۔ اور انے جانے کا سفر اور اتنا اس کے گھر میں ہو کہ اپنے گھر والوں کو مانگنے کے لیے نہ چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں وہ خود حج پر چلا جائے اور گھر والے لوگوں کے رحم و کرم پر ہوں ایسا نہ ہو گھر میں بھی جتنی دیر تک وہ واپس نہیں اتا اس کا خرچہ ہو اور اس کے اپنے پاس بھی انے جانے کا خرچہ ہو اور وہاں رہنے کا اخراجات ہوں اس کے پاس تو اس کے اوپر حج فرض ہے۔ زندگی میں ایک مرتبہ بس۔ اور عمرہ نفلی ہے۔ عمرہ فرض نہیں ہے عمرے جتنے بھی کیے جا حج ویسے ہی اگر کسی کی استطاعت ہو ہر سال کر سکتا ہے تو ہر سال بھی کر سکتا ہے۔ اور لیکن جو ترغیب ائی ہے حج کے اندر وہ یہ ہے کہ کم از کم پانچ سال کا وقفہ کر کے پانچ سال کے بعد حج کرنا چاہیے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript