[0:03]ایک بھالو اور دو دوست۔
[0:11]ایک دفعہ کی بات ہے دو جگری دوست رون اور جون تھے۔ انہوں نے دنیا گھوم گھوم کر دنیا دیکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ایک دن جنگل جانے کا فیصلہ کر لیا۔ جنگل بہت گھنا تھا۔ وہ جانتے تھے یہ خطرناک ہے۔ یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا تھا اس لیے ہم دونوں ایک دوسرے کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے چاہے کیسا بھی خطرہ ا جائے۔
[0:40]ہاں جنگل بہت خطرناک تھا۔ اس لیے انہوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ چاہے کیسا بھی خطرہ ا جائے وہ ایک دوسرے کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ یکایک انہوں نے ایک تیز گرزدار آواز سنی دیکھا ایک لحیم شہیم بھالو ان کی طرف ہی ا رہا ہے۔ وہ دونوں خوفزدہ ہو گئے۔
[1:17]رون تیزی سے قریب کے ایک درخت پر چڑھ گیا جون پیچھے رہ گیا۔ وہ درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا۔ تو اس نے رون سے پوچھا کیا تم میری چڑھنے میں مدد کر سکتے ہو؟ کیا تم میری درخت پہ چڑھنے میں مدد کر سکتے ہو؟ بھالو مجھے کھا جائے گا۔ مہربانی کر کے مدد کرو۔ میں نیچے نہیں ا سکتا بھالو ادھر پہنچ رہا ہے اور ادھر چھپنے کی کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔ جاؤ کہیں اور جا کے چھپ جاؤ۔ رون جون کی مدد نہیں کر سکا لیکن جون ایک ہوشیار لڑکا تھا۔ اس نے سکول میں اپنی استانی سے سنا تھا کہ بھالو مردہ مخلوق کو نہیں کھاتا۔ اور اب اس نے اپنے دماغ سے کام لیا اور سانس روک کے سیدھا زمین میں پڑ گیا۔ بالکل اس طرح جیسے کہ مردہ۔ بھالو زمین پہ پڑے ادمی کے قریب ایا اس نے اس کے کان سونگھے اور دھیرے سے جگہ چھوڑ دی۔ کیونکہ بھالو مردہ مخلوقات کو ہاتھ نہیں لگاتے ہیں۔ بھالو کے چلے جانے کے بعد دوست درخت سے نیچے ایا اور اس نے اپنے دوست جون سے پوچھا بھالو نے تمہارے کان میں کیا سرگوشی کی؟ بھالو مجھے نصیحت کر رہا تھا کہ جھوٹے دوست پر اعتبار نہ کرنا۔ وہ مشکل گھڑی میں تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ اوہ



