Thumbnail for Biography Of Sheikh-ul-Hadith Maulana Idrees by JTR Media Official

Biography Of Sheikh-ul-Hadith Maulana Idrees

JTR Media Official

17m 48s3,112 words~16 min read
Auto-Generated

[0:00]جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں۔ آج کی اس ویڈیو میں تذکرہ اس عظیم ہستی کا جو جیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دین کی خدمت کے لیے جیا۔ اور جو قربان ہو کر رخصت ہوا۔ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قائم دارالاسلام پاکستان کے دفاع کے لیے رخصت ہوا۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں شیخ الحدیث۔ استاد المحدثین ہزاروں لاکھوں طلبہ کے استاد حضرت مولانا شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ تعالی کی۔ آئیے آج کی اس ویڈیو میں ہم شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ کی شخصیت کو سمجھتے ہیں ان کا تعارف حاصل کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہم کس قدر بڑی اور قد آور شخصیت سے محروم ہو گئے۔

[1:04]کسی بھی عظیم انسان کی شخصیت کی تعمیر اس کی نفسیاتی ساخت اور اس کی فکری رجحانات کے تعین میں اس کے خاندانی ماحول اور آبا و اجداد کے ورثے کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ مولانا شیخ محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ کی ولادت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی۔ جہاں کی فضاؤں میں ہی قال اللہ اور قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائیں گونجا کرتی تھیں۔ اور جہاں علم کو ایک مقدس امانت سمجھا جاتا تھا۔ ان کی پیدائش 1961 میں ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگ زئی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے تھا جس کی جڑیں برصغیر کے عظیم ترین علمی روایات سے جڑی ہوئی تھیں۔ مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ کے والد گرامی حکیم مولانا عبدالحق اپنے دور کے ایک نہایت ممتاز جید عالم دین اور صاحب بصیرت شخصیت تھے۔ ان کی علمی قابلیت مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مقامی سطح پر اور علمی حلقوں میں انہیں مناظر اسلام کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ مولانا ادریس صاحب کے دادا مفتی شہزادہ صاحب بھی اپنے وقت کے جید علماء میں شامل تھے۔ مفتی شہزادہ صاحب نے برصغیر کے عظیم اور تاریخی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے سند فضیلت حاصل کی تھی اور وہ بھی اپنے دور میں شیخ الحدیث کے جلیل القدر منصب پر فائز رہے تھے۔ علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ جیسے جید علماء بھی آپ کے دادا یعنی مفتی شہزادہ صاحب کے تلامذہ اور شاگردوں میں سے تھے۔ اس سے آپ اس خاندان کی عظمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولنا جہاں دادا دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الحدیث ہوں۔ اور والد مناظر اسلام کے لقب سے متصف ہوں مولانا ادریس صاحب کے لیے بھی ایک بہت بڑا اعزاز تھا اور اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی تھی۔ جسے انہوں نے اپنی پوری زندگی بخوبی نبھایا۔ پھر مولانا محمد ادریس صاحب کا نکاح ایک ایسے خاندان میں ہوا۔ جس کے علمی فضیلت، زہد وتقویٰ اور دینی خدمات کی گواہی پوری اسلامی دنیا دیتی ہے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر معروف جید عالم دین اور عظیم مفکر شہید پاکستان مولانا حسن جان شہید رحمہ اللہ کے داماد بھی تھے۔ یہ وہی مولانا حسن جان شہید رحمہ اللہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان میں خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ دے کر اپنی جان ہتھیلی پہ رکھی تھی۔ اور بالاخر انہیں بھی فتنہ الخوارج کے انہی بدبختوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنا پڑا جن کے ہاتھوں آج مولانا ادریس صاحب جان جان آفرین کے سپرد کر چلے ہیں۔ مولانا محمد ادریس صاحب کا تعلیمی سفر اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ انہوں نے قدیم و جدید علوم کو کس خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ اپنی ذات میں سمو لیا تھا۔ علم کی تشنگی دور کرنے کے لیے شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ کا پہلا پڑاؤ تو ان کے آبائی علاقے اتمان زئی میں واقع مشہور دینی درسگاہ جامعہ نعمانیہ تھا۔ انہوں نے درس نظامی کے ابتدائی علوم و فنون یعنی صرف و نحو، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، منطق، فلسفہ اور دیگر ابتدائی اور ثانوی علوم میں مہارت جامعہ نعمانیہ ہی سے حاصل کی۔ جب احادیث مبارکہ کی اعلیٰ ترین تعلیم یعنی دورہ حدیث کا وقت آیا تو مولانا ادریس صاحب نے اکوڑا خٹک میں واقع عالمی شہرت یافتہ درسگاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑا خٹک کا رخ کیا۔ دارالعلوم حقانیہ میں انہوں نے اپنے وقت کے کبار محدثین اور جید اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمزہ طے کیا اور باقاعدہ طور پر امتیازی نمبرات حاصل کر کے دورہ حدیث یعنی درس نظامی مکمل کر لیا۔ مولانا ادریس صاحب کے علمی اور فکری بصیرت کا ایک انتہائی شاندار اور قابل تقلید پہلو یہ تھا کہ انہوں نے محض روایتی دینی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ جدید تقاضوں اور عصری جامعاتی تعلیم کی اہمیت کو بھی شدت سے محسوس کیا اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے پشاور یونیورسٹی کا رخ کیا اور دو مختلف مضامین یعنی اسلامیات اور عربی میں اعلیٰ تعلیم مکمل کرتے ہوئے ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا ادریس صاحب کے تدریسی سفر کا باقاعدہ آغاز 1983 میں اسی مادر علمی یعنی جامعہ نعمانیہ اتمان زئی سے ہوا جہاں سے انہوں نے سلسلہ تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ اور 1992 میں اپ کو درس حدیث دینے کی ذمہ داری بھی تفویض ہوئی۔ آپ تقریبا 1997 یعنی 1997 تک یہاں تدریس فرماتے رہے۔ پھر دارالعلوم اسلامیہ تنگئی میں بطور شیخ الحدیث فائز ہوئے اور نو سال تک دورہ حدیث کی تمام کتب پڑھاتے رہے۔ پھر وہاں سے اپنے گاؤں واپس آئے اور چھ سال تک جامعہ عبداللہ بن مسعود ترنگ زئی میں صحیح بخاری، جامع ترمذی، مؤطا امام مالک اور مؤطا امام محمد پڑھاتے رہے۔ اور اب 2013 سے تاحال جامعہ نعمانیہ اتمان زئی میں شیخ الحدیث اور صدر مدرس کے مسند پر فائز رہے۔ صحیح بخاری اور ترمذی شریف کو پڑھاتے ہوئے اپ کو مسلسل 30 سال ہو گئے ہیں۔ الاوازی شعبان کی چھٹیوں میں اب دورہ تفسیر بھی پڑھاتے رہے۔ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑا خٹک میں ڈاکٹر شیخ شیر علی شاہ صاحب کے وفات کے بعد مہتم جامعہ مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کے شدید اصرار اور خواہش پر وہاں بھی درس حدیث شروع کیا۔ اللہ تعالی نے آپ کو درس حدیث کا خصوصی ملک عطا فرمایا تھا اور بہت بڑا حلقہ طلباء اپ سے مستفید ہوتا تھا۔ جامعہ نعمانیہ اتمان زئی چارسدہ میں فضلائے دورہ حدیث کی تعداد عموما 1200 سے 1500 کے درمیان ہوتی تھی۔ اور جامعہ حقانیہ میں یہ تعداد لگ بھگ 2000 سے بھی متجاوز تھی۔ گویا بیک وقت تقریبا تین سے ساڑھے تین ہزار طلباء آپ سے دورہ حدیث شریف میں حدیث شریف کا سبق پڑھتے تھے قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائیں سیکھتے تھے۔ یقینا یہ بہت بڑا اعزاز تھا جو اللہ نے حضرت شیخ صاحب کو عطا فرمایا۔ درس و تدریس کی اہم ترین مصروفیات کے باوجود مولانا ادریس صاحب نے عوام الناس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے محاذ سے بھی کبھی غفلت نہیں برتی۔ وہ خیبر پختون خواہ کے ان گنے چنے علماء میں سے تھے جن کے بیانات اور خطابات عوام و خاص میں بے حد مقبول تھے۔ انہوں نے اپنی مادری زبان پشتو کو دعوت و تبلیغ کا موثر ترین ذریعہ بنایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مقامی زبان میں دیا گیا پیغام سیدھا دل میں اترتا ہے۔ ان کے خطابات کے موضوعات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ان میں انتہائی وسعت اور تنوع پایا جاتا تھا۔ وہ عقائد کی درستی، اسلامی تاریخ کی تفہیم، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی پہلوؤں قصص الانبیاء کی حکمتوں اور صحابہ کرام کے عدل و انصاف پر مبنی واقعات پر ہمیشہ زور دیتے تھے۔ ایک عالم و رہنما کا پہلا امتحان پتا ہے کیا ہوتا ہے اس کا اپنا گھر ہوتا ہے۔ مولانا ادریس صاحب نے اپنی گھریلو زندگی میں بھی انہی اصولوں کی پاسداری کی جن کی وہ ممبر سے تلقین کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے انہیں دو لائق اور ہونہار فرزندان سے نوازا اور ان دونوں بیٹوں کی تعلیم و تربیت کے انتخاب میں مولانا کی دور اندیشی اور دین و دنیا کا حسین توازن نظر آتا ہے۔ ان کے ایک بیٹے مولانا انیس احمد انتہائی موقر عالم دین جبکہ دوسرے صاحبزادے ڈاکٹر سلمان ایک قابل ڈاکٹر ہیں۔ یعنی دونوں میں سے ایک ہیں جو روحانی معالج ہیں اور دوسرے ہیں جو جسمانی معالج ہیں اور یہ دونوں ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب ملک کی معروف مذہبی سیاسی جماعت جمیعت العلماء اسلام کے انتہائی فعال اور سرکردا رہنماؤں میں شامل ہوتے تھے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں تنظیمی مہارت اور عوام میں بے پناہ مقبولیت کی بنا پر انہیں ضلع چارسدہ کے لیے جماعت کا امیر اور پھر سرپرست اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد کا ایک نہایت اہم سنگ میل اس وقت ایا جب بیسویں صدی کے اوائل میں مولانا محمد ادریس صاحب نے جمیعت العلماء اسلام ف اور متحدہ مجلس عمل کے مشترکہ پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایف 20 چارسدہ سے جنرل نشست پر انتخابات میں حصہ لیا اور شاندار عوامی تائید کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 2002 میں صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے اپنے عہدے کا باضابطہ حلف اٹھایا۔ اسمبلی میں ان کی موجودگی محض ایک روایتی سیاستدان کی نہیں بلکہ ایک شرعی نگہبان اور نظریاتی محافظ کی بھی تھی۔ انہوں نے پورے پانچ سال اپنے پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کیں اور اپنی مدت بخیر و خوبی مکمل کی۔ اسمبلی کی رکنیت کے دوران ان کی علمی قابلیت اور شرعی فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کئی انتہائی اہم اور حساس ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں جن کا دائرہ کار براہ راست قانون سازی اور ریاستی پالیسیوں سے جڑا ہوا تھا۔ لہذا صوبے میں اسلامی قوانین کے تدریجی نفاذ اور ریاستی ڈھانچے کی اسلام کاری اسمبلی کی قانون سازی کو قران و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کے مشکل ترین مشن کے لیے انہیں نفاذ شریعت کونسل کا اہم ترین رکن بنایا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں صوبائی اسمبلی کی پریس کمیٹی کا چیئرمین بھی منتخب کیا گیا۔ یہ ایک نہایت اہم عہدہ تھا جس کا کام ذرائع ابلاغ کے ساتھ اسمبلی کے روابط کو منظم کرنا، صحافتی برادری کے مسائل کو حل کرنا اور اسمبلی کی کارروائیوں کو شفاف انداز میں عوام تک پہنچانے کے عمل کی نگرانی کرنا بھی تھا۔ ایک عالم دین کا پریس کمیٹی کے کا سربراہ ہونا ان کی میڈیا کے حوالے سے وسیع و نظری کی روشن دلیل ہے۔ سیاست کے اس طویل اور اقتدار کی راہداریوں میں گزرنے والے سفر میں سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ انہوں نے اپنی سیاست کو کبھی بھی ذاتی مفادات اقرباء پروری یا مالی منفیت کے لیے استعمال نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اقتدار یا اسمبلی کے رکنیت کوئی مراعتی عہدہ نہیں بلکہ ایک بھاری عوامی امانت تھی۔ ان کی سادگی مالی دیانت اور عوام سے بے لوث محبت نے انہیں چارسدہ کے لوگوں کا محبوب ترین رہنما بنا دیا۔ یہاں میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ عوامی محبت کا اندازہ اپ اس بات سے لگائیے کہ ابھی کچھ روز پہلے تقریبا دو سے تین روز پہلے جب ان کے بہت ہی قریبی احباب نے ان کو یہ مشورہ دیا کہ حضرت اپ اپنی سیکیورٹی کا بھرپور خیال رکھیں۔ اپ گھر سے باہر کم نکلیں لوگوں سے ملنا جلنا کم کر دیں تو ان کا ایک ہی جواب تھا کہ میں نے ساری زندگی اپنا گھر لوگوں کے لیے کھلا رکھا ہے۔ یہ لوگ ہی میرے سب سے محبوب ترین میرا محبوب ترین اثاثہ ہیں۔ میں ان سے کسی بھی صورت دور نہیں ہو سکتا اور انہوں نے ہمیشہ اپنے اپ کو جس طرح عوامی رکھا تھا آخر وقت تک انہوں نے خود کو ایک عوامی رہنما ایک عوامی عالم دین کے طور پر رکھا اور بالاخر جام شہادت نوش کیا۔ خیر کسی بھی کسی بھی عظیم شخصیت کی زندگی اور اس کی موت کے اسباب کو سمجھنے کے لیے اس کے نظریات اور اس کے عصری جغرافیائی اور سیاسی حالات کا مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے۔ خیبر پختون خواہ کا خطہ گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہا پسندی، دہشت گردی اور مختلف مسلح گروہوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ اس پر آشوب اور پرخطر ماحول میں ایک عالم دین کے لیے حق اور سچ کی بات کرنا اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا اپنی حکومت کے اچھے کاموں کی تحسین کرنا اپنے سر پر کفن باندھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ مولانا محمد ادریس صاحب کا تعلق دیوبند مکتب فکر سے تھا اور وہ ہمیشہ سے اعتدال پسندی، رواداری اور پرامن سیاسی سیاسی جدوجہد کے قائل تھے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے اندر مختلف شدت پسند تنظیموں نے اپنا سر اٹھایا ہوا ہے۔ ان میں ٹی ٹی پی جیسے خارجی گروہ بھی ہیں اور دیگر مختلف تنظیمیں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔ ریاست پاکستان اس کے آئین اور فوج کے خلاف مسلح کاروائیوں کو جائز قرار دینا ان کا وتیرہ ہے۔ حکمرانوں کی تکفیر کرنا ان کی سب سے بڑی علامت ہے۔ کیونکہ یہی تو خوارج کی سب سے بنیادی علامت ہے۔ ایسے کٹھن اور خطرناک حالات میں جب خوف کے مارے کئی لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اپنے کام سے کام رکھنے کو سب سے بیسٹ اپشن سمجھتے ہیں۔ اپنے حجرے تک خود کو محدود کر لیتے ہیں۔ مسجد اور مصلے سے باہر نہیں اتے۔ مولانا ادریس صاحب نے حق گوئی کو چنا۔ انہوں نے اپنی خطابت اور بیانات کے ذریعے ریاست پاکستان کے استحکام کی بات کی۔ ایک حالیہ خطاب میں جس نے وسیع تر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی مولانا نے پاکستان کی مسلح افواج اور خاص طور پر ارمی چیف فیل مارشل اسم منیر کی خدمات اور دہشت گردی کے خلاف ان کے کردار کی کھل کر تعریف و توصیف کی تھی۔ ان کی جانب سے ریاستی اداروں اور ارمی چیف کی اس اعلانیہ حمایت نے شدت پسند اور باغی گروہوں کو سیخ پا کر دیا تھا۔ ناظرین محترم علماء و صالحاء کی زندگیاں جس قدر پاکیزہ منظم اور عوام کے لیے نفع بخش ہوتی ہیں ان کا اختتام اور موت بھی اسی قدر باوقار اور قابل رشک ہوتی ہے۔ ایک عالم دین جس نے اپنی پوری جوانی اور بڑھاپا قال اللہ اور قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج میں گزارا ہو اور جو درس حدیث دینے کے لیے مسند کی جانب گامزن ہو۔ اگر وہ اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنا خون اللہ کے حضور پیش کر دے اور جرم بھی ہو وطن کی محبت دارالاسلام کی محبت پاکستان کی محبت تو اس سے بڑھ کر ابدی خوش نصیبی اور ہو بھی کیا سکتی ہے۔ منگل 5 مئی 2026 کا سورج خیبر پختونخواہ کے عوام ضلع چارسدہ کے باسیوں علم حدیث کے ہزاروں طلبہ اور پورے ملک بلکہ پوری ملت کے لیے ایک ایسا اندوہناک دلخراش اور سیاہ دن لے کر طلوع ہوا جس نے علم و فضل کی ایک پوری کائنات کو سوگوار اور اداس کر دیا۔ اس منگل کی صبح شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب جن کی عمر اس وقت لگ بھگ 65 برس تھی۔ اپنے روزمرہ کی پاکیزہ مصروفیات کے لیے یعنی درس حدیث دینے کے لیے گھر سے نکلے تھے کہ چارسدہ کے علاقے طارق آباد اتمان زئی کے مقام پر پہلے سے گھات لگائے موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے ان کی گاڑی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ظالموں نے اس بات کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہ کیا کہ وہ کس جلیل القدر ہستی کس عظیم اور بوڑھے سفید ریش عالم دین اور کس محسن قوم پر گولیاں برسا رہے ہیں۔ اور ان کو رحم اتا بھی کیوں کیونکہ یہ جو خوارج ہیں یہ وہ گروہ ہیں جنہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے جلیل القدر صحابی چوتھے خلیفہ راشد نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد سیدہ فاطمہ کے شوہر حسن و حسین کے ابا ان کو نہیں بخشا۔ ان کے اوپر ان کو ترس نہیں ایا تو مولانا ادریس صاحب یا کسی اور عالم دین پر ان بدبختوں کو کیسے ترس ا سکتا ہے؟ ان کے دلوں پر اللہ تعالی نے ایسی مہر لگا چھوڑی ہے کہ یہ کچھ بھی کر لیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا علاج صرف اور صرف ایک ہے جہاں ملے چن چن کر ان کو مار دو اور یہ وہ واحد علاج ہے جو اج سے 14 15 سو سال پہلے نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بتا دیا تھا کہ یہ قیامت تک اتے رہیں گے اور تم ان کو چن چن کر مارتے رہو گے۔ خیر اس سفاکانہ منظم اور بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں مولانا ادریس صاحب شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازا زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ عظیم محدث کا اپنے ہی خون میں نہا جانا اور وہ بھی درس حدیث دینے کے پاکیزہ راستے میں اسلامی تاریخ کے ان اولین اور جلیل القدر شہداء کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دیتا ہے جنہوں نے دین حق کی سربلندی اور باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی پاداش میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ جن کی سب سے بڑی مثال میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نام کی صورت اپ کو پیش کر دی ہے۔ حضرت مولانا ادریس صاحب کی شہادت کا یہ واقعہ محض ایک مقامی سانحہ نہیں تھا بلکہ دہشت گردی کی اس لہر کا ایک اور بھیانک چہرہ تھا جو علم، عمل، امن اور ریاست کے وفاداروں کو نشانہ بناتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگ زئی صاحب کی جسمانی زندگی کا سفر اگرچہ 5 مئی 2026 کی صبح قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر اختتام پذیر ہو گیا لیکن ان کے علمی تدریسی اور فکری خدمات کا افتاب ہمیشہ پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہے گا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 65 بہاریں جن عظیم مقاصد یعنی احیائے دین، علوم نبویہ کی ترویج، معاشرتی اصلاح اور علائے کلمۃ الحق کے لیے صرف کیں۔ انہیں تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ضرور رکھیں گی۔ تاریخ انہیں ایک ایسے بہادر اور مرد درویش کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی جس نے علم کی مسند سے لے کر ایوان اقتدار تک حق کا پرچم سر بلند رکھا اور بالاخر اپنے پاکیزہ لہو سے اس پرچم کی آب یاری کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ مقولہ مشہور ہے نا کہ عالم کی موت عالم کی موت ہوتی ہے اور مولانا محمد ادریس صاحب کی شہادت اس مقولے کی سچی اور عملی تفسیر ہے۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ہم سب کو بطور ملت اس بات کی فقر کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ اخر کب تک ہم ایسے صفاق، ایسے بدبخت، ایسے ناپاک گروہوں کی خاموشی صحیح مگر پشت پناہی کرتے رہیں گے۔ آخر کب تک ہم ان کے خلاف مل کر بیک اواز ہو کر میدان میں نہیں ائیں گے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript