[0:08]الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على النبي الامين اما بعد. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من يرد الله به خيرا يفقه في الدين. آج ہم بات کریں گے انشاء اللہ ضرورت التفقہ فی الدین. دین میں فقاہت حاصل کرنے کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی کیا ضرورت ہے۔ اور اس کے کیا فوائد ہیں۔ تو سب سے پہلی بات جب اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھیجا اور اپنی شریعت کو بھیجی، تو تمام لوگوں کے اوپر یہ واجب ہو گیا کہ وہ اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنے کے لیے اور اس کو سمجھنے کے لیے وحی سے اپنا کنیکشن اور اپنا تعلق جوڑیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اللہ تعالی نے ہم سے وہ اللہ تعالی ہمیں کیا حکم دے رہے ہیں، ہم سے کیا بات کر رہے ہیں، ہمیں کیا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، انہوں نے دین کی حفاظت کی، دین کی تعلیم حاصل کی، فقاہت حاصل کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور وہ علماء الصحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے، ان الانبیاء لم يورث دينارا ولا درهما علم علم جنہوں نے وہ علم لیا انہوں نے بہتر چیز لی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی کئی احادیث اور روایات میں دین کے علم حاصل کرنے کی بڑی ترغیب دی اور شیخ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ امام بخاری نے اپنی کتاب میں کتاب العلم قبل القول و العمل یعنی علم کو ترجیح دی اور اس کے لیے انہوں نے ایک اور باب باندھا کہ باب علم سب سے پہلے علم پھر علم یہ جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور اسی طرح اللہ تعالی نے قرآن میں بھی یہ فرمایا فلو من کل فرقه منهم طائفه لفقہ فی الدین لفقہ فقہ یعنی فقاہت حاصل کرنے کے لیے وہ لوگ جائیں۔ تو اس میں کوئی شک نہیں دین اس وقت تک قائم دائم رہے گا جب تک علم باقی رہے گا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے کیا فرمایا؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اللہ یعنی اللہ تعالی علم کو کیسے اٹھائے گا؟ اس کی ادھر بات ہو رہی ہے۔ اسی لیے سب سے پہلی چیز جو
[3:02]یعنی فقاہت حاصل کرنا یہ اعظم الجہاد ہے اعظم الجہاد فی الدین علم اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا جہاد کے بارے میں تو حضرت ابن عباس نے کیا کہا الا خیر من جہاد کیا میں تمہیں جہاد سے بہتر چیز کے متعلق نہیں بتاؤں انہوں نے بولا بالکل بتائیں تو قال مسجد القران سنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
[3:48]یعنی دین صرف اور حلال و حرام کا معنی نہیں ہے۔ دین اللہ کی معرفت، اللہ کے نبی کے معرفت اور توحید اور سلوک اور ان سارے چیزوں کا نام ہے دین ایک مجموعہ ہے جس میں احسان بھی ہے، ایمان بھی ہے، اسلام بھی ہے۔ اسی لیے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث جبریل طویل میں یہ فرمایا کہ جبریل کے متعلق حضرت جبریل کے متعلق تمھیں تمہارے دین کے متعلق بتلانے ائے تھے اور اس میں کس بارے میں بات ہوئی تھی؟ اسلام، احسان اور ایمان کے متعلق۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا علم واجب ہے؟ علم حاصل کرنا دین کے متعلق تو اس میں دو قسمیں ہیں نمبر ون فرض عین۔ ایک علم کا قسم وہ ہے جو ہر انسان، ہر مسلمان کے اوپر فرض عین ہے، سیکھنا لازم ہے اور اگر وہ نہیں سیکھے گا تو گنہگار ہے۔ مثال کے طور پر شہادت تو لا الہ الا اللہ، شہادتین کا معنی، توحید کا مطلب، اسما و صفات کا معنی۔ اسی طرح یعنی اجمالی اجمالی چیزیں، اسی طرح مثال کے طور پر یعنی یعنی اس میں سب سے نفع بخش جو چیز ہے وہ جیسے کہ شیخ فرماتے ہیں وہ کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی کتاب ہے سب سے بہترین کتاب ہے اس معاملے میں عقیدے کی یعنی چیزوں کو دیکھ کر پھر اسی طرح واجب ہو جاتی ہے ہمارے اوپر ہر بندے کے اوپر جو عبادات روزمرہ کی جو عبادات ہیں وہ لازم ہیں لا یعنی جن واجبات کا یعنی جن واجبات کے اوپر عمل کرنے کے لیے اس کا علم ہونا اپ کے اوپر ضروری ہے یعنی اگر اپ نے نماز پڑھنی ہے تو اپ کے اوپر یہ لازم ہے کہ اپ کو پتہ ہو نماز کا کیا طریقہ ہے، نماز سے پہلے وضو کا طریقہ جاننا، وضو کے کیا احکام ہیں، کیا شرائط ہیں یہ سارے واجبات میں سے ہیں
[5:42]تو انسان کے اوپر یہ لازم ہے کہ اس کے پاس ان روزمرہ عبادات کا علم ہو اگر وہ نہیں سیکھے گا تو وہ گنہگار ہو گا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حدیث بتائی کہ ہر مسلم علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے اوپر واجب ہے وہ کون سا ہے وہ یہ علم علم واجب جو ہر بندے کے اوپر لازم ہے۔ دوسرا علم کا جو قسم ہے وہ ہے وہ علم کہ علم یعنی جب وہ لوگ یہ حاصل کریں گے تو باقی سے گر جائے گا وہ علم جو کمال درجے کا ہے وہ ہر بندے کے اوپر لازم نہیں ہے وہ یہ ہے کہ بس ایک جماعت ایک گروہ یہ حاصل کرے تو باقیوں سے ساقط ہو جاتی ہے۔ جس کو ہم فرض کفایہ یا جس کو ہم انگلش میں کمیونل ڈیوٹی کہتے ہیں، کمیونل ڈیوٹی۔ ٹھیک ہے جی تو اب جب اپ کو یہ چیز واضح ہو جائے تو بندے کے اوپر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے جو علم واجب ہے علم فرض عینی ہے وہ حاصل کریں۔ پھر فرض کفایہ کے پاس جائیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم توحید کے متعلق اگر ہم پڑھیں یا تو اس میں پھر ہمارے کیا وہ ہونا چاہیے ایک بندہ مطلب یعنی علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تو توحید اور عقیدے کے میں اور علماء دو قسم کرتے ہیں۔ ایک توحید کا معاملہ جو ہے وہ جس میں توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور اسما و صفات داخل ہوتے ہیں دوسرے قسم وہ عقیدہ جس میں ارکان ایمان ستہ ٹھیک ہے جی ارکان ایمان یعنی ایمان ٹھیک ہے تو یہ توحید اعظم ہے، توحید اکبر ہے۔ اب یہ کیسے ہم حاصل کریں؟ اس میں علماء نے یہ کہا ہے کہ سب سے پہلے انسان ضروری ہے کہ توحید ربوبیت وہ یعنی توحید العبادہ توحید العبادہ یعنی اللہ تعالی کی عبادت میں وحدانیت اور یکتا ہونے کا یہ بہت ضروری ہے۔ اسی طرح یعنی پھر انسان اس میں حدیث اور قرآن سے پڑھے اور اسی طرح یعنی یعنی توحید ربوبیت کے متعلق پڑھے یعنی ایات جو ایات میں جس میں اللہ تعالی کی عظمت اللہ تعالی کی جو یعنی بیان کی گئی ہے۔ آگے شیخ فرماتے ہیں فی کتاب یعنی توحید العبودیہ عبادت کی توحید کو جاننے کے لیے اپ مفتاح جو امام ابن قیم کی کتاب ہے وہ پڑھنا چاہیے کیونکہ اس میں اللہ تعالی کی عظمت اللہ تعالی کی جو مختلف جو توحید ربوبیت میں توحید ربوبیت میں پڑھنے کے لیے اپ کو اس کی اس کتاب کی بہت ضرورت پڑے گی اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توحید عبادت اور توحید الوہیت میں اگر میں نے پڑھنا تو اس میں کون سی کتاب سے پڑھا جائے؟ تو اس میں جس کتاب سے پڑھنا چاہیے وہ ہے یعنی شیخ فرماتے ہیں جو زیادہ اچھا یہی عرب میں ایک طریقہ کار ہے۔ اس حساب سے ہم اگر بات کریں تو اس میں بہتر یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان پڑھے کتاب اصول ثلاثہ یعنی امام الدعوی امام محمد بن عبدالوہاب شیخ محمد بن عبدالوہاب کی کتاب ہے اس کو وہ پڑھے پھر اس کے بعد کتاب التوحید پڑھے پھر اس کے بعد کتاب کشف الشبوهات پڑھے اگر اس نے توحید العبادہ میں
[8:50]یعنی یہ تین مراتب ہیں شیخ فرماتے ہیں کہ ضروری ہے کہ انسان یا تو خود پڑھے یا کسی استاد سے پڑھے اور اس کے بعد پھر وہ کتاب یعنی توحید اور کشف الشبوهات اساتذہ اور مشائخ کے اوپر اوپر پڑھے اور اس میں شیخ فرماتے ہیں کہ ضروری ہے کہ یعنی بعض جو طلب علم بعض لوگ جو فطرت سلیمہ والے اور اہل توحید ہیں وہ توحید کے بعض مسائل کو نہیں سمجھ پاتے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ توحید کا علم حاصل نہیں کرتے۔ وہ ہر چیز میں پڑھتے ہیں لیکن ان میں سے جو کچھ لوگ ہیں وہ توحید کا علم حاصل نہیں کرتے اسی لیے شیخ نے ایک شاعر کا قول ذکر کیا ہے کہ وہ کتنے تعجب کی بات ہے اور عجائب بہت زیادہ ہے کہ دوائی اتنی قریب ہے لیکن کوئی اس کے تک پہنچ نہیں رہا اس طرح جس طرح ایک جانور جو شدت پیاس میں مرنے والا ہے لیکن پانی اس کے کمر پر ہے وہ اس کو لا کے پی نہیں سکتا۔ تو اسی طرح اس لیے بہت ضروری ہے کہ اپ توحید اپنے اپ کو بھی پڑھائیں اپنے دوستوں کو بھی اور اپنے گھر والے اور بچوں کو بھی ایک اچھے انداز میں بہت ضروری ہے تاکہ توحید جو ہے یہ سب سے اہم چیز ہے۔
[10:16]اس کے بعد شیخ فرماتے ہیں کہ یعنی اب جو طالب علم ہے وہ کیا کرے وہ اس کے بعد لمعۃ العقاد پڑھے ابن قدامہ کی پھر اس کے بعد واسیتیہ پڑھے شیخ الاسلام تیمیہ کی اور الحمویہ شیخ الاسلام تیمیہ کی پھر الطحاویہ اس کی شرح ابن ابی العز کے ساتھ اور یہ جو عقیدے ہیں اس میں اقسام شیخ نے ذکر کیا ہے کہا کہ یہ عقیدہ
[10:50]یعنی اپ نے جو اہل سنت والجماعت کا تعامل ہے اس کو پڑھنا ہے اہل بدعت سے جو مختلف ہے کیسے اپ حاکم وقت کے ساتھ کیسے تعامل کریں گے؟ یعنی اور جو گنہگار ہیں ان کے ساتھ امر و معروف میں کیسے تعامل کریں گے؟ صحابہ کے متعلق کیا ہو گا؟ اپ کا ائیڈیا اپ کا عقیدہ اپ کا ایمان اسی طرح امہات المومنین
[11:15]اللہ تعالی ان سے راضی ہو ان مسائل میں کیا ہوگا؟ اسی طرح تیسرا قسم جو شیخ فرماتے ہیں یعنی اہل سنت والجماعت اور سلف صالح تعبد میں عبادت گزاری میں اور شب بیداری میں ان کا کیا سلوک تھا۔ کیونکہ اہل سنت اپنے عقیدے میں نصاری یا یہود کی طرح نہیں ہے کہ صرف ایک عقلی بات ہو عقلی گفتگو ہو اور اس کا عملی طور پر کوئی نظر نہ ائے۔ اسی لیے شیخ الاسلام نے تیمیہ نے اپنی کتاب العقیدہ الواسطیہ میں اخر میں یہ ذکر کیا ہے قسم قسم سلوک جس میں شیخ فرماتے ہیں اور پھر اس کے بعد پھر وہ کتاب یعنی توحید اور کشف الشبوهات اساتذہ اور مشائخ کے اوپر اوپر پڑھے۔
[12:01]اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ عقیدہ اور جو اپ کا عقیدہ ہے اس کا اثر اپ کے عمل پر بھی ہونا چاہیے۔ اچھا جی ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں انشاء اللہ اگلی نشست میں ہم بات کریں گے انشاء اللہ طالب علم اور وہ بحث یعنی طالب علم اور وہ بحث اور ریسرچ کے متعلق کیا کرنا چاہیے اور اس کے متعلق ہم انشاء اللہ بات کریں گے بارک اللہ فیکم و صلی اللہ وسلم علی نبینا محمد و السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



