Thumbnail for Sultan Salahuddin Ayubi | Saladin | Ep 1 Dastan imaan faroshon ki by QAYAAM

Sultan Salahuddin Ayubi | Saladin | Ep 1 Dastan imaan faroshon ki

QAYAAM

13m 20s1,815 words~10 min read
Auto-Generated

[0:11]اسلام کا یہ حقیقی ڈرامہ 23 مارچ 1169 کے روز سے شروع ہوتا ہے۔ جب صلاح الدین ایوبی کو مصر کا وائسرائے اور فوج کا کمانڈر انچیف بنایا گیا۔ اسے اتنا بڑا رتبہ ایک تو اس لیے دیا گیا کہ وہ حکمران خاندان کا نو ن نہال تھا۔ اور دوسرے اس لیے کہ اوائل عمر میں ہی وہ فن حرب و ضرب کا ماہر ہو گیا تھا۔ سپاہ گری ورثے میں پائی تھی۔ اس کے ذہن میں حکمرانی کے معنی بادشاہی نہیں اسلام کی پاسبانی اور قوم کی عظمت اور فلاح و بہبود تھی۔ اس کا جب شعور بیدار ہوا تو پہلی قلیش یہ محسوس کی کہ مسلمان حکمرانوں میں نہ صرف یہ کہ اتحاد نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد سے بھی گریز کرتے تھے۔ وہ عیاش ہو گئے تھے شراب اور عورت نے جہاں ان کی زندگی رنگین بنا رکھی تھی۔ وہاں عالم اسلام اور خدا کے اس عظیم مذہب کا مستقبل تاریخ ہو گیا تھا۔ ان امیروں ان کے وزیروں اور مشیروں کے حرم غیر مسلم لڑکیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ زیادہ تر لڑکیاں یہودی اور عیسائی تھیں۔ جنہیں خاص تربیت دے کر ان حرموں میں داخل کیا گیا تھا۔ غیر معمولی حسن اور اداکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سربراہوں کے کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح کھا رہی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ سلیبی جن میں فرینک یعنی فرنگی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مسلمانوں کی سلطنتوں کے ٹکڑے ہڑپ کرتے چلے جا رہے تھے اور بعض مسلم حکمران شاہ فرینک کو سالانہ ٹیکس یا جزیا ادا کر رہے تھے۔ جس کی حیثیت غنڈا ٹیکس کی سی تھی۔ سلیبی اپنی جنگی قوت کے روپ سے اور چھوٹے موٹے حملوں سے حکمرانوں کو ڈراتے رہتے۔ کچھ علاقے پر قبضہ کر لیتے تاوان اور ٹیکس وصول کرتے تھے۔ ان کا یہ مقصد تھا کہ اہستہ اہستہ دنیا اسلام کو ہڑپ کر لیا جائے۔ مسلمان حکمران اپنی رعایا کا خون چوس کر ٹیکس دیتے رہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ انہیں عیش و اجرت میں پریشان نہ کیا جائے۔ فرقہ پرستی کے بیج بھی بو دیے گئے تھے ان میں سب سے زیادہ خطرناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا۔ جو صلاح الدین ایوبی کی جوانی سے ایک صدی پہلے معرز وجود میں ایا تھا۔ یہ مفاد پرستوں کا فرقہ تھا بے حد خطرناک اور پراسرار یہ لوگ اپنے اپ کو فدائی کہلاتے تھے۔ جو بعد میں حشیشین کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ وہ حشیش نام کی ایک نشا اور شہ سے دوسروں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے۔ صلاح الدین ایوبی نے مدرسے نظام الملک میں تعلیم حاصل کی۔ یاد رہے کہ نظام الملک دنیا اسلام کی ایک سلطنت کے وزیر تھے۔ یہ مدرسہ انہوں نے قائم کیا تھا جس میں اسلامی تعلیم دی جاتی اور بچوں کو اسلامی نظریات اور تاریخ سے بہروور کیا جاتا۔ ایک موق ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ہوئے تھے۔ کیونکہ وہ رومیوں کی توصی پسندی کی راہ میں چٹان بنے ہوئے تھے۔ رومیوں نے 1091 میں انہیں فدائیوں کے ہاتھوں قتل کروایا اور ان کا مدرسہ قائم رہا۔ صلاح الدین ایوبی نے وہیں تعلیم حاصل کی اسی عمر میں اس نے سپاہ گری کی تربیت اپنے بزرگوں سے لی۔ نور الدین زنگی نے اسے جنگی چالیں سکھائیں۔ ملک کے انتظامات کے سبق دیے اور ڈپلومیسی میں مہارت دی۔ اس تعلیم و تربیت نے اس کے اندر وہ جذبہ پیدا کر دیا جس نے اگے چل کر اسے سلیبیوں کے لیے بجلی بنا دیا۔ ابائے جوانی میں ہی اس نے وہ ذہانت اور اہلیت حاصل کر لی تھی جو ایک سالار اعظم کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے فن حرب و ضرب میں جاسوسی یعنی انٹیلیجنس کمانڈو اور گوریلا اپریشن کو خصوصی اہمیت دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ سلیبی جاسوسی کے میدان میں اگے نکل گئے ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگرد حملے کر رہے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی نظریات کے محاذ پر لڑنا چاہتا تھا۔ جس میں تلوار استعمال نہیں ہوتی اس کہانی میں اگے چل کر اپ دیکھیں گے کہ اس کی تلوار کا وار تو گہرا ہوتا ہی تھا۔ اس کی محبت کا وار اس سے کہیں زیادہ وار کرتا تھا۔ اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ہوتی ہے جو اس نے اوائل عمر میں ہی اپنے اپ میں پیدا کر لی تھی۔ اسے جب مصر کا وائسرائے اور کمانڈر ان چیف بنا کر مصر بھیجا گیا تو ان سینئر افسروں نے ہنگامہ برپا کر دیا جو اس عہدے کی اس لگائے بیٹھے تھے۔ ان کی نگاہ میں صلاح الدین ایوبی ابھی تفل مکتب تھا۔ مگر اس تفل مکتب نے جب خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ ایوبی نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور زبان پر پیار و محبت کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے اسے ایسی نگاہوں سے دیکھا جن میں تنز تھی اور تمسخور بھی تھا۔ وہ صلاح الدین ایوبی کے صرف نام سے واقف تھے بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افسر کے کان میں کہا۔ بچہ ہے اسے ہم پال لیں گے۔

[6:23]مرخ اور اس وقت کے واقع نگار یہ نہیں بتا سکتے کہ صلاح الدین ایوبی نے ان لوگوں کی نظریں بھانپ لی تھی یا نہیں۔ وہ استقبال کرنے والے اس ہجوم میں بچہ لگ رہا تھا۔ البتہ جب وہ ناجی کے سامنے مصافحے کے لیے رکا تو ایوبی کے چہرے پر تبدیلی سی ا گئی تھی۔ وہ ناجی سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا لیکن ناجی جو اس کے باپ کی عمر کا تھا۔ سب سے پہلے دربار خش امدیوں کی طرح جھکا۔ پھر ایوبی سے بغلگیر ہو گیا۔ اس نے ایوبی کی پیشانی چوم کر کہا۔ میرے خون کا اخری قطرہ بھی تمہاری جان کی حفاظت کے لیے بنے گا۔ تم میرے پاس زنگی اور شرکو کی امانت ہو میری جان عظمت اسلام سے زیادہ قیمتی نہیں۔ صلاح الدین ایوبی نے ناجی کا ہاتھ چوم کر کہا۔ محترم اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیے۔ سلیبی سیاہ گھٹاؤں کے مانند چھا رہے ہیں۔ ناجی جواب میں صرف مسکرایا جیسے صلاح الدین ایوبی نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔ صلاح الدین ایوبی اس تجربہ کار سالار کی مسکراہٹ کو غالبا نہیں سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خلافت کا پروردہ سالار تھا۔ وہ مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر تھا۔ جس کی نفری 50 ہزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔ یہ فوج اس دور کے جدید ہتھیاروں سے مسلح تھی اور یہ فوج ناجی کا ہتھیار بن گئی تھی۔ جس کے زور پر وہ بے تاج بادشاہ بنا بیٹھا تھا۔ وہ سازشوں اور مفاد پرستی کا دور تھا۔ اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی۔ سلیبیوں کی بھی نہایت دلکش تخریب کاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ ضرب پرستی اور تش کا دور دورا تھا۔ جس کے پاس ذرا سی بھی طاقت تھی اسے وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے اور دولت سمیٹنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ سوڈانی باڈی گارڈز فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراہوں کے لیے دہشت بنا ہوا تھا۔ خدا نے اسے سازش ساز دماغ دیا تھا۔ اسے اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا۔ بنانے اور بگاڑنے میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے صلاح الدین ایوبی کو دیکھا تو اس کے چہرے پر بالکل اسی طرح مسکراہٹ ا گئی جس طرح کمزور سے تشریف لائے ہیں۔ پہلے پتیاں بکھیرنی شروع کر دی۔ اور اس کے ساتھ دف کی تال پر تاوس و رباب اور شہنایوں کا مشور کن نغمہ ابھرا۔ ایوبی نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیا۔ ناجی اور اس کا نائب اس کے دائیں بائیں تھے۔ وہ دونوں جھک گئے اور اسے اگے چلنے کی دعوت دی۔ یہ وہ انداز تھا جسے مغل بادشاہوں نے ہندوستان میں رائج کیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی پھولوں کی پتیاں مسلنے نہیں ایا۔ ایوبی نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جو ان لوگوں نے پہلے کم ہی کبھی کسی ہونٹوں پر دیکھی تھی۔ ہم حضور کے راستے میں اسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ہیں۔ ناجی نے کہا۔ اگر میری راہ میں کچھ بچھانا چاہتے ہو تو وہ ایک ہی چیز ہے جو میرے دل کو بھاتی ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے مسکرا کر کہا۔ اپ حکم دیں۔ نائب نے کہا۔ وہ کون سی چیز ہے جو حضور کے دل کو بہلاتی ہے۔ سلیبیوں کی لاشیں صلاح الدین ایوبی نے مسکرا کر کہا۔ کی اواز میں جس میں قہر اور اعتاب چھپا ہوا تھا کہا۔ مسلمان کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں۔ جانتے نہیں ہو سلیبی سلطنت اسلامیہ کو چوہوں کی طرح کھا رہی ہیں۔ اور جانتے ہو وہ کیوں کامیاب ہو رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ ہم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ ہم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کے ان کی عصمتیں رون ڈالی ہیں۔ سے کہا۔ اٹھا لو یہ پھول اٹھا لو یہ میرے راستے سے میں نے ان پر قدم رکھا تو میری روح کانٹوں سے چھلنی ہو جائے گی۔ ہٹا دو لڑکیوں کو میرے راستے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تلوار ان کے اتنے دلکش سنہری بالوں میں الجھ کر بیکار ہو جائے۔ حضور کی جاہ و حشمت مجھے حضور نہ کہو صلاح الدین ایوبی نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کافر کی گردن کاٹ دی ہو۔ اس نے کہا میری جان فدا ہو اس حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ہے۔ میں یہی پیغام لے کے مصر ایا ہوں سلیبی مجھ سے یہ پیغام چھین کر بہرے روم میں ڈبو دینا چاہتے ہیں۔ شراب میں غرق کر دینا چاہتے ہیں۔ میں بادشاہ بن کے نہیں ایا۔ لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں سمیٹ کر وہاں سے ہٹ گئی تھیں۔ صلاح الدین ایوبی تیزی سے دروازے کے اندر چلا گیا۔ ایک وسیع کمرہ تھا۔ اس میں ایک لمبی میز رکھی تھی جس پر رنگ برنگے پھول بکھرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان روسٹ کیے ہوئے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیسے کیسے کھانے سجے ہوئے تھے۔ صلاح الدین ایوبی رک گیا اور اپنے نائب سے پوچھا۔ کیا مصر کا ہر ایک باشندہ اسی قسم کا کھانا کھاتا ہے؟ نہیں حضور۔ نائب نے جواب دیا۔ غریب لوگ تو ایسے کھانے کے خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ تم سب کس قوم کے فرد ہو۔ صلاح الدین ایوبی نے پوچھا۔ کیا ان لوگوں کی قوم الگ ہے جو ایسے کھانوں کے خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ کسی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر اس نے کہا اس جگہ جس قدر ملازم ہیں اور یہاں جتنے سپاہی ڈیوٹی پر ہیں۔ ان سب کو اندر بلاؤ یہ کھانا انہیں کھلا دو۔ اس نے لپک کر ایک روٹی اٹھائی اس پر دو تین بوٹیاں رکھی اور کھڑے کھڑے کھانے لگا۔ نہایت تیزی سے پوری روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈز کے کمانڈر ناجی کو ساتھ لے کر اس کمرے میں چلا گیا جو وائسرائے کا دفتر تھا۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript