Thumbnail for 04-Lecture (Lisan-ul-Quran-2024) By Amir Sohail by Lisan ul Quran by Ustad Amir Sohail

04-Lecture (Lisan-ul-Quran-2024) By Amir Sohail

Lisan ul Quran by Ustad Amir Sohail

24m 0s4,153 words~21 min read
Auto-Generated

[0:15]اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم رب اشرح لی صدری و یسر لی امری واحل عقدۃ من لسانی یفقہو قولی رب یسر ولا توثر بالخیر امین یا رب العالمین

[0:29]لسان القران کورس 2024 کے چوتھے لیکچر میں اپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ پچھلے لیکچر میں ہم نے کلمہ کی قسم اسم کے بارے میں تفصیل سے جانا تھا۔ کہ کیا کیا چیزیں جو ہیں وہ اسم میں شامل یا داخل ہیں۔

[0:44]اور ہمیں پتہ چلا تھا کہ عربی زبان میں استعمال ہونے والا نام وہ چاہے کسی شخص کا ہو، کسی چیز کا ہو، کسی جگہ کا ہو، کسی کام کا ہو۔

[0:54]وہ اسم ہوگا پھر نام کی جگہ استعمال ہونے والے الفاظ جنہیں ہم ضمائر کہتے ہیں وہ بھی اسم ہوں گے اور پھر صفات کو بھی ہم نے اسم میں شامل کیا تھا اور صفات کی ایک لمبی تفصیل ہمارے سامنے ائی تھی۔

[1:12]کہ کون کون سی چیزیں جو ہیں وہ عربی گرامر کی صفات میں داخل ہیں جن میں اسم الفاعل اسم المفعول صفت مشبہ اسم المبالغہ اور اسم التفزیل شامل ہیں۔

[1:21]اج کے لیکچر میں ہم انشاء اللہ تعالی اسم کے بارے میں مزید کچھ باتیں جاننے کی کوشش کریں گے جیسا کہ اپ سکرین پر لکھا ہوا دیکھ رہے ہیں کہ عربی زبان میں ہم جو بھی اسم استعمال کریں گے اس اسم کی جنس کے بارے میں ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ اسم عربی زبان میں مذکر ہے یا مونث ہے۔

[1:37]اسم کے عدد کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ اسم عدد کے اعتبار سے واحد ہے یا جمع ہے۔

[1:44]اسم کی وسعت کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ اسم وسعت کے اعتبار سے معرفہ ہے یا نکرہ ہے۔

[1:51]اسم کے اعراب کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ اسم مرفوع ہے، منصوب ہے یا پھر مجرور ہے۔

[1:58]ان میں سے اپ نے جنس کے حوالے سے تو اردو زبان میں بھی پڑھا ہوا ہے کہ اسم جو ہے وہ جنس کے اعتبار سے یا مذکر ہوتا ہے یا پھر مونث ہوتا ہے۔

[2:07]عدد کے اعتبار سے بھی کچھ نہ کچھ پڑھا ہوا ہے کہ وہ اسم جو ہے وہ عدد کے اعتبار سے واحد ہوتا ہے یا جمع ہوتا ہے وسعت کے اعتبار سے بھی پڑھا ہوا ہے کہ وہ اسم نکرہ ہوتا ہے یا معرفہ ہوتا ہے لیکن اعراب کے اعتبار سے اپ نے نہیں پڑھا ہوا۔

[2:22]تو اعراب جو ہے بالکل نیا کنسیپٹ ہوگا اپ کے لیے عربی زبان میں باقی جو ہیں وہ کچھ نہ کچھ اپ اردو زبان کے حوالے سے جانتے ہی ہیں۔

[2:32]تو چلتے ہیں جی اسم کی جنس کی طرف تو نوٹ کر لیں کہ عربی زبان میں استعمال ہونے والا کوئی بھی اسم جنس کے اعتبار سے یا تو مذکر ہوتا ہے یا پھر مونث ہوتا ہے۔

[2:42]اگر وہ اسم مذکر یا مونث نہیں ہوتا تو اس اسم کا استعمال یا تو مذکر کے طور پر کیا جاتا ہے یا پھر مونث کے طور پر کیا جاتا ہے۔

[2:52]اور ایسا اردو میں بھی ہوتا ہے اردو میں بھی استعمال ہونے والا اسم یا تو مذکر ہوتا ہے یا مونث ہوتا ہے یا پھر وہ مذکر مونث نہیں ہوتا بلکہ اس کا استعمال جو ہے وہ مذکر یا مونث کے طور پر کیا جاتا ہے۔

[3:19]اور اسی طرح قلم جو ہے یہ نہ مذکر ہے نہ مونث ہے لیکن قلم کا استعمال اردو زبان میں مذکر کے طور پر کیا جاتا ہے۔

[3:30]تو بالکل اسی طرح عربی زبان میں بھی جو اسم استعمال ہوگا وہ یا تو جنس کے اعتبار سے مذکر ہوگا یا پھر مونث ہوگا اور اگر وہ مذکر یا مونث نہیں ہوگا تو اس کا استعمال جو ہے عربی زبان میں مذکر اسم کے طور پر ہوگا یا مونث اسم کے طور پر ہوگا۔

[3:44]تو یہ دو مختلف باتیں ہیں اور اج کے لیکچر میں انشاء اللہ تعالی یہ دونوں باتیں ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ عربی زبان میں استعمال ہونے والا کون کون سا اسم مذکر ہے یا مونث ہے اور یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ اگر وہ اسم مذکر یا مونث نہیں ہے۔

[3:59]تو اس کا استعمال جو ہے عربی زبان میں مذکر اسم کے طور پر ہوگا یا مونث اسم کے طور پر ہوگا۔ تو ہم ان دو میں سے ایک کو اچھی طرح پڑھ لیں گے تو مذکر و مونث میں سے ہم مونث کو تفصیل سے پڑھتے ہیں جی۔

[4:26]تو ہم جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ عربی زبان میں استعمال ہونے والا کون کون سا اسم مونث ہے اور کون کون سا اسم جو ہے وہ مونث ہے تو نہیں لیکن مونث کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

[4:38]تو مونث کی اقسام ہم پڑھتے ہیں جی سب سے پہلے مونث کی دو اقسام ہیں ذہن میں رکھیے گا۔ پہلی قسم ہے مونث حقیقی جسے اپ فیمیل کہہ سکتے ہیں۔

[4:47]یعنی مونث حقیقی سے مراد وہ مونث ہے جو واقعی مونث ہو، جو حقیقی طور پہ مونث ہو، جو فیمیل ہو۔

[4:56]چاہے وہ انسان میں ہو، چاہے وہ جانور میں ہو۔ جاندار میں فیمیل کا جو تصور ہے وہ عربی زبان میں مونث حقیقی قرار دیا جائے گا۔

[5:07]اور مونث حقیقی جو ہے ہر زبان میں ہی مونث ہوتا ہے چاہے زبان اردو ہو، چاہے زبان انگریزی ہو، چاہے زبان فارسی ہو، چاہے زبان پنجابی ہو، چاہے زبان عربی ہو۔ حقیقی مونث ہر زبان میں مونث ہی ہوتا ہے۔

[5:25]تو مونث کی پہلی قسم ہے جی مونث حقیقی جسے ہم فیمیل کہہ رہے ہیں جیسے امرا عربی زبان میں عورت کے لیے لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور عورت ایک مونث اسم ہے یعنی فیمیل ہے۔

[5:36]اس کے بعد دوسرا لفظ ہے ناقہ، ناقہ کہتے ہیں اونٹنی کو اور اونٹنی کے مقابلے میں اپ جانتے ہیں میل یعنی اونٹ موجود ہے۔

[5:44]اور تیسرا لفظ میں نے لکھا ہوا ہے عتان، عتان کہتے ہیں گدھی کو فیمیل ہے کیونکہ گدھی کے مقابلے میں گدھا موجود ہے۔

[5:53]تو مونث حقیقی میں کون کون سی مونث ائیں گی؟ وہ مونث ائیں گی جن کے مقابلے میں کوئی میل ہو۔

[5:57]دوسرے فیمیلز کے نام بھی ہم مونث ہی قرار دیں گے۔ جیسے مریم اب مریم جو ہے یہ ایک مونث کا نام ہی رکھا جاتا ہے ہمارے ہاں۔

[6:08]اسی طرح فاطمہ یہ بھی مونث کا نام ہے۔ اسی طرح حسنا اسی طرح اسماء یہ چار نام اپ کے سامنے ایگزیمپلز کے طور پہ میں نے دیے ہیں یہ چاروں کے چاروں جو ہیں یہ مونث کے نام ہیں۔

[6:20]اور مونث حقیقی میں ہم ان اسماء کو بھی شامل کریں گے جو فیمیلز کے لیے استعمال ہوں۔

[6:26]جیسے ام کا لفظ جو ہے عربی زبان میں ماں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ابنا کا لفظ عربی زبان میں بیٹی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مرضع کا لفظ جو ہے عربی زبان میں دایا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

[6:40]تو مونث حقیقی میں ہم نے تین قسم کے اسماء پڑھے ہیں نمبر ایک وہ جن کے مقابلے میں کوئی میل ہو۔ نمبر دو فیمیلز کے نام نمبر تین فیمیلز کے لیے ان کا استعمال۔

[6:53]امید ہے مونث کی پہلی قسم جو مونث حقیقی ہے وہ اپ کو سمجھ میں ا گئی ہوگی اب چلتے ہیں جی مونث کی دوسری قسم کی طرف۔

[7:00]اور یہ جو دوسری قسم ہے یہ مونث غیر حقیقی ہے جسے مونث مجازی بھی کہتے ہیں مونث لفظی بھی کہتے ہیں۔

[7:07]غیر حقیقی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فیمیلز نہیں ہوتے یعنی یہ مونث نہیں ہوتے ان کو استعمال مونث کے طور پر کیا جاتا ہے۔

[7:16]مجازی اس لیے کہتے ہیں کہ اصلا یہ مونث نہیں ہوتے مجازا انہیں مونث بولا جاتا ہے۔ اور لفظی انہیں اس لیے کہتے ہیں کہ لفظی طور پر یہ مونث ہوتے ہیں۔

[7:27]تو مونث کی دوسری قسم ہے غیر حقیقی یا مجازی یا لفظی اب نیچے اپ لکھا ہوا دیکھ رہے ہیں کہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے جو حقیقی مونث نہ ہوں لیکن ان کو مجازا یا لفظا مونث کہا جائے یعنی استعمال مونث کے طور پر کیا جائے۔

[7:43]اب یہ جو مونث غیر حقیقی ہے اس کی اگے دو قسمیں ہیں جی۔ پہلی قسم ہے علامتی یا قیاسی مونث یعنی مونث کی کوئی علامت ہم فکس کر لیں گے اور اس علامت پر قیاس کرتے ہوئے ہم اس اسم کے مونث ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

[8:12]علامتی یا قیاسی مونث سے مراد ایسا غیر حقیقی مونث ہے جس میں مونث کی علامات میں سے کوئی علامت پائی جائے مونث کی تین علامات ہیں۔

[8:21]اگر کسی اسم میں اپ کو مونث کی جو علامات ہیں ان میں سے کوئی علامت مل جائے تو وہ اسم اپ نے مونث غیر حقیقی ڈکلیئر کر دینا ہے۔

[8:31]اب مونث کی کتنی علامات ہیں اور کون کون سی علامات ہیں تو نوٹ کر لیں مونث کی تین علامات ہیں پہلی علامت ہے گول تا اور اس گول تا کو گرامر میں تائے مربوطہ کہتے ہیں۔

[8:44]دوسری علامت جو ہے مونث کی وہ ہے الف ممدودہ اور الف ممدودہ اس الف کو کہا جاتا ہے جس کے بعد ایک حمزہ ہو۔

[8:52]اور مونث کی تیسری علامت ہے الف مقصورہ اور الف مقصورہ اس الف کو کہا جاتا ہے جو کہ ایک چھوٹا الف ہوتا ہے اور وہ عام طور پر یا کے اوپر لکھا ہوتا ہے۔

[9:05]اور کبھی کبھی اپ کو یا سے پہلے والے حرف پر بھی لکھا ہوا نظر ا جاتا ہے۔ ان تین علامات میں سے جو گول تا علامت ہے مونث کی یہ سب سے زیادہ پائی جاتی ہے لیکن انشاء اللہ تعالی میں اپنے اس کورس میں جو مونث کی باقی دو علامات ہیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ ان کے بارے میں بھی اپ کو تفصیل سے انشاء اللہ تعالی بتاؤں گا۔

[9:27]الف ممدودہ اور الف مقصورہ کو گرامر کی اصطلاح میں الف التانیس بھی کہتے ہیں یعنی یہ تانیس کا الف ہے تو اس اعتبار سے کئی لوگ جو ہیں وہ مونث کی دو علامات ذکر کرتے ہیں ایک تائے مربوطہ اور دوسری الف والتانیس

[9:44]لیکن میں نے جو الف التانیس ہے اس کو مزید ایکسپلین کر دیا ہے کہ الف التانیس سے مراد الف ممدودہ بھی ہے اور الف مقصورہ بھی ہے۔

[9:54]اور میں نے اپ کو مختصرا بتا دیا ہے کہ الف ممدودہ وہ الف ہوتا ہے جو لفظ کے اخر میں ہو اور اس کے بعد حمزہ پایا جائے۔

[10:04]اور الف مقصورہ وہ الف ہوتا ہے وہ چھوٹا الف ہوتا ہے جو یا پر لکھا جائے یا جس کے بعد یا لکھی جائے۔

[10:10]تو اب جو مونث کی پہلی علامت ہے گولتا جسے گرامر میں تائے مربوطہ کہتے ہیں اس کے بارے میں نوٹ کر لیں کہ ہر وہ اسم جس کے اخر میں گول تا ہو مونث استعمال کیا جائے گا۔

[10:20]ہر وہ اسم جس کے اخر میں گول تا پائی جائے وہ عربی زبان میں مونث استعمال کیا جائے گا وہ حقیقی طور پہ مونث نہیں ہوگا اس کو ہم مونث استعمال کریں گے کیونکہ اس میں مونث کی بڑی علامت گولتا جو ہے وہ پائی جا رہی ہے۔

[10:34]جیسے عربی زبان میں جنت کا لفظ جو ہے باغ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور جنت کے اخر میں گول تا ہے تو ہم اسے مونث استعمال کریں گے۔

[10:43]اب ساتھ اپ کمپیریزن یہ بھی کر لیجئے گا کہ اردو زبان میں ہم باغ کو مذکر استعمال کرتے ہیں۔

[10:49]اسی طرح دوسرا لفظ جو ہے وہ ہے غرفہ غرفہ عربی زبان میں کمرے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور غرفہ کو ہم عربی زبان میں مونث استعمال کریں گے کیونکہ غرفہ اسم کے اخر میں گول تا ہے اور گول تا مونث کی ایک بڑی علامت ہے۔

[11:05]اور ساتھ ساتھ یہ بھی نوٹ کرتے جائیں کہ کمرے کو اردو زبان میں مذکر استعمال کیا جاتا ہے۔

[11:11]تیسرا اسم جو ہے وہ ہے ایتھ ایتھ کے معنی نشانی کے ہیں اور ایتھ لفظ عربی زبان میں مونث استعمال ہوگا اس لیے کہ اس کے اخر میں گول تا ہے اور یہ جو نشانی لفظ ہے یہ ہماری اردو زبان میں بھی مونث ہی استعمال ہوتا ہے۔

[11:26]تو ہر وہ اسم جس کے اخر میں گول تا ہو مونث استعمال کیا جائے گا سوائے ان اسماء کے جو استعمال ہی مذکر کے لیے ہوں۔

[11:37]یعنی ایکسیپشن اس میں یہ ہے کہ کچھ اسماء ایسے ہوں گے جن کے اخر میں گول تا تو ہوگی لیکن وہ گول تا والے اسماء ہم مذکر کے لیے استعمال کر رہے ہوں گے تو اپ انہیں مونث نہیں کہیں گے۔

[11:50]اس کی مثال میں دیتا ہوں مثلا ہمارے ہاں اور عرب کے ہاں جو کچھ مردوں کے نام ہوتے ہیں جن کے اخر میں گول تا ہوتی ہے جیسے اسامہ، حذیفہ، طلحہ تو ان کو ہم مذکر ٹریٹ کریں گے۔

[12:03]اس لیے کہ یہ مذکر کے نام ہوتے ہیں۔ اسی طرح خلیفہ کا لفظ جو ہے اس کے اخر میں بھی گولتا پائی جاتی ہے لیکن یہ مذکر کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔

[12:10]کیونکہ مسلمانوں میں خلیفہ مذکر ہی ہوتا ہے اور تیسرا لفظ میں نے اپ کے لیے رکھا ہے وہ ہے علامہ تو علامہ جو ہے یہ بہت بڑے عالم کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے اور مذکر کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔

[12:24]تو ان الفاظ میں اگرچہ مونث کی علامت گول تا پائی جا رہی ہے لیکن ہم انہیں مذکر ہی کہیں گے اس لیے کہ یہ استعمال ہی مذکر کے لیے ہوتے ہیں۔

[12:34]تو مونث کی جو پہلی علامت ہے گولتا وہ میں نے اپ کو تفصیل سے اچھی طرح سمجھا دی اب دوسری جو علامت ہے اس کے سمجھنے سے پہلے ایک بات اور اچھی طرح سے نوٹ کر لیجئے کہ عربی زبان میں استعمال ہونے والے تقریبا 90 فیصد اسماء کی بنیاد تین حروف الہجا پر ہوتی ہے۔

[12:51]جنہیں حروف اصلی یا حروف مادہ یا روٹ لیٹرز کہتے ہیں۔

[14:06]یہ بات اپ نے اچھی طرح سے سمجھنی ہے کیونکہ یہ اپ کو اگے بہت زیادہ ہیلپ کرے گی انشاء اللہ تعالی۔ اب یہ بات اگر اپ کو سمجھ میں اگئی ہے تو اب ہم چلتے ہیں مونث کی دوسری علامت کی طرف۔

[14:17]اور مونث کی دوسری علامت ہم نے پڑھی تھی الف ممدودہ تو نوٹ کر لیں ہر وہ اسم جس کے اخر میں الف ممدودہ ا جائے اور اس الف کے بعد انے والا حمزہ حروف اصلی میں سے نہ ہو اور نہ ہی وہ حمزہ واؤ اور یا سے بھی تبدیل شدہ ہو تو وہ اسم مونث استعمال کیا جائے گا۔

[14:53]کیونکہ بعض اوقات یہ جو حروف الہجا میں واؤ اور یا دو حروف الہجا ہیں یہ حمزہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

[15:02]اس کی مثال میں اپ کو دیتا ہوں مثلا ایک سماء اسم ہے س، م، ا اور ھ۔ اب سماء لفظ جو ہے اس کے اخر میں الف ممدودہ ا رہا ہے۔

[15:11]لیکن یہ جو حمزہ اخر میں اپ دیکھ رہے ہیں یہ اصل میں واؤ سے بدلا ہوا ہے یعنی سماء کے اگر اپ حروف اصلی دیکھیں گے نا ڈکشنری میں تو اپ کو بتائے جائیں گے کہ سماء کے حروف اصلی ہیں س، م، اور و۔

[15:26]اسی طرح ایک اسم ہے ماء پانی کے لیے استعمال ہوتا ہے اب ماء لفظ جو ہے اس کے اخر میں بھی الف ممدودہ ہے اور یہ جو حمزہ اپ کو ماء کے اخر میں نظر ا رہا ہے یہ حمزہ جو ہے یہ ہا سے بدلا ہوا ہے۔

[15:39]تو ماء کے حروف اصلی میں حمزہ نہیں ہے بلکہ ہا تھا جس کو حمزہ سے بدل دیا گیا اور یہاں پر صرف واؤ اور یا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ حمزہ جو ہے زیادہ تر واؤ اور یا سے بدلتا ہے۔

[15:52]تو ہر وہ اسم جس کے اخر میں الف ممدودہ ا جائے اور اس الف کے بعد انے والا حمزہ حروف اصلی میں سے نہ ہو یا وہ واؤ اور یا سے بھی تبدیل شدہ نہ ہو تو اس اسم کو ہم مونث استعمال کریں گے۔

[16:06]جیسے عربی زبان میں جنگل کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے صحراء تو صحراء جو ہے یہ الف ممدودہ پر ختم ہو رہا ہے اور صحراء کے جو حروف اصلی ہیں وہ ص، ح، اور ر ہیں۔

[16:18]اور یہاں ایک بات اور نوٹ کر لیجئے کہ یہ الف ممدودہ میں جو الف ہوتا ہے یہ بھی ایکسٹرا ہوتا ہے۔

[16:23]تو صحراء کو عربی زبان میں مونث استعمال کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگلا لفظ ہے سفراء قران مجید میں بھی استعمال ہوا ہے زرد رنگ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔

[16:33]تو صفراء کے جو حروف اصلی ہیں وہ ہیں ص، ف اور ر۔ اسی طرح عربی زبان میں گونگی کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے بکماء۔

[16:41]اور لفظ کے اخر میں الف ممدودہ ا رہا ہے اور یہ حمزہ جو ہے یہ حروف اصلی میں شامل نہیں ہے۔

[16:50]اس لیے اسے ہم مونث کی علامت مان رہے ہیں۔ تو مونث کی جو دوسری علامت ہے وہ ہے الف ممدودہ اور یہ بہت ہی کم الفاظ میں پائی جاتی ہے ذہن میں رکھیے گا۔

[17:01]اصل علامت جو ہے میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ وہ گول تا یعنی تائے مربوطہ ہی ہے۔ اب چلتے ہیں جی مونث کی تیسری علامت کی طرف اور مونث کی تیسری علامت جو ہے وہ ہے الف مقصورہ۔

[17:09]تو ہر وہ اسم جس کے اخر میں الف مقصورہ ا جائے اور وہ الف مقصورہ جو ہے وہ حروف اصلی سے زائد ہو اور وہ الف مقصورہ جو ہے وہ واؤ اور یا سے بھی تبدیل شدہ نہ ہو۔

[17:22]تو ایسا اسم جو ہے وہ بھی مونث استعمال کیا جائے گا۔ جیسے ہم نے پچھلے لیکچر میں کمپیریٹو اور سپریٹو ڈگری کے حوالے سے ایک لفظ پڑھا تھا اکبر اکبر کی مونث کے طور پر جو لفظ عربی زبان میں استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے کبری۔

[17:36]تو کبری کے جو روٹ لیٹرز ہیں یعنی حروف اصلی ہیں وہ ہیں ک، ب، اور ر تو اپ دیکھیں ک، ب، اور ر شروع میں اگئے اور اس کے بعد پھر اپ کو الف مقصورہ نظر ا رہا ہے۔

[17:48]اور یہ الف مقصورہ زائد ہے اس کو اصلا تو یہاں پر لکھا ہونا چاہیے تھا لیکن چونکہ الف سے پہلے ہمیشہ زبر ہوتی ہے اور زبر اور الف مل کر جو ہیں وہ کھڑی زبر بناتے ہیں اور ہمارے ہاں جو ہے وہ کھڑی زبر جو ہے وہ اسی طرح لکھی جاتی ہے۔

[18:02]تو اس لیے اپ کو یہ لکھنے میں ایک فرق جو ہے وہ نظر ا رہا ہوگا۔ تو اکبر کی مونث ہے کبری اور اس کے معنی ہیں کسی سے یا سب سے بڑی۔

[18:12]اسی طرح عربی زبان میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے عطشا عطشا جو ہے اس کے حروف اصلی جو ہیں وہ عین، طا اور شین ہے اور اس کے اخر میں انے والا الف مقصورہ جو ہے یہ مونث کی علامت ہے اور اس کے معنی ہیں پیاسی۔

[18:25]اور تیسرا لفظ جو ہے وہ ہے ذکرا ذکر سے یہ لفظ نکلا ہے لہذا الف مقصورہ جو ہے یہ اپ کو زائد نظر ا رہا ہے اور یہ نصیحت کے لیے عربی زبان میں لفظ استعمال ہوتا ہے۔

[18:37]تو الحمدللہ جی ہم نے مونث غیر حقیقی میں جو علامتی مونث تھی اس کو تفصیل سے پڑھ لیا اور مونث کی تین علامت ہمارے سامنے ائی گول تا الف ممدودہ اور الف مقصورہ۔

[18:50]اب ہم چلتے ہیں مونث غیر حقیقی کی دوسری قسم سمائی مونث کی طرف تو سمائی مونث ایسا غیر حقیقی مونث ہوتا ہے جس کے مونث ہونے کا علم اہل عرب کے سننے سے ہی ہوا ہو ہے۔

[19:04]یعنی کچھ لفظ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اہل زبان ہی مونث بولتے ہیں۔ ایسے الفاظ کو مونث سمائی کہتے ہیں جیسے ریخ لفظ جو ہے جو ہوا کے لیے استعمال ہوتا ہے عرب اسے مونث بولتا ہے۔

[19:15]خمر شراب کے لیے استعمال ہوتا ہے عرب اسے بھی مونث بولتا ہے۔ نار اگ کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے عرب اسے بھی مونث بولتا ہے۔

[19:23]مصر ملک کا نام ہے عرب اسے بھی مونث بولے گا۔ اسی طرح عین انکھ کو کہتے ہیں عرب اسے بھی مونث بولے گا اور شمس سورج کے لیے استعمال ہوتا ہے عرب اسے بھی مونث بولتا ہے۔

[19:36]اب اپ سوچتے ہوں گے کہ یہ ہمیں کیسے یاد رکھنا پڑے گا کہ یہ یہ لفظ جو ہیں عرب مونث بولتے ہیں تو اللہ تعالی جزائے خیر دیں ہمارے علماء کو ہمارے بزرگوں کو جنہوں نے دن رات محنتیں کر کے ہمارے لیے کچھ گروپس بنا دیے کہ ان گروپس کو یاد کر لو جو کہ مونث سمائی کے گروپس ہیں۔

[19:55]تو مونث سمائی کے گروپس میں اپ کو دکھاتا ہوں پہلا گروپ ہے جی ہوا اور اس کے نام عرب جو ہے مونث استعمال کرتا ہے۔

[20:02]میں مثالیں نہیں دوں گا صرف اپ کا کنسیپٹ کلیئر کرواؤں گا انشاء اللہ تعالی ایکسرسائز کرتے ہوئے سب چیزیں اپ کے سامنے کلیئر ہو جائیں گی دوسرے نمبر پہ شراب اور اس کے نام جو ہیں عرب مونث استعمال کرتا ہے۔

[20:13]تیسرے نمبر پہ اگ اور اس کے نام عرب مونث استعمال کرتا ہے چوتھے نمبر پہ شہروں ملکوں اور قبیلوں کے نام عرب مونث استعمال کرتا ہے۔

[20:21]پانچویں نمبر پہ انسانی اعضاء جو جوڑے کی شکل میں ہیں یعنی پیئر کی صورت میں ہیں انہیں بھی عرب مونث استعمال کرتا ہے اور چھٹے گروپ میں متفرق اسماء داخل کیے گئے ہیں۔

[20:36]یعنی جو پچھلی پانچ قسموں میں یعنی جو سمائی مونث کے گروپس ہیں پانچ ان میں تو فٹ نہیں بیٹھتے لیکن عرب انہیں پھر بھی مونث استعمال کرتا ہے تو یہ فہرست اپ کو یاد کرنی ہوگی۔

[20:47]اور یہ کوئی اتنی لمبی چوڑی فہرست نہیں ہے قران مجید میں جو اسماء استعمال ہوئے ہیں ان میں سے مشہور اسماء میں نے اپ کے سامنے یہاں لکھ دیے ہیں۔

[20:56]تو پہلا اسم جو ہے وہ ہے شمس سورج کے لیے استعمال ہوتا ہے، ارض زمین کے لیے، نفس جان کے لیے، دار گھر کے لیے، حرب کہتے ہیں لڑائی کو، فلک کا لفظ کشتی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

[21:10]عصا عربی زبان میں لاٹھی کو کہتے ہیں، کا لفظ جو ہے یہ گلاس کے لیے استعمال ہوتا ہے، بیر کا لفظ جو ہے کنویں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

[21:17]اور سما کا لفظ اسمان کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سما کو مذکر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور مونث بھی استعمال کیا جاتا ہے یعنی دونوں طرح سے یہ قران مجید میں استعمال ہوا ہے۔

[21:26]مذکر بھی استعمال ہوا ہے اور مونث بھی استعمال ہوا ہے۔ تو الحمدللہ جی ہم نے اج عربی زبان میں جو اسم ہم نے استعمال کرنا ہے۔

[21:37]اس کے بارے میں تفصیل سے پڑھا کہ وہ اسم جنس کے اعتبار سے مذکر ہے یا مونث ہے اگر وہ مذکر یا مونث نہیں ہے تو اس کا استعمال مذکر کے طور پر ہوگا یا مونث کے طور پر ہوگا۔

[21:50]اور یہ جاننے کے لیے ہم نے مذکر و مونث میں سے صرف مونث کو تفصیل سے پڑھا ہم نے مونث کی دو اقسام پڑھی ایک قسم تھی حقیقی مونث یہ وہ قسم تھی جو ہوتے ہی مونث ہیں یعنی جن کے مقابلے میں کوئی مذکر پایا جاتا ہے۔

[22:10]انگریزی میں ان کے لیے فیمیلز کا لفظ جو ہے وہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور مونث کی دوسری قسم ہے غیر حقیقی مونث جس کو مجازی یا لفظی مونث بھی کہتے ہیں اور یہ وہ الفاظ ہیں جو حقیقی طور پر مونث نہیں ہیں لیکن عربی زبان میں مونث کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

[22:25]مونث غیر حقیقی کی دو قسمیں ہیں ایک ہے علامتی یا قیاسی مونث اور دوسری ہے سمائی مونث۔

[22:32]علامتی مونث سے مراد وہ اسماء ہیں جن میں مونث کی کوئی علامت پائی جائے اور مونث کی کل تین علامتیں ہیں گول تا جو کہ سب سے زیادہ علامت پائی جاتی ہے۔

[22:44]دوسری علامت الف ممدودہ ہے اور تیسری علامت الف مقصورہ ہے۔ یہ دو علامتیں جو ہیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ یہ بہت کم پائی جاتی ہیں تو مین علامت جو ہے وہ گول تا ہی ہے۔

[22:57]سمائی مونث میں وہ اسماء ہیں جنہیں اہل زبان اہل عرب مونث بولتے ہیں اور ان میں چند گروپس ہمارے سامنے ائے ہوا اور اس کے نام، شراب اور اس کے نام، اگ اور اس کے نام، شہروں، ملکوں اور قبیلوں کے نام اور انسانی اعضاء جو جوڑے کی شکل میں پائے جائیں اور کچھ متفرق اسماء جو ہم نے یاد رکھنے ہیں۔

[23:21]یاد کرنے ہیں۔ تو اج کے لیکچر میں اپ اپنی اس پکچر کو اچھی طرح سے پکا کر لیں۔ جب اپ کی مونث کی پکچر صحیح طرح سے پکی ہو جائے گی۔

[23:32]تو انشاء اللہ تعالی اگلے لیکچر میں ہم مونث کا ٹیسٹ بھی رکھیں گے ہم اسم لیں گے اس کو مونث کی پکچر میں فٹ کریں گے اگر وہ مونث کی پکچر میں فٹ ہو گیا تو ہم اسے مونث ڈکلیئر کر دیں گے اگر فٹ نہ ہوا تو ہم اسے مذکر کنسیڈر کریں گے۔

[23:48]اور پھر انشاء اللہ تعالی مذکر سے مونث بنانے کا طریقہ بھی انشاء اللہ تعالی میں اپ کو اگلے لیکچر میں ہی سکھاؤں گا۔ تو امید ہے کہ اپ کو اج کا لیکچر بھی پسند ایا ہوگا۔

[24:00]انشاء اللہ تعالی اگلے لیکچر میں مونث کے ٹیسٹ اور مذکر سے مونث بنانے کے طریقے کے ساتھ اپ سے ملاقات ہوگی۔ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript